ایک پل کی شفقت

(Babar Alyas, Chichawatni)
زندگی وقت کے ساتھ ساتھ اپنا رنگ دیکھاتی ہے

بیمار معاشرہ

پاکستان علماء کونسل کے ساتھ میرا تعلق تقریباً دس ماہ پر مشتمل ہے, اپنے منہ بولے بھائی مولانا تبسم تحسین صاحب کے کہنے پر پاکستان علماء کونسل کی دہلیز پر پہنچنا ممکن ہوا اور سالار پنجاب قاری حفیظ اللہ صاحب کی محبت میں ایک پل کی شفقت نصیب ہوئی جس نے میری سوچ کو بدل دیا.

کہتے ہیں کہ نیت صاف ہو تو منزل آسان ہوتی ہے اور اگر حوصلے بھی بلند ہوں تو کارواں بن جاتے ہیں لیکن اگر ساتھ مقامی سطح پر مخلص دوست مل جائیں تو راستے پتھر خاک بن کر ہوا کی نظر ہو جاتے ہیں.
پاکستان علماء کونسل کی زیر سرپرستی پیغام امن کانفرنس اسلام آباد میرا کسی بھی جماعت کے ساتھ پہلا قدم تھا جس سے بہت کچھ نیا ملا.

وقت گزرا اور 23/11/19 نومبر بروز ہفتہ کے دن آیا کہ جب قائد محترم پاکستان علماء کونسل پاکستان کا چیچہ وطنی آنا طے تھا.

اس سے پہلے ایک وضاحت کرتا جاؤں کہ یہ دنیا بڑی ظالم ہے ہم انسان ہی انسان کی کردار کشی کرتے ہیں حالانکہ مجھ سے اپنے رب کی اطاعت کل ہوتی نہیں اور ہم دوسروں پر الزام لگاتے ہیں.

قائد محترم کے چیچہ وطنی آنے سے پہلے بڑے لوگوں نے مختلف انداز میں مجھے جماعت سے الگ ہونے, قاری حفیظ اللہ صاحب, مولانا تبسم تحسین صاحب سے الگ ہونے کا کہا گیا.

لیکن میری اپنی سوچ ہے, میں آزاد ہوں, میں تقلید میں اندھا نہیں ہوں کہ خود دیکھ نہیں سکتا, سمجھ نہیں سکتا تھا لہذا میں اپنے موقف پر قائم رہا کہ جب میں خود مولانا طاہر اشرفی صاحب کو مل نہیں لیتا تب تک انکی باتوں پر کوئی توجہ نہیں دی جاۓ گئ!!

مقامی سطح پر اجلاس میں شامل ہوا, پاکستان علماء کونسل کے رابطہ واٹس اپ گروپ میں شامل ہوا, تنقید ہوئی, گروپ سے فارغ ہوا, مقامی سطح پر لوگوں کے ورک سے, سوچ ؤ انداز سے اکثر اجلاس میں اختلاف ہوا, لیکن زندگی میں کچھ پل انمول ہوتے ہیں 23نومبر کو دوران استقبال چیچہ وطنی میں اور وقت رخصت ساہیوال میں مولانا اشفاق پتافی صاحب, مولانا اسید الرحمن صاحب جو قائد محترم مولانا حافظ طاہر محمود اشرفی صاحب کے شریک سفر تھے ان سے ملاقات نے بھی بہت متاثر کیا.

چیچہ وطنی میں میرے ساتھ اس ریلی کی کامیابی (جو میری نظر میں ہے) اختلاف کیا جا سکتا ہے) میں میرے پیارے ؤ محترم دوست حافظ معراج صاحب کا بھی شامل ہیں کہ جنکی وجہ سے خودساختہ رکاوٹ ڈالنے والوں کو خاک ہاتھ میں آنے کے سوا کچھ نہیں ملا.

اللہ کا کرم ہوا توفیق ملی اور اجتماعی کوششوں سے قائد محترم حافظ طاہر محمود اشرفی صاحب کی پریس کانفرنس میں ختم نبوت صلی اللہ علیہ والہ وسلم جماعت اہلحدیث کی نمائندگی مولانا قاری اکرم ربانی صاحب, اور بریلوی مسلک کی نمائندگی حضرت مولانا پیر سید محسن علی شاہ صاحب, اہلحدیث یوتھ فورس کی نمائندگی, صاحبزادہ عتیق الرحمن صاحب کی طرف سے ہوئی.

چیچہ وطنی میں بہت سارے اہل علم ؤ دانش کی نظریں مولانا طاہر اشرفی صاحب کی پریس کانفرنس پر تھیں کہ کتنے افراد ہوتے ہیں لہذا انکو اس کامیاب ریلی سے اندازہ ہو چکا ہو گا کہ قاری حفیظ اللہ کی قیادت میں مقامی سطح پر پاکستان علماء کونسل کس طرح اپنے قائد کا پیغام لوگوں تک پہنچا رہیں ہیں.

وہ ایک پل جس کا زکر ضروری ہے میرے لیے کیونکہ مجھ جیسے کارکنوں کو اگر پہلی ملاقات میں, پہلے چیچہ وطنی سے ساہیوال تک کے مختصراً سفر میں قیادت کی, رہنما کی, سرپرست کی, لیڈر کی شفقت مل جاۓ تو سمجھو جماعت کی قیادت مخلص ہاتھوں میں ہے. جو اپنے کارکن کو اپنا سرمایہ سمجھتا ہے.

قائد محترم مولانا طاہر محمود اشرفی صاحب کا ساہیوال سے رخصت ہوتے ہوۓ , مولانا تبسم تحسین صاحب کا ماتھا چومنا, کھانے کی میز پر سالار, سالار کہہ کر قاری حفیظ اللہ کو اپنے پاس بٹھانا اور گاڈی میں سوار ہوتے ہوۓ مجھ طالب علم کو گلے لگانا اور پیار سے تھپکی دینا ,داڑھی میں شفیق ماں کی انگلیاں پھیرنا ہمیشہ یاد رہے گا. وعدہ اور دعوی اپنی جگہ لیکن ان شاءاللہ جب اگلی دفعہ قائد محترم چیچہ وطنی میں قدم رکھیں گۓ تو نظارہ ہی الگ ہو گا اللہ کریم پاکستان علماء کونسل کے مشن کو قبول فرماۓ.

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Babar Alyas

Read More Articles by Babar Alyas : 291 Articles with 98635 views »
استاد ہونے کے ناطے میرا مشن ہے کہ دائرہ اسلام کی حدود میں رہتے ہوۓ لکھو اور مقصد اپنی اصلاح ہو,
ایم اے مطالعہ پاکستان کرنے بعد کے درس نظامی کا کورس
.. View More
14 Feb, 2020 Views: 177

Comments

آپ کی رائے