ادِ رفتگاں: حمید نظامی-------ایک عہد ساز شخصیت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔حصہ اول

(Afzal Razvi, Adelaide-Australia)

؎ اپنے بھی خفا مجھ سے ہیں بیگانے بھی ناخوش
میں زہر ِ ہلاہل کو کبھی کہہ نہ سکا قند
آج میں جس شخصیت کے خد وخال اور تحرکِ زندگی کو آپ کے سامنے پیش کر وں گا اس شخصیت کا قد وکاٹھ اتنا بڑاہے کہ مجھے خیالات وتصورات اور جذبات و احساسات کے اظہارکے لیے مشکل کا سامنا ہے۔جب میں یہ مضمون لکھنے بیٹھا تو قرطاسِ ابیض بھی سامنے تھا اور شخصیت کا تعارف و حوالہ بھی سامنے تھا باوجود اس کے میرا قلم انتقال ِ الفاظ میں پس و پیش کا مظاہرہ کر رہا تھاکیونکہ مجھے جس کے بارے میں لکھنا تھا وہ ایک ایسی شخصیت ہے جس کا ذکر آتے ہی تحریک و تاریخ ِ پاکستان کے ابتدائی نقوش ہمارے سامنے ابھرنے لگتے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ میری اس سوچ سے سبھی کو اتفاق ہوگا۔ دورِ جدید کا ہر صحافی اور قلم کار اس شخصیت کے جاندار کردار سے واقف ہے۔ایک ایسی شخصیت جس کی جسمانی زندگی اگرچہ طویل نہ تھی باوجود اس کے فکری تحرکات ونظریات چار عشرے گزرنے کے بعدبھی اسی طرح زندہ وجاوید ہیں جیساکہ اس کی زندگی میں تھے، ایک ایسی شخصیت جس کی زندگی کا نصب العین برے کو برا کہنا اور سچ اور حق کا بے باکی کے ساتھ اعلان کرنا اور اپنے پرائے کی تمیز کیے بغیر عدل و صداقت کی با ت کرناہو،ایک ایسی شخصیت جس کا تصور آتے ہی قیامِ پاکستان کے مناظر وا ہونا شروع ہو جائیں، وہ حمید نظامی مرحوم و مغفور ہی کی ہو سکتی ہے۔ حمید نظامی مرحوم کا نام آتے میرا اشہب ِ فکر مجھے ماضی کے گلی کوچوں میں لے بھاگا ہے اور میں چشمِ تصور سے دیکھ رہا ہوں کہ ایک نوجوان افکارِ قائد اعظم کے پرچار کے لیے، فکر ِ اقبال کی اشاعت کے لیے اور محمد رسول اللہﷺ کے دین کی ناموس کے لیے شبانہ روز اپنے ہم عمروں میں ممتاز ہندو بنیے کی فکر وسوچ اور منصوبوں کو خاک کرنے کے لیے برسرِ پے کار ہے۔میں دیکھ رہا ہوں کہ یہ نوجوان کبھی لاہور میں تو کبھی شملے میں مسلمان نوجوانوں کو ایک پلیٹ فارم پر منظبط کرنے کے لیے میدانِ عمل میں مصروفِ کار ہے۔اوراقِ تاریخ ہمیں بتاتے ہیں کہ پھر ایک دن ایسا آیا کہ برِ صغیر کے مسلمانوں کے عظیم رہبر اور بانی ئ پاکستان حضرت قائد اعظم ؒ نے خود اس نوجوان کو ملاقات کے لیے بلایا۔

تحریکِ پاکستان میں نمایاں کردار ادا کرنے والی یہ شخصیت جسے لوگ حمید نظامی کے نام سے جانتے ہیں صوبہ پنجاب کے ایک ضلع شییخوپورہ کے معروف قصبے سانگلہ ہل میں 3 جنوری 1915یا 1918 کو پیدا ہوئے۔ 1920 کو جماعت اول میں داخل ہوئے۔ 1934 میں مقامی سکول سے میٹرک کا امتحان پاس کرنے کے بعد لاہور چلے آئے اور اسلامیہ کالج سے 1938 میں بی۔ اے کیا یہاں دورانِ تدریس کالج کے علمی وادبی مجلے کریسینٹ کے نائب مدیر رہے اور مزاحیہ اور سنجیدہ موضوعات پر مضامین لکھتے رہے بعد میں اسی مجلے کے مدیر بھی بنے۔ 1940میں جامعہ پنجاب سے انگریزی میں ایم۔ اے کی ڈگری لی۔

ان کی سیاسی زندگی کا آغاز زمانہ طالب علمی ہی سے ہوا تھا۔ چنانچہ جب قائد اعظم کی ہدایت پر مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن معرض ِ وجود میں آئی تو اس میں جناب حمید نظامی کا کردار کلیدی تھا۔ اپنی قائدانہ صلاحیتوں کی بدولت کچھ عرصہ فیڈریشن کے صدر بھی رہے علاوہ ازیں وہ اسلامیہ کالج لاہور کی طلبہ انجمن کے منتخب صدر بھی رہے۔ انہوں نے اپنی صحافتی زندگی کا آغاز سیاسی ماہنامے ساربان سے کیا لیکن جلد ہی اس سے کنارہ کش ہو گئے اور ڈاکٹر سیتا پال کے اخبار نیشنل کانگرس سے وابستگی اختیار کر لی، مگر سیاسی اختلافات کی بنا پر یہاں سے بھی استعفیٰ دے دیا۔ ان کی طبیعیت میں یہ بات تو رچ بس گئی تھی کہ صحافت ہی کو پیشے کے طور پر اپنانا ہے مگر حالات ان کے لیے ساز گار نہ تھے بلکہ یہ دور مسلمانانِ ہند کے لیے نہایت کٹھن تھا۔ ایک طرف تو مسلمان انگریز سے برسرِ پیکار تھے تو دوسری طرف ہند و بنیے کی سازشوں کا بھی مقابلہ کر رہے تھے۔مسلمان علما بھی افتراق و انتشار کا شکارتھے،کچھ کانگرس کی حمایت کررہے تھے تو کچھ مجلس احرار کے پلیٹ فارم سے تحریکِ پاکستان کی مخالفت میں پیش پیش تھے۔صحافت بھی اسی ابتری سے دوچار تھی۔ مولانا ظفر علی خان کا زمیندار، مولانا غلام رسول مہر اور مولانا عبدالمجید سالک کا انقلاب اپنی علمی اور ادبی کاوشوں کو جاری رکھے ہوئے تھے لیکن کو ئی اخبار ایسا نہ تھا جو بالخصوص تحریکِ پاکستان کی حمایت اور تبلیغ و ترویج کے لیے کام کرر ہا ہو، اورجو ہندو اخبارات کی مو شگافیوں اورالزامات کا دندان شکن جواب دے سکتا ہو۔اس دور میں ہندو اخبارات کا کام صرف اورصرف حضرت قائد اعظم کے کردار پر کیچڑ اچھالنا اور مسلم لیگ کی مخالفت کرنا تھا۔یہ وہ حالات تھے جنہیں دیکھ کر حمید نظامی کا دل کڑھتا تھا، ان کی روح تڑپ تڑپ جاتی تھی اور انکے بازوؤں کی مچھلیاں کچھ کرنے کو بے تاب ہو جاتی تھیں اور پھرتاریخ ِ عالم نے دیکھا کہ اس حریت پسند اور حمیت و غیرت کے پتلے کی یہ دیرینہ خواہش جلد ہی بارآور ہوگئی اور 29 مارچ 1940کو ”نوائے وقت“ پندرہ روزہ کے اجرا کے ساتھ ہی وہ میدانِ صحافت میں بنیے کے مقابل آ کھڑے ہو ئے جو جلد ہی منازلِ ترقی طے کرکے 15 نو مبر 1942 کو ہفت روزہ بن گیا اور پھر دوسال کے قلیل عرصے میں حمید نظامی کی شبانہ روز محنت کے سبب 22 جولائی 1944میں نوائے وقت روز نامہ بن گیا۔ آغا شورش کاشمیری اس دور کے بارے رقم طراز ہیں:
”حمید نظامی نے اس وقت صحافت کی دنیا میں قدم رکھا جب ملت کی امیدوں اور آرزوؤں کے راستے میں ابنائے وقت اور فرزندانِ مصلحت کے اغراض کے خاربکھرے پڑے تھے۔ان کی زندگی کا مقصد ان کا نٹوں سے و طن کے چمن کو صاف کرنا اور ایسے گل کھلانا تھا جن میں حریت اور جمہورہت کی خوشبو آتی ہے اور وہ اپنے اس مقصد ِ اولیٰ میں کامیاب و کامران رہے۔“
( ہفت روزہ قندیل مطبوعہ 27 فروری 1966 )

اور ڈاکٹر عبدالسلام خورشید لکھتے ہیں:
” روز نامہ کے اجرا کے وقت اخبار کی ملکیت دو افراد کے ہاتھ آئی۔ اول حمید نظامی، دوم مسٹر حامد محمود۔ا ول الذکر نے ادارت کی ذمہ داریاں سنبھالیں، موخر الذ کر نے کاروباری فرائض اپنے ہاتھ میں لیے اور دونوں کی مشترکہ محنت اور رفاقت اور دوستوں کے تعاون سے نوائے وقت عروج سے ہمکنار ہوا“َ(صحافت پاکستان و ہند، 194)

اس میں کو ئی شک نہیں کہ حمیدنظامی ایک عہد ساز شخصیت تھے۔ انہوں نے صحافت کو ایک نیا اندازاور اسلوب عطا کیا۔وہ بلند پایہ منتظم اور ادیب و شاعر بھی تھے۔میدانِ سیاست کو صحافت کی وجہ سے خیر با د کہا حالانکہ ایک موقع پر خود قائد اعظم ؒ نے انہیں مسلم لیگ کی ورکنگ کمیٹی میں لینے کی خواہش کا اظہار کیا تھا لیکن انہوں نے نہایت ادب سے معذرت کر لی تھی۔ حمید نظامی ایک شعلہ بیان مقرر بھی تھے۔ 1942 کا ذکر ہےکہ مشرقی پنجاب کے شہر جالندھر میں مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کا سالانہ جلسہ منعقد ہواجس کی صدارت قائد اعظم ؒ نے فرمائی۔اس جلسہ میں حمید نظامی نے مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن لاہور کے صدر کی حیثیت سے شرکت کی۔ اس موقع پر انہوں نے قائداعظم پر اعتماد کی قرارداد پیش کی اور زبردست تقریر کی۔ اس واقعے پر روشنی ڈالتے ہوئے سید سلامت جالندھری لکھتے ہیں:

 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 196 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Afzal Razvi

Read More Articles by Afzal Razvi: 72 Articles with 21396 views »
Educationist-Works in the Department for Education South AUSTRALIA and lives in Adelaide.
Author of Dar Barg e Lala o Gul (a research work on Allama
.. View More

Comments

آپ کی رائے
Language: