مولانا کلیم اللہ رشیدی صاحب جامعہ رشیدیہ ساہیوال سے ایک ملاقات *

(Babar Alyas, Chichawatni)
مولانا کلیم اللہ رشیدی صاحب جامعہ رشیدیہ ساہیوال سے ایک ملاقات کا تفصیل سے ذکر

بیمار معاشرہ

دین اسلام کی روشنی میں انسانیت کی تربیت کے لیے ملک ؤ ملت کا مشہور ؤ معروف اور فعال ادارہ, قرآن ؤ سنت کی مثالی درسگاہ, جسکی بنیاد حضرت مولانا شیخ الہند کے تلمیذ خاص حضرت مولانا مفتی فقیراللہ رحمتہ اللہ نے رکھی.
آج بھی اپنے اکابر کے نقش قدم پر چلتے ہوۓ امت کے لیے ثمر خاص کا درجہ رکھتا ہے,
عمدہ تعلیم ؤ تربیت, اردو بول چال, بہترین نظم ؤ نسق کی وجہ سے پاکستان کی عظیم دینی درس گاہ جامعہ رشیدیہ ساہیوال جانا ہوا,
جامعہ رشیدیہ ساہیوال حضرت مولانا کلیم اللہ رشیدی صاحب کی زیرنگرانی دین محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی تعلیمات عام کرتے ہوئے اپنی منزل کی طرف گامزن ہے.
مولانا کلیم اللہ رشیدی صاحب جامعہ رشیدیہ میں ہونے والی پہلی ملاقات کی وجہ میرا ذاتی کام تھا لیکن اسکے پس پردہ حکم میرے مرشد حضرت مولانا اسد زکریا قاسمی صاحب مرکزی جنرل سیکرٹری پاکستان علماء کونسل کا تھا کہ میں ان سے لازم ملاقات کروں, لہذا قاری حفیظ اللہ سالار پنجاب پاکستان علماء کونسل کی رفاقت میں ان سے ملاقات کا وقت نماز ظہر کے بعد طے پایا, ہم چیچہ وطنی سے جامعہ رشیدیہ پہنچ گۓ,
میں قربان جاوں کہ مولانا کلیم اللہ رشیدی صاحب اپنے رفیق خاص کے ساتھ ہمارے انتظار میں تھے. بڑی گرم جوشی سے گلے لگایا, حال احوال کے بات دستر خوان لگ گیا, حضرت بڑی اعلی مہمان نوازی فرمائی, اسکے بعد اپنے دفتر میں لے گۓ,
کھانے کے دوران تو ہمارے درمیان بالکل خاموشی تھی اور میں کچھ عجیب محسوس کر رہا تھا لیکن کھانے کے بعد جب انکے آفس میں گۓ تو انکی شخصیت نمایاں ہوئی,
خاموش مگر سوچ میں غرق کیفیت,
دوسرے کی بات کو توجہ سے سن کر مدلل جواب کا فن,
تنقید کرنا مقصود ہو تو الفاظ کا ایسا چناؤ کہ محبت کی بارش,
خود پر تنقید ہو رہی ہو تو چہرے پر خوشی ؤ مسرت کا اظہار,
نظریں جھکی ہوئی, لباس ؤ انداز سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے مطابق,
گفتگو کرتے ہوۓ آواز نہ زیادہ, نہ کم, بلکہ آداب کا پیکر,
اپنے اسلاف کے نقش قدم پر چلنا مقصد,
جو ایک بزرگ دین , عالم دین میں, استاد معاشرہ میں ہونی لازم ہیں وہ تمام خوبیاں حضرت مولانا کلیم اللہ رشیدی صاحب میں موجود تھیں.
ان سے سخت سوالات بھی ہوۓ, لیکن مجال ہے کہ انکے چہرے پر محبت کے علاوہ کچھ نظر آیا ہوں,
جامعہ رشیدیہ ساہیوال میں اس وقت تقریباً پندرہ سو بچے زیر تعلیم ہیں, انکی تعلیم و تربیت کے حوالے سے میرے سوال پر انکا مقصد ؤ مشن اوپن ہوا کہ صرف انسانیت کی خدمت ؤ تربیت اور اخلاق محمدی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی تعظیم و تکریم سے واقفیت ہے تاکہ موجودہ صورتحال میں بکھری ہوئی امت, شیطانی اخلاق میں غرق نسل جو اپنا مستقبل تاریک کرتی جا رہی ہے اسکو راہ نجات کی پہچان کروانا ہے,
میں بھی انسان ہوں مجھ سے رہا نہ گیا اور سیاسی ؤ مذہبی آزادی, شناخت, قیادت, یا جماعتی حوالے سے کس طرف جھکاؤ تھا, ہے یا ہو گا ,
تو مولانا کلیم اللہ رشیدی صاحب کے جواب نے مجھے دیوانہ بنا دیا.
انکا کہنا تھا جامعہ رشیدیہ ساہیوال سر راہ ہے, یہ مہمان خانہ ہے اکابر کے لیے, یہ علماء دیوبند کا سرمایہ ہے, اکابر دیوبند جس مرضی جماعت سے تعلق رکھتے ہوں, یا سیاسی ؤ دینی جماعت کی قیادت کرتے ہوں وہ ہمارے سر کا تاج ہیں, ہم جامعہ رشیدیہ ساہیوال میں اپنے طالب علموں کو محبت ؤ اتحاد کا درس دیتے ہیں اور خود بھی سالوں سے اپنے آباواجداد کے نقش قدم پر چلتے ہوۓ عمل پیرا ہیں, لہذا ہمارا کسی سیاسی ؤ مذہبی جماعت سے الگ تعلق نہ ہے,
یہ ملاقات تقریباً دو گھنٹہ تک جاری رہی اور مخلوق خدا کی بہتری کے لیے مختلف طریقوں کا ذکر ہوتا رہا, وہاں ملاقات میں حضرت مولانا قاری حفیظ اللہ سالار پنجاب پاکستان علماء کونسل نے قائد محترم علامہ طاہر محمود اشرفی کا پیغام امن بھی انکے سامنے رکھا,
میں نے اجازت مانگی ,سلام دعا ہوئی ,مہمان نوازی کا آخری حق ادا کرنے کے لیے جامعہ رشیدیہ ساہیوال کے مین دروازے تک آۓ اور گلے لگا کر رخصت کیا,
جامعہ رشیدیہ ساہیوال سے نکل کر چیچہ وطنی تک میں سوچتا رہا کہ جب اہل دیوبند کی صف میں ایسے انسانیت کی راہنمائی کے داعی موجود ہیں, تب تک نہ مدارس کوئی مسئلہ ہے اور نہ ہی امت میں تفریق پیدا ہو سکتی ہے, حضرت مولانا کلیم اللہ رشیدی صاحب جامعہ رشیدیہ ساہیوال امت کے لیے سرمایہ ہیں,
حضرت مولانا کلیم اللہ رشیدی صاحب موجودہ تعلیمی نظام میں بہتری کی خواہش رکھتے ہیں لیکن کچھ قید ؤ بند کی بنیاد پر تاکہ ایک مضبوط اور مساوی معاشرہ پروان پاۓ.
اللہ کریم سلامت فرماۓ حضرت کو اور ہمیں ان سے فیض یاب ہونے کی توفیق عطا فرماۓ,

 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 76 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Babar Alyas

Read More Articles by Babar Alyas: 179 Articles with 61962 views »
I am a teacher. I am very fond of studying different issues in the world... View More

Comments

آپ کی رائے
Language: