بابا! میں پری ہوں نا

(Sana Waheed, )

بابا! میں پری ہوں نا؟
چار سالہ سبین نے معصومیت سے پوچھا۔
ہاں بھئ اتنی پیاری تو پریاں ہی ہوتی ہیں ۔ میری بیٹی تو ہے ہی پری۔
عدنان نے لاڈ سے اپنی بیٹی کو گود میں اٹھاتے ہوئے جواب دیا۔
ویسے تو انکے دو بیٹے مزمل اور مونس بھی تھے لیکن ننھی سبین میں جان تھی انکیجب سے یہ ننھی پری انکی ذندگی میں آئ تھی وہ بہت خوش تھے۔لاڈلی تو وہ اپنی ماں زینب اور دونوں بھائیوں کی بھی تھی لیکن بابا کے لاڈ کی بات ہی الگ تھی ۔ گھر میں سب ہی اسکے ناز نخرے اٹھاتےتھے۔
زینب میرے کپڑے پریس نہیں کئے؟ آفس کے لئے دیرہورہی تھی اور زینب بچوں کو تیار کرنے میں مصروف تھی۔
او ہوکل ٹائم ہی نہیں ملا۔ آپ اتنے فریش ہوکر آئیں میں پانچ منٹ میں کردیتی ہوں ۔ مزملبیٹاسبین کو بھی ناشتہ کرادو۔وہ 8 سالہ مزمل کو مشکلذمہ داری سونپ کر کپڑے پریس کرنے چلی گئ۔
حد کرتی ہو تم پورا دن گھر پر رہتیہو اور کپڑے پریس کرنے کا ٹائم نہیں ملا۔ کوئی کام ٹھیک طرح نہیں ہوتا تم سے۔۔۔۔ عدنان غصے میں بڑبڑارہا تھا۔
زینب خاموشی سے کپڑے پریس کرنے لگی۔
عدنان فریش ہوکر آئے تو سبین رو رہی تھی۔
کیا ہوا اسے رو کیوں رہی ہے؟ اسکی آنکھوں میں آنسونہیں دیکھ سکتےتھے۔
پاپا میں نے ناشتہ نہیں کیا وین آگئ۔ اس نے روتے ہوئے جواب دیا۔
میں آپکے کپڑے پریس کرنے لگی تو۔۔۔
اگر تم ٹائمپر کام کرلو تویہ مسئلے نہ ہوں۔ اسےناشتہ کرواومیں ڈراپ کردوں گا بچوں کو۔۔۔۔۔۔
۔اور یہ تو روز کی کہانی تھیپورے گھر کی ذمہ داری، بچوں کی پڑھائی، گھر کی صفائی، ساس سسر کی ضرورتوں کا خیال رکھنا، بچوں کے اسکول آنے سے پہلے کھانا شوہرکے آفس سے آنے سے پہلے چائے تیار رکھنا وہ کسی روبوٹ کی طرح ہر کام کو روز ہی خوش دلی سے کرنے کہ لاکھ کوشش کرتی لیکن پورا دن گھر میں کوئی ایک کامبھی نہ ہوا ہو تو عدنان کو نظرآجاتا باقیکئے گئے ہزاروں چھوٹے بڑے کام اسے نظر نہ آتے۔بحر حال زینب ایک سمجھدار اور سلجھی ہوئ خاتون تھی۔ اس نے کبھی بھی ان سب باتوں کو خود پر حاوی نہیں ہونے دیا نہ اپنے بچوں کی تربیت میں کوئ کمی آنے دی عدنان کی لاکھ شکایتوں کے باوجود وہ اچھی طرح جانتی تھی کے وہ ایک ذمہ دار بیوی، بہو اور ماںہے۔۔۔۔۔۔
آپکو پتا ہے غیر ذمہ دار کسے کہتے ہیں؟؟ ایک بار اس نے عدنان سے پوچھا۔
ہاںجو اپناکام وقت پر مکمل نہ کرے۔ عدناننے بغیر توقف کے جواب دیا۔
جی نہیں جو اپنے رشتےمیں خیانت کرے۔ کسی کی ضرورتوں کا خیال نہ رکھے۔۔۔۔۔۔ اور میں نے کبھی بھی اپنے کسی رشتےمیں کوئی خیانت نہیں کی نہ ایک ماں ہونے کی حیثیت سے نہ ایک بیوی اور نہ ایک بہو۔۔۔۔۔۔ اسکیبات سن کر عدنان محظ مسکرا دیئے ۔
بحر حال اچھے میاں بیوی کی طرح وہ دونوں بھی ایک دوسرے کے دکھ درد کے ساتھی تھے۔مزمل اور مونس دونوں پڑھائی سے فارغ ہوکر اچھی نوکریوںپر فائز تھےاسی دوران دونوں کی شادیکے فرائضسے بھی ادا ہوگئے تھے۔ اب مشکلکام سبین کو رخصت کرنا تھا۔ اتنے لاڈوں سےپلی ہوئی بیٹی کو کسی غیرکے حوالے کرنا مشکلضرور تھا لیکن یہ تو صدیوں کی ریت تھی سو ہروالدین کی طرح انہوں نے بھی ڈھیروں دعائوں کےسائے میں اپنی بیٹی کو رخصت کردیا۔۔۔۔ عدنان نے بہت سوچ بچار کے بعد اپنی بہن کے بیٹےکو شرفقبولیت بخشا تھا۔ آذر اچھی طرحسبین کی عادتوں اور گھر میں اسکے لاڈپیار سے واقف تھااس لئے عدنان کو یقین تھا کے انکا بھتیجا اور بہن بھی اسے اتنے ہی لاڈسے رکھیں گے۔ اور انکا اطمینان صحیح ثابت ہوا۔ سبین واقعی خوش تھی ۔ یہ دیکھ کر زینب اور عدنان بھی مطمئین ہوگئے۔۔۔
آجسبین کی یاد آرہیہے کیوں نہ اسکیطرف چلیں۔ عدنان نے زینب سے پوچھا۔
اس طرح اچانک؟؟ زینب نے سوال کیا۔
ہاں بھئ ہماری بیٹیہمیںدیکھ کر خوشہوجائے گی پھر آپابھی تو بلاتی رہتی ہیںانکی شکایتبھی دور ہو جائے گی۔عدنان نے اطمینان سے جواب دیا۔
اوکے۔ میں تیار ہوکر آتی ہوں ۔
اور وہ دونوں سبین کے گھر آگئے۔
سبین گھر کا کیا حالکیا ہوا ہے تمہیں دس دفعہ کہا ہےمیں آفس سے آوں تو گھر صاف ملنا چاہیے ۔ اندر سے آذر کی آوازآئی شایدابھی آفس سے آیا تھا وہ۔
اور عدنانکے بیل کی جانب اٹھتےہاتھ رک گئے۔
کیا ہوا آپ رک کیوں گئے؟ زینب نےآگےبڑھ کر بیل بجادی۔
دروازہ آذر نے کھولا۔ ارے ماموں ممانی آپ۔ آئیے نا اندر سبیندیکھو کون آیا ہے۔ وہ خوش دلی سے استقبالکررہا تھا۔ سبین بھی بہت خوشتھی دونوں کو دیکھ کر۔
آذراور سبین نے کوئی کسر نہیں چھوڑی تھیمہمان نوازی میں ۔ زینب نے بیٹیکی آنکھوں میں خوشی کی جھلک دیکھ لی تھی لیکن عدنانکچھ اداس تھے۔
آپکو کیا ہو؟ اس نے راستے میں پوچھا۔
تم نے دیکھا وہ کس طرحبات کرتا ہے سبین سے۔۔۔۔ عدنان نے اپنا خدشہ ظاہر کیا۔
یہ تو نارمل سی بات ہےاور گھر گندا ہوگا تو کوئ بھی شور مچائے گا۔۔۔۔ زینب نے تسلی دی۔
ہاںتو بعدمیں تو صاف کردیا نا سبین نے دن میں ٹائم نہیں ملا ہوگا ورنہ کتنی سی دیر لگتی ہے۔ میں بات کرونگا آپا سے۔ہماری بیٹی کوئی مشین نہیں ہے جو بٹن دباتےہی سارے کام کردے اور کوئ بڑی بات بھی نہیں گھر کے چھوٹے چھوٹے کاموں کے لئے اس طرح کون غصے کرتا ہے۔۔۔۔۔عدنان سخت غصے میں تھا۔
کوئی ضرورت نہیں ہے آپکو اسکے گھر کے معاملات میں دخل اندازی کرنے کی۔ آپ نے دیکھا نہیں آذر اسکے کھانے پینے کا کتنا خیال کر رہا تھا اور آپا بھی۔آئے دن گھمانے لیکرجاتا ہے شاپنگ کراتا ہے جب سبین کہتی ہے ہم سے ملانے لے آتا ہے ہماری بیٹی خوش ہے وہاں۔ اور رہی بات ڈانٹنے کی تو سب شوہر ایسے ہی ہوتے ہیں مجھےبھی شروع میں آپ کا اس طرحکام کے لئے ڈانٹنا بڑا معیوب لگتا تھا لیکن پھر میں عادی ہوگئ ہر کام آپکی مرضی سے کرنے لگی۔ سبینبھی عادی ہو جائے گی۔۔۔۔۔ زینب نے تسلیسے سمجھایا لیکن عدنانکے دلکا بوجھ بڑھ چکا تھا۔ اور اسکی وجہ سبین نہیں زینب کے ساتھ کی گئ نا انصافی تھی ۔۔۔۔ گھر آکر بھی پوری رات وہ بے چین تھا اپنی گزری ذندگی کا ہر لمحہ یاد آرہاتھا کس طرح چھوٹے چھوٹے کام نہ ہونے پر وہ پورا گھر سر پر اٹھا لیتا تھا اور زینب۔۔۔۔۔ کتنی بار کسی تقریب کے لئے اسکے نئےکپڑے بنوانے کی گنجائش نہیں ہوئی اس نے پرانے پہن لئے ۔۔۔معمولی سے سر درد میں وہ آفس سے چھٹی کرلیتا اور زینب تیز بخار میں بھی اپنے کام پورےکرتی وہ جب آفس میں ہوتاتو اسے نہ اپنے ماں باپ کی فکر ہوتی اور نہ بچوں کی اسے پتا تھا زینب انھیں دیکھ لے گی۔لیکن اگر وہ کہیں کام سے چلیجاتیتو بار بارفون کرکے سب کا پوچھتی اور خود وہ بھی ذرا سی بات پر اسے کال کرتا اور جب تک وہ آ نہ جاتی اسکے جانے پر غصہ کرتا۔۔۔۔۔۔ اور نہ جانے کتنی باتیں تھی پتا نہیں کب اسکیآنکھ لگی۔ صبحناشتہکرنے آیا تو مزمل آفس جانے کے لئےتیار ہو رہا تھا۔اسکی بیوی ناشتہ لگا رہی تھی حسب عادت سب نے اسے سلامکیا۔ وہ سلام کا جواب دیتا اپنی سیٹپر بیٹھ گیا زینب بھی ناشتہکر رہی تھی۔یہ روز کا معمول تھا صبح کا ناشتہمزملکی بیوی بناتی تھی کیونکہمزمل جلدی آفس جاتا تھا۔ اس سال سے اسکیبیٹیبھی اسکولجانے لگی تھی۔مونس دیر سے آفس جاتا تھا اسکا بیٹا ابھی چھوٹا تھا اس لئے وہ دونوں میاں بیوی بعد میں ناشتہکرتے تھے۔
مناہل آو میں ناشتہ کرادوں۔ مزمل بھی جان چھڑکتا تھا اپنی بیٹی پر۔ نہیں آپکو آفس جانا ہے آپ ناشتہ کریں زینب کومیں کرا رہیہوں ۔ سائرہ نے بولا۔
نہیں میں نے ناشتہ کرلیا ہے تم کرلو ورنہ ٹھنڈاہوجائے گا۔ اپنی پری کو میں خود ناشتہ کراونگا۔ مزمل نے پیار سے مناہل کو گود میں بٹھایا اور جب عدنان کو احساس ہوا مزمل اور مونس کی ان عادتوں پر وہ اکثر چڑتےتھے گھر کے ہرچھوٹے بڑے کام میں وہ اپنی بیویوں کا اسی طرح ساتھ دیتے تھے کبھی گھر گندا پڑا ہوتا کبھی کھانا وقت پر تیار نہ ہوتا تو عدنان ہی غصہ کرتے مزملاورمونس کوان باتوں پرکبھی چیختے ہوئے نہیں دیکھا تھا انہوںنے۔ اپنی مرضیسے آٹھکر کام کرتی ہیں کسی کام کا کوئی ٹائم نہیں ہمارے گھر میں کہنے کو دو بہویں ہیں انہیں اکثر شکایت ہوتی۔
او ہوکام کر تو لیتی ہیں نا آپکو یا مجھے تو نہیں کرنا پڑتا نا۔زینب ہمیشہ حمایت کرتی۔
بابا ! میں پری ہوں نا؟؟ مناہل کی آوازکا نوں سے ٹکرائ تو وہ چونکے۔
ہاں بالکل۔ بیٹیاں تو ہوتی ہی پریاں ہیں ۔ مزمل نے پیار سے بولا۔
تو کیا سب بیٹیاں پری ہوتی ہیں؟؟؟ مناہل نے حیرانی سے پوچھا۔
ہاں۔ بالکل۔۔۔۔۔
تو پھر کیا مما اور دادی جان بھی پری ہیں؟؟؟ اس نے اپنے ننھے سے دماغ پر زور ڈالا۔
ہاں بھئ آپکی مما اور دادی جان تو اس دنیا کی سب سے اچھیپریاں ہیں۔ مزمل نے ان دونوں کی طرف دیکھتےہوئے شرارت سے بولا۔ وہ دونوں بھی ایک دوسرےکو دیکھ کر زور سے مسکرائیں۔۔۔ اور ایک ہلکی سی مسکان عدنان کے چہرے پر بھیپھیل گئ تھی "میری بیٹی تو ہے ہی پری" اور" سب بیٹیاں پری ہوتی ہیں" کا فرق وہ سمجھ گئے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ختم شد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 1024 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sana Waheed

Read More Articles by Sana Waheed: 24 Articles with 13825 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Very good theme
Nice try
Dua ha k ap hamesha aesy hi likhte rho
But sirf ek bt k Urdu typing mein bohat galtian thi.
By: Esha, Lahore on Mar, 12 2020
Reply Reply
0 Like
,بہت عمدہ
واقعی سب بیٹیاں اپنے پاپا کی پری ہوتی ھے
By: Samreen Ali, Karachi on Jan, 26 2020
Reply Reply
1 Like
Language: