جامعہ منظور الاسلامیہ لاہور* *حصہ اول*

(Babar Alyas, Chichawatni)
جامعہ منظور الاسلامیہ لاہور صدر کی بنیاد حضرت مولانا پیر سیف اللہ خالد صاحب رحمتہ اللہ نے رکھی

*پیر سیف اللہ خالد صاحب رحمتہ اللہ*
تحریر
*بابرالیاس*
چیف ایڈیٹر
*قلمدان ڈاٹ نیٹ ویب*
*کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں*
*یہ جہاں چیز ہے کیا، لوح قلم تیرے ہیں*

یہ دنیا فانی ہے ,اللہ کریم نے انسان کو اپنا نائب بنایا تو فرشتوں نے فسادی کہا, اللہ کریم نے اپنی رحمت خاص سے علم سکھایا اور پھر انہی فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کرو لہذا جس نے سجدہ کیا, حکم کی تکمیل کی اللہ نے افضل کر دیا اور جس ایک نے صرف ایک سجدہ نہ کیا تو مالک کائنات نے تاقیامت لعنتی قرار دے دیا,
تو معلوم ہوا اللہ مالک کل ہے, اللہ کے محبوب محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی بدولت وجود کائنات ہے, اور دین محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ نے پسند فرمایا, اب تا قیامت جو بندہ بھی اس تعلیم کے مطابق زندگی گزارے گا وہ کامیاب ؤ کامران ہے لیکن جو بندہ اس دین کا داعی بن کر, وارث نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا لقب لے کر انسانیت کی راہنمائی فرماۓ گا تو اسکا مقام ؤ مرتبہ کیا ہو گا یہ اہل علم ؤ دانش ہی جانتے ہیں,
قرآن کریم کی سورہ روم کی آیت نمبر 41 کے ترجمہ ؤ تفسیر کے مطابق خشکی ؤ تری کی تمام تر بلائیں, آفتیں , مصیبتیں, انسانوں کے اپنے اعمال کی بدولت ہیں,
جب انسان دنیا کی ترقی کے لیے, ناانصافی, ناپ تول میں کمی,میرا جسم میری مرضی جیسی لا دینی سوچ میں دفن ہو تو مسیحا کی ضرورت ہوتی ہے.
مذہبی زندگی ہی اعمال صالح کی بنیاد ہے, انسانیت کی تکمیل کے لیے علم کو ذریعہ بنا کر منزل کا سفر کیا جاۓ تو دین ؤ دنیا بہتر ہوتی ہے,
اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا فرمان ہے کہ
ماں کی گود سے گور تک علم حاصل کرو,
اسی فرمان کی تکمیل کے 1986 میں تقریباً 36کنال پر محیط ایک مدرسے کی بنیاد رکھی گئ, جو خاص طور پر جدید ؤ فکری اساس سے مکمل ادارہ کا قیام تھا ,
درسگاہ کے ساتھ, لائبریری, دفتری اہتمام, کمپیوٹر لیب, دارالحدیث, ڈسپنسری, مہمان خانہ, کچن, مطبخ, وسیع ؤ عریض مسجد ؤ مدرسہ, اور کشادہ ؤ خوب صورت پارک کا قیام ایک جگہ, ایک چاردیواری میں فراہم کیا, اس مدرسے کا نام, بلکہ اس دینی ؤ فکری تعمیری درسگاہ کا نام ہے
جامعہ منظور الاسلامیہ عید گاہ صدر لاہور کینٹ ہے جو 1986 سے قدیم, دینی, اصلاحی, تعلیمی, فکری, تعمیری منازل طے کرتی جارہی ہے,

*اپنا لکھا مجھے معیوب لگے*
*وقت لکھے گا تعارف میرا*

زندگی کے 30سال اسلام آباد میں تعلیمی ؤ تدریسی اور امامت میں گزارنے کے بعد لاہور میں نئے سفر کا آغاز مشکل تھا کیونکہ کچھ اپنے ہی غیر کی صف اول میں نظر آتے تھے لیکن جو استقامت صحابہ رضی اللہ تعالی پر چلنا مقصد بنا چکا ہو , وہ کسی طرح بھی گھبراتا نہیں.
میری مراد پیر طریقت, رہبر شریعت, مجاہد اسلام, استاد علماء, گوہر بے مثل, برہان العارفین حضرت مولانا پیر سیف اللہ خالد صاحب سے ہے,
پیر سیف اللہ خالد صاحب نے تمام زندگی نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پیغام حق کو اپنے قول ؤ عمل سے , اپنے مخلص اور باعمل شاگردوں کی بدولت انسانیت تک پہنچایا,
مساہل کا ڈٹ کر مقابلہ کیا,
کہتے ہیں کہ ایک بار لاہور پیپسی والوں کا جنرل منیجر اپنی پوری ٹیم کے ساتھ مدرسے کے وزٹ کے لیے آیا اور جاتے ہوۓ 50 لاکھ کا چیک بطور نذرانہ دینے کی کوشش کی مگر سلام ہے اس ماں کی عظمت کو جس نے پیر سیف اللہ خالد صاحب کی پرورش کی تھی, آپ جلال میں آ گۓ اور فرمایا ہم پر آپکا یہ نذرانہ نہیں لگتا کیونکہ آپکی نیت مدرسے والوں کو غلام بنانے کی ہے لہذا مہربانی فرمائیں اور واپس لوٹ جائیں, ہم آزاد پیدا ہوۓ ہیں اور اسلام کی تبلیغ ؤ خدمت کرنا ہمارا فرض ہے.

*اس سے کہو لوٹ آؤ*
*ہم بکھر گۓ ہیں ؟؟*

*مرشد اک بار تعویز تسلی دیجیئے ناں*
*اک بار کہیئے ناں.....وہ لوٹ آئے گا؟*

*جہاں بھی کہا سر جھکاتے گئے*
*ہمی تھے جو محفل سجاتے گئے*

یہ کیفیت کیوں نہ ہوتی آپکو سید عطااللہ شاہ بخاری صاحب کے خاندان کی شفقت ؤ محبت حاصل تھی.
انسان کی نیت میں لالچ ہو تو کامیابی نہیں ملتی بلکہ نام تلے خاک ہو جاتا ہے. آج تک کے سفر میں جامعہ منظور الاسلامیہ لاہور کا دینی میدان میں کردار گواہی دیتا ہے کہ پیر سیف اللہ خالد صاحب نے اللہ کی رضا, نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی محبت, انسانیت کی راہنمائی ؤ فلاح کے لیے جو بنیاد رکھی تھی وہ لالچ سے وابستہ نہیں تھی .
آج جامعہ منظور الاسلامیہ لاہور میں اپنی تعمیر ؤ ترقی میں شب ؤ روز مصروف عمل ہے, جامعہ منظور الاسلامیہ لاہور میں بچہ تیرہ سالوں میں حافظ, قاری, عالم دین بن کر رخصت ہوتا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی تعلیمات ہدایت عام کرتا دکھائی دیتا ہے, جامعہ منظور الاسلامیہ لاہور میں تین سال کے مختصراً عرصہ میں قرآن کریم تجوید کے ساتھ مکمل کروایا جاتا ہے, روزانہ کی بنیاد پر لاتعداد افراد مساہل سے آگاہی کے لیے جامعہ منظور الاسلامیہ لاہور کا رخ کرتے دکھائی دیتے ہیں, جامعہ میں کسی تفریق کے بغیر کھانا , رہائش, بستر, علاج معالجہ, کتابیں اور دیگر تمام زندگی سے وابستہ ضرورتیں معمولی فیس کے بغیر دے رہا ہے, یہ سب اللہ کی رحمت خاص اور نیک دل مسلمانوں کے تعاون سے ہوتا ہے کیونکہ وہ جانتے ہیں پیر سیف اللہ خالد صاحب بے شک دنیا سے کوچ فرما گۓ ہیں لیکن انکی تربیت کا اثر باقی ہے اور یہ ادارہ دنیاوی فاہدہ ؤ لالچ سے پاک خالص دین اسلام کی تبلیغ کے لیے گامزن منزل ہے .
پیر سیف اللہ خالد صاحب سال 2017 رمضان المبارک کے ماہ میں اسٹیج دنیا پر ملنے والے اپنے کردار کو ادا کرتے ہوئے رخصت ہوئے لیکن انکی جگہ اب انکا بڑا بیٹا حضرت مولانا محمد اسد اللہ فاروق صاحب اپنے مرشد, والد محترم, عالم باعمل, مجاہد اسلام, پیر سیف اللہ خالد صاحب کے خواب ؤ مشن کی تکمیل کے لیے گامزن منزل ہیں,
جاری ہے
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 36 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Babar Alyas

Read More Articles by Babar Alyas: 179 Articles with 59155 views »
I am a teacher. I am very fond of studying different issues in the world... View More

Comments

آپ کی رائے
Language: