دل کے موسم‘ اور’کوئی بھی رُت ہو‘ کی شاعرہ۔ فرح ؔاقبال

(Prof. Dr Rais Ahmed Samdani, Karachi)

یوں تو ہر ایک حساس دل لیے ہوتا ہے لیکن شاعرانہ حِس کا مالک زیادہ ہی سریع العمل اور سریع التاثر ہوتا ہے۔ حِس نا م ہے حالات و واقعات، اپنی ذات کے تلاطم، ارتعاش،اضطراب، تحریک اور دوسروں کے فطری عواطف و میلانات سے متاثر ہونے کے عمل کا ہے۔ شعری مجموعے ”دل کے موسم“ اور ”کوئی بھی رُت ہو“ کی شاعرہ فرح اقبال کی شاعری سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ وہ سریع العمل و سریع التاثر، طبع موزوں، اور تخلیقی طبیعت کی مالک ہیں۔ شاعری جذبات و تخیئل کی زبان ہے اور کسی بھی شاعر کے لیے تخلیقی اظہار کی خوبیوں کا ہونا ضروری سمجھا جاتا ہے، فرح اقبال کی شاعری تمام تر تخلیقی اظہار کی خصوصیات سے مرصع ہے۔ ان میں تخیئل، مطالعہ فطرت اور الفاظ کو خوبصورتی سے استعمال کرنے کا سلیقہ بدرجہ اتم موجود ہے۔ ان کے اشعار میں الفاظ نگینوں کی طرح جڑے، آراستہ و مزین ہوتے ہیں۔فرح شاعرہ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک مصورہ اور نقاش بھی ہیں اوریہ ھنر ایک ایسا تخلیقی عمل ہے جس کے توسط سے مصور اپنے دل کا حال، احساسات، تخیل کو کینوس پر لکیروں اورر رنگوں سے اس طرح ترتیب دیتا ہے کہ دیکھنے والے اس کی صلاحیت کی تعریف کیے بغیر نہیں رہ سکتے۔

فرح کے دونوں شعری مجموعوں میں شامل ان کی غزلیں، نظمیں اور قطعات سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ فرح شعر کی اہمیت سے آگاہ، الفاظ و معنی سے واقف ہیں، وہ کسی بھی واقعہ، سانحہ، ماجرا، واردات، سرگزشت اور کفیت کو معنی خیز انداز سے شعر کے پیرائے میں ڈھالنے کی مہارت رکھتی ہیں۔ دیکھیے ان کا ایک شعر۔
میرے لفظوں کی کیا حقیقت ہے
اُس کی ہر بات اِک سخن سے تھی
دوستو! ہم کو سمجھنے کے لیے
اب بھی تم کو اِک زمانہ چاہیے

فرح نے شاعری کی ہر صنف میں طبع آزمائی کی۔ انہوں نے حمد کہی، ان کی حمد کا ایک شعر
میرے لفظوں میں جھلکتا ہے اُسی کا ہر رنگ
میرے لفظوں میں ہمیشہ وہ بیاں ہوتا ہے

حمد باری تعالیٰ کے ساتھ ساتھ نعت مقبول ﷺ بھی فرح نے کہیں، ان کے مجموعے دل کے موسم میں شامل ایک نعت ِ رسول مقبول ﷺ کے دواشعار۔
مرے قلم میں وہ طاقت کہاں مجال کہاں
لکھو میں نعت ِ نبی مجھ میں وہ کمال کہا
جہاں کی خاک نے چومے ہیں آپ کے پاؤں
مدینے جیسا کوئی شہر ب مثال کہاں

مسرور جاوید نے”کوئی بھی رُت ہو“ میں لکھا ”فرح اقبال احساسات کے برش میں جذبات و خیالات کے مختلف رنگ لے کر نسوانیت کے کینوس پر ایسی پر کشش تصویر بناتی ہیں جس میں صرف خو شی و مسرت کے شوخ رنگ نظر آتے ہیں بلکہ کسی منظر میں رنج و غم کے سائے بھی محسوس کیے جاسکتے ہیں“۔
بہاربن کے وہ ملنے تو آگیا تھا مجھے
ٹھیر بھی جائے گا یہ اُس کا فیصلہ کب تھا

اقبال حیدر نے درست کہا کہ ”فرح بہت ہی سنجیدگی، اعتماد، خلوص اور محنت سے اپنی غزلوں اور نظموں میں ذات اور کائینات کے مختلف موضوعات پر قلم اٹھاتی نظر آتی ہیں“۔
چراغ شام تھا آخر کو بجھ ہی جانا تھا
ہوا تھی تیز بہت، یہ تو ایک بہانہ تھا

غضنفر ہاشمی نے’کوئی بھی رُت ہو‘میں ایک نیا ستارہ کے عنوان سے فرح کی شاعری پر لکھا ”شاعری کی اصل قوت اس کی سچائی ہے، سادگی ہے، اس کا کھرا پن ہے، اس کے لفظ اس کے سچا ہونے کی گواہی دیتے ہیں“۔فرح کے چند اشعار
کوئی بھی رت ہو
کوئی بھی موسم
ہمارے دل میں ٹھہرگئے ہیں
بس اِک اُداسی
اور اِک تراغم
زندگی بھر کے ساتھ میں اکثر
ہمسفر ہم قدم نہیں ہوتے

شعرمجموعے ’کوئی بھی رت ہو“ سے چند اشعار جو میرے پیش نظر ہیں
بسالو دل میں کوئی نقش تم ہمارا بھی
تمہاری ہم یہ وابستگی رہے نہ رہے
بہت دن ہوگئے چہر ہ کوئی دیکھے ہوئے ہم کو
یہ بستی کیسی بستی ہے جہاں سب ہم سے لگتے ہیں
جن کو آنکھوں میں بسانے کی اجاذت بھی نہیں
وہ تصور دل بیباک میں آجاتے ہیں

شعری مجموے ”دل کے موسم“ میں پرفیسر سحر انصاری نے لکھا ”آدمی کی زندگی تغیرات سے عبارت ہے۔ فرح بھی زندگی کے مختلف موسموں سے گزر ی اور گزررہی ہیں۔ اسی لیے انہوں نے شاید اپنے مجموعے کا نام ’دل کے موسم‘ رکھا ہے۔ سحر انصاری کہتے ہیں کہ ’ایک حساس اور باشعور شاعرہ کی حیثیت سے فرح اقبال نے دل کے تمام موسموں کو اپنے رنگِ سخن میں سمونے کی کوشش کی ہے۔ غزل اور نظم ان کے شعری اظہار کے پیکر ہیں“۔
ڈررہی ہوں وقت کی رفتار سے
عارضی دنیا کے کاروبار سے
رواداری کے بارے میں وہ کچھ اس طرح اظہار خیال کرتی ہیں۔
رواداری کی چادر سے کہاں تک خود کو ڈھانپیں گے
کہ اس کم ظرف دنیا میں تو یہ تانی نہیں جاتی
فرح اقبال کے کلام میں سادگی، خلوص اور صداقت کا عنصر نمایاں ہے، شاعر ہ نے فنی رموز کو سچائی کے ساتھ استعمال کیا ہے۔
دل بھی تیرے ہی دھنگ سیکھے ہے
آن میں کچھ ہے، آن میں کچھ ہے
شاعرہ نے شاعری میں ایسے موضوعات کا انتخاب کیا ہے جو عام زندگی میں معروف ہیں اور عوام الناس ان سے اچھی طرح آگاہ
ہیں۔ ان کا انداز اور لب و لہجہ سیدھا سادہ اور عام ہے۔ بنت حوا کے حوالے سے ان کا ایک شعر۔
بنتِ حو ا کتنی ہی مضبوط ہو
پھر بھی اُس کو اِک ٹھکانہ چاہیے
فرح نے اپنی بات کو بیان کرنے کے لیے بے تکلفی سے کام لیا ہے۔ وہ اشاروں کنایوں میں بات نہیں کرتیں بلکہ جو بات کہنی
ہوتی ہے اسے صاف صاف کہہ ڈالتی ہیں۔ یہی ادا ان کی شاعری کو منفرد بناتی ہے۔
یو تو کہتے ہیں کبھی ساتھ نہیں چھوڑیں گے
پر نبھاجائیں جو وعدہ بھی نہیں کر پاتے
اسی طرح محبوب سے گلہ اس طرح کرتی نظر آتی ہیں ؎
گلہ کریں گے تمہی سے کہ حق ہمارا ہے
یہ اور بات کے ہم کو بھرم بھی پیارا ہے
فرح اقبال کی شاعری عشق و محبت تک محدود نہیں بلکہ انہوں نے زندگی کے مسائل، روزمرہ کے واقعات کو شاعری کی زبان دی ہے، انہوں نے نسائیت پر بھی شعر کہے، اپنی ایک نظم A Working Motherمیں وہ کہتی ہیں۔
میرے وجود کی خوشبو اے میرے دل کی دعا
میں تجھے کیسے بتاؤں کہ میرا دکھ ہے کیا
صبح دم میں تیرے خوابوں کی قبا لے کر نکل جاتی ہوں
تیرے ماتھے کی ضیا پاشی کو
اپنے آنچل کو جلاتی ہوں
دھوپ جنگل سے گزر کر ہی کوئی راہ بناتی ہوں
میری بیٹی، میری گڑیا
یہ تری بے بے سِٹر، تھے چاہے گی بہت
اپنے باتوں سے ترے دل کو لبھائے گی بہت
اپنی ایک نثری نظم’ستارہ بن کے رہنا ہے‘ کے ابتدائی اشعار دیکھئے۔
چمکتے چاند نے مجھے سے کہا اِک شب
تمہیں اس کہکشاں کا سب سے روشن
سب سے تابندہ ستارہ بن کے رہنا ہے
تمہیں اِ ک بے کراں گہرے سمندر کا
کنارہ بن کے رہنا ہے
فلک یہ چاند چمکے یا نہ چمکے
تمہیں اس روشنی کا استعارہ بن کے رہناہے
دل کے موسم‘ سے میرے پیش نظر چند اشعار
کبھی کبھی کیوں من ہوتا ہے بے کل اور بے چین
کبھی کبھی کیوں پھرآتے ہیں بن سوچے یہ نین
ترک الفت کا تقاضہ بھی نہیں کرپاتے
ساتھ رہنے کا ارادہ بھی نہیں کر پاتے
(19جنوری 2020ء)
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 302 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof. Dr Rais Ahmed Samdani

Read More Articles by Prof. Dr Rais Ahmed Samdani: 686 Articles with 520602 views »
Ph D from Hamdard University on Hakim Muhammad Said . First PhD on Hakim Muhammad Said. topic of thesis was “Role of Hakim Mohammad Said Shaheed in t.. View More

Comments

آپ کی رائے
Language: