سوشل میڈیا کا ستعمال اور اخلاقیات

(Rasheed Ahmed Naeem, )

تحریر:میاں محمد ارشد ساقی، اوکاڑہ
آپ نے تاریخ انسانی میں انسانیت نام کی ناؤ نے کافی نشیب و فراز دیکھے ہوں گے جس میں انسان، انسانیت تہذیب، اقدار اور سماجیات سبھی تنزلی کا شکار ہوئی ہوں گی، لیکن دور حاضر میں سوشل میڈیا کی تیز دہاری تلوار نے جس انداز میں اخلاقیات کا قلع قمع کیا، اخلاقیات کے جنازے اٹھے، اقدار کو پامال کیا گیاماحول کے اثرات انسان کے جذبے کی شدت کو کم یا ذیادہ کرتے ہیں اور اسی جذبے کے زیر اثر انسان اپنی زندگی کو ایک خاص طرز پر ڈھالنے کی کوشش کرتا ہے۔ہر انسان کی ترقی،جدوجہد اور معاشرے میں برتر مقام حاصل کرنے کی جستجو میں ،اسی طرح اب سوشل میڈیا کے مثبت استعمال کی بجائے اس کا منفی استعمال غالب آرہا ہے، چھوٹے بڑے کی تمیز اور لحاظ بالکل ناپید ہوچکا ہے۔ دو ٹکے کے لوگ یوں فلسفہ جھاڑتے ہیں گویا ان سا کوئی حکیم و دانا اس کارخانہ دنیا میں نہیں، اپنی رائے حتمی، حرف آخر اور گویا وحی کے الفاظ جبکہ فریق مخالف جاہل، اس کی رائے عبوری سطحی اور تردید کے قابل۔ فیس بک صارفین کی کثیر تعداد عقل ودانش سے پیدل،جن کا مقصد صرف اور صرف سیلفی کی اپلوڈنگ اور کمنٹس میں بلّے بلّے، جی حضوری اور خوشامدی کے سوا کچھ نہیں ہے تو کسی کی بات کو بلا تحقیق آگے شیئر کرنا اور انسانوں کی شکلیں مسخ کرکے انسانوں اور جانوروں کا موازنہ کرنا، سیاسی مخالفین کی پوسٹ پر تذلیل کرنا، دوسرے کو لتاڑنا اور عزت کی تمام حدود پامال کرنا ان لوگوں کا شیوہ ہے ان کے ہاں کوئی عزت دار ہے، نہ انہیں کسی کی عزت کا خیال، ان کا مقصد اپنے من پسند لیڈر کے شملہ کو ہر حال میں اونچا رکھنا ہے، ایسے لوگ کمنٹس میں آپے باہر ہو جاتے ہیں تہذیب اخلاق، اقدار سبھی تو ان کی نظروں سے اوجھل ہوتے ہیں کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ اچھا اخلاق اچھے خون کی ضمانت ہے آپ فیس بک پر موجود اپنے اکاؤنٹ کے ذریعے اپنی اور اپنی خاندان کی نمائندگی کررہے ہیں آپ کے اخلاق اورکردارکی خوشبو ہی آپ کو دوسروں لوگوں کے سامنے اچھا یا برا پیش کرتی ہے،موجودہ معاشرہ منفی مسابقت کی بدترین مثال ہے،ہر سظح پر مقابلے بازی کی ایک دوڑ ہے،جس میں ادنیٰ اور اعلیٰ کی کوئی پحنچان نہیں سورج کا موازنہ چراغ سے اور سمندر کا مقابلہ قطرے سے ہو رہا ہے کسی توازن کے بغیر مقابلے بازی کا یہ رجحان دن بہ دن بڑھتا ہی جارہا ہے اور اس منفی رجحان کو فروغ دینے میں ’’سوشل میڈیا‘‘کا کردار کافی اہم ہے،گزشتہ دہائی میں سوشل میڈیا کے استعمال میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے،انفارمیشن ٹیکنالوجی کی ترقی نے دنیا میں محض سائنسی انقلاب ہی برپا نہیں کیا بلکہ انسانوں کا معیار زندگی اور ان کی عادات بدلنے میں بھی نمایاں کردار ادا کیا ہے،خاص طور پر سماجی رابطو ں میں(سوشیل میڈیا)نے دنیا میں پھیلے ہوئے فاصلوں کو سمیٹ کر لوگوں کو ایک اکائی میں تبدیل کر دیا ہے سوشل میڈیا کی اس خصوصیت نے انسان کے فطری جذبہ کو ایک نئی جدت عطا کر دی ہے،مگر بد قسمتی سے مثبت اور صحت مندانہ رجحانات کے بجائے منفی اور غیر صحتمندانہ مقابلہ بازی معاشرے میں تیزی سے اپنی جگہ بنا رہی ہے،سوشل میڈیا کے ذریعے علم اور دانش پر مبنی مواد بہت کم افراد تک پہنچ رہا ہے،عام طور پرلوگ سوشل میڈیا کے فوائد و نقصانات کا استعمال اپنی ذہنیت کے مطابق کر رہے ہیں۔خصوصی طور پر پاکستان میں تو سوشل میڈیا استعمال کرنے والوں نے اخلاقی گراوٹ کی آخری حدود پار کر لی ہیں،اخبارات ہوں یا الیکٹرانک میڈیا سب کے سب معلومات اور اطلاعات کی فراہمی میں تحقیق،حقیقت،سچائی اور جستجو کے پہلو پر خاص توجہ دیتے ہیں،غیر معیاری یا غیر مستند یا منافرت آمیز مواداول تو عوام کے سامنے پیش ہی نہیں کیا جاتا اگر غلطی سے پیش کر بھی دیا جائے تو تصحیح اور درستی کر لی جاتی ہے اور ذمہ داروں کیخلاف کاروائی بھی عمل میں لائی جاتی ہے،لیکن سوشل میڈیا ان تمام حدود اور پابندیوں سے آزاد ہے،سوشل میڈیا پر کوئی بھی شخص کسی بھی وقت کوئی بھی بے تکا دعوی کر سکتا ہے اور ہم اور آپ اس کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتے،دنیا کی سب سے بڑی سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ ’’فیس بک‘‘ ہے جسے استعمال کرنے والوں کی تعداد اربوں تک پہنچ چکی ہے اس کے ذریعے سماجی انقلاب لایا جاسکتا ہے،اس کے ذریعے ہم لوگوں کے دل و دماغ تک پہنچ سکتے ہیں،اس کے ذہنوں میں جھانک سکتے ہیں ایک مشترکہ سوچ اور مقصد کو پروان چڑھا سکتے ہیں اور اپنے ذاتی مسائل سے لیکر اپنے قومی مسائل تک کا حل تلاش کر سکتے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا کے کئی شعبوں میں لوگوں کی زندگیا ں بدلنے کی صلاصیت موجود ہے،مگر پاکستان کی کہانی قدرے مختلف ہے، سوشل میڈیا پاکستانیوں کے لئے رائے کا ایک ایسا ذریعے ہے جو اجازت دیتا ہے کہ اپنے مخالف کو گندی سے گندی گالی دیں،اس کے اور اس کے اہل خانہ کے لئے نازیبا الفاظ استعمال کریں،جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں،اپنا نام اور اپنی شنا خت بدل کر کسی دوسرے کے نام ہی سے سہی ہمیں اس کی پوری آزادی ہے،ہمارے معاشرے میں جہاں شرح خواندگی بہت کم ہے سوشل میڈیا استعمال کرنے والوں کوان پڑھ اور جاہل سمجھنا ممکن نہیں تاہم یہ پڑھے لکھے تعلیم یافتہ افراد سوشل میڈیا کے غلط استعمال سے ایک ایسے رجحان کو جنم دے رہے ہیں،جو معاشرے کو مزید تنزلی کی طرف لے جاسکتا ہے،دھوکے بازی،فریب اور جعل سازی کے نت نئے طریقے سوشل میڈیا کے ذریعے سامنے آرہے ہیں،بہ قول شخصے ’’ایک ہجوم اکٹھا ہو رہا ہے جو اپنے اپنے شکار کو ڈھونڈنے کی لگن میں مصروف ہے‘‘بے معنی،فضول اور نفرت انگیز پیغامات کسی روک ٹوک کے بغیر ایک دوسرے تک پہنچ رہے ہیں،حقائق کو توڑ مروڑ کر اپنی مرضی کے مطابق پیش کئے جا رہے ہیں،ایک عام فرد سچ اور جھوٹ،صحیح یا غلط کا فیصلہ نہیں کر سکتا اگر خود اس کی اپنی معلومات بہتر نہ ہوں،سوشل میڈیا معاشرے کے اخلاقی معیار اور علم و دانش کا پیمانہ ہے مگر پاکستان میں معاملہ اس کے بر عکس ہے لوگ اصل مسئلے یا موضوع پر کان دھرنے کے بجائے ذاتیات پر اتر آتے ہیں اور اصل موضوع ذاتی چپقلش کی نذرجاتا ہے،سوشل میڈیا کو اعلیٰ معاشرتی اقدار کا آئینہ بنانے کے لئے یہ انتہائی ضروری ہے کہ استعمال کرنے والے کی شناخت کا کوئی نظام وضع کیا جائے ،آزادی رائے بے شک ہمارا حق سہی مگر اس آزادی کا ایسا استعمال جو معاشرے کی اقدار اور روایات کے خلاف ہو،ہماری ضرورت نہیں ہے۔تحدید و توازن کے بغیر آزادی رائے ایسا ہی ہے جیسے کسی کم سن کے ہاتھ میں کلاشن کو ف تھما دی جائے ہمیں اس اہم ترین معاشرتی مسئلے پر آج سے ہی بے پناہ توجہ دینی کی ضرورت ہے ورنہ کہں ایسا نہ ہو کہ ہمارا شمار دنیا کی ان قوموں میں کیا جائے جو اخلاق و کردار کی پستی کے حوالے سے کافی نیچے ہوں۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 284 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rasheed Ahmed Naeem

Read More Articles by Rasheed Ahmed Naeem: 27 Articles with 6447 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: