دوست

(Mukhtar Ahmed, Islamabad)

 دلشاد سعودی عرب سے وطن پہنچ گیا تھا – وہ تین سال بعد پردیس سے لوٹا تھا مگر اپنے گھر جانے کے خیال سے ہی اسے ایک عجیب سی بے چینی اور پریشانی کا احساس ہو رہا تھا- اسے نہیں پتہ تھا کہ جب وہ گاؤں پہنچ کر اپنے گھر جائے گا تو اس کی ماں اور بہنیں کس حال میں ہوں گی- حالات کچھ ایسے ہوگئے تھے کہ وہ ایک سال سے ان کے خرچے کے لیے کوئی رقم نہیں بھیج سکا تھا- اس دوران وہ ان کی خیر خیریت سے بھی بے خبر تھا- گھر کا خرچ اور اس کی بہنوں کے تعلیمی اخراجات اس کے بھیجے ہوۓ پیسوں سے ہی پورے ہوتے تھے- اس کے علاوہ گاؤں میں ان کا ذریعہ آمدنی کوئی نہ تھا-

وہ تین سال پہلے بڑی کوششوں کے بعد سعودی عرب آیا تھا- یہ ١٩٩٠ کے عشرے کی بات ہے- اس زمانے میں موبائل تو بہت کم لوگوں کے پاس ہوتے تھے- ٹیلیفون اور خط و کتابت ہی رابطے کا ذریعہ ہوا کرتے تھے- خط ہفتہ بعد پہنچتا تھا اور ٹیلیفون پر دس پندرہ منٹ بات کرنے کے لیے گھنٹوں پہلے ٹرنک کال بک کرنا پڑتی تھی- دلشاد کی ماں اور دو چھوٹی بہنیں گاؤں میں رہتی تھیں- ان ہی کے لیے اسے باہر جانا پڑا تھا- وہ چاہتا تھا کہ وہاں رہ کر اتنا کچھ کما لے کہ اس کی ماں اور بہنیں ایک اچھی زندگی گزار سکیں-

سعودی عرب میں اسے موٹر گاڑیوں کی ایک ورکشاپ میں کام مل گیا تھا- یہ ورکشاپ ایک بڑی مارکیٹ میں تھی- اس کے ساتھ چار پانچ دوسری ورکشاپس بھی تھیں اور ان میں آٹو پارٹس کا سامان بھی فروخت کیا جاتا تھا-اس مارکیٹ میں زیادہ تر دکانیں گھریلو اشیا کی تھیں- آس پاس کی آبادی پاکستانی، بنگلہ دیشی اور بھارتی لوگوں کی تھی – یہاں کے رہنے والے اس مارکیٹ سے سبزی، گوشت، کریانے کا سامان، بچوں کے کھیل کھلونے اور کپڑا وغیرہ خریدا کرتے تھے- گنجان آبادی کا علاقہ ہونے کی وجہ سے یہاں موٹر گاڑیوں کا کام بھی ٹھیک ٹھاک چلتا تھا-

ورکشاپ کا مالک ایک خوش اخلاق اور اچھا آدمی تھا- دلشاد کی کام سے لگن، ایمانداری اور محنت دیکھ کر وہ اس کا بہت خیال رکھتا تھا- دلشاد کو جو ہر ماہ تنخواہ ملتی تھی، اس میں سے وہ اپنا خرچہ الگ رکھ کر باقی پیسے گھر والوں کو بھجوا دیتا تھا- اس سلسلے میں اس کا دوست رفاقت بہت کام آیا تھا-

رفاقت اس کے بچپن کا دوست تھا اور نہایت اچھا انسان تھا- اسے گاؤں میں رہنے کے باوجود پڑھنے لکھنے کا شوق تھا- اس کا باپ بڑھئی کا کام کرتا تھا اور گاؤں میں اس کی ایک چھوٹی سی دکان تھی- وہ اسکول سے آکر اپنے باپ کی دکان پر بیٹھ کر اس کا ہاتھ بھی بٹاتا تھا-

دلشاد کو پڑھنے لکھنے سے کوئی دلچسپی نہیں تھی- رفاقت نے اپنے طور پر بہت کوشش کی تھی کہ وہ تعلیم حاصل کرے مگر اس نے کوئی توجہ نہ دی- وہ کچھ بڑا ہوا تو اپنے ایک رشتے دار کے گیراج میں موٹر سائیکلوں کا کام سیکھنے لگا- ابتدا اس نے پنکچر لگانے سے کی تھی- کچھ سال گزرے تو وہ موٹر گاڑیوں کے انجنوں کا کام بھی سیکھ گیا اور بہت جلد اس کام میں کافی مہارت حاصل کرلی-

غربت کے باوجود رفاقت نے اپنی محنت اور لگن کی وجہ سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرلی تھی اور اب شہر میں ایک سرکاری ہائی اسکول میں پڑھاتا تھا- دلشاد بنک ڈرافٹ رفاقت کے نام بنوا کر بھیجتا تھا- رفاقت کے ماں باپ چونکہ گاؤں میں ہی رہتے تھے اس لیے وہ مہینے میں ایک آدھ دفعہ ان کے پاس گاؤں آتا اور اس طرح یہ رقم ہر ماہ پابندی سے دلشاد کے گھر والوں تک پہنچ جاتی- یہ سلسلہ تقریباً دو سال تک چلتا رہا-

پھر دلشاد پر ایک مصیبت ٹوٹ پڑی- وہاں کی میونسپلٹی کے حکام کی طرف سے ورک شاپس مالکان کو کئی دفعہ ہدایات دی گئی تھیں کہ وہ اپنی دکانوں کو رہائشی علاقوں سے کہیں اور منتقل کردیں- جب ان ہدایات پر کسی نے کان نہیں دھرے تو انہوں نے ایک تاریخ دے دی کہ اس تاریخ تک وہ اپنی ورک شاپس یہاں سے کہیں اور لے جائیں-

مگر ورکشاپس مالکان نے اس ڈیڈ لائن کی بھی کوئی پرواہ نہ کی۔ پھر ایک روز اچانک ہی میونسپلٹی کی جانب سے ان لوگوں کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن کردیا گیا – دکانوں میں موجود تمام لوگ گرفتار کر لیے گئے اور وہاں موجود تمام مشینیں اور اوزار بھی میونسپلٹی کا عملہ اپنے ساتھ لے گیا۔ گرفتاری کے اگلے روز ان سب لوگوں کو عدالت میں پیش کیا گیا اور انھیں ایک ایک سال کی قید ہوگئی- ان لوگوں میں دلشاد اور اس کا مالک بھی تھا- جس جیل میں انھیں رکھا گیا تھا وہ ان کے علاقے سے سو سوا سو کلو میٹر دور تھی-

دلشاد اس صورت حال سے سخت دل گرفتہ تھا- یہ سب کچھ اتنا اچانک ہوا تھا کہ وہ نہ تو فون کرکے اور نہ ہی خط لکھ کر رفاقت کو اس کی اطلاع دے سکا- جیل میں آکر اس کا دل اپنے گھر میں ہی پڑا رہتا تھا- اسے یہ فکر کھائے جا رہی تھی کہ جب وہ ہر ماہ پیسے گھر نہیں بھیجے گا تو ان کا خرچہ کیسے چلے گا- اس کی ماں اور بہنیں کیا کریں گی- وہ کبھی کبھار اپنے گھر والوں کو خط بھی لکھ دیا کرتا تھا- وہ اب انھیں خط بھی نہیں لکھ سکتا تھا- ایک تو جیل میں اس کی سہولت نہیں تھی- دوسرا وہ اس بات کو اپنے گھر والوں کو بھی نہیں بتانا چاہتا تھا کہ وہ قید کاٹ رہا ہے- اس خبر سے اس کی ماں اور بہنیں بہت پریشان ہوجاتیں- لے دے کر ایک رفاقت ہی رہ گیا تھا- اس نے بہت چاہا کہ کسی طرح اس واقعہ کی اطلاع رفاقت تک پہنچ جائے مگر اسے کامیابی نہ ہوئی- جیل کا عملہ جیل کے قوانین پر سختی سے عمل کرتا تھا- وہ لوگ قیدیوں سے کسی قسم کی بات چیت نہیں کرتے تھے اور ان سے دور دور ہی رہتے تھے- نتیجہ یہ نکلا کہ وہ اس خبر کو رفاقت تک نہ پہنچا سکا-

ایک سال بڑی مشکلوں سے گزرا تھا- جس روز اسے جیل سے رہائی ملی تو اسے کچھ خوشی محسوس نہیں نہیں ہوئی- اس کے دل پر فکروں کا ایک بوجھ تھا- اچھی بات یہ ہوئی کہ ورک شاپس مالکان کو ان کا سارا سامان واپس کردیا گیا تھا- اس کے مالک نے چند ہی روز میں آبادی سے دور اپنی نئی ورکشاپ کھول لی- اسے احساس تھا کہ دلشاد اس کی ہی وجہ سے جیل گیا تھا- اس نے نہ صرف اس کو اپنی ورکشاپ پر دوبارہ کام پر رکھا بلکہ اسے پورے سال کی تنخواہ بھی دی-

دلشاد کے تو وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ اس کا مالک اس کے ساتھ اتنی بڑی نیکی کرے گا- اس کے پاس خاصے ریال ہوگئے تھے- وہ اس کا بہت احسانمند تھا- جب نئے علاقے میں ورکشاپ کھل گئی اور کام شروع ہوگیا تو ایک روز اس نے اپنے مالک سے پندرہ دن کی چھٹی لی اور پاکستان چلا آیا-

ایئر پورٹ سے باہر آکر وہ ٹیکسی کی تلاش میں تھا تاکہ اپنے گاؤں پہنچے- اچانک اس کے ذہن میں خیال آیا کہ وہ گاؤں جانے سے پہلے رفاقت سے مل لے- اس سے مل کر اسے اپنے گھر والوں کے بارے معلومات مل سکتی تھیں- رفاقت کا گھر ایئر پورٹ سے چالیس پینتالیس کلو میٹر کے فاصلے پر تھا- وہ جب بھی کبھی گاؤں سے شہر آتا تھا تو رفاقت سے ضرور ملتا تھا- اس کے گھر تک پہنچنے میں اسے کوئی دشواری نہ ہوئی-

رات کے دس بج گئے تھے- رفاقت گھر پر ہی مل گیا- اسے دیکھ کر وہ بہت خوش ہوا- اس کی بیوی رشیدہ بھی اس کے گاؤں کی تھی اور شادی سے پہلے دلشاد کے محلے میں رہتی تھی- اتنے عرصے بعد دلشاد کو دیکھ کر اس نے بھی مسرت کا اظہار کیا اور بتایا کہ اس کی ماں اور بہنیں اسے بہت یاد کرتی ہیں- ماں اور بہنوں کے تذکرے سے دلشاد کا دل زور سے دھڑکا تھا- سب سے پہلے رفاقت کی بیوی نے اس سے کھانے کا پوچھا- اس نے کھانا جہاز میں ہی کھا لیا تھا اس لیے منع کردیا- وہ چائے بنانے کے لیے چلی گئی-

دلشاد کے چہرے پر پریشانی کے آثار تھے- وہ سر جھکائے خاموشی سے بیٹھا ہوا تھا- رفاقت اسے مسکراتی نظروں سے دیکھے جا رہا تھا- دلشاد کو اس بات کی بہت حیرت تھی کہ اس نے اب تک اس کا حال احوال نہیں پوچھا تھا- اس نے تو یہ بھی نہیں پوچھا تھا کہ اس نے سال بھر سے پیسے بھیجنا کیوں بند کردئیے تھے- آخر اس سے رہا نہیں گیا- اس نے دھیمی آواز میں کہا- "تم نے مجھ سے یہ نہیں پوچھا کہ میں نے اچانک اپنے گھر والوں کو پیسے بھیجنا کیوں بند کردئیے تھے اور تم سے رابطہ کیوں ختم کردیا تھا؟"

"پوچھنے کی ضرورت ہی نہیں تھی"- رفاقت نے مسکراتے ہوۓ کہا- "جب کئی دنوں تک تمہارا فون اور خط نہیں آیا تو مجھے تشویش ہوئی- میرے کچھ دوست وہاں ہوتے ہیں- میں نے ان سے کہا کہ وہ تمھارے بارے میں معلوم کریں- پتہ چلا کہ رہائشی علاقے میں ورک شاپ ہونے کی وجہ سے وہاں کے کسی ادارے نے تمہیں اور تمھارے مالک کو ایک سال کے لیے جیل بھجوا دیا ہے- یہ بتاؤ- جیل میں کیسے دن گزرے؟ سنا ہے کہ وہاں کی جیلیں یہاں کی طرح نہیں ہیں- قیدیوں کو بہت مزے سے رکھا جاتا ہے اور انھیں ہر سہولت مہیا کی جاتی ہے- بس پہرے دار ذرا سخت ہوتے ہیں"-

رفاقت کی اس بات سے اور اس کے انداز سے دلشاد کو بہت تکلیف پہنچی تھی- اس نے کہا- "قید کا وہ ایک سال میرے لیے ایک صدی کے برابر تھا- میرا دل ہر وقت گاؤں میں اپنی ماں اور بہنوں میں پڑا رہتا تھا- پیسے تو میں انھیں بھیجتا نہیں تھا- جانے وہ لوگ کیسے گزارہ کرتے ہونگے- میری بہنوں کی پڑھائی لکھائی سب چھٹ گئی ہوگی- وہ بھی گزارے کے لیے ماں کے ساتھ اپلے تھاپ کر اور انھیں گاؤں میں بیچ کر اپنا پیٹ پالتی ہوںگی"- یہ کہتے کہتے دلشاد کی آواز بھّرا گئی-

اس کی حالت دیکھ کر رفاقت ایک دم سے سنجیدہ ہو گیا- اس نے دلشاد کے شانے پر ہاتھ رکھ کر کہا- "دلشاد - مجھے جب پتہ چلا کہ تم سال بھر کے لیے جیل چلے گئے ہو تو میں بھی پریشان ہوگیا تھا- میں نے یہ مناسب نہیں سمجھا کہ یہ بات تمھارے گھر والوں کو بتاؤں- میری سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کیا کروں- ایک روز میں نے یہ بات رشیدہ کو بتائی- ہم اپنے گھر کی عورتوں سے کسی مسلے میں مشوره لینے سے جھجکتے ہیں- یہ ہماری غلطی ہی ہوتی ہے کیوں کہ اکثر وہ ایسا مشوره دے دیتی ہیں کہ ان سے بڑے اچھے حل نکل آتے ہیں- رشیدہ میری بات سن کر کچھ دیر تو خاموش رہی پھر بولی- "صرف ایک سال کی بات ہے- انشا الله ایک سال کے بعد حالات پھر معمول پر آجائیں گے- میرا مشوره تو یہ ہے کہ ہم کوشش کر کے ہر ماہ اتنے پیسوں کے انتظام کر لیا کریں جتنے دلشاد بھائی اپنے گھر والوں کو بھیجتے تھے- یہ پیسے ہم ان کے گھر والوں کو پہنچا دیا کریں گے"

اس کا مشوره بہت اچھا تھا- میرے پاس کچھ رقم موجود تھی، کچھ میں نے اپنے سرکاری فنڈ سے نکلوائی- اس رقم کو میں نے احتیاط سے سنبھال کر ایک طرف رکھ دیا- پھر میں اس میں سے ہر ماہ اتنی ہی رقم نکال کر تمھارے گھر پہنچا دیتا تھا جتنی تم مجھے اپنے گھر والوں کو دینے کے لیے بھجواتے تھے- ان کا گزارہ پہلے ہی کی طرح ہوتا تھا- مگر تمہاری امی اور بہنیں اس بات پر پریشان تھیں کہ تم نے انھیں خط لکھنا کیوں بند کردیا ہے- اس بات کا تذکرہ انہوں نے مجھ سے کیا تو میں نے انھیں بتادیا کہ تم اب ایک ایسی جگہ ہو جہاں ڈاک خانے اور فون کی سہولت نہیں ہے- تمہاری سزا کے کے متعلق میں نے انھیں کچھ نہیں بتایا تھا- بیچارے خواہ مخوا ہ پریشان ہوجاتے"-

اس کی بات سن کر دلشاد اسے بے یقینی سے دیکھنے لگا- اسے اپنے کانوں پر یقین نہیں آرہا تھا- اس نے ممنونیت بھرے لہجے میں کہا- "رفاقت- مجھے تو یوں لگ رہا ہے جیسے مجھے ایک نئی زندگی مل گئی ہے- میں تو سمجھ رہا تھا کہ اس عرصے میں میری ماں بہنوں نے جانے کیسی کیسی تکلیفیں اٹھائی ہونگی- تمھارے اور رشیدہ بہن کے اس احسان کو میں کبھی نہیں بھولوں گا- تم جیسے لوگوں کی وجہ سے ہی اس دنیا میں سکون اور خوشیاں ہیں-"

اتنی دیر میں رشیدہ چائے بنا کر لے آئی- وہ کیتلی سے پیالیوں میں چائے نکالنے لگی- دلشاد نے اس سے کہا- "رشیدہ بہن- مجھے رفاقت نے سب کچھ بتا دیا ہے- میرے پاس الفاظ نہیں کہ آپ دونوں کا شکریہ ادا کروں- خدا آپ لوگوں کو ہمیشہ خوش رکھے"-

رفاقت نے مسکرا کر کہا- "دوست دوست کے ہی کام آتے ہیں- خوشی اس بات کی ہے کہ اب حالات ٹھیک ہوگئے ہیں- میری بات کا برا مت ماننا- میں نے سال بھر جتنی بھی رقم تمھارے گھر والوں تک پہنچائی تھی اس کی تفصیل میں ایک کاغذ پر لکھتا رہا ہوں- وہ کاغذ میں تمہیں دے دوں گا- جیسے ہی تمھارے مالی حالات ٹھیک ہوں – وہ رقم لوٹا دینا-"

اس کی بات سن کر رشیدہ نے گھبرا کر دلشاد کی طرف دیکھا اور پھر شکایتی نظروں سے رفاقت کو دیکھتے ہوۓ بولی- "یہ آپ نے اچھی بات نہیں کی ہے-"

دلشاد خوش دلی سے ہنسا اور کہا- "رشیدہ بہن- رفاقت نے تو بڑی اچھی بات کی ہے- اپنی باتوں میں لگ کر اس بات کو تو میں بھول ہی گیا تھا-" پھر اس نے اپنی جیب کو تھپتھپاتے ہوۓ رفاقت کی طرف دیکھا اور کہا- "خدا کا شکر ہے کہ مالی حالات بہت اچھے ہوگئے ہیں- میں نے ائیرپورٹ پر سعودی ریال دے کر یہاں کے نوٹ لے لیے تھے- چائے کے بعد مجھے حساب بتا دینا- اس کے بعد میں گھر کے لیے نکلوں گا- میرا تو دل چاہ رہا ہے کہ اڑ کر گھر پہنچ جاؤں- پہلے میں سوچ رہا تھا کہ میری چھٹیوں کے پندرہ دن کس مشکل سے گزریں گے- لیکن اب دل یہ سوچ کر اداس ہو رہا ہے کہ یہ پندرہ دن پلک جھپکتے ہی گزر جائیں گے-"

(ختم شد)


 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 547 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mukhtar Ahmed

Read More Articles by Mukhtar Ahmed: 68 Articles with 45825 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: