ایک انسان ، ایک دماغ ، ایک دل

(Aqsa, Jeddah)
انسان کے اس دنیا میں آنے سے پہلے ہی بہت سی امیدیں خواہشات پہلے سے ہی اسکے بڑوں نے سوچ رکھی ہوتی لیکن ہر انسان کا اس دنیا میں کوی نہ کوی مقام ہوتا اسکا مقصد ہوتا ہے انسان کو سمجھنا دوسرے انسان کے لیے ضروری ہے انسان کے اندر دل تو ایک ہی ہوتا اور ایک ہی جیسا ہوتا لیکن معاشرہ تربیت اسکو بدل ڈالتی ہے.ایک دوسرے سے محبت کرنا اسکی فکر کرنے سے انسان کی حثیت اور مقام میں فرق تھوڑی نہ پڑتا ، کیوں ایسے ہوگے ہے ، اتنی نفرت ہے ایک دوسرے کے کیے کیوں حسد کرتے ایک دوسرے سے کیوں .......!!!!!!!

ہر مرد عورت اپنے رشتے کو اور مضبوط بنانے کے لیے اپنے رشتے کو ماں باپ کے رشتہ میں تبدیل کر لیتے لیکن اس سے پہلے ان کو ایک دوسرے کو سمجھنا ضروروی ہے ، اولاد........ کچھ کو یہ نعمت نصیب ہوتی اور کچھ کو نہیں ہوتی خیر اللہ کے فیصلے ہوتے انسان کا کچھ اختیار نہیں ہوتا وہ جس کو چاہے عطا کرے جس کو چاہے نہ کرے ، ہم مسلمان اگر اپنے رب کو جان لیتے تو آج ہم اس مقام پر نہ ہوتے ، اپنے دین کو سمجھ جاتے تو آج ہر مسلمان اپنی زندگی سکون سے جی رہا ہوتا ، سکون سے جینے کے لے انسان کا ایک انسان کو سمجھنا ضروری ہے تاکہ اسکی خوشی سے زیادہ اسکی تکلیف ، پریشانی کا احساس ہو ،آج اگر حسد جتنا بھی احساس ہوتا انسانوں میں تو آج دنیا کا نقشہ ہی کچھ اور ہوتا اس دنیا میں پیدا ہونے والا ہر بچہ صرف ایک دماغ اور دل رکھتا ہے اب اس بچے کو جس ماحول میں رکھو گے آگے جاکر وہی ماحول اسکی زندگی بناے گا تربیت ہر ماں باپ اچھی کرتا اپنی اولاد کی لیکن اولاد کو سمجھنا بھی ماں باپ کا فرض ہے اگر تربیت ماں باپ نے خود کی ہے تو اپنی تربیت پر خود یقین نہ کرنا سراسر بیوقوفی ہے ، آپ ماں باپ نہیں ایک بار صرف ایک بار انسان بن کر سوچے کیا آپ کی اولاد کی خود کی خواہش نہیں کوی کیا آپکی اولاد کی خوشی آپکے لیے کچھ نہیں ، کچھ بچے اپنی خواہشات دل میں دبایہں خاموشی اندر ہی اندر مر جاتے صرف ماں باپ کی خوشی کے لیے اور کچھ بغاوت پر اتر آتے ، ایک انسان اپنی مر ضی سے کبھی بھی خود کچھ نہیں کرتا ، اسکو یا تو سکھایا جاتا یا اسکو دکھایا جاتا ، ہر انسان کی اس دنیا میں کوی نہ کوی مقام حثیت ہوتی ، اگر فقیر نہ ہوتے تو تم صد قہ کس کو دیتے ، ایک دفعہ خود کو اس فقیر کی جگہ رکھ کر دیکھو سب کے آگے ہاتھ پھیلانا اور پھر کچھ سے ذلیل ہو کر پھر کسی دوسرے کے آگے دوبارہ اسی ہمت سے ہاتھ پھیلانا اتنا آسان نہیں ہوتا سوچتے ہوے ہی اتنا خوف آرہا ہے اگر واقعی آپ پر یہی نوبت آجاے تو وقت کا کیا ہے بدلتہ رہتا شاید آپکے لیے یہ منظر ایک منٹ کا یہ سکینڈ کا ہو لیکن وہ بندہ اس دنیا میں سب سے زیادہ ہمت والا ہوتا ، جو روز اس آزمائش سے گزرتا.کبھی بھی ایک بچے کا مقابلہ کسی اور بچے کے ساتھ کرنا غلط ہے ایک بچہ جو کرسکتا وہ دوسرا نہیں کرسکتا اپنے بچے کو دوسرے جیسے بنانے سے اچھا اسے کچھ نیا بنے دے دوسرے جیسا بنے گا تو اس جیسا بن کر رہ جاے گا خود وہ جو کرسکتا ہے وہ نہیں کر پائیے گا ۔ میری دعا ہے ہر ماں باپ کو میرا رب اولاد سے نوازے اور ان کے نصیب اچھے کرے
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 199 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Aqsa
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: