دل نگری کی تسخیر

(Tanvir Sadiq, Lahore)

میرے بہنوئی فیاض کو ایک دن پہلے آدھی رات کے بعد دل کا دورہ پڑا۔ شدید بیماری کی حالت میں پی آئی سی لے کر آئے۔انہیں پی آئی سی میں دوسرا روز تھا۔ صبح کو انہیں ایمر جنسی سے سی سی یو منتقل کرنے کا فیصلہ ہوا مگر فیصلہ بدل کر انہیں جیلانی بلاک منتقل کر دیا گیا۔ بارہ بجے میری کلاس ختم ہوئی تو تیمار داری کے لئے ان سے ملنے جیل روڈ پہنچ گیا۔پی آئی سی کے باہر انتہائی رش تھا۔گاڑی پارک کہاں کی جائے سمجھ نہیں آرہا تھا۔ مینٹل ہسپتال والی سڑک پر گاڑی موڑ لی ۔ پی آئی سی کے ہر گیٹ پر پولیس کی بھاری جمعیت مورچہ زن تھی۔ لگتا تھا کسی حملے کو روکنے کی کوشش میں ہے۔ہر طرف رش ہی رش تھا۔ گاڑی کا چلنا انتہائی مشکل تھا ۔ پولیس ٹریفک کو رواں رکھنے کے پوری کوشش کر رہی تھی مگر رش کی وجہ سے ناکام تھی۔آدھ گھنٹے کی کوشش کے بعد میں پی آئی سی آؤٹ ڈور کی پچھلی جانب شامان کی ایک گلی میں گاڑی کھڑی کرنے کے بعد ہسپتال کی طرف چلا۔ اس دوران میں نے اپنی بہن سے بات کی کہ گیٹ بند ہیں اندر کیسے آیا جا سکتا ہے۔ اس نے بتایا کہ مین گیٹ پرموجود پولیس والوں کو بتا کر کہ میرا مریض اندر ہے ۔اکا دکا لوگ آ رہے ہیں۔ آپ بھی اسی طرف سے آ جائیں۔

مین گیٹ پر بھی پولیس کی معقول تعداد موجود تھی بلکہ پوری طرح مورچہ زن۔ گیٹ بند تھا۔میں مین گیٹ سے چند قدم دور تھا جب وکلا کا ایک جتھہ بھاگتا ہوا آیا۔ وکلا کو آتے دیکھ کر وہاں موجود پولیس کا جتھہ وکلا سے بھی زیادہ تیز رفتاری سے گیٹ چھوڑ کر بھاگا۔اسی ہلے میں مجھے بھی بھاگنے ہی میں عافیت نظر آئی۔ دماغی امراض کے ہسپتال والی سڑک پر پہنچ کر میں نے مڑ کر دیکھا۔ پی آئی سی کے احاطے میں وکلا ہر طرف پھیل چکے تھے اور ہرسو پوری طرح توڑ پھوڑ جاری تھی۔ پولیس سمٹ کر ایک طرف ہو چکی تھی۔کھڑکیوں اور گاڑیوں کے شیشے ٹوٹ ٹوٹ کر گر رہے تھے۔ افراتفری کا عالم تھا۔ پی آئی سی کے احاطے میں جو شخص بھی ان کے سامنے آیا چند تھپڑوں کی سوغات وصول کئے بغیر ان سے جان نہ چھڑا پا رہا تھا۔ محمود غزنوی کے وارثوں کا دل نگری کا یہ انداز تسخیر دیکھ کر مجھے سومنات کی تباہی کا منظر یاد آ رہا تھا۔ غصہ انسان کو عقل سے عاری کر دیتا ہے اور اسے اپنا گھر بھی دشمن کا سومنات ہی محسوس ہوتا ہے۔ بات ہی ساری احساس کی ہے۔تسخیر کرنے والوں کو یہاں سونا اور چاندی تو نہیں ملی۔ وقتی طور پر سکوں اور عمر بھر کی ذلت اور روسیاہی ملتی ضرور نظر آئی۔ میں کوشش کرکے آؤٹ ڈور کی پچھلی جانب شادمان کی ایک گلی میں کھڑی اپنی گاڑی کی طرف پہنچنے کی کوشش کر رہا تھا۔وہ جو زبردستی گاڑیاں آگے لانے کی جدوجہد میں مصروف تھے اب الٹی گاڑی بھگانے کی سعی میں مصروف تھے۔ اس لئے تھوڑا سا فاصلہ بھی بہت کٹھن لگا۔

میری بہن کا ایک بار پھر فون آیا کہ بھائی خیریت سے ہیں ۔ پی آئی سی کے اندر تو نہیں ہیں۔ میں نے بتایا کہ واپس مڑ گیا ہوں اس نے کہا کہ فوراً یہاں سے چلیں جائیں ۔ پتہ نہیں ہمارا کیا ہو گا۔ یہاں وکیلوں نے حملہ کر دیا ہے۔ سب کچھ توڑ دیا ہے۔ فیاض کو جو گیس ماسک لگا تھا اس کا پائپ توڑ دیا گیا ہے اسے سانس میں مشکل ہو رہی ہے۔ پھر اس کا فون بند ہو گیا۔میں نے گاڑی سٹارٹ کی اور یوں جان، عزت اور گاڑی تینوں بچا کر وہاں سے نکل آیا۔اب فکر تھی تو بہن اور بہنوئی کی ،جو اندر موجود تھے اور اس معرکہ انا پرستی میں زبردستی کے شریک تھے۔کہ وہ کس حال میں ہیں۔دو گھنٹے بعد اس سے رابطہ ہوا وہ گھر کی طرف جا رہے تھے۔

میری بہن بتا رہی تھی کہ اس کے میاں فیاض کو کوئی دو گھنٹے پہلے جیلانی وارڈ میں منتقل کیا گیا۔ہنگامے سے پہلے کچھ شور تھا کہ پولیس نے سب گیٹ بند کر دیئے ہیں صرف مین گیٹ سے اپنے مریض کی موجودگی کا بتا کر آ سکتے ہیں۔ اسی دوران آپ کا فون آگیا تو یہی بات میں نے من وعن آپ کو بتا دی۔فون بند کرنے کے بعد میں نے دیکھا کہ ہسپتال کا سارا عملہ بہت تیزی سے غائب ہو گیا ہے۔ میرے جیسے بہت سے لوگ جو مریضوں کے ساتھ تھے اور وارڈ سے باہر ویٹنگ روم میں بیٹھے تھے بھاگ کر مریضوں کے پاس پہنچ گئے۔کچھ سراسیمگی کا عالم تھا۔ایک سیکورٹی گارڈ چیختا ہوا آیا اور اس نے ڈاکٹرز کے کمرے میں گھس کر اسے لاک کر لیا۔اس کے پیچھے بھاگتے کئی وکیل آئے اور اسے ڈھونڈنے لگے۔ ان وکیلوں کے ہاتھوں میں ڈنڈے اور کچھ کے پاس لوہے کے راڈ تھے۔جن کی مدد سے انہوں نے وہاں پڑی ہوئی ہر چیز کو تہس نہس کیا۔ سب مشینیں توڑ دیں۔ سب پائپ توڑ دئیے۔ کئی دروازے توڑے۔ ڈاکٹرز کے کمرے کا دروازہ توڑا تو سیکورٹی گارڈ برآمد ہو گیا۔ اسے ما مار کر برا حال کر دیا۔ ایک میاں بیوی اپنی چھوٹی سی بچی کے ساتھ موجود تھے۔ میاں بیمار تھا اور سموگ سے بچنے کے لئے ماسک پہنے تھا۔ اسے ہسپتال کا عملہ سمجھ کر مارنا شروع کیا تو اس کی بیوی نے شور مچا دیا۔اس پر میری بہن کہتی ہے کہ میں نے کہا بیٹا، اس قدر ظلم نہ کرو کہ مریضوں کو مارنا شروع کر دو۔ جواب ملا، ماں جی، آپ چپ بیٹھیں، آپ کو کچھ نہیں کہتے۔اسی دوران کھڑکیوں پر پتھر اور اینٹوں کی بھرمار سے شیشے توٹنے لگے۔ شیشے کے کچھ ٹکڑے فیاض کے بیڈ پر بھی گرے۔ میں جلدی سے بیڈ کھینچ کر باہر لے گئی۔

پتہ چلا کہ پولیس اور وکیلوں کا تصادم شروع ہو گیا ہے۔ہوا کے ساتھ آنسو گیس تو آ ہی رہی تھی مگر کچھ آنسو گیس کے گولے لوگوں نے اٹھا کر وارڈوں میں پھینک دئیے۔ اب وہاں کھڑا ہونا محال تھا۔ایک آدمی بھاگا ہوا آیا کہ کسی کے پاس نمک ہے تو سب مریضوں کی زبان کے نیچے چٹکی بھر رکھ دو۔ اور منہ پر گیلے رومال رکھ دو۔ ویسا ہی کیا گیا مگر صورتحال بہت خراب تھی۔مرے ہوئے لوگوں کو مارنے کی مزید سعی تھی۔ ہر طرف شور تھا کہ چھ بندے مر گئے، کوئی دس تعداد بتا رہا تھا کوئی بارہ۔ چند جان سے ہاتھ دھونے والے سامنے نظر آ رہے تھے۔ پولیس سے تصادم کے نتیجے میں وکیل حضرات ریس کورس ہارک کے اندر اور باہر مورچہ زن ہو گئے۔ ایک شخص آیا اور اس نے کہا کہ اب یہاں کچھ ماہ تک علاج کی کوئی صورت نہیں ۔ دروازے پر پولیس کے پیچھے سے نکل کر سروسز ہسپتال کو نکل جائیں ۔ اسی وقت تمام تیمار دار اپنے اپنے عزیزوں کے زندہ یا مردہ لاشے اٹھائے، وہاں سے نکلنا شروع ہو گئے۔ میں نے اپنے میاں سے کہا کہ مجبوری ہے اس لئے کچھ ہمت کرو، اس عذاب سے کسی طرح نجات پائیں۔ اسے سہارا دیتے کسی طرح سروسز ہسپتال کی طرف پہنچے اور وہاں سے گاڑی لے کر لمبا چکر کاٹ کر پہلے گھر اور پھر ایک پرائیویٹ ہسپتال ۔مگر وہ تلخ لمحے اب بھی اک ڈراؤنے خواب کی طرح ذہن پر سوار ہیں۔

سوچتا ہوں وکیلوں نے دل نگری کو تسخیر کر کے، تباہ کرکے خود کو مطمن کر لیا، معاشرے میں اپنی حیثیت کا لوہا منوا لیا۔ ڈاکٹروں کا بھی کچھ نہیں بگڑا، ان میں جو لوگ بد تمیزی اور بد تہذیبی کا ماضی میں مظاہرہ کرتے رہے ہیں۔ وہ انشا اﷲ اپنا کا م اسی طرح جاری و ساری رکھیں گے۔ نقصان عام آمی کا ہوا، قومی نقصان ہوا۔ سینکڑوں دل کے مریض روزانہ مفت دوائیاں لینے آتے تھے۔ کتنوں کا علاج ہوتا تھا ۔ سب کچھ چند لوگوں کی بے حسی کی بھینٹ چڑھ گیا۔ کتنی بد نصیب ہے یہ قوم کہ اس کے لوگوں میں احساس مٹ رہا ہے۔ اخلاقی طور پر پستی ہمارے رگ و پے میں سرایت کر گئی ہے۔ ہمیں پتہ ہی نہیں چلتا کہ ہماری کوئی حرکت کتنی نیچ ہے۔ ہم نے اخلاق کے معیار ہی بدل دئیے ہیں۔وہ باتیں جن پر ہمیں شرمسار ہونا چائیے، ہم ان پر فخر کرتے ہیں۔ بلکہ سچ تو یہ ہے کہ ہم غلط کام کرکے کام ہی سے منکر ہو جاتے ہیں۔آج اس اتنے بڑے سانحے کو دو ہفتے گزر گئے۔ کسی مجرم کا تعین نہیں ہو سکا۔ جو موقع پر گرفتار ہوئے سب ضمانت پر رہا ہو گئے۔ اب پتہ چلا ہے کہ وہ تو جذباتی نوجوانوں کو سمجھانے گئے تھے۔ پولیس نے زیادتی کی کہ پکڑ لیا۔ مجھے یقین ہے کہ کسی کو سزا نہیں ملے گی۔ کمزوری ہمارے ناکارہ نظام انصاف کی ہے جس کی پوری اوور ہالنگ کی ضرورت ہے۔

جانے والے چیف جسٹس جناب آصف کھوسہ کہتے ہیں کہ وہ قانون کے علاوہ کچھ نہیں جانتے۔ ان کے نزدیک کوئی بڑا آدمی نہیں۔ہم ہر فیصلہ قانون کے مطابق کرتے ہیں۔ جناب عالی آپ کا کہنا سو فیصد سچ، کہ اختلاف کرکے توہیں عدالت سے گردن زدنی مجھے قبول نہیں۔ مگر صرف اتنا بتا دیں کہ یہ تفاوت کیوں ہے کہ ایک شخص کا کیس آتا ہے اس کے لئے روایت سے ہٹ کرجمعے کے دن بنچ کام کرتا ہے اور ہفتے کو جب کوئی عدالت کام نہیں کرتی ، عدالت کام بھی کرتی ہے اور فوری فیصلہ بھی دیتی ہے۔ بہت سے بڑے آدمیوں نے قانون کی ایسی ہمدردیوں کا فائدہ اٹھایا ہے۔جب کہ میرے جیسا کوئی عام آدمی عمر کے آخری حصے میں دھائی دیتا ہے کہ کوئی اس کا کیس سن لے۔ مگر عدالت کیس سننے کی بجائے اس کے مرنے کا انتظار کرتی ہے کہ پھر نہ رہے بانس نہ رہے بانسری۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 195 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Tanvir Sadiq

Read More Articles by Tanvir Sadiq: 398 Articles with 182821 views »
Teaching for the last 45 years, presently Associate Professor in Punjab University.. View More

Comments

آپ کی رائے
Language: