آزمائش کی ساعتیں اور بحیثیت مسلمان ہماری ذمہ داریاں

(Ghulam Mustafa Rizvi, India)
’’آزمائش کی بھٹیوں میں تپایا جائے گا اور امتحان وابتلا کی کڑی دھوپ سے گزرنا ہوگا‘‘

 اِس وقت ہم ابتلا و آزمائش کے دَور سے گزر رہے ہیں۔یہ افتاد ہمارے ہی اعمال کا نتیجہ ہے۔ ہم نے اپنی زندگی مغربی سانچے میں ڈھال لی۔ ویسٹرن کلچر جو زوال کی علامت ہے؛ کی پیروی میں ہم نے اپنی راہ گُم کر دی؛ اِسی لیے تکالیف اور مصیبتوں سے گزر رہے ہیں، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

الٓمٓ o اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ یُّتْرَکُوْ آ اَنْ یَّقُوْلُوْآ اٰمَنَّا وَہُمْ لَا یُفْتَنُوْنَ o
(سورۂ عنکبوت:۲۹؍۱،۲)

یعنی ایمان لانے کا مطلب یہ نہیں کہ مومن مصائب سے مامون اور حوادث سے محفوظ ہوگیا، خوب سمجھ لو کہ آزمائش کی بھٹیوں میں تپایا جائے گا اور امتحان وابتلا کی کڑی دھوپ سے گزرنا ہوگا۔

یہ گھڑی ہمارے لیے آزمائش کی ہے۔ اِس میں ہمیں جدوجہد کرنی ہوگی۔ محنت کرنی ہوگی۔ کوشش سے کام لینا ہوگا۔اپنی ذات کی اصلاح کرنی ہو گی۔ اپنے کردار کی بھی اصلاح کرنی ہوگی۔ سچ کی راہ اپنانی ہوگی۔ ہر شعبے میں صدق اور دیانت سے چلنا ہوگا۔ تب رب کی رحمتوں کا نزول ہوگا۔ باطل کی سازشوں کی دھجیاں بکھر جائیں گی۔

اُمیدوں کے اُجالے:
عموماً ایسی ساعتوں میں قوم مایوسی کا شکار ہو جاتی ہے، نا اُمیدی کے اندھیرے میں بھٹکنے لگتی ہے، جب کہ آزمائش سے نکلنے کے اسباب تلاش کرنے چاہئیں۔ بحرالعلوم مفتی عبدالمنان اعظمی تحریر فرماتے ہیں:

’’مصائب میں پڑکر مسلمان کو ہمت نہیں ہارنی چاہیے، حوصلے نہیں چھوڑنا چاہیے، طوفانوں کا مَردانہ وار مقابلہ کرے؛ اور حوادث کی بھٹی سے اسلام کا جھنڈا ہاتھ میں لیے کندن بن کر باہر آئے۔ تب ان شاء اللہ وَاَنْتُمُ الاَعْلَوْنَ (تم ہی سربلند ہو)کا جلوہ تمھارے سامنے ہوگا اور تب معلوم ہوگا کہ ؎

چلا جاتاہوں ہنستاکھیلتا موجِ حوادث سے
اگر آسانیاں ہوں زندگی دُشوار ہوجائے

کامطلب کیا ہے؟ اور یہ بھی ممکن ہے کہ مصائب تمھارے بُرے کرتوت کی سزا ہوں، اس وقت بھی خدا کی رحمت سے مایوس نہ ہونا چاہیے، اللہ ہی کی بارگاہ میں لوٹو، اس سے توبہ و استغفار کرو، روؤ، گڑگڑاؤ، اور اپنے اعمال پر نظرِ ثانی کرو، بُرائیوں سے باز آؤ اور نیکیوں پر عمل کرو؛ تو اللہ تعالیٰ تمھارے دن پھیر دے گا اور زندگی کی مسکراہٹیں تمھارا اِستقبال کریں گی۔‘‘
(موجودہ حالات اور مسلمانانِ ہند،ص۷، طبع مالیگاؤں۲۰۱۸ء)

ہماری ذمہ داریاں:
ملک کے حالات مخفی نہیں۔ CAA، NRC اور اب NPRکے ذریعے جس طرح سے مسلمانوں اور ملک کے کم زور طبقوں کو نشانہ بنانے کی سازشیں کی جا چکی ہیں؛ اُس سے ملک کی اکثریت باخبر ہو چکی ہے۔ پورا ملک احتجاج کی آماج گاہ بن چکا ہے۔ جمہوری و دستوری طور پر پُر امن احتجاجات کا سلسلہ جاری ہے۔ ہر طبقہ میدان میں ہے۔ ہر فرد سراپا احتجاج ہے۔ یہ لمحہ ہمارے لیے بڑا اہم ہے، ہمیں چاہیے کہ دو راہیں اختیار کریں:

[۱] جدوجہد جاری رکھیں۔ بھارت کے آئین کی حفاظت کے لیے مؤثر اقدامات/آئینی رُخ سے تفویض احتجاجی تدابیر اختیار کریں۔
[۲] رجوع اِلی اللہ کریں؛ گناہوں سے توبہ کریں۔ ماضی کی غلطیوں کی تلافی کر کے اسلام کی راہ پر استقامت اختیار کریں۔

یاد رکھیں یہ وقت جاگنے کا ہے۔ سوجھ بوجھ کے ساتھ اپنی کوششیں جاری رکھیں۔ یہ بھارت کے دستور پر حملہ ہے۔ دستور نے منافرت سے جُدا فکر دی ہے۔ فرقہ پرست حکومت نفرتوں کی پرورش کر رہی ہے۔ جب قانون میں ہی مذہبی منافرت کو داخل کر دیا جائے گا تو ملک کی پُر امن فضا کیوں کر برقرار رہ سکے گی؟ اسی لیے ان کی یہی کوشش ہے کہ ایک کے بعد ایک؛ آئین سے باہمی اخوت والے عناصر ختم کر کے مذہبی نفرتوں کو بڑھاوا دیا جائے؛ اور اس کی آڑ میں ملک سے مسلمانوں کو ختم کرنے کی مہم استوار کر دی جائے۔ ایسے حالات کا تقاضا ہے کہ ہم ملک کے آئین کی حفاظت کے لیے عمل کی بزم میں رہ کر کاوش جاری رکھیں۔ جمہوری جدوجہد میں برادرانِ وطن کو بھی شامل کریں۔ دَلتوں کو بھی شامل کریں۔ اس لیے کہ’ منوسمرتی‘ کے قیام کے لیے ان فرقہ پرستوں کانشانہ ہر پچھڑا طبقہ ہے۔ طبقاتی کشمکش کو ان لوگوں نے بڑھاوا دیا ہے ۔گویا ان کی حکومت نفرتوں کی بنیاد پر قائم ہے۔ اب ہمیں ان نفرتوں کو آئینی طریقے سے کچلنا ہوگا۔محبتوں کی جوت جگانی ہوگی۔ جس کے لیے اِس وقت میدان میں یونیورسٹی کے طلبہ بھی ہیں، اساتذہ بھی ہیں، ماہرینِ علم و فن بھی ہیں، علما بھی اور پچھڑے طبقات بھی ہیں۔ حقوق کی اِس پُر امن جنگ کو مل جل کر لڑنا ہوگا اور آئینی جدوجہد کے ذریعے ظالموں کو گھٹنوں بٹھانا ہوگا۔

دُشمن چاہتا ہے کہ یہ پورا معاملہ ہندو مسلم روپ دھار لے۔اِسی لیے نفرتوں کی کاشت کی جا رہی ہے؛ ہمیں آئینِ ہند کے تحفظ کے لیے دُشمن کی چالیں ناکام بنانی ہوگی۔ چوں کہ اُن کا حملہ آئین پر ہے۔ یہی ان کی منوسمرتی کی راہ میں پہلی رکاوٹ ہے۔ اُن کی دوسری رکاوٹ مسلمان ہیں۔ لیکن! دانش مندی کے ساتھ پہلی ہی منزل پر اُنہیں ناکام بنانا ہے۔ اِس لیے مایوسی سے نکلیں۔ آئینِ ہند کے تحفظ کے لیے ناقابلِ تسخیر حصار قائم کریں اور اِسی منزل پر ان کے غرور کا سر نیچا کر دیں۔ ؎

اُسی کشتی کو نہیں تابِ تلاطم صد حیف
جس نے رُخ پھیر دیے تھے کبھی طوفانوں کے
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 307 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ghulam Mustafa Rizvi

Read More Articles by Ghulam Mustafa Rizvi: 255 Articles with 125208 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language:    

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ