اور شیشہ ٹوٹ گیا

(Dr. Shakira Nandini, Porto)
سب ہی اپنے طور پر نیکی کا کام کرنا چاہتے ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ پہلا قدم بڑھائے کون، راستہ دکھائے کون؟ ڈاکٹر شاکرہ نندنی

ڈاکٹر شاکرہ نندنی، پورٹو سٹی پُرتگال

ایک آدمی ریڑھی پر شیشہ لے کر جا رہا تھا کہ سڑک پر ایک کُھلے گٹر کی وجہ سے اس کی ریڑھی اُلٹ گئی اور سارا شیشہ ٹوٹ گیا، وہ غریب فٹ پاتھ پر سر پکڑ کر بیٹھ گیا اور رونے لگا کہ مالک کو کیا جواب دوں گا۔ لوگ اس کے ارد گرد کھڑے ہوگئے اور ہمدردی تسلی دینے لگے۔

اتنے میں ایک بزرگ آگے بڑھے اور سو روپے اس کے ہاتھ پر رکھتے ہوئے کہنے لگے بیٹا اس سے نقصان تو پورا نہیں ہوگا لیکن رکھ لو۔ بزرگ کی دیکھا دیکھی باقی لوگوں نے بھی اس کے ہاتھ پر سو پچاس کے نوٹ رکھنے شروع کردئیے تھوڑی ہی دیر میں شیشے کی قیمت پوری ہوگئی. اس نے سب کا شکریہ ادا کیا.

تو ایک شخص بولا بھئی شکریہ ان بزرگ کا ادا کرو جنھوں نے ہمیں یہ راہ دکھائی اور خود چپکے سے چل دئیے۔

آئیے آج سے ہم عہد کریں کہ نیکی کا کام بھی کریں گے۔ لوگوں کو سیدھا راستہ بھی دکھائیں گے.
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 368 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dr. Shakira Nandini

Read More Articles by Dr. Shakira Nandini: 162 Articles with 72961 views »
I am settled in Portugal. My father was belong to Lahore, He was Migrated Muslim, formerly from Bangalore, India and my beloved (late) mother was con.. View More

Comments

آپ کی رائے
Language: