میرا بیٹا محمد شاہد اسلم لودھی

(Muhammad Aslam Lodhi, Lahore)

جسے میں اپنی رگوں میں دوڑنے والا خون قرار دیتا ہوں
مجھے وہ شام زندگی بھر نہیں بھولتی جب میں دفتر سے انتہائی تھکاماندہ گھر پہنچا تو گھر کے ماحول میں عجیب سی اداسی اور پریشانی کا احساس ہوا۔ سب سے پہلے میرا استقبال کرنے والوں میں میری اہلیہ تھی جو ہر صبح نہایت گرمجوشی سے الوداع کہتے ہوئے مجھے جاتا ہوا دور تک دیکھتی رہتی ۔ گویا وہ اس طرح مجھ پر اپنی بے لوث محبت نچھاور کرتی ہے اور جب شام ڈھلے میں گھر لوٹتا تو اس کا ہنستا مسکراتا چہرہ میری تھکاوٹوں کو بڑی حد تک سکون اور راحت میں بدل دیتا۔ بے شک ایسی ہی نیک سیرت بیویاں بہتر اور خوشگوار رویوں کی بدولت اپنے گھر کو جنت بنائے رکھتی ہیں۔ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ ہر اچھی بیوی اور ماں کا ہر گھر میں یہی کردار ہوتا ہے۔ بہرکیف گھر میں داخل ہوتے ہی جونہی میری نظر اپنی اہلیہ کے مغموم اور اداس چہرے پر پڑی تو میرا دل اور دماغ وسوسوں کا شکار ہونے لگا۔ ابھی میں اپنے آپ کو یکجا کرکے وجہ پوچھنے کی جستجو کرہی رہا تھا کہ ایک ماں کے دل میں اولاد کی محبت میں چھپا ہوا‘ درد ایک فقرے سے ہی عیاں ہوگیا۔ یوں محسوس ہوا کہ اس کی زبان سے نکلنے والے الفاظ میرے کانوں میں پگھلتا ہوا سیسہ انڈیل رہے ہیں۔ وہ اپنی تمام تر قوتوں کو مجتمع کر کے مجھے کہہ رہی تھی کہ آپ کا سب سے پیارا اور بڑا بیٹا صبح سے ہی بستر پر نڈھال پڑا ہے۔ وہ سخت بے چینی کا شکار ہے۔ کبھی اس کو قے آتی ہے تو کبھی وہ پیشاب میں خون کی آمیزش کا اندیشہ ظاہر کرتا ہے۔ جسمانی طاقت نہ ہونے کی بنا پروہ نڈھال اور مدہوش سا ہو کر لیٹا ہوا ہے۔ میں تو صبح ہی سے اپنے اس بیٹے کی حالت دیکھ کر ہر لمحے بکھرتی جا رہی ہوں۔ نہ میرے دل کو سکون ہے اور نہ ہی دماغ کو قرار۔ اب آپ ہی دیکھیں آپ کے لخت جگر کو کیا ہو گیا ہے۔؟

یہاں میں عرض کرتا چلوں کہ اولاد تو ہر انسان کو پیاری لگتی ہے کیونکہ اس سے خونی رشتہ جو ہوتا ہے اور رگوں میں دوڑنے والا یہ خون ہر آزمائش کی گھڑی میں ہمیشہ جوش مارتا ہے۔ لیکن اولاد میں سے کچھ بچے ایسے بھی ہوتے ہیں جو باقی کی نسبت والدین کے نہ صرف زیادہ قریب ہوتے ہیں بلکہ اپنی محبت کی وجہ سے ہر وقت ان کے اعصاب پر سواررہتے ہیں۔میرا بیٹا شاہد کچھ ایسی ہی خوبیوں کا حامل نوجوان ہے۔ یہ ان دنوں کی بات ہے کہ جب میرے گھر میں صرف بیٹی تسلیم ہی موجود تھی۔ چونکہ باپ کو بیٹی سے اور بیٹی کو باپ سے نسبتاً زیادہ پیار ہوتا ہے اس لیے میری تمام تر محبتوں کا رخ اپنی اکلوتی بیٹی تسلیم کی طرف ہی تھا۔ پھر جب بیٹا شاہد12اگست 1981ء میں پیدا ہوا تو ابتداء میں میری وہ توجہ اور محبت حاصل نہ کر سکا جس کا وہ خود کو حق دار سمجھتا تھا۔ یونہی دن اور مہینے گزرتے گئے۔ میرے اعصاب پر بیٹی کی محبت سوار تھی۔ میں نومولود بچے کو بہت کم اٹھاتا اور پیار کرتا رہا‘ حالانکہ بیٹا شاہد اپنی ماں کی آغوش میں ہر لمحے موجود رہتا۔ دادا دادی بھی اس کو مسلسل پیار اور نگہداشت بھی کرتے لیکن حیرت انگیز طور پر اس معصوم بچے نے اپنی زندگی کے ابتدائی چند مہینوں میں ہی محسوس کر لیا کہ سگے باپ کی محبت اور توجہ اسے حاصل نہیں۔ پھر اس نے شفقت پدری کی اس طلب میں مجھے اپنی شرارتوں اور بے ساختہ مسکراہٹوں سے متوجہ کرنا شروع کر دیا۔ میں جونہی دفتر سے واپس گھر پہنچتا تو وہ پیار سے دیکھتے ہوئے مجھے اپنی طرف متوجہ کرتا۔ جب اس کی ان معصومانہ اداؤں کا بھی مجھ پر اثر نہ ہوا تو اس نے زمین پر رینگتے رینگتے میری طرف بڑھنا شروع کر دیا اور میری ٹانگوں تک پہنچنے کے بعد مجھے اس انداز سے مخاطب کرتا جیسے وہ کہہ رہا ہو کہ مجھے اٹھالو۔ ایک دو مرتبہ میں نے اس خواہش کو دراعتنا خور نہ سمجھا لیکن وہ صبح وشام میری ٹانگوں سے لپٹ کر مجھ سے اپنی چاہت کا احساس کرواتا رہا‘ بالاخر باپ کے خون میں رچی ہوئی محبت نے بھی جوش مارنا شروع کر دیا۔ اس راستے پر چلتے ہوئے اس نے میرے دل میں اپنے لیے ایک خاص مقام پیدا کر لیا۔ ایک وقت یہ بھی آیا کہ میں بیٹے کی حیثیت سے اسے اپنی ذات کا لازمی حصہ تصور کرنے لگا۔ جوں جوں شاہد بڑا ہوتا گیا‘ وہ میرا بیٹا ہی نہیں میرا دوست بھی بنتا گیا۔ جن دنوں میں PIDBمیں ملازمت کرتا تھا‘ خصوصاً گرمیوں کی چھٹیوں کے دو تین مہینے وہ صبح سے شام تک میرے ساتھ ہی ہوتا۔ میں اسے ہر صبح گھر سے دفتر واقع بلڈنگ لاہور چیمبر آف کامر س لے جاتا۔ وہاں میرے دفتر کے کئی ساتھی اس سے کھیلتے رہتے۔ وقت اور موقع ملنے پر وہ بھی اپنی شرارتوں سے انہیں محظوظ کرتا۔ پھر اس دفتر میں نواز نامی شخص اسے لے کر دفتر سے ملحقہ ریس کورس پارک میں چلا جاتا جہاں پہلے گھوڑوں کی ریس ہوا کرتی تھی ۔ پھر ہاں گورنر پنجاب لیفٹیننٹ جنرل غلام جیلانی کی کوششوں سے اس وسیع و عریض میدان کو پارک بنادیا گیا جس میں دو خوبصورت بلند اور پودوں سے ڈھکی ہوئی پہاڑیاں بنا کر ان کے دامن میں پانی کے وسیع تالاب بنا دیے گئے اور ان تالابوں کے اردگرد خوشنما پھولوں کی کیاریاں ترتیب دے دی گئیں۔ سیکورٹی گارڈ محمد نواز روزانہ شاہد کو لے کر پارک میں چلا جاتا اور وہاں کئی کئی گھنٹے شاہد کے ساتھ کھیلتا رہتا۔شاہد بھی پارک میں خوب انجوائے کرتا۔

اس وقت PIDB میں دو بجے دوپہر چھٹی ہوجایا کرتی تھی ‘ چھٹی کے بعد میں گھر آنے کی بجائے بیٹے شاہد اپنے ساتھ لے کر اردوبازار روانہ ہو جاتا جہاں ان دنوں میں دو تین گھنٹے کے لیے جزوقتی کام کرتا تھا۔ یہاں بھی شاہد یا تو سکول کا ہوم ورک کرتا رہتا یا وہاں کے ملازم محمد یاسین اورمحمد یوسف صاحب سے محبتیں سمیٹتا رہتا۔ پروفیسرحفیظ الرحمن احسن صاحب بھی شاہد کو بے حد پیارکرتے۔ شام کے گہرے سائے جب ماحول کو گھیر لیتے اور رات کا اندھیرا ہر طرف چھا جاتا تو شاہد بائیک پر میرے ساتھ ہی گھر کی طرف روانہ ہو جاتا لیکن تمام دن میرے ساتھ رہنے کے باوجود اس کی زبان پر شکوے کا ایک لفظ بھی نہ ہوتا۔وہ نہایت فرماں بردار بیٹا بنا رہا۔ بلکہ اگلی صبح وہ نئے جذبے اور ولولے کے ساتھ میرے ساتھ جانے کے لیے تیار کھڑا ہوتا۔ ہر روز یہ روٹین دیکھ کر اکثر لوگ مجھے نصیحت آمیز لہجے میں کہنے لگے کہ سارا دن بچے کو اپنے ساتھ لیے پھرتے ہو اس طرح بچے کی شخصیت اور نشوونما پر برا اثر بھی پڑ سکتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں باپ اور بیٹے کے درمیان کچھ فرق ضرور برقرار رکھا جاتا ہے اور جب یہ فرق برقرار نہ رہے تو بچے کی صحت پر اس کے ناخوشگوار اثرات بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ ایک طرف تو یہ نقطہ نظر تھا تو دوسری طرف مجھے اپنے بیٹے شاہدسے اور شاہد کو مجھ سے بے پناہ محبت ہو چکی تھی جس دن وہ میرے ساتھ نہ ہوتا تو میں خود کو ادھورا محسوس کرتا۔ بالکل یہی کمی وہ میری جدائی میں محسوس کرتا۔ لڑکپن سے جوانی تک وہ سائے کی طرح میرے اردگرد ہی موجود رہا۔

پھر جبPIDBکا محکمہ ختم ہوگیا توپہلے چھ مہینے فیملی پلاننگ ایسوسی ایشن کے دفتر میں اس کے بعد بنک آف پنجاب میں ملازم ہوگیا توشاہدبھی باقاعدگی سے سکول پڑھنے جانے لگا۔کتنا ہی عرصہ مجھے اس کی کمی کا احساس ہوتا رہا پھر دل کو یہ کہہ کر سمجھا لیا کہ اسے تعلیم بھی تو حاصل کرنی ہے ۔اس لیے حصول تعلیم کے لیے سکول جانا ہی چاہیے۔ اس قدر ذہین تھا کہ میرے بغیر ہی اس نے موٹرسائیکل چلانا سیکھ لی۔ اس بات کی مجھے اس وقت خبر ہوئی جب وہ ایک مرتبہ میرے سامنے موٹرسائیکل پر بازار کا چکر لگا کر آ رہا تھا۔ اس کی یہ حرکت اس کی ہنرمندی اور ذہانت پر دلالت کرتی تھی ۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ میں نے سائیکل اور موٹرسائیکل کئی مہینوں کی محنت اور مشقت کے بعد سیکھی تھی بلکہ اس دوران کئی مرتبہ گرا بھی اور چوٹیں بھی کھائیں۔

بہرحال شاہد کے موٹرسائیکل سیکھنے سے مجھے یہ فائدہ ہوا کہ اب وہ نہ صرف براہ راست میری مدد کر سکتا تھا بلکہ اپنی ماں‘ بہن اور چھوٹے بھائی کو بوقت ضرورت کہیں لے جاسکتا تھا ۔ دوسرے لفظوں میں اس کی وجہ سے میرے کاندھوں سے ذمہ داریوں کا آدھا بوجھ کم ہوگیا۔ یہ امر یقینا میرے لیے مزید راحت کا باعث تھا۔چند ہی سال پہلے کی بات ہے کہ میرا یہ بیٹا جو الحمد ﷲ نہ صرف پکا نمازی تھا بلکہ روزے بھی باقاعدگی سے رکھتا تھا۔ اس نے ماہ رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف میں بیٹھنے کی اجازت مجھ سے مانگی۔ چونکہ یہ ہر ماں باپ کے لیے ایک اعزاز کی بات تھی اس لیے میں نے بخوشی اجازت دے دی۔ کہنے کو تو یہ دس دن اور دس راتیں تھیں جو گزر ہی گئیں لیکن ان دس دنوں اور دس راتوں میں بیٹے کی جدائی کو میں نے شدت سے محسوس کیا۔ حالانکہ جس مسجد میں وہ اعتکاف بیٹھا تھا وہ نہ صرف میرے گھر سے ڈیڑھ فرلانگ کے فاصلے پر واقع تھی بلکہ دن میں کم ازکم چار نمازیں میں وہاں ضرور پڑھنے جاتا تھا۔ اس کے باوجود گھر میں اس کا نظر نہ آنا‘ رات کے وقت اس کی کمی محسوس کرنا‘ سحری اور افطاری کے وقت اس کی جدائی کا احساس مجھے ڈستا تھا۔ پھر جب چاند رات کو بہت سے عزیزوں کے ساتھ میں اسے مسجد میں لینے گیا تو اس کے معصوم نورانی چہرے کو دیکھ کر میں بے ساختہ رو پڑا اور باقاعدہ ہچکیاں لے لے کر ہم دونوں باپ بیٹا بہت دیر تک روتے رہے۔ یہ آنسو ہم دونوں کے دل میں موجزن محبت کا وہ حصہ تھے جو ہمارے خون میں رچی بسی تھی اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس میں کمی کی بجائے شدت ہی پیدا ہو رہی تھی۔
..................
پھر وہ دن بھی مجھے نہیں بھولتا جب 1995ء میں بنک میں مجھے گھر سے ایک ٹیلی فون موصول ہوئی۔ دوسری جانب میری بیگم بول رہی تھیں۔ اس نے جیسے ہی مجھے بتایا کہ شاہد کا ایکسڈنٹ ہو گیا ہے اور وہ اس وقت دادی کے گھر آبادی قربان لائن میں ہے۔ یہ سنتے ہی فون کا ریسور ہاتھ سے چھوٹ گیا۔ میں گرنے ہی والا تھا کہ قریب ہی کھڑے ایک دوست نے سہارا دیا۔ ڈاکٹر سید ریاض احمد جو اس وقت ہمارے جنرل منیجر تھے انہوں نے میری حالت دیکھ کر وجہ پوچھی میں نے جب بیٹے کے حادثے کا ذکر بھیگی آنکھوں کے ساتھ کیا تو وہ بھی متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ انہوں نے مجھے فوراً گھر جانے کی اجازت دے دی۔ گھر جانے کے لیے جب بنک سے نکلا تو آنکھوں سے بیٹے کی محبت کے آنسو رواں تھے جبکہ قدم ڈگمگار رہے تھے اور دل خون کے آنسو رو رہا تھا۔ راستے میں اپنے رب سے یہی التجا کرتا جا رہا تھا کہ شاہد کو زیادہ چوٹ نہ لگی ہو۔ ہڈیاں سلامت ہوں چھوٹی موٹی چوٹ تو ٹھیک ہو جاتی ہے۔ لیکن ٹوٹی ہوئی ہڈیوں کو جڑنے میں مہینوں لگتے ہیں پھر ساری زندگی جان کا روگ بن جاتا ہے ۔ حالانکہ بائیک پر بنک اور والدین کے گھر کی مسافت دس پندرہ منٹ کی ہوگی لیکن نہ جانے کیوں یہ فاصلہ کٹنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔ پھر جب میں والدین ماں کے گھر پہنچا تو ایک بار پھر خدا کے حضور دعا کی۔ اے مالک دو جہاں میرا بیٹا ہنستا مسکراتا نظر آئے۔ اس کا دکھ مجھے زندگی بھر کا روگ لگا دے گا۔ اسی اثنا میں میری اہلیہ بھی گھر سے یہاں رکشے پر سوار ہوکر آپہنچی تھی ہم دونوں جب گھر میں داخل ہوئے تو پہلی ہی نظر شاہد پر پڑی جو ہمیں دیکھ کر مسکرا رہا تھا۔میں نے جب چوٹ کے بارے میں پوچھا تو اس نے ٹخنہ آگے بڑھا دیا چوٹ کی وجہ سے جس پر سوجن آچکی تھی۔ جس سے وہ چلنے پھرنے میں دقت محسوس کر رہا تھا۔ چوٹ تو ٹخنہ کی بھی بڑی ظالم ہوتی ہے کیونکہ جسم کا سارا وزن اس پر ہوتا ہے۔ اگرٹخنہ صحیح حالت میں نہ ہو تو پاؤں بھی نہیں ہلتا۔ میری والدہ نے درد کا احساس کرتے ہوئے اسے پہلے ہی ہلدی ملاد ودھ پلا دیا تھا۔ اسی وقت میں‘ شاہد کو لے کر آصف پہلوان کے پاس آ گیا جو مکہ کالونی کے بالکل سامنے گلبہار کالونی کی گلی نمبر1میں بیٹھتا تھا اور دور نزدیک سے لوگ ٹوٹی ہوئی ہڈیوں کا علاج کرانے آتے تھے ۔ اﷲ تعالیٰ نے اس کے ہاتھ میں شفا دی تھی۔ ڈاکٹروں کے پاس اس لیے نہیں لے کر گیا کہ وہ چھ مہینے کے لیے پلاستر چڑھا دیتے ہیں بے شک جسم کا وہ حصہ گل ہی کیوں نہ جائے۔ بہر کیف آصف پہلوان نے ٹخنے پر تیل لگا کر مالش کی پھر پٹی باندھ دی۔ ساتھ ہی ہر دوسرے روز پٹی بندھوانے کی تاکید بھی کر دی۔ شاہد کو لے کر میں اپنے گھر آگیا۔ ماں اور باپ اس کے گرد بیٹھ گئے جیسے وہ دودھ پیتا بچہ ہو۔ اس کی تھوڑی سی تکلیف بھی ہمیں پریشان کرنے کے لیے کافی تھی۔ شاہد چونکہ اس وقت گلبرگ ہائی سکول لاہور کینٹ میں چھٹی جماعت میں پڑھتا تھا اور ان دنوں اس کے سالانہ امتحان شروع ہو چکے تھے اس لیے اسے امتحان کے لیے سکول چھوڑنا اور واپس گھر لانے کی ذمہ داری بھی مجھے ہی پوری کرنی پڑی۔ بڑی مشکل کے ان لمحات میں ڈاکٹر سید ریاض احمد کا بھرپور تعاون میری زندگی کا اثاثہ ہے۔ جسے میں فراموش نہیں کر سکتا۔

یہ میرا ایمان ہے کہ اولاد اﷲ تعالیٰ کی طرف سے انسان کو دیا جانے والا سب سے بہترین تحفہ ہے۔ اولاد کی بہتر نگہداشت‘ پرورش اور تربیت کا ذمہ اسی طرح والدین پر عائد ہوتا ہے جس طرح ایک چرواہا اپنی بھیڑ بکریوں کی حفاظت کرتا‘ انہیں کھلاتا پلاتا ہے لیکن نہ بکریاں چرواہے کی ہوتی ہیں اور نہ ہی اولاد ماں باپ کی ملکیت ہوتی ہے۔ اس کا مالک اور وارث تو اﷲ کی ذات ہی ہوتی ہے جو ازل سے ابد تک ایسے اربوں کھربوں انسانوں کو اپنے مصورانہ تخلیقی عمل سے پیدا فرماتا ہے اور پھر ایک وقت مقررہ کے بعد موت کی صورت میں انہیں واپس بھی لے جاتا ہے ‘ اس کے باوجود اﷲ تعالیٰ نے اولاد کی جو محبت ماں اور باپ کے دل میں پیدا کر رکھی ہے۔ اس کی وجہ سے کوئی بھی انسان ان جذبوں سے نہ تو عاری ہوتا ہے اور نہ ہی اولاد کے دکھ اور درد کو فراموش کر سکتا ہے۔
.................
بہرکیف انہی محبتوں کو اپنے دامن میں سموئے جب میں اپنے ڈرائنگ روم میں داخل ہوا تو میرے سامنے چارپائی پر بے سدھ میرا جواں سال بیٹا شاہد پڑا تھا جو بظاہر انتہائی نحیف‘ کمزور اور لاغر دکھائی دے رہا تھا۔ اس حالت میں اسے دیکھ کر میری آنکھوں میں شدت جذبات سے آنسو نکل آئے لیکن میں کر بھی کیا سکتا تھا۔ میں دبے قدموں اس کی طرف بڑھا تو اس کی ماں نے مجھے یہ کہہ کر روک دیا کہ وہ ابھی کچھ دیر پہلے ہی تو کراہتے ہوئے سویا ہے۔ جاگتے میں اس کی بے قراری دیکھی نہ جاتی تھی۔ بے شک میں وہاں سے وقتی طور پر ہٹ گیا لیکن میرا دل اس سے بات کرنے‘ اس کا دکھ اور درد جاننے کے لیے بے قرار تھا۔ دل میں سے بار بار یہ دعا نکل رہی تھی کہ اے پروردگار میرے اس لخت جگر کو کچھ نہ ہو۔ میں نے تو اسے ہمیشہ چلتے پھرتے بھاگتے دوڑتے اور خود سے محبت کرتے ہی دیکھا تھا۔ اس کی یہ حالت مجھ سے دیکھی نہ جاتی تھی۔

چند لمحوں کے لیے میں اپنی سدھ بدھ کھو بیٹھا‘ مجھے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ میں اپنے لخت جگر کو اس گمنام بیماری سے کیسے بچاؤ۔ پھر کچھ ہی دیر بعد شاہد بھی نیند سے بیدار ہو گیا لیکن اس کا چہرہ اتنا تھکا ہوا محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے وہ میلوں کی مسافت طے کر کے آیا ہو۔ ایک ایک اعضاء سے کمزوری اور لاغرپن کا احساس ابھر رہا تھا۔ میں نے اسے اپنی آغوش میں لیا اور ماتھا چومتے ہوئے پیار بھر ے لہجے میں اس کی خیریت دریافت کی۔جیسے بچپن میں لیا کرتا تھا آج مجھے وہ شاہد دکھائی نہیں دے رہا تھا جو چند دن پہلے ہنستا کھیلتا گھر میں خوشیاں بکھیرتا نظر آتا تھا۔ جب جگر کے ٹکڑے کی یہ حالت دیکھی تو تن بدن میں بجلیاں دوڑنے لگیں میں اپنی تھکاوٹ اور بیماری کو بھول کر اسے قریبی ڈاکٹر ذکاء اﷲ گھمن کے کلینک لے گیا۔ چونکہ ڈاکٹر ذکاء میری بہت عزت کرتا ہے ۔ اس نے شاہد کا تفصیلی چیک اپ کیا اور پھر مجھ سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ آپ کا لخت جگر اس وقت یرقان کی زد میں دکھائی دیتا ہے۔ ڈاکٹر کی زبان سے یہ الفاظ میں نے کیا سنے‘ یوں محسوس ہوا کہ کسی نے میرے کانوں میں سیسہ پگھلا کر ڈال دیا ہو۔ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ اس موذی مرض سے بیٹے کو چھٹکارا دلانے کے لیے کیا کروں حالانکہ یرقان کا مرض زیادہ خطرناک نہیں ہے اور نہ ہی جان لیوا ہے پھر بھی بیٹے کی محبت میں ، میں اسے سب سے خطرناک بیماری سمجھ بیٹھا۔

بہرکیف شاہد کو لے کر جب میں ہسپتال میں داخل کروانے کے لیے نیشنل ہسپتال ڈیفنس پہنچا تو انہوں نے یہ کہہ کر داخل کرنے سے انکار کر دیا کہ بنک کی میڈیکل پالیسی کے مطابق ہسپتال میں صرف اس بیماری کا علاج کیا جاتا ہے جس کا آؤٹ ڈور میں علاج ممکن نہیں ہوتا۔ چونکہ ابھی یہ طے نہیں ہوا کہ آپ کے بیٹے کو یرقان کی کون سی قسم ہے اس لیے آپ ہسپتال کے فزیشن کو پانچ سو روپے دے کر چیک کروائیں۔ پھر فزیشن کے تجویز کردہ ٹیسٹ اپنے اخراجات پر کروائیں۔ ان ٹیسٹوں پر کم ازکم ڈیڑھ دو ہزار روپے لگیں گے۔ مطلوبہ ٹیسٹوں کا رزلٹ آنے کے بعد فیصلہ کیا جائے گا کہ آپ کا بیٹا ہسپتال میں داخلے کا اہل ہے یا نہیں۔ اور داخلہ عام طور پر ہیپاٹائٹس بی اور سی کی صورت میں ہی ممکن ہوتا ہے اگر یرقان کی Aقسم ہوئی تو فزیشن کی فیس سمیت تمام ٹیسٹوں کی ادائیگی آپ کو خود کرنا پڑے گی۔ ڈیوٹی ڈاکٹر کے یہ الفاظ بے شک میرے لیے صدمے کا باعث تھے۔ کیونکہ اگر ہر ملازم نے اپنے ذاتی خرچے پر ہی ہسپتال میں علاج کروانا ہے تو ادارے کی جانب سے طبی سہولتوں کی فراہمی کا کیا فائدہ؟

یہاں یہ ذکر کرتا چلوں کہ یرقان کے میڈیکل ٹیسٹ اور ادویات سمیت ڈاکٹر کی فیسیں ہزاروں تک پہنچتی ہیں۔ بلکہ ایک ہفتے کے علاج پر اڑھائی ہزار روپے ادھار لے کر بچے کی جان بچانے کے لیے خرچ کر دیئے گئے۔پھر یہ علاج کئی ماہ جاری رہا بلکہ ہر پندرہ دنوں بعد ہزاروں روپے کی ٹیسٹ ایک بار پھر ہونا ضروری تھے جبکہ مہنگائی اور دیگر معاشی مسائل نے مجھ سمیت ہر پاکستانی کو اس نہج پر لا کھڑا کیا تھا جہاں وہ عام ایم بی بی ایس ڈاکٹر سے پچیس روپے کی دوائی لینے سے بھی اکثر اجتناب ہی کرتا ہے کہ دوائی کے بغیر ہی دیسی ٹوٹکے سے آرام آ جائے گا۔ کہاں پچیس روپے اور کہاں ہزاروں روپے۔(یاد رہے یہ ریٹ 1995ء کے ہیں )

بیٹے کی بیماری کے دوران مجھے اس بات کا شدت سے احساس ہوا کہ خونی رشتہ داروں میں سے بہت کم نے میرے دکھ کا احساس کیا۔ ساٹھ ستر افراد کے خاندان میں سے صرف آٹھ دس لوگ ہی شاہد بیٹے کی خیریت دریافت کرنے کے لیے آئے۔ باقی لوگ اپنی اپنی مصروفیات میں مگن رہے۔ اس لمحے مجھے کیپٹن جواد شہید کی والدہ کی وہ بات یاد آئی جب ان کے شہید بیٹے کی چوتھی برسی کے موقع پر کسی عورت نے ان سے یہ کہا کہ چار سال گزر گئے پتہ ہی نہیں چلا تو کیپٹن جواد شہید کی والدہ کی آنکھوں میں آنسو بھرآئے ۔ انہوں نے دوپٹے کے پلو سے آنکھیں صاف کرتے ہوئے کہا مجھ سے تو کوئی پوچھے کہ جواد کی جدائی میں ایک ایک لمحہ کرب اور اذیت میں گزرا ہے کہ اس کا ذکر الفاظ میں نہیں کیاجاسکتا۔ گھر کے درودیوار پر لگی ہوئی اس کی تصویریں مجھ سے باتیں کرتی ہیں۔ اس کی جدائی کے جو زخم میرے دل پر لگے ہیں ہر لمحے ان کو تازہ کرتی رہتی ہیں۔بے شک میں اس ماں کے دکھ کو بخوبی سمجھ سکتا ہوں کیونکہ میں بھی دو بیٹوں اور ایک بیٹی کا باپ ہوں۔ بے شک اولاد سدا فرماں بردار نہیں رہتی پھر بھی ان کی تکلیف دیکھی نہیں جاتی۔ کیونکہ وہ گھر کی رونق اور دل کا سکون ہوتی ہے۔ ان کی خوشیاں ہی والدین کی خوشیاں قرار پاتی ہیں ان کے غم انسان کو خون کے آنسو رلاتے ہیں۔

محکمانہ طبی سہولتیں جب میسر نہ آ ئیں تو میں نے اپنے ایک اور دوست ڈاکٹر جمشید جسا والا سے رجوع کیا جن کا شمار اس علاقے کے سب سے معروف معالجوں میں ہوتا ہے۔ یہ بات ان کی خوبیوں میں شامل ہے کہ آدھا مرض تو وہ اپنی مزاح بھری باتوں سے ختم کر دیتے ہیں۔ ان کے پاس آنے والا مریض اپنے دکھ کو بھول کر ان کی باتوں میں ایسا محو ہوتا ہے کہ وہاں سے اٹھنے کو جی نہیں چاہتا اور دل میں چاہتا ہے کہ وہ اپنی گفتگو سے پھلجڑیاں بکھرتے رہیں اور ہم سنتے رہیں۔ انہوں نے نہایت محبت سے میرے لخت جگر کو چیک کیا اور مطلوبہ ٹیسٹ اپنے ہی کلینک پر کیے تاکہ ان کی روشنی میں علاج کیا جا سکے۔ دوسرے دن رپورٹیں آنے پر یہ جان کر اطمینان ہوا کہ بیٹے کو یرقان کی اے قسم لاحق ہے جو بظاہر زیادہ خطرناک تو نہیں لیکن مکمل صحت یابی کے لئے کئی مہینے لگ سکتے ہیں اور اس دوران بے شمار احتیاطیں ملحوظ رکھنی پڑتی ہیں۔ آج اس ھنگامہ خیزی کے دور میں جب ہر کسی کے لیے ایک لمحہ بھی فضول گزارنا محال ہو چکا ہے۔ مہینوں چارپائی پر لیٹنابھی آزمائش سے کم نہیں بلکہ جتنا عرصہ انسان بیمار رہتا ہے خود کو معاشرے کا فضول ترین حصہ تصور کرتا ہے۔ زندگی کے معمولات ہی انسان کو زندہ تابندہ رکھتے ہیں۔ بہرحال اس کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا کہ بیٹے کا علاج فوری طور پر شروع کر دیا جائے۔ چند دوستوں نے یہ بھی کہا کہ اس مرض کا علاج ڈاکٹروں کے پاس نہیں ہوتا بلکہ شفا حکیموں کے پاس ہے۔ کوئی ہومیو پیتھک ڈاکٹروں سے رجوع کرنے کی نصیحت کرتا لیکن میں اس نازک لمحے کوئی ایسا اقدام نہیں کرنا چاہتاتھا ۔ جس سے میرے بیٹے کی جان کو خطرہ ہو۔ چنانچہ میں نے اس کا علاج ڈاکٹر جمشید جسا والا سے ہی شروع کروا دیا۔یہاں میں یہ بھی بتاتا چلوں کہ کچھ اﷲ والے اس موزی مرض کو اپنے دم سے بھی بھگانے کا دعوی رکھتے ہیں۔ خاندان میں جب بیٹے کی بیماری کی خبر پہنچی تو خیریت دریافت کرنے والوں میں میرے برادر نسبتی بھائی غلام مصطفےٰ بھی شامل تھے جو خود کو پیراصغر احمدشاہؒ کے خلیفہ اول قرار دیتے ہیں اور اس حوالے سے وہ ہر شام اپنے گھر میں ایک روحانی محفل منعقد کرتے ہیں۔ دور و نزدیک سے لوگ جوق در جوق ان کے پاس آتے ہیں۔ بھائی مصطفےٰ نے جب بیٹے شاہد کے چہرے پر پیلا پن دیکھا تو فوراً مجھے حکم دیا کہ کل سے پورے سات دن تک نیم کے درخت کی سبز پتوں والی سات ٹہنیاں توڑ کر بیٹے کے ہمراہ ان کے پاس لائی جائیں۔ وہ ہر صبح شاہد کو نیم کی ان ٹہنیوں سے دم کریں گے جس سے اﷲ اسے شفا دے گا۔ ان کا یہ دعوی تھا کہ اس مرض میں مبتلا درجنوں لوگ ان سے اسی طرح شفا پا چکے ہیں۔ ان کے بقول جب گھر میں گنگا بہتی ہو تو باہر جانے کا کیا فائدہ۔ بے شک مجھے ان کی باتوں میں کسی حد تک سچائی تو نظر آئی لیکن میں بیٹے کی بیماری کو صرف ان کے دم پر نہیں چھوڑ سکتا تھا۔ اس لیے پورے سات دن نیم کی سات ٹہنیوں کے ساتھ دم کے لیے لیجایا جاتا رہا اور ساتھ ساتھ ڈاکٹر جمشید کا علاج بھی جاری رہا۔دوسری جانب میرے لخت جگر کی بیماری کی خبرجب میری والدہ تک پہنچی تو وہ اپنی تمام ترمصروفیات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے پنج سورہ سمیت تمام قرآنی سورتوں کا بستہ لے کر میرے گھر تشریف لے آئیں ۔اسی دن سے انہوں نے قرآنی سورتیں پڑھنے کا سلسلہ شروع کردیااور ہر دس پندرہ منٹ بعد پورے وثوق سے نہ صرف شاہد کو شفایابی کے لیے پھونک مارتیں بلکہ ان کی پھونکوں کا رخ میری طرف بھی ہوتا ہے۔ ماں نے اپنی چارپائی بیٹے شاہد کے ساتھ بچھالی میرے گھر میں آمد کے بعد پہلی رات ماں نے تقریباً جاگ کر گزاری اور وقفے وقفے سے قرآنی آیات پڑھ کر شاہد کو پھونکیں مارتی رہی۔ پھر نماز فجر کے وقت جب میں اس کمرے میں آیا جہاں ماں اور شاہد سورہے تھے تو مجھے یہ دیکھ کر حیرانی ہوئی کہ میری والدہ قبلہ رخ بیٹھ کر قرآنی آیات زبانی ہی پڑھ رہی ہیں اور قریب ہی سوئے شاہد کو پھونکیں ماررہی ہیں۔ مجھے اپنے قریب دیکھ کر ماں خوشی سے پھولی نہ سمائی اور فرمایا میں ان کا پنج سورۃ اور دیگر قرآنی سورتیں لادوں۔ میں نے فوراٌ حکم کی تعمیل کر دی تو ایک طرف میں نماز فجر کے بعد تسبیح کے لیے بیٹھ گیا تو دوسری جانب بلند آواز میں ماں نے قرآنی آیات کو پڑھنا شروع کر دیا پھر جونہی سورت مکمل ہوتی ماں ایک بار پھر شاہد کو پھونک مارتی۔ میں بھی کچھ ایسے ہی کر رہا تھا۔ ماں نے ایک گھنٹہ قرآنی آیات پڑھنے کے بعد شاہد کو براہ راست دم کرنے کے بعد پانی کے ایک گلاس میں پھونک مار کر حکم دیا کہ اس پانی کو تھوڑا تھوڑا سب بچوں کو پلا دیا جائے۔ ماں کے اس حکم کی فوری تعمیل کر دی گئی۔ بعدازاں ماں نے فرمایا شاہد کی تندرستی کے لیے یہ قرآنی وظائف پورے سات دن پڑھنے ہیں اس سے انشاء اﷲ شاہد بالکل تندرست ہو جائے گا کیونکہ مجھے اپنے پروردگار پر کامل یقین ہے جو میری دعا کو کبھی رد نہیں کرتا۔

یہاں یہ ذکر کرتا چلوں کہ ماں اپنے آبائی گھر کو ایک یا دو دن سے زیادہ نہیں چھوڑتیں جہاں وہ عرصہ دراز سے رہائش پذیر ہیں لیکن ماں نے شاہد بیٹے کی محبت میں یہ اعلان کر کے سب کو حیرت زدہ کر دیا کہ وہ شاہدکے تندرست ہونے تک اپنے گھر واپس نہیں جائیں گی ۔ماں کو اس بات کا بخوبی احساس تھا کہ اگر اس کی جان مجھ سے ہے تو میری جان شاہد میں ہے اس لیے انہوں نے اپنے لخت جگر کی حالت زار کو دیکھتے ہوئے یہ مشکل فیصلہ کیا۔ماں کی زبان سے نکلے ہوئے یہ الفاظ یقینا میرے لیے بڑے حوصلے کا باعث تھے اور مجھے یقین تھا کہ ماں کی دعاؤں سے شاہد بہت جلد ٹھیک ہو جائے گا۔

پھر اﷲ تعالیٰ نے کرم کیا اور شاہد صحت یاب ہونے لگا۔ اس کے چہرے پر پھیلی ہوئی پیلی رنگت کم ہونے لگی لیکن مسلسل کئی ماہ تک اسے نمک ‘مرچوں اور گھی سے دور کر دیا گیا۔ یہی چیزیں کسی بھی سالن یا کھانے میں بنیاد بنتی ہیں اس لیے جب ہم ناشتہ کرتے ہوئے تو شاہد بیٹا حسرت سے دیکھتا۔ پھر شاہد کو پھیکی اور ابلی ہوئی سبزیاں دوپہر اور شام کو بھی مجبوراً کھانی پڑتیں۔ ڈاکٹر جمشید کے مطابق وہ صحت مند ہو رہا تھا لیکن ابھی تک اس کے جسم کی نقاہت دور نہ ہوئی تھی۔ چار پائی سے اٹھ کر چلنے لگتا تو چکرآنے لگتے۔ چند قدموں کا فاصلہ بھی کمزوری کی وجہ سے میلوں پر محیط دکھائی دینے لگا۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ چلنے پھرنے کے قابل بھی ہوگیا۔ کئی مہینے تک گھر میں بند رہنے سے وہ سخت بیزار ہو چکا تھا۔ پھر جب اس نے خود کو پہلے کی نسبت بہتر پایا تو دوستوں کے ساتھ گھر سے باہر جانا شروع کیا۔ ہمیں اس لیے اعتراض نہیں تھا کہ ہماری دلی تمنا تھی کہ ہمارا پیارا بیٹا(جسے میں اپنی رگوں میں دوڑنے والا خون قرار دیا کرتا ہوں) پھر سے چلے پھرے۔ دوستوں کے پاس جائے۔ دوست اس کے پاس آئیں۔اﷲ کے فضل و کرم سے زندگی ایک بار پھر رواں دواں ہوگئی ۔

اﷲ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ میرے اس بیٹے نے صحت مند ہونے کے بعد تعلیمی میدان بے شمار کامیابیاں سمیٹیں ۔ میٹرک ‘ انٹرمیڈیٹ ‘ بی کام ‘ آئی سی ایم اے کے بعد ایم بی اے فنانس کا امتحان بھی پاس کرلیا ۔پہلے ملازمت ایک پرائیویٹ ادارے ‘ NBCپرائیویٹ لمیٹڈ میں کی ‘ یہاں دو سال قیام رہا ۔ اس کے بعد گلستان گروپ آف کمپنیز میں ساڑھے پانچ سال ملازمت چلتی رہی‘ جب یہ ادارہ کراچی شفٹ ہوا تو روپالی گروپ آف کمپنیز میں بطور آڈٹ آفیسر ملازم ہوگیا اس کے بعد ڈیمانڈ میٹل پرائیویٹ لمیٹڈ کے ہیڈآفس میں 9مہینے ملازمت کرنے کے بعد روشن پیکجز لمیٹڈمیں گزشتہ پانچ سال سے بطور آڈٹ ایگزیکٹو جا ب کررہا ہے ۔اس دوران اپنڈکس کا آپریشن کیولری ہسپتال سے اچانک درد اٹھنے پر کروانا پڑا لیکن اس کے بعدالحمد ﷲ مکمل صحت یاب ہے ۔

بیٹے شاہد کی شادی 21 فروری 2010ء میں اپنے ماموں کی بیٹی کے ساتھ بہت دھوم دھام سے انجام پائی ۔ یوں میرے اس بیٹے کی شادی شدہ زندگی کا آغاز ہوگیا ۔اﷲ تعالی نے 26دسمبر 2010ء کو ایک خوبرو بیٹی (شرمین لودھی ۔ جسے ہم لاکھوں میں ایک کہتے ہیں)سے نوازا ۔ خاندان میں پہلا بچہ ہونے کی بنا پروہ ہم سب کی لاڈلی تھی ‘ دادا اور دادی اس کے لاڈپیار میں ہی جتے رہتے ۔ جبکہ نانا اور نانی بھی محبت نچھاور کرنے میں کسی سے کم نہ تھے ‘ لیکن نانا ‘نثار خان اپنی نواسی کی خوشیاں زیادہ دیر نہ دیکھ سکا اور اچانک بیمار ہونے کے بعد فوت ہوگیا جس کا دکھ بہت عرصے تک خاندان کے ہر فرد کے چہرے پر نمایاں تھا لیکن حکمت خداوندی کے سامنے سرتسلیم خم ہی کرنا پڑا۔ شاہد کے گھر دوسری بیٹی (رومسہ لودھی )8جولائی 2014ء کو پیدا ہوئی جبکہ چاند جیسا بیٹا (محمد موسف لودھی) 9نومبر 2015ء کو حجاز ہسپتال میں پیدا ہوا ۔قربان سکول والٹن روڈ لاہور کینٹ میں یکے بعد دیگرے تیسری ‘ نرسری اور پلے گروپ میں زیر تعلیم ہیں ۔ اﷲ کے فضل و کرم سے یہ تینوں بچے اپنی مثال آپ ہیں ۔ جن کی وجہ سے میرے گھر میں خوب رونق لگی رہتی ہے ۔سچ تو یہ ہے کہ جب یہ اپنی نانی گھر جاتے ہیں تو مجھے اداس کرجاتے ہیں ‘جب وہ واپس آتے ہیں تو زندگی ایک بار پھر پوری رعنائیوں سے دوڑنے لگتی ہے ۔ہم تو ہر سانس میں ان کے لیے دعا گو رہتے ہیں۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 192 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Aslam Lodhi

Read More Articles by Muhammad Aslam Lodhi: 490 Articles with 217015 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: