منفی سوچ

(ماہ گل, میرپورخاص)

کچھ لوگوں کی سوچ بہت ہی دقیانوسی قسم کی ہوتی ہے۔
خواہ اس میں مرد حضرات ہوں، یا خواتین
کبھی کبھار دقیانوسیت جنس نہیں ، ذہن کی مٹی دیکھتی ہے اور دھرنا دے کر بیٹھ جاتی ہے۔
ایسے مرد عورتیں ، جو سوچتے ہیں کہ عورت بس شادی اور بچے پیدا کرنے کے لیے بنی ہے۔
جو اور کچھ بھی نا کرے بس گھر کی چار دیواری میں قید رہے
شادی ، بیاہ ، بچے ،
کوئی کسی کی خوشی میں خوش نہیں ہوتے۔
اوپر سے خوش تو اندر سے زہر کا پیالہ بھرا ہوا ہوتا ہے۔

کچھ مرد ایسے بھی ہوتے ہیں کہ جو ہر جگہ پر کہیں نا کہیں آپ کو ضرور ملیں گے۔
اگر آپ نے محبت پر لکھنا ہے تو بولیں گے معذرت
ہم آپ کی تحریر نہیں پبلش کروا سکتے۔
اگر آپ نے دنیاوی مسائل پر لکھنا ہے تو ضرور ہم سے رابطہ کریں۔

اور انہی گندی ذہنیت کے کچھ لوگ یوں بھی ہوتے ہیں کہ پہلے پہل تو آپ کو کہتے ہیں ہم سے سیکھیں
پھر وہی آپ کو بول دیتے ہیں شادی کریں گی ہم سے یا دوستی کریں گی تو ہم آپکی تحریر پبلش کروا دیں گے۔

جب وہی لڑکی انہیں انکار کر دیتی ہے یا سنا دیتی ہے تو وہ اس کی مدد کرنے سے بھی انکار کر دیتے ہیں۔
یعنی انکا سارا خلوص ، انسانیت ہمدردی سب لالچ ، غرض ہوس اور مفاد کی بھینٹ چڑھ جاتی ہے۔
جہاں دنیا میں ایسے لوگ شامل ہیں۔
وہیں آپ کو اچھے لوگ بھی ملتے ہیں۔ جو بنا کسی غرض کے آپ کی مدد کر کے آپ کو اونچائی کی بلندیوں تک پہنچا دیتے ہیں۔“
وہیں کچھ عورتوں کی بھی عادت ہوتی ہے۔ وہ فلاں سمجھ دار ہے تو یہ یقیناً بہتر ہے۔
واہ اس میں بہت ہی ٹیلنٹ بھرا ہوا ہے۔ یہ آگے تک جاسکتی ہے۔“
پر جہاں کہیں کوئی آپ کو بچکانا حرکتوں کی حامل لڑکی مل جائے تو کہہ دیتے ہیں.
”اونہہ“ یہ اس نے کیا کرنا ہے۔ اس سے ہو گا ہی کیا۔“

وہیں وہ بیشک خود خواہ جیسی بھی ہوں پر اپنے رویے سے بتا رہی ہوتی ہے
اس کا ایک مرد کے ساتھ دوستی کا ریلیشن شپ ہے تو یقیناً یہ لڑکی غلط ہے۔

اس کا کردار نہیں ٹھیک“ اگر وہ سوشل میڈیا پر بات کرے تو وہیں کچھ مرد اور عورت کہہ دیتے ہیں کہ یہ بندہ/ بندی غلط ہے۔“

خود چاہیے جتنے بھی ڈرامے بازی کر لیں ہنسی مذاق کر لیں۔“
پر جہاں کہیں انہیں دوسرا ایسا کرتا ہوا مل جائے تو کہہ دیتے ہیں یہ ڈرامہ کر رہا/ کررہی ہے۔
یعنی لوگ پتا نہیں کیسے وقت نکال کر ایک دوسرے کی ٹوہ میں لگے رہتے ہیں۔
کیسے منافقت کا لبادہ اوڑھ کر جھوٹی مسکراہٹیں چہروں پہ سجائے گلے ملتے ہیں۔
پری چہرہ لوگ

جبکہ اصل میں تو وہ خود ہی ایسا کررہے ہوتے ہیں۔“
جب انکی سوچ ہی نیگیٹو ہوتی ہے، تو وہ دوسروں کو بھی ویسا ہی سمجھتے ہیں۔ انکے اپنے بھائی بہن بن کے بھی تعلق ہوں وہ سہی اور دوسرے ہمیشہ غلط ہوتے ہیں۔“
کسی لڑکی کی منگنی ہو گئی ہے تو وہ سہی ہے۔ پر اگر اسنے اپنے منگیتر سے بات کی تو اسلام کی باتیں لیکچر یاد آجاتے ہیں۔“
یہ کہاں لکھا ہوا ہے، نکاح شدہ ہی لڑکی ہی سوشل میڈیا پر ٹھیک ہو سکتی ہے۔“

اگر کوئی لڑکی کسی کو ٹیگ کر لے، چاہے انکا رشتہ کزن کا ہی کیوں ناں ہو۔
پر سوچنے والی بات ہے نا کہ آپ کس حد تک کہاں تک ان کے بارے میں غلط سوچ سکتے ہیں۔“

آپ کی منگنی ہوئی ہے پر آپ نے شو کروانا ہے نہیں ہم بات نہیں کرتے ہم بیشک کزنز ہیں یہ غلط ہے وغیرہ وغیرہ۔“

خود کے بارے میں آپ کے خیالات اچھے اور دوسروں کے بارے میں غلط
کیوں ؟

یہ کہاں کی عقلمندی ہے کہ آپ نے دوسروں کے بارے میں برا برا اور برا ہی سوچنا ہے ان پہ انگلی ہی اٹھانی ہے۔“
کیا خدا کے پاس جا کر آپ نے ان کا حساب دینا ہے یا آپ نے ان کے اعمال دیکھنے ہیں۔“

آپ اپنی فکر چھوڑ کر دوسروں کی فکر میں کیوں ہلکان ہو رہے ہوتے ہیں۔“
کیا اور کوئی کام نہیں ہے آپکو۔“بس دوسروں کی ٹوہ میں ہی رہنا ہے۔“

دوسرا ہی آپ کی نظر میں کیوں غلط ہوتا ہے۔

اگر ایک انسان کا لہجہ سخت ہے تو کیا اسے اور کوئی دکھ نہیں دنیا میں
بس یہی ہے کہ وہ پیار، محبت میں ہی جل رہا ہے۔“
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 595 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: ماہ گل

Read More Articles by ماہ گل: 4 Articles with 2759 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: