وفا ہے زیست کا حاصل قسط 5

(Farah Ejaz, Karachi)

حشمت خان کو جب یہ سب پتا چلا تو انہیں چپ سی لگ گئی تھی۔ وہ کچھ نہ بولے صفدر خان سے۔ بس ان کی پیٹ تھپتھپائی تھی جیسے دلاسا دے رہے ہوں اور اپنے کمرے میں جا کر لیٹ گئے تھے۔ ایک ہفتے کے اندر ہی طلاق کے پیپرز ڈاک کے ذریعے موصول ہوگئے تھے۔ ادھر حنین کو بھی ہوش آگیا تھا۔ مگر اس سے یہ بات چھپالی گئی تھی کہ اسے طلاق ہوگئی ہے۔ اسلامک پوائنٹ آف یو سے طلاق تین پروسز میں کمپلیٹ ہونا تھی۔ اسے ایک طلاق ہوچکی تھی ابھی دو طلاقیں باقی تھیں۔ حسین چہرہ وہ کھو چکی تھی۔ لقوے کی وجہ سے اس کا چہرہ کافی بدصورت لگنے لگا تھا۔ وہ ہسپتال سے گھر آچکی تھی۔ گھر کے سبھی افراد بہت زیادہ اس کا خیال رکھنے لگے تھے۔ مگر وہ پہلے والی حنین نہیں رہی تھی۔ بہت خاموش ہوگئی تھی۔ جب پہلی دفع اس نے حادثے کے بعد اپنی شکل آئینے میں دیکھی تو اس کے بعد اس نے آئینہ دیکھنا ہی چھوڑ دیا تھا۔ دوسری طلاق پر اسے پتا چل گیا کہ میر اسے دو طلاق دے چکا ہے۔ یہ جان کر اسے تکلیف نہیں ہوئی تھی۔ نہ وہ روئی تھی۔ بلکے اسے ایک گونا سکون ملا تھا۔ وہ پرسکون ہوگئی تھی۔ پھر دوسری طلاق کی عدت جیسے ہی ختم ہوئی. تیسری طلاق بھی اسے ہوگئی۔ اسے ایسے لگا جیسے وہ ایک دم ہلکی پھلکی ہوگئی ہے۔ وہ ایک پڑھاکو ٹائپ لڑکی تھی۔ مگر جب حشمت خان نے اسے اپنی اسٹڈیز کنٹنیو کرنے کا کہا تو اس نے صاف منع کردیا۔

"نہیں دادا جان ۔۔۔۔ میں اب مزید آگے پڑھنا نہیں چاہتی۔"

"مگر کیوں بیٹا ۔۔۔۔ تم تو خاندان کی سب سے ہونہار بچی ہو ۔۔۔۔ سلمان کے بعد تمہارا اکیڈمک سب سے شاندار رہا ہے۔"

"جی, لیکن اب میں مزید اسے کنٹینیو نہیں کرنا چاہتی۔" یہ کہہ کر وہ پیار سے ان کے ہاتھ کا بوسہ لیتی ہوئی وہاں سے چلے گئی تو دور جاتی اپنی سب سے ہونہار پوتی کو دیکھا تھا انہوں نے۔ اچانک ہی کچھ سوچ کر ان کی آنکھوں میں چمک سی لہرائی تھی۔

"خدا کرے جو میں سوچ رہا ہوں وہ تمہارے حق میں بہتر ہو..۔ آمین." زیر لب خود سے بولے تھے۔ اور دور جاتی پوتی کو پیار سے دیکھا تھا۔


×××××××××××××××××××

آج پھر حشمت خان نے اپنے دونوں بیٹوں اور بہوئوں کو اپنی بیٹھک میں بلا لیا تھا۔ ساتھ میں سلمان کو بھی حکم دیا تھا کہ وہ تمام کام اپنے چھوڑ کر فوراً واپس گھر آجائیں۔ کچھ ضروری باتیں کرنی ہیں۔ کچھ دیر بعد ہی سلمان بھی بیٹھک میں موجود تھے۔ مگر سلمان کے آنے سے پہلے ہی بڑوں میں مشاورت ہوگئی تھی اور سب ہی حشمت خان کی بات سے متفق تھے۔ خوش تھے۔

"سلمان بیٹا! میں چاہتا ہوں کہ تم حنین سے نکاح کر لو۔" حشمت خان نے بغیر لگی لپٹی رکھے اپنی بات ان کے سامنے رکھی تھی۔ تو وہ چونکے تھے۔ اور حیرت سے حشمت خان کو دیکھا تھا۔

"مگر۔"

"مگر کیا بیٹا؟ کیا تم حنین سے شادی سے انکار کرنا چاہتے ہو؟ بیٹا ذور زبردستی کوئی نہیں ہے. تم آزاد ہو فیصلہ کرنے میں۔

"ایسی بات نہیں ہے دادا جان. آپ کا حکم سر آنکھوں پر۔ مگر کیا آپ نے حنین سے بھی پوچھا ہے کہ وہ کیا چاہتی ہے ؟"

"جیتے رہو بیٹا۔ اس کی فکر تم مت کرو. ہم اسے منا لینگے۔"

"وہ نہیں مانے گی میں جانتا ہوں۔" وہ مایوسی سے بولے تھے۔

تو حشمت خان مسکرا کر پوتے کو دیکھنے لگے تھے۔

"اسے کس طرح راضی کرنا ہے یہ ہم پر چھوڑ دو ۔۔۔۔ مجھے خوشی ہے کہ تم اسے اپنا نے کے لیے راضی ہوگئے ہو۔"

"ہاں بیٹے میں تو ڈر رہی تھی یہ بات تم سے کرتے ہوئے کہ کہیں تم انکار نہ کر دو ۔۔۔ تم نے ہم سب کا مان رکھا ۔۔ ہمیں مایوس نہیں کیا حالانکے میری بچی پہلے جیسی نہیں رہی۔"

"شفق چچی وہ مجھے ہر حال میں قبول ہے۔۔۔۔ اور ویسے بھی ظاہری رنگ و روپ تو نکاح جیسے بندھن کے لیے ثانوی حیثیت رکھتے ہیں۔" وہ بولے تو فرط جذبات سے مغلوب ہوکر زبیر خان نے اپنے بھتیجے کو آگے بڑھ کر گلے لگا لیا تھا۔ سب ہی خوش تھے۔ ورنہ اس واقع کے بعد تو لگتا تھا کہ سب کچھ ہی بدل گیا ہو حشمت ولا میں لیکن لگتا تھا اب حشمت ولا میں بھی بہار دوبارہ آنے والی ہے۔ دکھ کی بدلیاں چھٹنے والی ہیں سب کچھ پھر سے پہلے جیسا ہونے والا ہے۔


××××××××××××

وہ چپ چاپ اپنے کمرے میں کھلی کھڑکی کے پاس کھڑی تھی۔ رات کے دس بج چکے تھے۔ کالی بدلیوں نے پورا آسمان ڈھانپ لیا تھا۔ جس کے سبب باہر گھپ اندھیرا سا ہوگیا تھا۔ ہلکی بوندا باندی ہورہی تھی۔ کبھی کوئی آوارہ بوند پانی کی اس کے چہرے کو بھی بھگونے کی ناکام کوشش کر جاتی۔ اپنی مختصر زندگی میں اس نے بہت کچھ سہا تھا۔ اپنے دل اپنی روح پر زخم کھائے تھے۔ میر سے زیادہ اسے سلمان سے شکوے تھے۔ جو کچھ بھی اس پر بیتا تھا۔ ان سب کا سبب میر نہیں سلمان تھے۔ ان کے ایک انکار نے اس کی زندگی جہنم بنا دی تھی۔ وہ سلمان ہی تھے جنہوں نے شاہ میر سے اس کے نکاح کے لیے سب کو راضی کیا تھا۔ اور اس کی اچھی بھلی زندگی کو کانٹوں سے بھر دیا تھا۔ وہ منٹلی اتنی ٹارچر کی گئی تھی کہ اسے اپنی زندگی دھرتی پر بوجھ لگنے لگی تھی۔ جب اس سے شفق بیگم نے سلمان کے پروپوزل کے بارے میں بات کی تو اس نے سختی سے اپنی ولدہ کو منع کر دیا تھا۔ پھر حشمت خان اور سب نے اسے کافی سمجھانے کی کوشش کی تھی۔ مگر وہ اپنے انکار پر ڈٹی رہی۔ سب تھک ہار کر خاموش ہوگئے۔ وہ ان کے لیے کیسے راضی ہوجاتی۔ کیسے سب بھلا کر ان سے نکاح کر لیتی۔ کیسے انہیں معاف کر دیتی۔ وہ ان کا سامنا کرنے سے کترانے لگی تھی۔ وہ اگر گھر پر ہوتے تو وہ تایا ابو کے پورشن کی طرف رخ نہ کرتی۔ اگر کبھی سامنا ہوجاتا تو نظریں جھکا کر راستہ بدل لیتی۔ ان کی طرف دیکھنا بھی گناہ تصور کرتی۔ ویسے وہ سب سے ہی کٹ کر رہ گئی تھی۔ نہ کسی سے ملتی نہ ہی گھر سے باہر جانا پسند کرتی۔ گھر کے سب ہی افراد سمجھتے تھے اس کی ذہنی حالت کو اسی لیے کوئی اسرار بھی نہیں کرتا تھا۔ وہ گھنٹوں چپ چاپ ناجانے کیا سوچے جاتی۔ اب بھی وہ اپنے کمرے کی کھڑکی کھولے آسمان کی طرف نگاہ اٹھائے خود میں ہی کھوئی کھوئی سی تھی۔ دروازہ کسی کے کھٹکھٹانے پر وہ چونکی تھی۔ اور مڑ کر چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی دروازے تک آئی تھی۔

"جی کون؟"

مگر کسی نے جواب نہیں دیا تو دروازہ کھولا تھا اس نے۔ مگر سامنے کھڑے شخص کو دیکھ کر وہ چونکی تھی۔

"آآآپ!"

اور غصے سے دراوزہ بند کرنے کی کوشش کی تو سلمان نے جو اسے دروازہ بند کرنے سے روک نے کی کوشش کی تو ان کے ہاتھ کی انگلیاں دروازے میں آگئیں۔


"آہ!" کی ہلکی سی آواز پر وہ جو مڑ چکی تھی غصے سے پلٹی تھی۔ تو دروازے کے درمیان پھنسی سلمان کی انگلیوں سے رستا خون دیکھ کر گھبرا گئی۔ اور یہ دیکھ کر تیزی سے دروازہ کھولا تھا.

"یہ کیا حرکت ہے؟"

"کیامطلب؟"

"آپ یہاں کیوں آئے ہیں؟"

"محترمہ, ایک تو آپ نے میرا ہاتھ زخمی کردیا ہے اوپر سے مجھ سے سوال جواب بھی کر رہی ہیں۔"

"آپ کو کس نے کہا تھا دروازے میں ہاتھ دینے کا؟"

"ہممم! یعنی قصور بھی میرا ہی ہے ۔۔۔۔ خیر معافی چاہتا ہوں آپ سے اپنا ہاتھ زخمی ہونے پر۔" وہ یہ بولتے ہوئے اس کے کمرے میں داخل ہوگئے تھے۔ تو وہ بھڑک ہی اُٹھی تھی۔

"یہ کیا بدتمیزی ہے ۔۔۔ امی ! امی!"

"ریلیکس حنین ۔۔۔۔ تمہارا زیادہ وقت نہیں لونگا۔ اور شفق چاچی اور زبیر چاچا کی اجازت لے کر ہی تمہارے پاس آیا ہوں۔"

"اگر آپ یہ جاننے کے لیے آئے ہیں کہ میں نے انکار کیوں کیا ہے آپ سے شادی سے تو میں جواب دینے کی پابند نہیں۔"

"میں جواب مانگ بھی نہیں رہا۔۔۔۔ صرف کچھ باتیں کرنا چاہتا ہوں۔ کچھ بتانا چاہتا ہوں تمہیں ۔۔۔ اس کے بعد بھی تم اپنے انکار پر قائم رہنا چاہتی ہو۔۔۔۔تو بلیو می حنین کوئی تمہیں مجبور نہیں کرے گا۔"

کچھ لمحے وہ انہیں چپ چاپ دیکھتی رہی۔ وہ بھی اس کی طرف خاموش نظروں سے دیکھ رہے تھے۔ ان کے ہاتھ کی انگلیوں سے خون ابھی بھی رس رہا تھا۔ وہ ایک دم حرکت میں آئی تھی اور اپنے کمرے کی بڑی سی بلٹن الماری کھول کر اس میں سے فرسٹ ایڈ باکس نکال کر ان کے قریب چلی آئی۔

"ہاتھ آگے کیجئے پلیز اپنا۔"

تو ایک لمحہ وہ اسے دیکھتے رہے۔ پھر اپنا ہاتھ آگے کردیا۔ تو وہ چپ چاپ ان کی مرہم پٹی کرنے لگی تھی۔ وہ بدشکل ہوچکی تھی پہلے جیسی حسین حنین نہیں رہی تھی۔ مگر انہیں تو اس سے سچی محبت تھی۔ اور جو دل سے کسی کو چاہتے ہیں وہ ظاہری رنگ روپ پر کبھی نہیں جاتے۔ اور ویسے بھی اپنا حسین رنگ روپ انہی کی وجہ سے تو اس نے کھویا تھا۔ اس کی بربادی کے اصل ذمہ دار وہی تو تھے۔

"جانتی ہو حنین جب ہماری شادی ہونے والی تھی تب میں بہت خوش تھا ۔۔۔۔ مجھے اُس دن کا بےصبری سے انتظار تھا مگر نہیں جانتا تھا کہ سب کچھ ختم ہوجائے گا. میری اور تمہاری خوشیوں کو آگ بھی تو میں نے لگائی تھی ۔۔ جب میر نے تم سے شادی کی بات کی تھی مجھ سے تو اس وقت میرا دل کیا کے اسے جان سے مار ڈالوں ۔۔۔۔ مگر مجھے اس سے ہارنے میں اپنی جائز خواہشات کو اس کی خواہشات پر قربان کرنے کی عادت سی ہوگئی تھی ۔۔۔ مگر جس دل سے اپنی اولین خوشی اس کے حوالے کی تھی یہ میرا رب جانتا ہے یا میں ۔۔۔۔ تمہیں کھو کر احساس ہوا کہ میں نے تو اپنی زندگی اس کے حوالے کردی تھی ۔۔۔ جب تمہیں بے ہوش زخمی حالت میں کمرے میں دیکھا تھا۔ تبھی میں تمہارا مجرم خود کو سمجھنے لگا تھا ۔۔۔۔۔ ماما نے سہی کہا تھا کہ میں بھی میر کی طرح خود غرض ہوگیا تھا۔۔۔ اپنے بھائی کو خوش کرنے کے چکر میں تمہاری خوشیوں کا قاتل بن گیا ۔۔۔ اگر ہوسکے تو مجھے معاف کردینا ۔۔۔۔ میں تمہارا مجرم ہوں ۔۔۔۔۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ میں تم سے محبت کرتا ہوں ۔۔۔۔ کرتا تھا ۔۔۔۔ اور کرتا رہونگا ۔۔۔۔ اگر تم شادی پر مجھ سے راضی نہیں تو کوئی بات نہیں ۔۔ لیکن خدا کی قسم اب تمہارے سوا کوئی اور میرے دل میری زندگی میں نہیں آسکتا۔"

وہ جو ان کی مرہم پٹی کر چکی تھی اور سر جھکا ئے ان کی باتیں سن رہی تھی۔ ایک دم جھکا سر اُٹھا کر انہیں دیکھنے لگی۔ آنکھیں پانی سے بھری ہوئیں۔ انہیں ایسا لگا ابھی چھلک پڑینگی اس کی آنکھیں۔

"آآپ کے اس ایک انکار نے مجھے تپتے صحرا میں لاکر کھڑا کردیا ہے سلمان ...۔ میرا وجود ہی نہیں روح بھی جھلس گئی ہے۔ میں سب کچھ کھو چکی ہوں ۔۔۔۔ اپنی شکل اپنا مان ۔۔۔اپنی خود اعتمادی سب کچھ ہی۔"

اسے روتا دیکھ کر وہ اس کی طرف بے تابی سے بڑھے تھے۔ اور اپنے دونوں ہاتھوں سے اس کے کاندھوں کو تھاما تھا۔

اگر اجازت دو تو میں وہ سب تمہیں لوٹا دوں ۔۔۔ اگر اجازت دو تو اپنی جان بھی تمہارے حوالے کردوں ۔۔۔۔ تم پر قربان ہوجاؤں۔"

وہ جو سر جھکائے رو رہی تھی ان کے اس طرح نزدیک آنے اور اسے تھام کر جذبات اور درد سے پور لہجے میں کہنے پر ایک دم سر اُٹھا کر انہیں دیکھا تھا۔ تو بہت پیار سے انہوں نے اس کے آنسو صاف کیئے تھے۔ اور اس کے شانوں سے اپنے ہاتھ ہٹا کر پیچھے ہٹ گئے تھے۔

"کیا اب میں امید کر سکتا ہوں کہ تم انکار نہیں کروگی؟"

حنین نے ان کے پوچھنے پر اپنا سر جھکا لیا تھا۔ جس پر سلمان کے چہرے پر ایک اطمینان بھری مسکراہٹ پھیل گئی تھی۔

××××××××××××××

 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 447 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: farah ejaz

Read More Articles by farah ejaz: 145 Articles with 131717 views »
My name is Farah Ejaz. I love to read and write novels and articles. Basically, I am from Karachi, but I live in the United States. .. View More

Comments

آپ کی رائے
Language: