چین کا جشنِ بہار ، دنیا کی عظیم سالانہ ہجرت۔

(Muhammad Arshad Qureshi, Karachi)
۔ چینی عوام جشن بہار اپنے پیاروں سے ملنے کے روایتی تہوار کے طور پر مناتے ہیں اور اس دوران چین کے مختلف شہروں میں تعلیم ، روزگار یا دیگر مصروفیات کے سلسلے میں مقیم افراد جشن بہار کی تعطیلات اور خوشیاں اپنے والدین و اہل خانہ اور اپنے پیاروں کے ساتھ منانے روانہ ہوجاتے ہیں ۔جشن بہار کے موقع پر جونہی لوگ اپنے آبائی علاقوں کا رخ کرتے ہیں تو دنیا ایک بہت بڑی سفری سرگرمی شروع ہوجاتی ہے جسے بلاشبہ دنیا کی سب سے بڑی سالانہ ہجرت کا نام دیا جاسکتا ہے ۔

چین میں ہونے والی دنیا کی عظیم سالانہ ہجرت

یوں تو دنیا میں بہت سے تہوار منائے جاتے ہیں اور کئی تہواروں کو تاریخی اہمیت حاصل ہے تہواروں کے سلسلے میں چین بہت آگے ہے وہاں ایک تہوار کے اختتام کے ساتھ ہی کسی دوسرے تہوار کی تیاریاں شروع ہوجاتی ہیں چینی لوگ اس حوالے سے بہت زندہ دل اور پر عزم ثابت ہوئے ہیں ۔ چینی عوام جشن بہار اپنے پیاروں سے ملنے کے روایتی تہوار کے طور پر مناتے ہیں اور اس دوران چین کے مختلف شہروں میں تعلیم ، روزگار یا دیگر مصروفیات کے سلسلے میں مقیم افراد جشن بہار کی تعطیلات اور خوشیاں اپنے والدین و اہل خانہ اور اپنے پیاروں کے ساتھ منانے روانہ ہوجاتے ہیں ۔جشن بہار کے موقع پر جونہی لوگ اپنے آبائی علاقوں کا رخ کرتے ہیں تو دنیا ایک بہت بڑی سفری سرگرمی شروع ہوجاتی ہے جسے بلاشبہ دنیا کی سب سے بڑی سالانہ ہجرت کا نام دیا جاسکتا ہے ۔

امسال دو ہزار بیس میں جشن بہار کا آغاز پچیس جنوری سے ہو رہا ہے جس وجہ سے چینیوں کا اپنے آبائی علاقوں کو روانگی کا سلسلہ جنوری کے دوسرے ہفتے سے جاری ہے ۔ آمدورفت کا یہ چالیس روزہ سلسلہ اٹھارہ فروری تک تسلسل سے جاری رہے گا۔ جس کے نتیجے میں امسال تین ارب آمد و رفت متوقع ہے ۔ ہر گذرے برس کے مقابلے میں اس سفری تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آتا ہے ۔ چالیس روزہ اس سفری سرگرمی کو چین میں "چھون یون" کہا جاتا ہے ۔ ایک ارب چالیس کروڑ کی آبادی والے اس ملک میں ٹرانسپورٹ کی بہترین سہولیات ہونے کے باعث اتنی بڑی سفری سرگرمی میں لوگوں کو مشکلات کا سامنہ نہیں کرنا پڑتا۔ چھون یون میں چینی لوگ ٹرین سے سفر کو ترجیح دیتے ہیں ۔چینی حکومت نے اس بڑی سفری سرگرمی کے لیے بہترین انتظامات کیئے ہیں ۔ جن میں بسوں کی تعداد میں اضافہ، ریلوے اسٹیشنوں پر انتظار گاہوں کی تعداد میں اضافہ اور ائیرپورٹ پر بھی خاطر خواہ انتظامات کیے گئے ہیں ۔

اگر آپ کسی ملک یا اس قوم کے رسم و رواج کے بارے میں جاننا چاہیں تو یقینی طور پر آپ کو وہاں کے لوگوں سے اس کے بارے میں معلومات حاصل کرنا ہوگی اسی طرح چین میں منائے جانے والے جشن بہار کے تہوارکے بارے میں لکھنے سے پہلے قارئین کو بھی چین اور چینیوں کے بارے میں مختصر بتانا چاہوں گا۔

چین اور چینی قوم سے پاکستان اور پاکستانیوں سے دوستی کا ذکر میں بچپن سے ہی سنتا چلا آیا ہوں کہ چین پاکستان کو بہت گہرا دوست ہے پاک چین دوستی سمندر سے گہری ہمالیہ سے مضبوط اور شہد سے زیادہ میٹھی ہے میرے زہن میں یہ سوال ہمیشہ رہا کہ ایسا کیوں ہے کہ پوری دنیا میں صرف چین ہی سے اتنی گہری دوستی کی وجہ آخر ہے کیا اور چین اور چینی لوگوں کا بھی اس دوستی کے بارے میں ایسا ہی کہنا ہے اسی دلچسپی اور شوق کی وجہ سے میرا رابطہ چائینا ریڈیو انٹرنیشنل اردو سروس سے ہوا جو کہ پاکستانی سامعین کے لیئے اردو زبان میں پروگرام نشر کرتا ہے یہ نشریات روزآنہ پاکستان میں سنی جاتی ہے یہ ایک موثر ذریعہ ہے چین اور چینی رسم و رواج کے بارے میں جاننے کا اس موثر ذریعے سے مجھے اس بات کا علم ہوا کہ پاک چین دوستی کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ جب چین نے عوامی جمہوریہ چین کا اعلان کیا تو پوری دنیا میں پاکستان واحد ملک تھا جس نے سب سے پہلے چین کو ایک مملکت کی حثیتی سے تسلیم کرنے کا اعلان کیا تھا بس یہ آغاز تھا چین اور پاکستان کی دوستی کا اور اسی وجہ سے چینی قوم پاکستانیوں سے نہ صرف محبت کرتے ہیں بلکہ ان کے بے پناہ عزت بھی کرتے ہیں اور پاکستان کی قومی زبان سے محبت کی ایک مثال یہ ہے کہ بہت سے چینی بہت خوبصورت اور نفیس اردو بولتے ہیں اور بیجنگ یونیورسٹی سے ایم اے اردو میں سند حاصل کرکے فخر محسوس کرتے ہیں اپنے بہت سے چینی دوستوں سے میں اکثر ان کے رسم و رواج کے بارے میں معلومات حاصل کرتا ہوں اور وہ بھی پاکستان میں منائے جانے والے تہواروں کے بارے میں مجھ سے پوچھتے رہتے ہیں۔

اب ذکر اس تہوار کا جو میری اس تحریر کا موضوع ہے یعنی چینیوں کا تہوار جشن بہار جو پوری دنیا میں رہنے والے چینی بہت جوش و خروش سے مناتے ہیں میرے لیے یہ تہوار اس لےج بھی بہت دلچسپی کا باعث ہے کہ اس تہوار پر چینی گھروں اور دکانوں پر سرخ رنگ کا استامال کرتے ہیں سرخ لباس زیب تن کرتے ہیں میں نے اس بارے میں کئی چینی دوستوں سے دریافت کیا کہ اس کا آغاز کس طرح ہوا اور سرخ رنگ کے استعمال کی بنیادی وجہ کیا ہے یا اس تہوار کے منانے سے چینیوں کا کیا عقیدہ ہے تو حیران کن طور پر اس حوالے سے بہت سی باتیں سامنے آئیں لیکن کسی بھی واقعہ کو لوگوں کے علم میں لانے سے پہلے اس کی حقیقت کی تصدیق ایک لازمی جز ہے اس تہوار کے حوالے سے جو کچھ مجھے جاننے کا موقع ملا میں نے اس بارے میں چائینا ریڈیو انٹرنیشنل کی اردو سروس اور کراچی میں واقع چینی ثقافتی مرکز سے رابطہ کیا اور یہ جان کر مزید خوشی ہوئی کہ یہ تہوار پاکستان میں واقع چینی سفارتخانوں اور ثقافتی مراکز میں بھی منایا جاتا ہے ، وہیں سے جشن بہار تہوار کے بارے میں تفصیلی معلومات میسر آئیں کہ اس تہوار یعنی جشن بہار کو منانے کی ابتدا چار ہزار سال پرانی ہے جس کی تاریخ کچھ یوں ہے کہ کوئی شیطانی قوت ان ہی دنوں چین کے مختلف علاقوں سے گذرتی تھی جہاں وہ تباہی پھیلاتی تھی لوگوں میں بیماریاں پھیلتی تھیں مویشی ہلاک ہوجاتے تھے اور فصلیں تباہ ہوجاتی تھیں ایک دفعہ کچھ یوں ہوا کہ انہی تاریخوں میں کچھ بچے ایک علاقے میں بہت بڑی سرخ رنگ کی چادر تان کر اس کے نیچے آتش بازی کررہے تھے وہ چادر سرخ رنگ کی اتفاقیہ طور پر بچے اساعمیل کررہے تھے کہ اس وقت وہ شیطانی طاقت وہاں سے بھاگ گئی کیونکہ اس سال چین میں کوئی آفت نیںا آئی نہ بیماریاں پھیلیں نہ ہی فصلیں تباہ ہوئیں اس بات سے لوگوں نے اندازہ کیا کہ وہ شیطانی طاقت سرخ رنگ اور آتش بازی سے خوفزدہ ہوتی ہے بس اسی وقت سے اس تہوار کو منانے کی ابتدا ہوئی جس کے بعد چینی ہر سال نئے سال کا آغاز اسی تایخی مذہبی عقیدے سے کرتے ہیں جشن بہار کی آمد سے قبل ہی اپنے مکانوں دکانوں کو خوب اچھی طرح صاف ستھرا کیا جاتا ہے اور اچھی طرح سجایا جاتا ہے مختلف اقسام کے پکوان بنائے جاتے ہیں اور سرخ رنگ کے مشروبات تیار کیَے جاتے ہیں جن سے مہمانوں کی خوب خاطر مدارات کی جاتی ہیں ۔اس موقع پر سرخ لالٹینوں کا بھی کثرت سے استعمال کیا جاتا ہے ۔

چین میں ہر قمری سال کو کسی جانور کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے اور اس مناسبت کی اپنی کئی تاریخی اہمیت ملتی ہیں 2020 کےسال کو چوہے سے منسوب کیا گیا ہے ۔پاکستان میں عیدین کے تہواروں سے اس کی ایک حد تک مماثلت پائی جاتی ہے ۔ ہمیں اپنے چینی بھائیوں کی خوشیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہیے اور چین کی ثقافت کو پاکستان میں اور ہماری ثقافت کو چین میں متعارف کرانے کے لیِئے انفرادی اور حکومتی سطح پر مزید کوشش کرنی چاہیے اور پاکستانی اخبارات و رسائل اور الیکٹرانک میڈیا پر بھی ایسے تہواروں کو خصوصی اہمیت دینے کی ضرورت ہے تاکہ دونوں ملکوں کی دوستی مزید مستحکم ہو اور دونوں ملکوں کے عوام ایک دوسرے کے اور قریب ہوں ۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 273 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Arshad Qureshi

Read More Articles by Muhammad Arshad Qureshi: 106 Articles with 60654 views »
My name is Muhammad Arshad Qureshi (Arshi) belong to Karachi Pakistan I am
Freelance Journalist, Columnist, Blogger and Poet.​President of Internati
.. View More

Comments

آپ کی رائے
Language: