ممتاز ماہرِ تعلیم راحیلہ وقار سے گفتگو


آج کل جب ہم دیکھتے ہیں کہ ملک کا ہر شعبہ شعبہ تنزل کا شکار ہے اور بالخصوص شعبہ ٔ تعلیم قحط الرجال کا شکار ہے ایسے میں بھی چند لوگ ایسے ہیں جو تدریسی عمل کو پیشہ نہیں بلکہ ایک منصب اور ذمے داری سمجھ کر نبھاتے ہیں۔ایسے مٹھی بھر افراد میں سے ایک محترمہ راحیلہ وقار بھی ہیں۔محترمہ راحیلہ وقار صاحبہ ایک کہنہ مشق معلمہ اور ماہرِ تعلیم ہیں۔ آپ کم و بیش 28 برس سے شعبہ ٔ تعلیم سے وابستہ ہیں۔ اپنے کیرئیر کا آغاز ایک نجی اسکول میں ٹیچر کی حیثیت سے کیا۔ اس کے بعد مختلف اسکولوں میں تدریسی فرائض سر انجام دیے۔ کراچی کے معروف عثمان پبلک اسکول کے ساتھ کم و بیش 22 برس وابستہ رہیں۔ اگرچہ آپ نے ٹیچر کی حیثیت سے کیرئیر کا آغاز کیا تھا تاہم اپنی خداد داد صلاحیتوں اور محنت سے پرنسپل اور پھر ڈپٹی ڈائریکٹرکے عہدے تک پہنچیں۔آج کل The Zealاسکول کے ساتھ بطور ڈائریکٹر وابستہ ہیں۔ سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ، آکسفورڈ یونیورسٹی پریس اور ایجوکیشنل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے لیے کئی کتابیں تحریر کرچکی ہیں۔اس کے علاوہ انگریزی کے اساتذہ کی بین الااقوامی تنظیم SPELT کے لیے بھی کئی مضامین لکھ چکی ہیں اور ان کے پلیٹ فارم سے کئی ورکشاپس کروا چکی ہیں۔ان سے ہونے والی گفتگو قارئین کی نذر ہے۔

سوال :کچھ اپنے بارے میں بتایئے۔( پیدائش، تعلق کس شہر /صوبے سے ہے؟ والدین، بہن بھائی، ابتدائی تعلیم وغیرہ )
جواب :۔ سرگودھا میں پیدا ہوئی ۔والد mes ملٹری انجینئرنگ سروس میں تھے جس کی وجہ سے ان کا ٹرانسفر ہوتا رہتا تھا۔کراچی گلستان اسکول سے تعلیم کا آغاز کیا۔پھر راولپنڈی کے station school میں چوتھی تک اس کے بعد میانوالی کے PAF MODEL SCHOOLاس کے بعد کراچی شاہ راہ فیصل پر PAF MODEL SCHOOL جس کا نام اب فضائیہ ہے۔خاتون پاکستان کالج سے انٹر سائنس( بائیولوجی) کیا۔

سوال:تعلیم کا شعبہ خود اختیار کیا یا حادثاتی طور پر اس شعبے میں آئیں؟
جواب :شادی کے بعد 1986 میں کویت گئی اور 1990 کی جنگ کے بعد واپس آئی۔ میری نند نے جاب کے لئے اپلائی کیا میں نے درخواست لکھی۔ میرا جی چاہا کہ میں بھی درخواست دے دوں اس کے بعد میں نے habib girls میں بھی اپلائی کر دیا۔

سوال :آغاز کس اسکول سے کیا؟
جواب : حبیب گرلز اسکول سے . تنخواہ 1750 تھی۔تو یوں میں نے پڑھانے کا آغاز کیا

سوال :آج آپ ایک ماہر تعلیم ہیں لیکن اپنے ابتدائی دور کے بارے میں بتائیں جب پہلی بار کلاس کا سامنا کیا تو کیا تاثرات اور کیفیت تھی ؟
جواب :میں بہت پر جوش تھی مگر بچوں کو مینیج کرنے میں دشواری ہوتی تھی۔جب شور زیادہ ہوتا تھا تو اس کے ری ایکشن میں خوب ڈانٹ، رفتہ رفتہ تجربے اور ساتھی معلمات سے سیکھا کہ بچوں کو مینیج کرنے کے اور بھی طریقے ہیں۔جماعت کا بورڈ کافی لمبا تھا۔ جب میں لکھتی تو بورڈ کی ایک جانب سے دوسری تک لکھتی چلی جاتی۔جب بچوں کی کاپی سامنے آئی تو انہوں نے ایک صفحے سے دوسرے تک لکھ ڈالا۔میں ان کا کام دیکھ کر سکتے میں آ گئی۔پھر سمجھ میں آیا کہ بورڈ پر بچوں کے صفحے کے طرح کام کرنا ہوتا ہے۔

سوال : آپ کے خیال میں ایک طالب علم اپنے معلم یا معلمہ میں کیا خوبیاں دیکھنا چاہتا ہے؟
جواب :بچے چاہتے ہیں کہ معلم اپنے مضمون کا ماہر ہو، دلچسپ انداز میں پر جوش طریقے سے پڑھائے، نرم مزاج ہو بظاہر ایسا لگتا ہے کہ ان کو صرف ہنسی کھیل پسند ہے مگر جب ان سے بات کریں تو اندازہ ہوتا ہے کہ وہ اچھے اور کم اچھے استاد کو خوب پہچانتے ہیں۔

سوال :آج کے تیز رفتار دور میں جب روزانہ کی بنیاد پر چیزیں تبدیل ہورہی ہیں، آپ کو اپنے ابتدائی دور اور آج کے طلبا میں کیا فرق نظر آتا ہے؟
جواب :مجھے لگتا ہے کہ بچے معصوم ویسے ہی ہیں جیسے پہلے تھے۔ سائنس دانوں کی طرح بے شمار سوالات ان کے ذہن میں آج بھی ہوتے ہیں۔ جو چیز بدلی ہے وہ exposure ہےمیڈیا کے زیر اثر وہ بہت کچھ سیکھ لیتے ہیں۔ اگر ہم کو اس کا ادراک نہ ہو تو ہمارا طریقہ تدریس ان کے لئے بہت بورنگ ہو جاتا ہے۔جس کی وجہ سے لگتا ہے آج کے طلبا دلچسپی نہیں لیتے۔
 


سوال : آپ کے خیال میں تدریس میں سب سے مشکل کام کیا ہوتا ہے؟
جواب :سب سے مشکل اور اہم بات یہ ہے کہ طلبا کی مکمل توجہ حاصل کر لی جائے۔ توجہ کے بغیر ہم انہیں کچھ بھی نہیں سکھا سکتے

سوال :بچے کی تعلیم اور تربیت میں اسکول کا کردار زیادہ اہم ہے یا والدین کا؟
جواب :تعلیم و تربیت کی اولین ذمہ داری تو والدین کی ہی ہے۔ مدرسہ ان کا معاون اور مددگار ہے۔ اچھا اسکول طلبا کی شخصیت پر بہت گہرا اثر ڈالتا ہے اس لئے والدین کی ذمہ داری ہے کہ اسکول کا انتخاب بہت سوچ سمجھ کر کریں۔ مگر اسکول بھیج کر یہ نہ سمجھیں کہ ان کی ذمہ داری ختم ہو گئی۔ریسرچ یہ ثابت کرتی ہے کہ جو والدین بچوں کی تعلیم و تربیت میں دلچسپی لیتے ہیں ان کے بچے زیادہ کامیاب ہوتے ہیں۔

سوال : کیا آپ کے خیال میں موجودہ دور کے والدین اور پہلے کے والدین میں کوئی فرق ہے ؟ ( والدین کے رویے کے حوالے سے یہ سوال ہے۔)
جواب :افسوس یہ ہے کہ والدین پوری ذمےداری اسکول پر ڈال کر فارغ ہو جاتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ اسکول کوئی جادو کی چھڑی لہرا کر تمام بچوں کو A+ تک پہنچا دیں گے۔ان کی اس نفسیات کی وجہ سے بعض اسکول سب اچھا کی رپورٹ بناتے ہیں جبکہ بچوں کو کچھ بھی نہیں آتا.

سوال : آج کل والدین پرائیوٹ اسکول میں بچے کو بھیج کر اور اس کی فیس ادا کرکے سمجھتے ہیں کہ ٹیچر ان کے غلام ہیں اور بد قسمتی سے اسکول کی انتظامیہ بھی اکثر ٹیچرز پر والدین کو فوقیت دیتے ہیں۔ اس رجحان کو آپ کیسے دیکھتی ہیں؟
جواب :والدین کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اساتذہ ان کے غلام نہیں۔ ان کا احترام ان پر اور ان کے بچوں پر لازم ہے۔ جب تک وہ بچوں کے سامنے ان کے اساتذہ کو ان کا مقام نہیں دیں گے تربیت مکمل نہیں ہو گی۔ شکر کا جذبہ بچوں اور ان کے والدین میں پیدا کرنا ضروری ہے۔اسکول کی انتظامیہ کو چاہیے کہ والدین کو اس طرف متوجہ کریں۔لیکن دوسری طرف یہ بھی ضروری ہے کہ اساتذہ اپنے مقام کو سمجھیں اور تدریس کو صرف ایک پیشہ نہ سمجھیں۔ یہ ایک منصب ہے اور اسی جذبے سے انہیں کام کرنا چاہئے۔
 


سوال : آ ج کل ایک نیا رجحان بھی دیکھنے کو مل رہا ہے کہ والدین بچے کو اپنے ایریا سے دور دوسرے ایریاز کے اسکولوں ( جیسے کہ نارتھ ناظم آباد، پی ای سی ایچ ایس ، گلشن اقبال وغیرہ ) میں داخل کرنے پر زیادہ اہمیت دیتے ہیں ۔کیا بچے کی تعلیم اور تربیت کے لیے نصاب اور ٹیچر کی بجائے جگہ کی زیادہ اہمیت ہے؟
جواب :افسوس ہے کہ علاقے کے حساب سے معلمین ملتے ہیں اسی حساب سے اسکول کا کلچر بنتا ہے جس کی وجہ سے والدین ایسا کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ conscious ادارے اس بات کا خیال رکھتے ہیں کہ ماحول کو مناسب حد تک منظم اور تہذیب کی حدوں میں رکھیں۔ ایسے اسکول کا انتخاب کریں تو دور جانے کی ضرورت نہیں ہو گی۔

سوال : دیکھا گیا ہے کہ والدین بچے کی تعلیم، تربیت اور اس کی ذہنی ترقی کی بجائے اس کے گریڈز، نمبر کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ کیا یہ رویہ درست ہے؟
جواب :نمبروں کی دوڑ طلبا کی تربیت پر برا اثر ڈالتی ہے۔ وہ ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کے چکر میں حسد اور جلن کا شکار ہوتے ہیں۔ ان میں دوسرے کی کامیابی پر خوش ہونے کی صلاحیت پیدا نہیں ہوتی۔نیز تربیت کہیں پیچھے رہ جاتی ہے۔ جن اسکولوں میں مسابقت کو مرکزی حیثیت حاصل ہے وہاں طلبا میں جلن کڑھن پنپتی ہے۔نمبر اہم ہیں لیکن اتنے نہیں کہ ان کی وجہ سے ہم بچوں کو مایوسی کے دلدل میں دھکیل دیں۔

سوال : تدریسی عمل میں کس کی زیادہ اہمیت ہے۔نصاب کی یا معلم کی؟
جواب :نصاب اور معلم دونوں بے حد اہم ہیں۔اچھا معلم نصاب میں جان ڈالتا ہے۔ دونوں جزولاینفک ہیں۔اچھی تعلیم و تربیت کے لئے دونوں ضروری ہیں ایک سے کام نہیں چلتا۔

سوال : آپ کم و بیش 27 برس سے تعلیم کے شعبے میں ہیں، کیا آپ سمجھتی ہیں کہ ہمارا تعلیمی نظام اور نصاب موجودہ دور کے تقاضوں کے عین مطابق ہے؟
جواب :ایک جملے میں, ہمارا نصاب نئے دور کی ضرورتوں کے مطابق نہیں۔

سوال : ہمارے ملک میں سرکاری اسکولوں کے ساتھ ساتھ پرائیوٹ اسکولز بھی ہیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ کیمبرج، آغا خان بورڈ وغیرہ بھی متوازی نظام تعلیم کے طور پر ساتھ ساتھ چل رہے ہیں۔ کیا آپ اس کو درست سمجھتی ہیں؟
جواب :پراجیکٹ ورک، پیشکش کی صلاحیت، زبان پر عبور ، مل جل کر کام کرنے کے صلاحیت، انکوائری، ٹیکنالوجی پر عبور صرف چند اہم چیزیں ہیں۔

سوال : کیا یہ مختلف تعلیمی نظام طبقاتی تفریق کو نہیں بڑھا رہے؟
جواب:طبقات کی تفریق کی بہت ساری وجوہات ہیں۔ دین سے دوری ایک بہت بڑی وجہ ہے۔ تعلیمی نصاب کا فرسودہ ہونا ایسے اسکول جو صرف کاروبار کے لئے کھولے گئے ہیں، بنیادی تعلیم کے بعد مواقع نہ ملنا، سفارش، پرچی اور پھر مختلف نصاب کے ساتھ مختلف تعلیمی نظام بھی۔

سوال :آج کل ایک بات بہت زور و شور سے کہی جاتی ہے کہ پورے ملک میں یکساں نصاب رائج ہونا چاہیے۔ کچھ اس کے بارے میں بتایئے کہ یکساں نصاب سے کیا مراد ہے؟
سب سے پہلے یہ واضح ہونا چاہیے کہ نصاب اور سلیبس ایک نہیں ہیں۔ نصاب ایک ہونا اچھا ہے لیکن سلیبس ایک ہونا اچھا نہیں ہے میرے خیال میں۔ ایک ہی نصاب کے اہداف کو حاصل کرنے کے بے شمار ذرائع ہو سکتے ہیں۔ میں متنوع ذرائع کے حق میں ہوں کیوں کہ اس سے creativity کی گنجائش باقی رہتی ہے جو کہ ترقی اور آموزش کے لئے لازمی ہے۔ایک جیسی کتابوں کا ہونا ضروری نہیں۔ ایک جیسے نصاب سے ایک جیسا معیار ہو گا تمام طلبا ایک جیسے اہداف کو حاصل کریں گے اور معیاری تعلیم یقینی ہوتی ہے۔ میں نے انگریزی کے نصاب پر کام کیا ہے اور میں جانتی ہوں کہ نصاب بہت اعلیٰ ہے۔ کتابیں اس کے مطابق لکھی جا رہی ہیں۔ جماعت اول سے ہشتم تک چھپ چکی ہیں۔ میرے اسکول میں سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کی انگریزی کی کتابیں ششم سے ہشتم تک پڑھائی جا رہی ہیں دوسری کتب کے ساتھ۔
 


سوال :کیا پاکستان میں یکساں نصاب ممکن ہوپائے گا؟
جواب:اگر اس میں کو ئی چھپا ہوا ہدف نہ ہو تو تنوع تو پسندیدہ ہے۔ حکومت کو اعلیٰ معیار کو حدف بنانا چاہئے اور اس کو ہر حال میں ensure کروانا چاہیے۔ اس کی طرف پیش رفت ہو رہی ہے۔ اللہ کرے کہ اس کام کو اس کی روح کے ساتھ کیا جائے ورنہ نقصان ہو گا۔

سوال :آج کل انگریزی زبان میں تعلیم پر بہت زور دیا جاتا ہے۔ کیا آپ سمجھتی ہیں کہ انگریزی زبان کے بغیر ترقی ممکن نہیں ہے؟
جواب :سارا کھیل طاقت کا ہے۔ جب مسلمانوں کے پاس طاقت تھی تو قرطبہ کے نوجوان مسلمانوں کی شکل و شباہت بناتے تھے ۔ اس کے احتجاج میں سو پادریوں نے اپنے آپ کو جلا کر احتجاج کیا۔ اب طاقت کہیں اور ہے۔ انگریزی نے اسی وجہ سے بین الاقوامی زبان کی حیثیت حاصل کر لی ہے ۔ تمام جدید ایجادات، ریسرچ، معلومات اس زبان میں ہے۔ اب یہ انتخاب کرنے اور نہ کرنے کا سوال نہیں رہا۔ یہ ہماری مجبوری ہے کہ ہمیں یہ زبان سیکھنی ہے۔ جو چیز نہیں ہونی چاہیے وہ یہ ہے اپنی زبان پر شرمندگی اور اس بات پر فخر کہ ہمیں انگریزی پر عبور حاصل ہے۔انگریزی ایک ضرورت تو ہے مگر ترقی و کامرانی کی ضمانت ہر گز نہیں۔ ترقی کا زبان سے نہیں ذہن کی کشادگی، تحقیق کی خواہش، جستجو اور محنت سے ہے۔

سوال :آپ نے بچوں کو تعلیم دینے کے ساتھ ساتھ اساتذہ کی تربیت پر بھی بہت کام کیا ہے۔اساتذہ کو تربیت دینے کا خیال کیوں آیا؟
میرے خیال میں اچھا نصاب بے کار ہے اگر اس کو پڑھانے والا ماہر، چست، تربیت یافتہ،اور قابل نہیں۔ ہمارے تعلیمی نصاب کی کمزوری کی وجہ سے اکثر اساتذہ جب پڑھانے کا آغاز کرتے ہیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ جو نظریات وہ پڑھانا چاہتے ہیں ان کے حوالے سے ان کے اپنے نظریات واضح نہیں۔ ان کے اپنے علم میں گیپ ہیں۔ اگر نظریات واضح ہوں تو پھر بچے کی سطح پر نہیں آ پاتے۔ اگر یہ بھی ہو جائے تو بچوں کی توجہ کو دیر تک حاصل نہیں کر پاتے۔ اگر یہ ہو جائے تو کام کو دلچسپ نہیں بنا پاتے، اچھے سوال جو طلبا کو سائنس دانوں جیسا متجسس بنائیں وہ نہیں کر پاتا۔ یہ سب وہ محرکات ہیں جس کی وجہ سے اس میدان میں کودنا پڑا۔ اس کے ساتھ ساتھ امینہ مراد ، رضیہ شمس الدین ، صفورہ نعیم ، ڈاکٹر نسرین احسن ، طاہر جاوید ، عباس حسین وغیرہ جیسے اساتذہ نے یہ سکھایا اور سمجھایا کہ اس کام کو کس سلیقے سے کیا جاتا ہے۔

سوال :آج کل تو ٹیچرز ٹریننگ بھی ایک کاروبار بن گیا ہے ۔ ہر دوسرا فرد ٹرینر بنا ہوا ہے یا بننا چاہتا ہے، اس رجحان کے بارے آپ کی کیا رائے ہے؟
جواب :انٹرنیٹ زندہ باد! طلب اور رسد کے اصول پر دیکھیں تو شاید موجودہ ادارے ضرورت کو پورا نہیں کر پارہے تھے۔ عقل مندوں نے اس کا فائدہ اٹھایا۔۔۔۔۔ اچھا کیا۔ مگر ریاضت سے حاصل شدہ علم اور انٹر نیٹ سے پڑھے چار آرٹیکل ، دیڈیو یا پی پی ٹی ایک برابر نہیں۔

سوال :پہلے کے اساتذہ اور آج کل کے اساتذہ میں آپ کو کیا فرق نظر آتا ہے؟
جواب :ان کی( پہلے کے اساتذہ کی) قدر کی جاتی تھی۔ ان کے لئے متعلم کھڑے ہوتے اور ایک قدم پیچھے چلتے۔ کوئی تو بات تھی! اب کچھ ہم میں کمی ہے اور کچھ کلچر میں تبدیلی آ گئی ہے۔ہر تبدیل اچھی نہیں ہوتی۔

سوال :آج کل مغربی طرزِ تعلیم اور مغربی ماہرین تعلیم کو بہت زیادہ فوقیت دی جاتی ہے۔تعلیم کے بارے میں اسلام کا کیا نقطۂ نظر ہے؟
جواب :اسلام سب سے زیادہ ماڈرن اور جدید مذہب ہے۔ تعلیم و تربیت اسلام کا مرکزی کام ہے۔ پوری قوم پر لازم ہے کہ وہ معروف کا پیغام دیں اور برائی کو روکیں۔ اس سے بڑھ کر تعلیم وتربیت کا انتظام کیا ہو گا۔ اس کے علاوہ علم میں اضافے اور نفع بخش علم حاصل کرنے کی ہمیں دعائیں سکھائی گئیں ہیں۔ علم حاصل کرنا فرض قرار دیا گیا ہے۔میں اپنی کارگاہوں میں اکثر فرضِ عین علم اور فرض ِکفایہ علم کا فرق سمجھاتی ہوں۔ فرضِ عین علم وہ علم ہے جو سب پر لازم ہے۔ اس کے بغیر ہم مسلمان نہیں ہو سکتے اور زندگی کے معمولات درست طریقے سے پورے نہیں کر سکتے۔ فرض کفایہ وہ علم ہے جو بستی کے چند لوگوں کو ضرور حاصل کرنا ہے ورنہ سب گناہ گار ہوں گے۔ اس کو یوں سمجھیں کہ اگر دنیا میں کوئی کار آمد علم موجود ہے تو مسلمانوں پر یہ فرض ہو گیا کہ چند مسلمان ضرور اس علم کو حاصل کریں درنہ سب گناہ گار ہوں گے۔

سوال : آپ اسلامی طرزِ تعلیم اور تعلیم میں اسلامی شعائر کے نفوذ پر بہت زور دیتی ہیں لیکن آپ بھی اپنی ورکشاپس میں انہی مغربی ماہرین تعلیم کی مثالیں پیش کرتی ہیں، کیا ہمارے پاس کسی اسلامی اسکالر جیسے کہ امام غزالی ؒ وغیرہ کی کوئی مثال موجود نہیں ہے یا آپ ان کو آج کے دور کے لحاظ سے قابل عمل نہیں سمجھتیں؟
جواب : نہیں ایسا نہیں ہے۔ ان کی تعلیمات آج بھی کار آمد ہیں۔ موضوع کی مناسبت سے حوالے دیے جاتے ہیں ۔

سوال :موجودہ دور میں بچے کی تربیت میں ٹیچر کا کردار کتنا اہم ہے؟
والدین کے بعد مسلم امہ کے مستقبل کا سب سے زیادہ انحصار معلمین پر ہے۔ امت کے بچوں کی تربیت کو بہت سنجیدگی سے لینا چاہیے۔ اساتذہ کو سوچ سمجھ کر اس پیشے کو اپنانا چاہیے کیونکہ یہ بہت بھاری ذمہ داری ہے۔

سوال : آپ کی کچھ تصانیف بھی ہیں۔ ان کے بارے میں بتایئے۔
جی میں نے سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کے لیے جماعت ہفتم کے لئے کام کیا ہے۔ نہم کی کتاب کے اس سال چھپ جانے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ میں نے آکسفورڈ کے لئے بھی ایک کتاب پر کام کیا ہے۔ سپیلٹ کے جرنل کے لئے بہت سے آرٹیکل لکھے ہیں، بچوں کے لئے بھی لکھا ہے۔ اردو کے ایک رسالے کے لئے بھی ایجوکیشنل آرٹیکلز لکھے ہیں۔ اس کے علاوہ میں نے کچھ گیمز بھی بنائی ہیں جو بچوں میں کافی مقبول ہو رہی ہیں۔ ٹیچرز کے لئے سٹیکرز بھی بنائے ہیں جو وہ بچوں کے کام پر لگا سکتے ہیں۔

سوال : آج کل کے اساتذہ کے لیے کیا پیغام دینا چاہیں گی؟
اساتذہ سے میری عاجزانہ گزارش ہے کہ وہ تدریس کو ایک اعلی کام سمجھیں اس منصب پر آ گئے ہیں تو اپنے آپ کو اس کے قابل بنائیں۔ علم حاصل کرتے رہیں اور اس کی نا صرف ترسیل کریں بلکہ اس کو آگے بڑھانے کے لئے اپنا حصہ ڈالیں۔ لکھیں اور اپنے تجربات کو بانٹیں۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 954 Print Article Print
 Previous
NEXT 

YOU MAY ALSO LIKE:

Most Viewed (Last 30 Days | All Time)

Comments

آپ کی رائے
میری استاد، میری اتالیق
By: Saleem Ullah Shaikh, Karachi on Feb, 09 2020
Reply Reply
1 Like
Impressive interview
By: M Shoaib GH , Karachi on Feb, 04 2020
Reply Reply
1 Like
Language: