حقِ مہر میں نماز فجر

(Rana Tabassum Pasha(Daur), Dallas, USA)

سوشل میڈیا پر اکثر ایک پوسٹ گردش کرتی رہتی ہے جو کہ نکاح کو آسان بنانے کے لئے چند تجاویز پر مشتمل ہے جس کے مطابق نکاح مسجد میں جہیز میں قراٰن اور جائے نماز مٹھائی میں کھجور اور حق مہر میں نماز فجر وغیرہ وغیرہ ۔ پوسٹ بنانے والے کی نیک نیتی اور دردمندی سے انکار نہیں ہے مگر ساتھ ہی ایک کم علمی کا بھی اظہار ہوتا ہے ۔ ولیمے کا کوئی ذکر نہیں ہے جو کہ سنت ہے چلیں کوئی بات نہیں ۔ مگر حق مہر میں نماز فجر کا کیا جواز ہے؟ باقی کی چاروں نمازوں کی طرح نماز فجر بھی فرض ہے وہ مہر کا بدل کیسے ہو سکتی ہے ایک فرض نماز کی غیر مشروط ادائیگی کو حق مہر کا قائم مقام کیسے ٹھہرایا جا سکتا ہے؟ کیا ابھی تک نماز فجر پڑھنی شروع نہیں کی نکاح کے بعد اسے حق مہر کے طور پر ادا کریں گے؟

بات اگر شریعت و سنت پر عمل پیرا ہونے اور اسلامی طریقے کو اپنانے کی ہو تو معلوم ہونا چاہیئے کہ ہمارے پیارے آقا ﷺ نے اپنی صاحبزادی سیدہ فاطمہ زہرہ ؓ کا مہر پانچ سو درہم مقرر کروایا تھا جو کہ حضرت علی ؓ نے اپنی زرہ بیچ کر مہیا کیا تھا ۔ سوچنے والی بات ہے کہ جب آپ ﷺ نے اپنی بیٹی کا مہر کسی نماز کی بجائے سکہ رائج الوقت میں مقرر فرمایا تو پھر ہم کون ہوتے ہیں ایک فرض نماز کو اس کا متبادل تجویز کرنے والے؟ جو کہ ہر حال میں بغیر کسی شرط کے ادا کرنی ہے اپنے اللہ کے لئے نا کہ بیوی کے لئے ۔ وہ اس بات سے خوش ہوتی ہے یہ ایک اضافی انعام ہے مگر جو اس کا حق ہے وہ اپنی مالی حیثیت اور استطاعت کے مطابق نقدی یا کسی بھی شکل میں آخر کیوں نہ ادا کیا جائے؟ یہاں اس سنت کی پیروی سے کیوں چشم پوشی کی جا رہی ہے جس میں بلاشبہ بہت حکمت پوشیدہ ہے ۔ اسی طرح آپ ﷺ نے اپنی پیاری بیٹی کو کچھ ضروری گھریلو سامان بھی ساتھ میں دیا تھا بالکل ہی خالی ہاتھ بھی رخصت نہیں کر دیا تھا ۔
 
نکاح آسان بنانے کا یہ مطلب بھی نہیں ہونا چاہیئے کہ آپ اپنی منکوحہ پر ایک دھیلا بھی خرچ کرنے کے روادار نہ ہوں نماز فجر کے نام پر حق مہر میں ہی ڈنڈی مار جائیں ۔ ویسے یہ حق مہر میں نماز فجر کی شرط ٹی وی آرٹسٹ یاسرہ رضوی نے اپنی شادی کے موقع پر رکھی تھی ۔ جس عورت کو ضرورت نہ ہو تو وہ مہر سے دستبردار بھی ہو سکتی ہے نکاح کے موقع پر رسمی طور پر ایک معمولی سی رقم بھی مقرر کی جا سکتی ہے ۔ اور عام حالات میں بھی مہر کی مالیت اتنی ہی ہونی چاہیئے جسے مرد باآسانی ادا کر سکے یا کم از کم پانچ سو درہم کو ہی پاکستانی روپوں میں کنورٹ کر لیا جائے ۔ شریعت نے مرد پر عورت کا یہ حق اسے عزت اور تحفظ دینے کے لئے رکھا نا کہ اسے سوا بتیس روپے میں دو کوڑی کا کر کے رکھنے کے لئے ۔ پتہ نہیں برصغیر میں کون لایا تھا یہ دور کی کوڑی (رعنا تبسم پاشا)
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 1611 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rana Tabassum Pasha(Daur)

Read More Articles by Rana Tabassum Pasha(Daur): 116 Articles with 784309 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language:    

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ