سیدنا ابوبکر صدیق ؓ صحابہ کرام رضوان اﷲ علیہم اجمعین کی نظر میں!

(Muhammad Akram Awan, )

حضرت ابوموسیٰ اشعری سے مروی ہے کہ حضرت علی ؓنے مجھ سے فرمایاکہ میں تمہیں نبی کریم ﷺ کے بعدسب سے افضل شخص کے بارے میں نہ بتاؤں؟ میں نے عرض کیا بتائیے۔حضرت علی ؓ نے فرمایا: نبی کریم ﷺ کے بعدسب سے افضل حضرت ابوبکرصدیق ؓہیں۔پھرارشادفرمایا:حضرت سیدنا ابوبکرصدیق ؓ کے بعد سید ناعمر فاروق ؓسب سے افضل ہیں۔

حضرت حسن بصری سے روایت ہے کہ حضرت علیؓنے ارشادفرمایا:سروردوعالمﷺنے اپنی علالت کے دوران میں حضرت ابوبکرصدیقؓ کوامامت کے لئے بلایاحالانکہ اس وقت میں بالکل تندرست تھا اوروہاں موجودتھا۔حضورﷺ کے اس فیصلے سے ہم تمام صحابہ کرام سمجھ گئے کہ نبی کریمﷺ نے حضرت ابوبکرصدیق ؓ کواپنا جانشین مقرر کیا ہے۔

حضرت جبیربن نفیر سے روایت ہے کہ چندلوگوں نے حضرت عمرفاروق ؓ سے کہاکہ آپ سب سے زیادہ انصاف پسنداورحق بات کہنے والے اورمنافقین کے لیے سب سے زیادہ سخت ہیں۔ہم نے حضرت محمدﷺ کے علاوہ کسی کوآپ کی طرح نہیں دیکھا۔حضرت عوف بن مالک جواس محفل میں موجودتھے ان لوگوں کی بات سن کرکھڑے ہوئے اورفرمایا: تم لوگ جھوٹ بولتے ہو۔بلاشبہ حضرت ابوبکرصدیق رسول اﷲ ﷺ کے صحیح جانشین اوراس امت کے بہترین شخص تھے۔حضرت عمرؓ نے جب حضرت عوف بن مالک کاکلام سناتوفرمایا: بے شک ! یہ درست ہے۔ اﷲ کی قسم!حضرت ابوبکرصدیق ؓ مشک کی خوشبوسے بھی زیادہ مہکدارتھے۔
حضرت حسن سے مروی ہے کہ حضرت عمرفاروق ؓنے اپنے دورخلافت میں کچھ لوگ خفیہ طورپرمقررکررکھے تھے جولوگوں میں گھومتے اورحضرت عمرؓ کواطلاع پہنچاتے۔ایک مرتبہ ان لوگوں نے سیدنا عمرؓ کوبتایاکہ کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ آپ سیدناابوبکرؓ سے افضل ہیں۔ آپ ان کی بات سن کرجلال میں آگئے اوران لوگوں کوبلا بھیجا۔جب وہ لوگ حاضرہوئے توآپ نے تقریرکرتے ہوئے فرمایا:اے شریرلوگو!تم مسلمانوں میں فسادپھیلانا چاہتے ہو اورمیرے اورابوبکرصدیقؓ کے درمیان میں تفریق پیداکرنا چاہتے ہو۔جان لواس ذات پاک کی قسم جس کے قبضہ میں عمر کی جان ہے!میں اس بات کودوست رکھتا ہوں کہ میرے لیے جنت میں وہ مقام ہوتا جہاں سے میں ابوبکرصدیق ؓ کودیکھتاکیونکہ نبی کریم ﷺ کافرمان ہے کہ میری اُمت میں سب سے بہترشخص ابوبکر ہے۔

حضرت ام موسی سے مروی ہے کہ حضرت علی المرتضی کومعلوم ہواکہ ابن سباان کوحضرت ابوبکرصدیقؓ اورحضرت عمرفاروق ؓپرفوقیت دیتا ہے توآپ نے اس کے قتل کاارادہ کیا۔جب آپ سے دریافت کیاگیاکہ آپ اس کوقتل کیوں کرنا چاہتے ہیں توآپ نے فرمایا:اس کوقتل کرنا ضروری ہے کیونکہ وہ ایک ایسی بات کہتا ہے جس سے امت میں فسادکاخطرہ ہے اورابوبکرصدیقؓ اورعمرفاروقؓ مجھ سے بہترہیں۔اس کے بعدآپؓ نے ابن سبا کوشہربدرکردیا۔

حضرت زیادبن علاقہ سے روایت ہے کہ حضرت عمرفاروق ؓنے ایک ایسے شخص کودیکھا جوکہہ رہا تھاکہ عمرفاروق امت محمدیہ میں حضورنبی کریم ﷺ کے صحیح جانشین اورسب سے بہترہیں۔حضرت عمرفاروق ؓ نے اس شخص کوکوڑے سے مارنا شروع کردیا اورفرمایا:توجھوٹ کہتا ہے حضرت ابوبکرصدیق ؓمجھ سے اورمیرے باپ سے،تجھ سے اورتیرے باپ سے زیادہ بہترہیں۔

حضرت ابوزناد سے مروی ہے کہ حضرت علی المرتضیؓ سے پوچھا گیاکہ مہاجرین و انصارکا کیا ہواجوانہوں نے حضرت ابوبکرصدیقؓکوآپ ؓ پرفوقیت دی اوران کے دست حق پربیعت کی۔حضرت علی ؓنے فرمایا:اگرتوقریشی ہے تواﷲ سے معافی مانگ اوراگرمومن اﷲ کی پناہ میں نہ ہوتاتومیں تجھے قتل کردیتا۔حضرت ابوبکرصدیقؓ کومجھ سے چارباتوں کی وجہ سے فوقیت حاصل تھی۔ اول وہ امام بننے میں مجھ پرسبقت لے گئے،دوم ہجرت کے وقت یار غاربنائے گئے۔سوم اسلام کی اشاعت انہی کی وجہ سے ہوئی اورچہارم اﷲ عزوجل نے سوائے حضرت ابوبکرصدیقؓ کے تمام انسانوں کی مذمت فرمائی۔

حضرت سوید بن غفلہ فرماتے ہیں کہ میراگزرایسی قوم پرہواجوابوبکرصدیقؓ اورعمرفاروق ؓ کی تنقیص کررہی تھی۔میں حضرت علی المرتضیؓکی خدمت میں حاضرہوااورتمام ماجرا ان کے گوش گزارکیا۔حضرت علی ؓ نے میری بات سن کرفرمایا: اﷲ عزوجل کی ان پرلعنت ہو،حضرت ابوبکرصدیق ؓ اورحضرت عمرفاروق ؓ حضورنبی کریمﷺکے بھائی اورآپ ﷺ کے وزیرتھے۔اس کے بعدحضرت علی ؓمنبرپرتشریف لے گئے اورایک نہایت ہی فصیح وبلیغ خطبہ ارشاد فرمایا:
"لوگوں کوکیا ہوگیاکہ وہ قریش کے دوسرداروں اورمسلمانوں کے دووالدوں کے بارے میں اس بات کا تذکرہ کرتے ہیں جس میں میرادامن ملوث نہیں اورجوکچھ لوگ کہتے ہیں میں اس سے بری ہوں۔یہ لوگ جوکچھ کہتے ہیں میں ان پرسزا نافذکروں گا۔ قسم ہے اس ذات کی جس نے بیج پھاڑا اورنفوس پیدا کئے، ان دونوں حضرات کوسوائے مومن پرہیزگار کے اورکوئی دوست نہیں رکھے گا اوران دونوں حضرات سے سوائے فاجرناکارہ کے اورکوئی عداوت نہیں برتے گا۔یہ دونوں حضرات نبی کریم ﷺ کے ساتھ سچائی اوروفاداری کے ساتھ رہے۔امربالمعروف کا حکم دیتے رہے اورنہی عن المنکربھی کرتے رہے اوران دونوں نے کبھی حضورنبی کریم ﷺکی بتائی ہوئی حدودسے تجاوزنہیں کیا اوریہی وجہ ہے کہ حضورنبی کریمﷺنے ان کے اخلاق واطورکی بناء پران کواپنا دوست رکھا۔حضورنبی کریم ﷺ نے اپنی زندگی میں حضرت ابوبکرصدیق ؓ کوامام بنایااورنبی کریم ﷺ کے وصال کے بعدتمام مسلمانوں نے ان کی ولایت تسلیم کی۔نبی کریم ﷺ نے ان دونوں حضرات کے بارے میں فرمایا کہ جوان سے بغض رکھے گا وہ اﷲ اوراس کے رسول سے بغض رکھے گا۔چناچہ جس نے ان سے بغض رکھااس نے مجھ سے بھی بغض رکھااوریہ جان لوکہ نبی کریم ﷺکے بعدسب سے بہترحضرت ابوبکرصدیق ؓ اورپھرعمرفاروق ؓہیں۔میں ان الفاظ کے ساتھ اپنی تقریرختم کرتاہوں اﷲ عزوجل تمہاری مغفرت فرمائے۔"
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 173 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: MUHAMMAD AKRAM AWAN

Read More Articles by MUHAMMAD AKRAM AWAN: 99 Articles with 37411 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language:    

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ