حضور حافظ ملت رحمة اللّٰه تعالیٰ علیه کی سیرت مبارکہ

(Muhammad Soban , Pakpattanshar)
عرسِ حضور حافظِ ملت رحمة اللّٰه تعالیٰ علیه پر آپ کی مبارک سیرت پر مختصر تحریر

 گزشتہ روز عرسِ حضور حافظِ ملت رحمة اللّٰه تعالیٰ علیه پر آپ کی مبارک سیرت پر مختصر تحریر

ازقلم: محمد ثوبان انتالوی
یکم جمادی الآخر ١٤٤١ھ

علوم دینیہ حاصل کرنا یقیناً بڑی خوش قسمتی کی بات ہے اور اس پر مزید یہ کہ جو شخص حالات سازگار نہ ہونے کے باوجود بھی معاشی فکر سے بے پرواہ ہو کر دین کا علم حاصل کرے تو اس متلاشی علم کے تو کیا ہی کہنے!

جی ہاں! یہاں آج ایک ایسی ہی عظیم شخصیت کا تذکرہ کرنے جارہا ہوں جنہوں نے حالات تنگدستی میں محض اپنے شوق و ذوق کی بنا پر نا صرف علمِ دین حاصل کیا بلکہ لوگوں کو بھی علم کے جام بھر بھر کر پلائے...

میری مراد ہیں حضور سیدی حافظ ملت حضرت شاہ عبدالعزیز محدث مراد آبادی رحمة اللّٰه تعالیٰ علیه...

آپ کی ولادت ١٣١٢ھ/1894ء بروز پیر صبح کے وقت قصبہ بھوج پور میں ہوئی... آپ کے دادا کا نام مولاناعبدالرحیم رحمة اللّٰه تعالیٰ علیه اور والد کا نام حافظ غلام نور رحمة اللّٰه تعالیٰ علیه تھا...

ابتدائی علوم، صدر الافاضل مولانا نعیم الدین مرادآبادی رحمة اللّٰه تعالیٰ علیه سے سیکھنے کے بعد مولانا امجد علی اعظمی رحمة اللّٰه تعالیٰ علیه کی بارگاہ میں متلاشی علم بن کر حاضر رہے...

دور طالب علمی میں آپ کو سیروتفریح اور فضولیات سے رَتّی برابر بھی لگاؤ نہ تھا لہذا آپ نے تین چیزوں کو ہی اپنا شعار بنایا...

◀ کتابوں کا مطالعہ
◀ استاذ گرامی کی خدمت
◀ تلاوت قرآن کریم

طلباء پر شفقت کے لحاظ سے آپ کی یہ خصوصیت تھی کہ آپ کو بُدُھو سے بُدُھو (کندذہن) شاگرد بھی اتنا ہی عزیز تھا جتنا کے ایک ذہین سے ذہین طالب علم...

آپ نے اپنی اِس خصوصیت کا اظہار کچھ یوں فرمایا کہ...

"اچھے طلباء کو چاہنا استاذ کا کمال نہیں بلکہ یہ تو شگرد کا ہی کمال ہے (کہ وہ پہلے ہی اس لائق ہے کہ اسے چاہا جائے) استاذ کا کمال تو یہ ہے کہ جو نہ چاہنے کے قابل ہو اسے نکھار کر اس قابل بنا دے کہ اسے چاہا جائے"

اس پر مزید یہ فرمایا کہ...

"ایک بہترین معالج کی بہترین جگہ بیماروں کا حلقہ ہے، تندرستوں کی انجمن نہیں"

اگر طریقہ تدریس کی بات کی جائے تو اپنے تو اپنے، غیر بھی اس قدر متاثر تھے کہ دُور دُور سے متلاشیان ذوق آپ کے پاس حاضر ہونے لگے اور اس طرح مبارک پور طلباء کا مرجع بن گیا...

آپ کو کتابوں سے اس قدر شغف تھا کہ کوئی بھی کتاب پڑھنا ہوتی تو ادب کو ملحوظ خاطر لاتے ہوئے پورے اہتمام کے ساتھ ڈیسک یا تکیہ پر کتاب رکھ کر پڑھتے... لیٹ کر کتاب نہ پڑھتے... کتاب کو کہیں لے جانا ہوتا تو بجائے اس کے کہ اسے ہاتھ سے پکڑ کر لٹکا کر لے جائیں، سینے سے لگا کر لے جاتے...

تصنیف و تالیف کے میدان میں بھی اللّٰه پاک نے خاصی خوبیوں سے نوازا... مصروفیات کے سبب بہت کم لکھا، مگر جو لکھا وہ غیر ضروری باتوں سے پاک اور دل لگتی بات لکھا... آپ کی تحریری خوبیوں سے واقف ہونے کے لئے آپ کی چند تصانیف ذکر کیے دیتا ہوں...
⬅ ارشاد القرآن
⬅ معارف حدیث
⬅ انباء الغیب
⬅ فرقہ ناجیہ
⬅ المصباح الجديد
⬅ العزاب الشديد لصاحب مقامع الحديد
⬅ الإرشاد
⬅ فتاویٰ حافظِ ملت (غیرمطبوعہ)

آپ شیخ کامل تھے... آپ کے عقیدت مندوں کا حلقہ بہت وسیع تھا... آپ نے سالکین کے قلوب و اذہان کو خوب معطر و معمبر کیا... آپ نے اپنے عقیدت مندوں کو ایمان و اسلام کے لئے جینے کا جو جذبہ عطا کیا وہ اپنی مثال آپ ہے...

جامعہ اشرفیہ آپ کو اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز تھا... آپ فرماتے تھے کہ "میں اپنی زندگی میں اس کی پَستی کو نہیں دیکھ سکتا"... بلکہ آپ یہاں تک فرمایا کرتے تھے کہ "میں نے اپنے پیسوں سے نہیں بلکہ میں نے اسے اپنے خون سے سینچا ہے" یہ فرماتے کہ میں یہ چاہتا ہوں کہ اس سے سُنی علماء فارغ ہوں... وہ ہندی انگریزی اور عربی میں صاحبِ قلم و صاحبِ لِسان ہوں جو مختلف ممالک میں مذہبِ حق، اہل سنت کی کماحقہٗ اشاعت و خدمت کر سکیں...

وفات
یکم جمادی الآخر ١٣٩٦ھ
31 مئی - 1976
بروز دوشنبہ (سوموار)
تقریباً گیارہ بج کر پانچ منٹ پر...
دارِ فانی سے رخصت ہوئے...

اللّٰه تعالیٰ ہم سب کو ان کی سیرتِ مبارکہ پر عمل کرنے کی توفیق ارزانی فرمائے... ان کے مزار پر کروڑوں رحمتوں کا نزول فرمائے... حضور کی سُچی محبت نصیب فرمائے... آمیـــن!
م

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 216 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Soban

Read More Articles by Muhammad Soban : 9 Articles with 2193 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: