سونا کیوں چوری ہونے لگا؟

(Abdul Waris Sajid, )

اﷲ رب العزت نے نسل انسانی کی بقاء اور اسلامی معاشرے کے تحفظ کے لیے انسانوں میں دو جذبے رکھے ہیں جو فطری طور پر ہر انسان میں موجود ہوتے ہیں۔ حیاء اور غیرت دونوں ایسے جذبے ہوتے ہیں۔ جو انسان یا معاشرہ ان دونوں سے عاری ہو جائے تو وہ بہت جلد حرف غلط کی طرف مٹ جاتا ہے۔
بظاہر دونوں جذبے مرد و زن میں ہوتے ہیں لیکن عورتوں پر صفت حیا کا غلبہ نظر آتا ہے اور مرد غیرت کی مردانگی سے لبریز ہوتا ہے۔ جب تک حیاء کا جذبہ عورت میں ہو گا وہ کمزور ہونے کے باوجود بھی آوارہ اور بدکار مردوں کی غلط حرکات سے بچی رہیں گی اور اگر اس جذبہ کا فقدان ہوا تو فحاشی و عریانیت کی دلدادہ ہونگی۔

یہی حال مرد کا ہے جب تک مردانگی کا عنصر مرد کی ذات میں رہے گا۔ اس کی نسل کی بقاء رہے گی اور معاشرے کی حفاظت رہے گی…… ہمارا المیہ یہ ہے کہ اہل مغرب نے امت مسلمہ سے وابستہ ہر مردوزن سے عصمت و عفت کے محافظ یہ دونوں گوہر چھین لیے ہیں۔

آئمہ مغرب نے حیاء و غیرت سے عاری کرنے کے لیے جو بڑا ہتھیار استعمال کیا ہے وہ ٹی وی ڈرامے اور فلمیں ہیں۔

ڈرامے اور فلمیں ہمارے معاشرے کو کس طرح کھوکھلا کرتی چلی جا رہی ہے اور اس سے ہماری نسل نو کا اخلاقی بگاڑ کس حد تک بڑھ چکا ہے اس کا اندازہ آپ کو اس بات سے ہی ہو جائے گا کہ اہل مغرب نے ہماری نسل کو ان فلموں اور ٹی وی ڈراموں کا اس قدر دلدادہ کر دیا ہے کہ وہ اس برائی کو برائی سمجھنے سے ہی انکاری ہیں۔

ٹی وی پر چلنے والے ڈرامے اور ویڈیو فلمیں اخلاقی دائرہ سے اس قدر ہٹ کر ہوتی ہیں کہ خدا کی پناہ ہر فلم اور ہر ڈرامے میں عشق و محبت کے دلفریب نظارے ہوتے ہیں جس میں پیش کی جانے والی کہانی اور اداکاروں کی تقلید میں نوجوان بھی ایسی ہی محبت و عشق کی کہانی دہراتے ہیں اور فطرت کی اس بغاوت سے کتنی حوا کی بیٹیاں گوہر عصمت سے محروم ہو چکی ہیں اور کتنی ہی ان دیکھی راہوں پر سرپٹ دوڑے جا رہی ہیں۔

پچھلے دنوں اخبار میں ایسی ہی ایک روح فرسا خبر نے جگہ پائی، لکھا تھا فلمیں دیکھنے کی شوقین دو بچیاں عزت لٹا بیٹھیں۔

صائمہ اور ثمینہ دونوں جیا موسیٰ کی رہائشی ہیں۔ دونوں بہنوں نے فلم دیکھنے کا منصوبہ بنایا اور رات کے اندھیرے میں چادر چار دیواری کی محفوظ دہلیز پار کر کے میکلوڈ روڈ پہنچ گئیں۔

میکلوڈ روڈ سینماؤں کی مارکیٹ اور فلموں کی منڈی ہے دونوں بہنوں نے اپنی پسند کی فلم دیکھی اور واپسی پر گوہر عصمت سے محروم ہو گئیں۔ فلم دیکھنے کی شوقین دونوں بہنوں کے ساتھ کیا ہوا اور کیسے ہوا؟ اس کی راوئیداد لیڈی پولیس سنٹر ریس کورس میں کٹی ایف آئی آر پر درج ہے یہ رپورٹ خود صائمہ کی درج کردہ ہے۔

بقول اس کے کہ رات وہ اپنی بہن ثمینہ کے ساتھ فلم دیکھ کر پیدل واپس جا رہی تھی کہ کار ایل آر پی 4 میں سوار 4 افراد نے گاڑی ان کے پاس روکی اور انہیں زبردستی کار میں بٹھا لیا اور منٹگمری روڈ اور میکلوڈ روڈ کے سنگم پر واقع ہوٹل کے کمرہ نمبر5 میں لے گئے۔ انہوں نے شراب پی اور پھر باری باری بداخلاقی کا نشانہ بنایا۔

ساری رات شیطانی کھیل کے بعد ملزم صبح چار بجے فرار ہو گئے وہ روتی ہوئی منیجر کے پاس گئیں تو اس نے مدد کرنے کی بجائے کہا کہ وہ اس ہوٹل میں کام کریں وہ روزانہ ان کی امداد کرے گا۔

یہ اخبار میں چھپنے والی بظاہر ایک چھوٹی سی خبر ہے اور تھوڑی سی تبدیلی کے ساتھ اس جیسی درجنوں خبریں روزانہ پاکستان کے قومی اخبارات اور علاقائی اخبارات میں چھپتی رہتی ہیں۔

یہ واقعات کیوں جنم لیتے ہیں……؟ اور اس میں قصور کس کا ہے……؟ یہ حل طلب سوالات ایسے نہیں کہ اس کی وجوہات ڈھونڈنے میں دشواری ہو۔

یہ ہمارے اپنے ہاتھوں کی لگی آگ ہے جس میں آج پورا معاشرہ جل رہا ہے اور مقام افسوس ہے کہ دن گزرنے کے ساتھ ساتھ اذیت زدہ ان واقعات میں تیزی پیدا ہو رہی ہے اور جھلسنے کے اس عمل میں ہر پیش آنے والی رکاوٹ کو گرایا جا رہا ہے۔
عورت چھپی ہوئی چیز کو کہتے ہیں۔

ٹی وی، ، ڈش اور کیبل کی صورت میں ہمارے گھروں میں ہر روز غیر محرم آتے ہیں اور ہماری جوان بیٹیاں انہیں شوق سے دیکھتی، سنتی اور چاہتی ہیں نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ جو کچھ ٹی وی ڈراموں اور فلموں میں جس کردار میں جن اداکاروں کو دیکھتی ہیں سو ویسی ہی چال ڈھال اپنانے کی کوشش کرتی ہیں فطرت سے اس بغاوت کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وقت گزرنے پر انہیں اپنے ہی ہاتھوں سے نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔

اسلام نے عورت کو جو پردہ مہیا کیا وہ اس کے لیے بلٹ پروف کی حیثیت رکھتا ہے لیکن ہمارے وطن میں نام نہاد ’’آزادی نسواں‘‘ کی تنظیموں نے اس دقیانوسی قرار دے کر پس پشت پھینکا اور فیشن کے نام پر بے حیائی کے کاروبار کو فروغ دیا یوں وہ عورت جسے ماں بہن بیوی یا پھر بیٹی کی صورت میں چراغ خانہ ہونا چاہے تھا وہ شمع محفل بنی اور شیطان نما انسانوں کی جنسی خواہشات کا شکار ہوئیں۔
آزادی نسواں کے دعویدار اصل میں استحصال نسواں کی نیت بد کے مالک ہیں اور اس نیت بد کو عملی جامہ پہنانے کے لیے انہوں نے رقص گاہیں کلب لب ساحل پارک تفریح گاہیں اور سینماؤں کے دروازے کھول رکھے ہیں۔

اہل مغرب نے اپنی تہذیب و ثقافت کو ایسے مسلط کیا ہے کہ ہماری سوچوں کے دھارے بدل چکے ہیں مغرب کی چکا چوند ترقی کو دیکھ کر ہمارے رہنماؤں نے بھی روشنی نما اس اندھیرے میں کودنے کی کوشش کی اور پھر صنف نازک کو اس کے اصل مقام سے ہٹا کر بازاروں، پارکوں، تفریح گاہوں اور سینماؤں میں لا پہنچایا ہے یہی وجہ ہے کہ ہماری بہو بیٹیاں خود کو مردوں کے برابر سمجھتی ہیں اور ان کے شانہ بشانہ چلنے کا عزم لیے گھروں سے بازاروں میں آ بیٹھی ہیں برابری کی اس دوڑ میں وہ ہر وہ کام کرنے کے لیے تیار نظر آتی ہیں جس کی نہ صرف ہمارا دین اجازت نہیں دیتا بلکہ خود ان کی صنف کے بھی لائق نہیں۔

اسلام عورت کو مقام مرتبہ، عزت اور رتبہ دیتا ہے لیکن ہمارے ہاں آزادی کی خاطر سب کچھ بھینٹ چڑھ جاتا ہے۔

بے لگام خواہشات کی تکمیل کے لیے جب فطرت سے بغاوت ہوتی ہے تو وہ ایسے واقعات رونما ہوتے ہیں یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ سونا ’’لاکر‘‘ میں رکھنے کی بجائے شاہراہ پر رکھ دیا جائے اور پھر چوری نہ ہو۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 100 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Abdul Waris Sajid

Read More Articles by Abdul Waris Sajid: 31 Articles with 14381 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: