زمینی حقیقت واخباری سیاست

(Dr. Salim Khan, India)

ابوظبی کرکٹ گراونڈ پر مشق کے لیے جاتے ہوئے للن پاشا نے کلن مرزا سے کہا یار اس بار کا ویک اینڈ(آخر ہفتہ ) برباد ہوگیا ۔
کلن نے حیرت سے پوچھا کیوں گھر سے کوئی بری خبر تو نہیں آگئی؟
یا ر وہ ہمارے دفتر میں عبداللہ نامی جو سیرین (شامی)نوجوان تھا نا اس کی ملازمت چلی گئی ۔ اچانک ایک ماہ کا وقت دے کر نکال دیا ۔
یار یہ تو اچھا ہے۔ ایک مہینے میں دوسری نوکری مل ہی جائے گی ۔
مجھے نہیں لگتا آج کل جاب مارکٹ بہت خراب ہے۔ ہر طرف چھٹنی چل رہی ہے اس لیے مشکل ہے۔
خیر ویسے بھی تو آئے دن عبداللہ کی شکایت کرتا رہتا تھا ۔ اب کم ازکم وہ بند ہوجائے گی ۔
نہیں یار اکاونٹس ڈیپارٹمنٹ تو جو بھی آئے گا اس سے شکایت ہوگی ملک شام میں اب بھی خانہ جنگی ہے ۔ عبداللہ کے لیے واپس جانا مشکل ہے۔
ہاں تو ٹھیک ہے اب جو ہونا تھا سو ہوگیا اس پر ماتم کرنے سے کیا فائدہ ؟
سوال فائدے یا نقصان کا نہیں انسانیت کا ہے۔ آج کے اخبار میں جرمنی کی چانسلر کا بیان دیکھ کر حیرت ہوئی کہ وہ شامی پناہ گزینوں کو نہیں روکیں گی۔
یہ تو اچھا ہے ۔ تمہارا عبداللہ ابوظبی سے جرمنی جاکرعیش کرے گا ۔
نہیں لیکن یہ کس قدر شرم کی بات ہے کہ ایک مسلم ملک اپنے مظلوم شامی بھائیوں کو نکال رہا ہے اور ایک عیسائی ملک ان کا استقبال کررہا ہے؟
یار کلن یہ بتاو کہ عبداللہ کے ساتھ کسی اور کو بھی ملازمت سے نکالا گیا ؟
جی یہاں دس لوگوں کی نوکری ایک ساتھ چلی گئی ۔
کیا وہ سب شام کے رہنے والے ہیں؟
جی نہیں شام کا رہنے والا تو صرف ایک ہے باقی الگ الگ ممالک کے لوگ ہیں ۔
تو اس کا مطلب ہے کہ خاص طور شام کے لوگوں کو نشانہ نہیں بنایا گیا ۔جن کو کم کیا گیا ان میں شامی بھی آگیا ۔
یہی سمجھ لو لیکن اس رویہ کے برعکس جرمنی کی چانسلر انجیلا مرکل کا اخباری بیان ؟
یار کلن تم بہت بھولے ہو جو اخباری بیانات کے جھانسے میں آجاتے ہو۔
کیوں ! کیا اس میں کبھی کوئی فریب ہے؟
جی ہاں میرے پڑوس میں ایک شامی استاذ رہتے ہیں ۔ ان کی بیٹی جرمنی میں ڈاکٹر ہے لیکن والد کو اپنی بیٹی سے ملنے کا ویزا بھی نہیں دیا جاتا کیونکہ انہیں خطرہ ہے یہ بزرگ جرمنی میں جاکر بس جائیں گے۔
لیکن بیٹی کو تو انہوں نے ویزا دے رکھا ہے۔
ویزا ہی نہیں بلکہ شہریت بھی دے دی ہے اس لیے کہ ان کو ڈاکٹر وں کی ضرورت ہے لیکن اس کا وظیفہ یافتہ باپ ان کے لیے غیر ضروری ہے۔
اچھا تویہ شرافت کا نہیں بلکہ ضرورت کا معاملہ ہے ؟ لیکن ماں باپ کو بیٹی کے پاس آنے سے روکنا تو بڑی سفاکی ہے۔
جی ہاں اس لیے بیٹی خود اپنے والدین سے ملنے کے لیے ابوظبی آناپڑتا ہے ۔
یہ تو بڑا ظلم ہے کہ باپ کو بیٹی سے ملنے نہ دیا جائے ۔ اس سے تو اچھے یہ ابوظبی والے ہیں ۔
لیکن للن ابھی تو تم کچھ اور ہی کہہ رہے تھے ۔
جی ہاں کلن اب سمجھ میں آیا کہ زمینی حقیقت اور اخباری سیاست میں بہت بڑا فرق ہوتا ہے ؟
چلو اچھا ہے کہ بہت جلد سمجھ میں آگیا ۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 173 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Salim

Read More Articles by Salim: 885 Articles with 289871 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: