قائد ملت کی برسی؍ طارق فاروق کا خواب

(Raja Latif Hasrat, )

چوہدری غلام عباس کی برسی کی تقریب میں وزیر اعظم آزادکشمیر کی اپنے وزراء سپیکر اسمبلی اور حکمران جماعت کے سینئر رہنماؤں کے ہمراہ شرکت اور سینئر وزیر چوہدری طارق فاروق کی یہ تقریر کہ’’ تحریک آزادی اور مسلم کانفرنس کی جدوجہد کو تاریخ سے الگ نہیں کیا جا سکتا ۔ مجاہد اول دلوں کے حکمران سیاسی جغرافیائی صورت حال کا تقاضا ہے کہ سنجیدگی کے ساتھ غور فکر کریں۔ مسلم کانفرنس اور الحاق پاکستان کی حامی جماعتوں کو ہر حالت میں قائم رہناچاہئے ‘‘ اور اس کے جواب میں قائد مسلم کانفرنس سردار عتیق احمد خان کی طرف سے یہ کہنا کہ ’’غلطی نہ بھی تو بھی بحیثیت ٹیم کیپٹن کو بڑے مقصد کے لیے تسلیم کرنے میں حرج نہیں‘‘۔نے مسلم کانفرنس کے اتحاد کی حامی قوتوں کو دعوت فکر اور مخالف عناصر کو سازشوں کا موقع فراہم کر دیا ہے۔ آزادکشمیر کے سیاسی حلقوں نے برسی کی اس تقریب کو آئندہ کی سیاست کے لیے خوش آئند قرار دیا ہے۔

بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے سیاسی جانشین آل جموں وکشمیر مسلم کانفرنس کے بانی اور حکومت آزادکشمیر کے نگران اعلی رئیس الاحرار قائد ملت چوہدری غلام عباس ؒ کی 52 برسی ریاست جموں وکشمیر میں عقیدت و احترام کے ساتھ منائی گئی۔ مسلم کانفرنس کے زیر اہتمام منعقدہ مرکزی تقریب راولپنڈی میں مرحوم کے مزار پر منعقد ہوئی جس میں آزاد جموں وکشمیر کے صدر مسعود خان، وزیر عظم راجہ فاروق حیدر ، سینئر وزیر چوہدری طاروق فارو ق ، وزیر خوراک شوکت شاہ اور سپیکر اسمبلی شاہ غلام قادر ، قائد مسلم کانفرنس سردار عتیق احمد خان ، صدر جماعت مرزا محمد شفیق جرال، سینئر نائب صدر سردار الطاف حسین خان ، سیکرٹری جنرل محترمہ مہرالنساء اور چیف آرگنائرزدیوان علی چغتائی، ممبر ان اسمبلی ملک محمد نواز خان، سردار محمد صغیر خان سمیت ملک اور بیرون ملک سے آنیو الے رہنماؤں نے بھرپور شرکت کی ۔ اس دفعہ برسی کی یہ تقریب ایک اے پی سی کی شکل میں تبدیل ہو گئی۔ جس میں وفاقی حکومت کی طرف سے پارلیمانی امور کے وزیر اعظم سواتی اور عوامی مسلم لیگ کے سربراہ وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد ، اے پی ایچ سی کے رہنماء میر طاہر مسعود ، عبدالمجید ملک، داؤدخان، عبدالحمید لون ، محمد زاہد صفی ، جمعیت علمائے جموں وکشمیر کے امیر مولانا امتیاز صدیقی، آل جموں و کشمیر جمعیت علمائے اسلام کے امیر مولانا محمود الحسن سمیت دیگر جماعتوں کے عہدیدارو کارکنان بھی موجود تھے۔ اس موقع پر مرحوم رہنماء کے ایصال ثواب کے لیے قرآن خوانی اور سردار عتیق احمد خان نے دعا کروائی۔ قرآن خوانی کرنے والوں کے لیے محکمہ سروسز کی طرف سے فروٹ اور مٹھائی تقسیم کی گئی۔ صدر آزادکشمیر اور وزیر اعظم مزار پر پہنچے توسیدھے مزار پر گئے ۔ اس موقع پر وفاقی وزیر محمد اعظم خان سواتی،صدر آزادکشمیر ، وزیر اعظم ، قائد مسلم کانفرنس اور صدر مسلم کانفرنس کی طرف سے پھولوں کی چادریں چڑھائی گئیں۔ مرحوم کے ایصال ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی۔ اس موقع پر پولیس کے چاک و چوبند دستے نے قومی رہنماء کے مزار کو سلامی پیش کی۔

وفاقی وزریر ریلوے شیخ رشید احمد نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے قائد ملت چوہدری غلام عباس اور مجاہد اول سردار محمد عبدالقیوم خان کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا ۔ انھوں نے قائد ملت چوہدری غلام عباس کے مزار کی تعمیر کے لیے فنڈز فراہم کرنے کی بھی پیش کش کی۔ شیخ رشید احمد نے مسلم کانفرنس کے سینئر رہنماؤں حاجی عبدالرازق مرحوم، حاجی راجہ محمد صدیق مرحوم، اور حاجی راجہ محمد اعظم خان کی خدمات کو بھی سراہا اور کہا کہ یہ لوگ اپنے گاڑیوں میں بیٹھا کر مجھے پلندری سردار عبدالقیوم صاحب سے ملاقات کے لے جایا کرتے تھے۔ انھوں نے واضح کیا کہ وفاقی کابینہ میں جب تک شیخ رشید بیٹھا ہے کوئی مائی کا لال بھی کشمیر کا سودا نہیں کر سکتا۔ انھوں نے کہا کہ میں سری نگر کے گلی کوچے سے واقف ہوں ۔ وہاں کے شہداء کی قربانیوں سے آگاہ ہوں ۔ میں نے کشمیر کی آزادی کے لیے کیا کام کیا اس کی وضاحت قبل از وقت ہے۔ تمام کشمیری موجودہ حکومت پر اعتماد رکھیں ۔ انھوں نے سردار عتیق احمد خان کو دعوت دی کہ وہ مسلم کانفرنس کا دائرہ پاکستان تک وسیع کریں ۔ پاکستان کو آپ جیسے لیڈر کی ضرور ت ہے۔

وفاقی وزیر محمد اعظم خان سواتی نے کہا کہ میراتحریک آزاد ی کشمیر کے ساتھ چولی دامن کا ساتھ ہے۔ میرا حلقہ آزادکشمیر کے ساتھ منسلک ہے۔ میرے آباؤاجداد نے سن1947 ء کے جہاد میں عملی حصہ لیا۔ ضرورت پڑی تو وہ کردار دوبارہ دوہرایا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی ترجیحات میں کشمیر کی آزادی سر فہرست ہے۔ ہم اس سے سر منہ بھی رو گردانی نہیں کر سکتے۔

آزاد جموں وکشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے اس موقع پر اپنے خطاب میں قائد ملت چوہدری غلام عباس کی خدمات کو زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے حاضرین پر زور دیا کہ وہ مرحوم کے ادھوے مشن کی تکمیل کے لیے تیار ہو جائیں۔ انھوں نے کہا کہ کشمیری رونا دھونا اور سہاروں کی تلا ش ترک کرکے اسلاف کے نقش قدم پر چلتے ہوئے تقدیر ہاتھوں میں لیکر تحریک آزادی کو کامیابی سے ہمکنار کریں۔ انھوں نے کہا کہ بانی پاکستان کشمیر کے حوالے سے قائد ملت پر بے پناہ اعتما د کرتے تھے ۔ ہمیں انتشار ، اختلاف اور افتراق کی سیاست کو ترک کر کے سن 47 والا جذبہ پید اکرنا ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ آج پاکستان ایٹمی ملک ہے معاشی اور دفاعی لحاظ سے 1947 کے مقابلے میں بہت مضبوط لیکن عالمی سطح پر ہماری آواز کمزور پڑتی جا رہی ہے۔ بحیثیت قوم ہمیں اس کی وجہ ڈھونڈنی ہوگی۔

آزادکشمیر کے وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر خان نے قائد ملت کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ میں نے انھیں قریب سے دیکھا ہے وہ انتہائی دویش صف انسان تھے۔ وہ پاکستان کے ساتھ الحاق کے زبردست داعی تھے لیکن بدقسمتی سے کشمیری قیادت کی قدرومنزلت نہیں کی گئی اور قوم نے یہ بھی دیکھا کہ 1958 میں کشمیر میں پاکستان کی ایک توانا آواز کو ABDO کے ذریعے چپ کرنے کی کوشش کی گئی ۔ راجہ فاروق حیدر نے کہا کہ ہمارے اندر جتنا اتحاد ہوگا کشمیر کی آواز بھی اسی قدر بلند ہوگی۔ وزیر عظم نے کہا کہ مجاہد اول بھی بڑی شخصیت تھے ایسے لوگ اب نہیں آئیں گے لیکن ان کے افکار زندہ رہیں گے ۔ انھوں نے ایک مقرر کی تقریر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مسلم کانفرنس تقسیم نہیں ہوئی۔ مجھے فخر ہے کہ میرے والد مسلم کانفرنس کے صدر تھے ۔ مسلم کانفرنس کا نظریہ، عقیدہ اور اصول ہمارا سرمایا حیات ہیں ۔ ہم ان سے روگردانی کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ مسلم کانفرنس کی تقسیم نہیں ہوئی بلکہ خاندان بڑا ہو گیا تھا اس لیے ہمیں الگ گھر بنانا پڑا۔وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت نے قائد ملت چوہدری غلام عباس کے مزار کی ان کے شایان شان بنانے کے لیے ساڑے چار کروڑ روپے کی رقم مختص کی ہے۔ انھوں نے اعلان کیا کہ قائد ملت کے دیگر ساتھیوں ، مجاہد اول سردار محمد عبدالقیوم خان،اے آر ساغر ، خواجہ امین مختار اور دیگر کے مزارات کو بھی اُن کے شایان شان تعمیر کریں گے۔

آل جموں وکشمیر مسلم کانفرنس کے قائد اور صدر تقریب سردار عتیق احمد خان نے قائد ملت چوہدری غلام عباس کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے اپنے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مسلم کانفرنسی کارکن قائد ملت کے مشن کی تکمیل کے لیے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کریں گے۔ سردار عتیق احمد خان نے مطالبہ کیا کہ حکومت پاکستان کشمیرپر جراتمندانہ موقف اختیار کرے۔ شملہ معاہد ہ اپنی افادیت کھو چکا ہے اسے پھاڑ کر ہندوستان کے منہ پر مارا جائے۔ گلگت بلتستان اور ریاست جموں وکشمیر لازم و ملزوم ہیں کشمیریوں کو نظر انداز کر کے کوئی فیصلہ کیا گیا تو وہ قابل قبول ہو گا اور نہ ہی قابل عمل۔ مسلم کانفرنس کشمیر کی وحدت پر یقین رکھتی ہے۔ ماضی کی طرح تقسیم کشمیر کی کسی بھی سازش کو پروان چڑھنے نہیں دے گی۔ انھوں نے واضح کیا کہ کوئی بھی کام اپنی شہ رگ کو دشمن کے حوالے نہیں کر سکتی۔ کشمیر بنے گا پاکستان کے نعرے نے ہندوستان کی دس لاکھ فوج کو روک رکھا ہے۔ سردار عتیق احمد خان نے صدر مسعودخان، وزیر اعظم فاروق حیدر ، چوہدری طاروق فاروق، شاہ غلام قادر ، وفاقی وزیر شیخ رشید احمد ، اعظم سواتی اور مسلم لیگ کے دیگر رہنماؤں کی طرف سے برسی میں شرکت کا خیر مقدم کیا گیا۔ راجہ فاروق حیدر اور چوہدری طارق فاروق کی طرف سے مسلم کانفرنس کے بارے میں مثبت اور تعمیری ذکر کرنے پر اُن کا شکریہ ادا کیا۔ اور کہا کہ یہ ان سارے لوگوں مجاہد اول کی سیاسی یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں میری قیادت میں کام کیا ۔ غلطی نہ بھی ہو تو بحیثیت ٹیم کپیٹن مجھے اس کا احساس ہے۔

آزاد کشمیر حکومت کے سینئر وزیر چوہدری طارق فاروق نے اس موقع پر قائد ملت چوہدری غلام عباس اور مجاہد اول سردار محمد عبدالقیوم خان کو زبردست الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا۔ انھوں نے کہا کہ اُن کی سیاسی وراثت نظریہ اور عقیدہ آج بھی ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔ جب تک وہ زندہ رہے لوگوں کے دلوں میں بستے رہے آج جب وہ ہم میں نہیں تو اُن کی یاد اور کمی شدت سے محسوس ہو رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہم مجاہد اول کے کارکن ہیں اور صلح جوئی ہماری تربیت کا حصہ ہے۔ تحریک آزادی کشمیر اور مسلم کانفرنس کی جدوجہد کو تاریخ سے الگ نہیں کیا جا سکتا ۔ اگر یہ لازم و ملزوم ہیں ، اکھٹی ہیں اور ہم اس کے داعی ہیں تو پھر اس نسبت کو لے کر آگے بڑھنا ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ آئیے ہم سب ضدر اور انا کو چھوڑ کر آگے بڑھیں ۔ ہم سب مجاہد اول کی یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہیں اور ہم سب کی منزل بھی ایک ہے۔ مجاہد اول نے رئیس الاحرار کے مشن کو آگے بڑھایا ، سالار جمہوریت کی قیادت میں اسے قافلہ بنایا ۔ حکومتیں بنتی اور بگڑتی رہیں لیکن دلوں کی حکومت ہمیشہ مجاہد اول کے پاس ہی رہی۔ انھوں نے یقین ظاہر کیا کہ جن کی نسبت مجاہد اول کے ساتھ ہے۔ وہ جلد یا بدیر ہم سے آ ملیں گے۔ انھوں نے نہایت دردمندی سے مسلم کانفرنس کی تقسیم کا ذکر کرتے ہوئے واضح کیا کہ اس میں قصور کسی ایک طرف کا نہیں ۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے دل و دماغ کے تمام تر دریچے مسلم کانفرنس کی طرف کھلتے ہیں۔ اگر ہمارے قائدین انا کو چھوڑ کر اپنی اپنی غلطیوں کا ادراک ، اعتراف اور احساس کرلیں تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم پھر سے ایک نہ ہو جائیں۔جس دل سوزی کے ساتھ چوہدری طارق فاروق گفتگو کر رہے تھے اس پرکئی سینئر مسلم کانفرنسی رہنماء اور کارکن آبدیدہ ہو گئے۔ ان کی تقریر سے لگ رہا تھا کہ ’’ن ‘‘اور’’ م‘‘ کے اتحاد کی یہ چنگاری نہ صرف سلگ رہی ہے بلکہ مستقبل میں اس کے شعلہ جوالہ بننے کی امید بھی پیدا ہو گئی ہے۔پنڈال میں بیٹھے تمام حاضرین نے چوہدری طارق فاروق کو داد دی۔

اسپیکر اسمبلی شاہ غلام قادر نے کہا کہ تحریک آزادی تیسرے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ نریندر مودی کے اقدامات نے پورے خطے کو عدم استحکام کا شکار کر دیا ہے۔ ہمیں اپنے اندرونی اختلافات ختم کر کے آگے بڑھنا ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ چوہدری غلام عباس کی تعلیمات سے ہمیں عزت ، غیرت اور دیانتداری کا درس ملتا ہے۔

جمیعت علمائے اسلام کے امیر مولانا محمود الحسن اور جمیعت علمائے جموں وکشمیر کے امیر مولانا امتیاز صدیقی اور دیگر نے خطاب کرتے ہوئے حکومت آزادکشمیر کی طرف سے برسی میں شرکت اور خطاب کو مسلم کانفرنس کے اتحاد کے لیے خوش آئند قرار دیا ۔ دونوں رہنماؤں نے دونوں طرف کے قائد ین پر زور دیا کہ وہ آج کے دن کے جذبہ خیر سگالی سے فائدہ اٹھائیں اور سازشی عناصر سے باخبر رہیں۔ آزاد کشمیر اسمبلی کے سابق سپیکر بزرگ سیاسی رہنماء سردار سیاب خالد ایڈووکیٹ اور مسلم لیگ کے سینئر رہنماء سید نصیب اﷲ شاہ گردیزی اور مسلم لیگ راولپنڈی کے صدر سردار محمد صدیق خان سمیت بڑی تعداد میں عہدیدار و کارکنان بھی شریک ہوئے۔

صدر مسلم کانفرنس مرزا محمد شفیق جرال نے وزیر اعظم آزادکشمیر ، صدر ریاست ، آزاد کشمیر کی انتظامیہ ، مسلم لیگ ن کی قیادت کی طرف سے برسی کی تقریب میں بھرپور شرکت کا خیر مقدم کیا ۔ انھوں نے کہا کہ ہم سب نے ایک ٹیم ورک کے طور پر ماضی میں بھی کام کیا ۔ اﷲ کرے آئندہ بھی ہم اکھٹے ہوں۔ انھوں نے کہا کہ قائد ملت کے مزار پر ہم اس عزم کا اعادہ کرتے ہیں کہ مقبوضہ کشمیر کی آزادی پاکستان کے ساتھ الحاق اور ریاست جموں وکشمیر کے تشخص اور تعمیر و ترقی کا سفر جاری رہے گا۔

تقریب سے مسلم کانفرنس کی سیکرٹری جنرل محترمہ مہرالنساء نے سینئر نائب صدر سردار الطاف حسین ، دیوان علی خان چغتائی،سینئر مسلم کانفرنسی رہنماء ممبر اسمبلی ملک محمد نواز ، سردار محمد صغیر چغتائی، راجہ محمد یٰسین خان،اصغر افندی ،سردار عبدالرازق خان ایڈووکیٹ،میرعتیق الرحمن، ثاقب مجید راجا، کرنل عارف زاہد،میجر نصراﷲ، چوہدری خضر حیات، میجر خضر الرحمن، عبدالرشید چغتائی، اظہر نذر، خواجہ جاوید، راجہ آفتاب اکرم،راجہ خلیق نوابی ایڈووکیٹ،ساجد قریشی ایڈووکیٹ، سردار عابد رزاق اورخواتین رہنماؤں محترمہ شمع ملک، سمیعہ ساجد راجہ، نائلہ گردیزی،برطانیہ سے مہمان خاتون سمیرا فرخ سمیت بڑی تعداد میں خواتین وحضرات نے خطاب کیا۔

تقریب کی صدارت آل جموں وکشمیر مسلم کانفرنس کے قائد اور سابق وزیر اعظم سردار عتیق احمد خان نے کی۔ کارروائی کا آغاز حافظ جمیل احمد کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ راجہ عبدالجبار نے حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں ہدیہ نعت پیش کیا۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض عاصم زاہد عباسی اور سردار سردار افتخار رشید باری باری دیتے رہے۔ استقبالیہ کمیٹی کے چیئرمین سردار محمد صغیر خان نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا۔

مزار قائد کو آل جموں وکشمیر مسلم کانفرنس ،کشمیر لبریش سیل اور حکومت آزادکشمیر کے محکمہ سروسز کی طرف سے خوبصورت طریقے سے سجایا گیا تھا۔ پنڈال میں قائد ملت چوہدری غلام عباس کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے بینرز ، پینا فلیکس اور مسلم کانفرنس کے پرچم بڑے تعداد میں آویزاں تھے۔پنافلیکس پر قائد ملت چوہدری غلام عباس اور اُن کے بعد آنے والے مسلم کانفرنسی صدور کی تصاویر موجود تھیں۔ پینا فلیکس اور بینرز پر مقبوضہ کشمیر کی آزادی ، ریاست جموں وکشمیر کے پاکستان کے ساتھ الحاق اور تقسیم کشمیر نامنظور ۔ شملہ معاہدہ ختم کیاجائے۔ گلگت بلتستان میں اسٹیٹ سبجیکٹ کا قانون بحال کیا جائے۔ کشمیری رائے شماری کے علاوہ کوئی آپشن نہیں مانیں گے جیسے نعرے درج تھے۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 87 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Raja Latif Hasrat

Read More Articles by Raja Latif Hasrat: 9 Articles with 2629 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: