غزوۂ موتہ ……تاریخ اسلام کی اُنیسویں جنگ

(Mufti Muhammad Waqas Raffi, Rawalpindi)

بسم اﷲ الرحمن الرحیم
جمادی الاولیٰ سنہ 8 ہجری


’’موتہ‘‘ ایک مقام کا نام ہے جو ’’شام‘‘ میں ’’بلقا‘‘ سے ایک طرف واقع ہے۔ حضورِ اقدس صلی اﷲ علیہ وسلم نے مختلف بادشاہوں کی طرف جو تبلیغی دعوت نامے ارسال فرمائے تھے، اُن میں ایک خط حضرت حارث بن عمیر الازدی رضی اﷲ عنہ کے ہاتھ قیصرِ روم کی طرف بھی روانہ کیا تھا۔ عرب اور شام کے سرحدی علاقوں میں جو عرب رؤساء حکم ران تھے ، اُن میں ایک شرحبیل بن عمرو غسانی بھی تھا، جو اسی علاقۂ بلقاء کا رئیس اور قیصرِ رُوم کے حکام میں سے ایک شخص تھا۔ یہ عربی خاندان ایک مدت سے عیسائی تھا۔ اور شام کے سرحدی مقامات پر حکم ران تھا۔ حضرت حارث بن عمر الازدی رضی اﷲ عنہ یہ خط لے کر جب ’’موتہ‘‘ پہنچے تو شرحبیل بن عمرو غسانی نے انہیں قتل کردیا۔ قاصدوں کا قتل کسی کے نزدیک بھی پسندیدہ نہیں تھا۔ آں حضرت صلی اﷲ علیہ وسلم پر یہ بات بڑی گراں گزری۔ اِس لئے آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے تین ہزار کا ایک لشکر تجویز فرماکر اپنے آزاد کردہ غلام حضرت زید بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کو اُن پر امیر مقرر فرمایا ۔ اور ارشاد فرمایا کہ اگر یہ شہید ہوجائیں تو حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ امیر بنائے جائیں۔ وہ بھی شہید ہوجائیں تو حضرت عبد اﷲ بن رواحہ رضی اﷲ عنہ امیر بنائے جائیں۔ وہ بھی شہید ہوجائیں تو پھر مسلمان جس کو دل چاہے اپنا امیر بنالیں۔

یہ مہم اگرچہ قصاص لینے کی غرض سے بنائی گئی تھی، لیکن چوں کہ تمام مہمات کا اصلی محور دعوت و تبلیغ تھی، اِس لئے حضورِ اقدس صلی اﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ پہلے اُن لوگوں کو دین کی دعوت دی جائے، اگر وہ یہ دعوت قبول کرلیں تو اُن سے لڑائی کی کوئی ضرورت نہیں۔ اور اگر وہ دین کی دعوت سے انکار کردیں تو پھر اُن سے لڑائی کی جائے۔ (طبقات ابن سعد)

اِس کے بعد حضورِ اقدس صلی اﷲ علیہ وسلم نے ایک سفید رنگ کا جھنڈا بنا کر حضرت زید بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کے حوالے کیا۔ اور خودآپ صلی اﷲ علیہ وسلم فوج کی مشایعت کے لئے ’’ثنیۃ الوداع‘‘ تک تشریف لے گئے اور فوج کو مدینہ منورہ سے جہاد کے لئے روانہ فرمایا۔ابھی یہ فوج مدینہ سے روانہ ہوئی ہی تھی کہ اُدھر شرحبیل غسانی کو جاسوسوں نے خبر کردی اور وہ ایک لاکھ فوج تیار کرکے مقابلہ کے کھڑا ہوگیا۔ جب یہ حضرات تھوڑا آگے جاچکے تو اِنہیں کسی طرح سے اِس بات کا علم ہوا کہ خود ’’ہرقل‘‘ (یعنی قیصرِ رُوم) عرب قبائل کی ایک لاکھ فوج لے کر ’’بلقاء‘‘ کے ضلع ’’تاب‘‘ میں مقابلہ کے لئے خیمہ زن ہوچکا ہے ۔اِن حضرات نے جب یہ حالات سنے تو اِنہیں تردّد ہوا کہ اتنی بڑی فوج کا مقابلہ کیا جائے یا حضورِ اقدس صلی اﷲ علیہ وسلم کو یہاں کے حالات سے آگاہ کیا جائے اور آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کے حکم کا انتظار کیا جائے؟لیکن حضرت عبد اﷲ بن رواحہ رضی اﷲ عنہ نے للکار کر فرمایا کہ ہمارا مقصود فتح و کامرانی نہیں بلکہ ہمارا اصل مطلوب شہادت ہے۔(سیرت ابن ہشام)
علامہ اقبال ؒ نے خوب کہا ہے:
شہادت ہے مقصود و مطلوب مؤمن
نہ ’’مالِ غنیمت‘‘ نہ ’’کشور کشائی‘‘

لہٰذا آگے کی جانب بڑھیے!دو کام یابیوں میں سے ایک تو ضرور ملے گی ،یا شہادت یا غلبہ۔یہ سن کر مسلمانوں نے ہمت باندھی اور آگے کی جانب بڑھے۔ یہاں تک کہ ’’موتہ‘‘ پہنچ کر لڑائی شروع ہوگئی۔ حضرت زید بن حارث رضی اﷲ عنہ نے جھنڈا اپنے ہاتھ میں لیا اور میدان میں کود پڑے۔ گھمسان کا رن پڑا، لڑائی کے شعلے بھڑکنے لگے، جس سے شرحبیل غسانی کا ایک بھائی قتل ہوگیا اور اُس کے ساتھی بھاگ گئے۔ خود شرحبیل غسانی بھاگ کر ایک قلعہ میں چھپ گیا۔ اور ’’ہرقل ‘‘ (یعنی قیصرِ رُوم) کے پاس مدد کے لئے آدمی بھیجا۔ اُس نے تقریباً دو لاکھ فوج بھیجی تو لڑائی کی آگ شعلے بھڑکانے لگی اور حضرت زید بن حارثہ رضی اﷲ عنہ شہید ہوگئے ۔(حکایاتِ صحابہؓ)

حضرت زید بن حارثہ رضی اﷲ عنہ کی شہادت کے بعد حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ نے پہلے جھنڈا اپنے دائیں ہاتھ میں تھام لیا ، کافروں نے دایاں ہاتھ کاٹ دیا تاکہ جھنڈا گرجائے، لیکن اُنہوں نے فوراً اپنے بائیں ہاتھ میں لے لیا، اُنہوں نے وہ کاٹ دیا تو اُنہوں نے دونوں بازوؤں سے اُس کو تھاما اور منہ سے مضبوط پکڑ لیا، تو ایک ایک شخص نے پیچھے سے اُن کے دو ٹکڑے کردیئے جس سے وہ گرپڑے اور شہید ہوگئے۔حضرت عبد اﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہما فرماتے ہیں کہ ہم نے بعد میں نعشوں میں سے حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ کو جب اُٹھایا تو اُن کے بدن کے اگلے حصے میں نوے زخم تھے۔ اُس وقت اُن کی عمر تینتیس برس تھی۔(حکایاتِ صحابہؓ)

حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اﷲ عنہ کی شہادت کی بعد مسلمانوں نے حضرت عبد اﷲ بن ابی رواحہ رضی اﷲ عنہ کو آواز دی ، وہ لشکر کے ایک کونہ میں گوشت کا ایک ٹکڑا نوش فرما رہے تھے کہ تین دن سے کچھ چکھنے کو بھی نہ ملا تھا۔ وہ آواز سنتے ہی گوشت کے ٹکڑے کو پھینک کر آگے بڑھے اور تلوار لے کر قتال شروع کیا اور شہید ہونے تک لڑتے رہے۔حضرت عبد اﷲ بن رواحہ رضی اﷲ عنہ کی شہادت کے بعد حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ مسلمانوں کی فوج کے امیر اور سپہ سالار مقرر ہوئے، اُنہوں نے بھی تلوار ہاتھ میں لی اور اتنی بے جگری سے لڑے کہ آٹھ تلواریں اُن کے ہاتھ سے ٹوٹ ٹوٹ کر گریں۔ اِس لڑائی میں عیسائی فوج کے لوگ مسلمانوں سے سخت مرعوب ہوئے، اُن کے پاؤں میدانِ جنگ سے اُکھڑ گئے۔ اور مسلمانوں کی ایک چھوٹی سے جماعت کو اﷲ تعالیٰ نے کافروں کے ایک جم غفیر کے مقابلے میں فتح و کام یابی سے ہم کنار فرمایاکر سرخ رُو کردیا۔(سیرۃ النبیؐ)

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 304 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mufti Muhammad Waqas Raffi

Read More Articles by Mufti Muhammad Waqas Raffi: 182 Articles with 107288 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language:    

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ