دنیائے تصوف کی نامور شخصیت۔۔۔۔مولائے روم رحمہ اللہ قسط نمبر۲

(MUHAMMAD BURHAN UL HAQ JALALI, Jhelum)

دنیائے تصوف کی نامور شخصیت۔۔۔۔مولائے روم رحمہ اللہ قسط نمبر۲
راقم الحروف:۔
محمدبرھان الحق جلالیؔ(جہلم)
روایات میں آتا ہے کہ ایک روز حضرت شاہ تبریزؒ بعد نماز عشاء قرآن مجید کی تلاوت کرتے ہوئے سو گئے تو خواب میں آپ ؒ نے ایک بزرگ کو دیکھا جن کی لمبی سفید داڑھی تھی۔ وہ بزرگ آپؒ کے سرہانے کھڑے تھے اور فرما رہے تھے کہ بیٹے! تم اب ظاہری و باطنی وعلوم سے سرفراز ہو چکے اللہ تعالی تم سے ایک بڑا کام لینا چاہتا ہے جس کے لئے تمہیں روم جانا ہوگا اور وہاں پر ایک نامور عالم دین مولانا محمد جلا ل الدین رومی ؒ ہیں جن کو تمہاری راہنمائی کی ضرورت ہے وہ بڑے عالم دین ہیں تم ان کی راہنمائی فرماؤ۔

حضرت شاہ شمس تبریز ؒ جب نیند سے بیدار ہوئے تو آپؒ نے اپنے مرشد پاک حضرت بابا کمال الدین جندی ؒ کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنا خواب ان کے گوش گذار کیا۔ حضرت بابا کمال الدین جندی ؒ نے خواب سننے کے بعد فرمایا کہ تم ابھی کچھ دیر ٹھہر جاؤ۔ چنانچہ آپ ؒ نے اپنا ارادہ ترک کردیا۔ اسی رات آپؒ کو پھر انہی بزرگ کی زیارت ہوئی اور انہوں نے پھر آپ ؒ کو روم جانے کا حکم دیا۔

حضرت شاہ شمس تبریزؒ نے اگلے روز پھر حضرت بابا کمال الدین جندیؒ سے اس خواب کا ذکر کیا۔ حضرت بابا کمال الدین جند ی ؒ نے فرمایا کہ اگر تم دوبارہ خواب دیکھو تو مجھے بتانا۔ آپ ؒ حضرت بابا کمال الدین جندیؒ کے کہنے پر ایک مرتبہ پھر رک گئے۔ تیسری شب مسلسل آپؒ کو خواب میں انہی بزرگ کی زیارت ہوئی اور انہوں نے آپؒ کو روم جانے کا حکم دیا۔ آپ ؒ نے اگلے روز حضرت بابا کمال الدین جندیؒ سے اپنے اس خواب کا ایک مرتبہ پھر ذکر کیا۔ حضرت بابا کمال الدین جندیؒ نے آپ ؒ کو روم جانے کی اجازت دے دی۔
حضرت بابا کمال الدین جندی ؒ کی جانب سے اجازت ملنے کے بعد آپ ؒ نے فوراسفر کی تیاریاں شروع کر دیں اور عازم روم ہوئے۔ قونیہ پہنچنے کے بعد آپ ؒ نے مولانا محمد جلا ل الدین رومی ؒ کی تلاش شروع کر دی۔

آپ ؒ کو معلوم ہوا کہ مولانا محمد جلا ل الدین رومی ؒقونیہ کی ایک بڑی مسجد کے امام اور عالم دین ہیں۔ ان سے ملنے والوں کا ایک ہجوم ہوتا ہے اس لیئے ان سے ملاقات ممکن نہیں ہے۔ آپؒ نے فی الحال ان سے ملاقات کا ارادہ ترک کر دیا اور اپنے لئے کسی رہائش کی تلاش شروع کر دی اور پھر بالآخر آپ ؒ کو ایک سرائے میں رہائش مل گئی۔

حضرت شاہ شمس تبریز ؒ نے جس سرائے میں رہائش اختیار کی وہ سرائے برنج فروش کی تھی۔ آپ ؒ کی ملاقات اس سرائے میں قیام پذیر مزدوروں سے اکثر و بیشتر ہوتی رہتی تھی۔ ان مزدوروں نے ہمیشہ آپ ؒ کے ہاتھ میں ہمہ وقت قلم اور کتاب کو ہی دیکھاجس سے انہوں نے اندازہ لگایا کہ آپ ؒ تعلیم یا فتہ انسان ہیں اسی لئے غور و فکر میں ڈوبے رہتے ہیں۔

مولانا روم اورحضرت شاہ شمس تبریزرحمہمااللہ چھ ماہ تک صلاح الدین زرکوب کے حجرہ میں چلہ کشی کرتے رہے۔ خوراک بہت کم ہوگئی تھی۔ حجرہ میں کسی کو آمدو رفت کی اجازت نہ تھی۔ اس چلہ کشی کے بعد مولانا کی حالت میں نمایاں تبدیلی ہوئی۔ درس و تدریس کو مکمل چھوڑ دیا۔ حضرت شاہ شمس تبریزکی صحبت میں رہنے کو ترجیح دیتے جس سے مرید بھی حضرت شاہ شمس تبریزکے خلاف ہو گئے۔ حالات کو دیکھتے ہوئے حضرت شاہ شمس تبریز نے چپکے سے گھر سے نکل کر دمشق کی راہ لی۔ مولانا نے لوگوں سے علیحدگی اختیار کی۔ آخر مولانا نے اپنے بیٹے صاحبزادہ سلطان کو خط اور ایک ہزار دینار دیکر دمشق بھیجا۔ شمس خط پاکر مسکرائے اور دمشق سے روانہ ہو کر قونیہ پہنچ گئے۔ پھر سلوب کی مجالس شروع ہو گئی۔ لوگوں میں شمس کی مخالفت بڑھی تو شمس غائب ہو گئے۔ بعض کے نزدیک علاؤالدین محمد نے قتل کردیا۔ یہ واقعہ645 ھ کا ہے۔ شمس کی شہادت اور غیوبت نے مولانا کی حالت بدل دی۔ مدت تک مولانا کو شمس کی جدائی نے بیقرار رکھا۔ ایک دن اس حالت میں گھر سے نکلے۔ راستہ میں شیخ صلاح الدین زرکوب چاندی کے ورق کوٹ رہے تھے۔ مولانا صلاح الدین زرکوب کی صحبت میں نو برس رہے۔ اورحضرت شاہ شمس تبریز کی جدائی سے جو غم تھا کم ہواجس بات کے لئے مولانا شمس کو ڈھونڈتے پھرتے تھے ان سے حاصل ہوئی۔ مولانا اور شیخ کی صحبتیں گرم رہیں بالآخر 664ھ میں زرکوب کی وفات ہوئی۔ پھر مولانا حسام الدین چیلپی کو ہمدم ہمراز بنایا اور تادمِ آخر انہی سے وابستہ رہے۔۔ مولانا اور شیخ کی صحبتیں گرم رہیں بالآخر 664ھ میں زرکوب کی وفات ہوئی۔ پھر مولانا حسام الدین چیلپی کو ہمدم ہمراز بنایا اور تادمِ آخر انہی سے وابستہ رہے۔

672ھ میں قونیہ میں بڑے زور سے ہیضہ کی وبا پھیلی اور چالیس روز تک زور رہا۔ لوگ پریشان ہو کر مولانا کے پاس آئے کہ یہ کیا بلائے آسمانی ہے، دعا کریں۔ مولانا نے فرمایا کہ زمین بھوکی ہے، لقمہ تر چاہتی ہے اور انشاء اللہ کامیابی ہو گی۔ چند روز کے بعد مولانا بیمار ہوئے۔ آخر 5جمادی الثانی672 ھ بروز اتوار غروب آفتاب کے وقت انتقال فرمایا۔

مولانا محمد جلا ل الدین رومی ؒکا بڑا علمی کارنامہ مثنوی مولانا روم کی تالیف ہے۔آپؒنے اپنی مثنوی کے اشعار مختلف اوقات میں کہے جنہیں آپؒ کے شاگرد لکھتے رہتے تھے اور جنہیں بعد ازاں یکجا کر کے مثنوی مولانا روم کے نام سے ترتیب دیا گیا۔ایک بار مولانا رومؒ کی شریکِ حیات نے اپنی ملازمہ کو سخت سزا دی۔ اتفاقاً مولانا بھی اس وقت تشریف لے آئے۔ بیوی کی یہ حرکت دیکھ کر بہت ناراض ہوئے اور غم زدہ لہجے میں فرمانے لگے۔ ''تم نے خدا کی نعمتوں کا شکر ادا نہیں کیا۔ یہ اسی کی ذات پاک ہے جو غلاموں کو آقا اور آقاؤں کو غلام بنا دیتی ہے۔ ایک لمحے کے لئے اس وقت کا تصور کرو جب تم کنیز ہوتیں اور یہ عورت مالکہ کی حیثیت رکھتی، پھر تمہارا کیا حال ہوتا۔؟'' مولانا کی یہ اثر انگیز گفتگو سن کر شریک حیات نے اس ملازمہ کو آزاد کر دیا اور پھر جب تک زندہ رہیں، خادماؤں کو اپنے جیسا کھلاتیں اور پہناتیں یہاں تک کہ ہر معاملے میں محبت سے پیش آتیں۔

مولانا رومؒ کا یہ سلوک انسانوں ہی کے لئے مخصوص نہیں تھا۔ آپ تو اس بارش کی طرح تھے جو سبزہ گل کے ساتھ پتھر کی چٹانوں پر بھی برستی ہے۔ ایک بار امیرِ شہر معین الدین پروانہ کے یہاں محفل سماع جاری تھی۔ کسی معزز خاتون نے شرکائے مجلس کی تواضع کے لئے مٹھائی کے دو بڑے طباق بھیجے۔ بیشتر حاضرین کلامِ معرفت میں کھوئے ہوئے تھے۔ اتفاق سے ایک کتا محفل میں گھس آیا اور اس نے آتے ہی طباق میں منہ ڈال دیا۔اہل محفل میں سے کسی کی نظر پری تو اس نے بلند آواز میں کتے کو ڈانٹ کر بھگانا چاہا۔ مولانا رومؒ جو بہت دیرسے آنکھیں بند کئے سماع کی کیفیت میں گم تھے۔ چیخ سن کر چونک پڑے اور جب یہ منظر دیکھا تو اس شخص کو ہاتھ کے اشارے سے روک دیا جو کتے کو بھگانے کی کوشش کر رہا تھا۔کتے نے گھبرا کر شیرینی کھانی شروع کر دی اور پھر کچھ مٹھائی کے دانے منہ میں دبا کر محفل سے چلا گیا کتے کے جانے کے بعد مولانا رومؒ نے فرمایا۔ ''اس کی بھوک تم لوگوں کے مقابلے میں تیز تھی اس لئے مٹھائی پر بھی اس کا حق زیادہ تھا۔''

ایک بار مولانا اپنے مریدوں کے ہمراہ ایک تنگ گلی سے گزر رہے تھے۔ اتفاق سے وہاں ایک کتا اس طرح سو رہا تھا کہ راستہ بند ہو گیا تھا۔ مولانا چلتے چلتے رک گئے۔ اچانک ایک شخص جو مولانا رومؒ کو جانتا تھا گلی کی دوسری جانب سے آ رہا تھا۔ اس نے مولانا کو کھڑے دیکھ کر کتے کے پتھر مارا۔ وہ چیختا ہوا بھاگ گیا۔۔۔ راستہ تو صاف ہو گیا لیکن مولانا کے چہرے پر دلی تکلیف کے آثار صاف نظر آ رہے تھے۔ جب وہ شخص قریب آیا تو آپ نے اس سے فرمایا۔ ''اے بندہ خدا! تو نے ایک جانور کی دل آزاری کر کے کیا پایا؟ میں کچھ دیر اس کے جاگنے کا انتظار کر لیتا۔''
ٌٌٌجاری ہے

 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 357 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: MUHAMMAD BURHAN UL HAQ JALALI

Read More Articles by MUHAMMAD BURHAN UL HAQ JALALI: 111 Articles with 86042 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: