بولنے والے گونگے (قسط 2)

(Dr Zahoor Ahmed Danish, Karachi)

آج ہم اپنی زندگی میں کچھ ایسے ضابطے بنا بیٹھے ہیں اور انہی چیزوں کو کامیابی کی معراج سمجھ بیٹھے ہیں ۔انہی کامیابی کے رازوں میں ایک راز انگریزی بھی ہے ۔ہمارے بچے اسکول داخل ہوتے ہیں ۔انھیں ہر مضمون انگریزی میں پڑھایاجاتاہے ۔بچہ وہ تمام مضامین منہ زبانی یاد کرلیتاہے ۔وہ انگریزی کے نقوش کو حفظ کرلیتاہے ۔لیکن اس عبارت ،اس مضمون اور ان نقوش سے مراد کیا ہے ۔اس عنوان کو پڑھنے کا عملی زندگی سے کیا تعلق ہے ۔کچھ خبر نہیں ۔اس کی بڑی وجہ ادھار لی ہوئی غیر زبان میں من کی بات کرناہے ۔

میرا ایک سوال ہے ۔جب دنیا میں انگریزوں کو عروج نہیں تھا۔جب یہ زبان پروان نہیں چڑھی تھی تو کیا دنیا میں ترقی کا پہیہ رُک گیاتھا۔کیادریافت کا دروازہ بند ہوگیا تھا۔میں چونکہ ٹیچنگ سے بھی وابستہ ہوں ۔اپنی نسل نو کے ساتھ ستم ظریفی دیکھتاہوں تو پریشان ہوتاہوں ۔آپ یقین کریں بچہ کسی موقف کو سمجھنے میں ،کسی فلاسفی کو سمجھنے میں ،کسی نظریے کو سمجھنے میں تو کوشش بعد میں کرے گا۔پہلے تو وہ انگریزی کے حصار سے تو نکلے ۔

میں انگریزی زبان کا مخالف نہیں ۔میں اردو زبان کا حامی ہوں ۔یہ میری زبان ہے ۔نفسیاتی امر ہے میں کوئی بات ،کوئی چیزاسی زبان میں سوچتاہوں ۔پھر کسی دوسری زبان میں اس کا ترجمہ ممکن ہے ۔اردو زبان اپنا ایک تشخص رکھتی ہے ۔ہمیں اس کی ترویج و اشاعت کے لیے کوشش کرنی چاہے ۔
میں نے یہ مناظر بھی دیکھے کہ قابل ترین مقرر بچہ ،خوبصورت ترین گفتگو کرنے والا بچہ ڈائز پر اس لیے نہیں آتاہے کہ اس سے انگریزی کا تقاضا کیا جائے گا اور انگریزی نہ بولی تو وہ نالائق شمار کیا جائے گا۔گویا وہ بولنے والا گونگااپنی کئ صلاحیتوں کو اس غبط میں برباد کردیتاہے ۔نہایت ہی معذرت کے ساتھ غلامانہ فکر کو پش پشت ڈالیے ۔اور اپنی زبان میں گفتگوکرتے ہوئے ڈریں مت ۔۔بولنے والے گونگے یا سرے سے گونگے نہ بن جائیں ۔کھُل کربولیں ۔

آئیے !!اپنی زبان کو رائج اور اس کی تکریم ہر خاص و عام کے دل میں پیداکرنے کے لیے کوشش کرتے ہیں ۔

ایک مرتبہ پھر ہم مزید دلچسپ اور مفید معلومات لیے آپ کی خدمت میں حاضر ہوں۔آپ نے ایک اصطلاح سنی ہوگی یا پڑھی ہوگی ۔۔’’غلط العام ‘‘

آئیے آج ہم اس کے بارے میں جانتے ہیں ۔غلط العام سے مراد یہ ہے کہ الفاظ کی وہ غلطیاں جو زبان زد خاص و عام ہو چکی ہوں اور جن کے لکھنے پڑھنے کا چلن عام ہو گیا ہو۔ جیسے ’’قلفی‘‘ ۔ یہ اصل میں ’’قفلی‘‘ تھا جو ’’قفل‘‘ بمعنی تالا سے نکلا ہے۔ کیوں کہ اس کے تیاری میں ’’قفل لگانے‘‘ سے مشابہت پائی جاتی ہے۔ لیکن غلط العام ہونے کے سبب اب یہ ’’قلفی‘‘ بن گیا ہے اور اب اس کا اس طرح استعمال جائز ہے۔ ’’استفادہ حاصل کرنا‘‘ ایک عرصے تک غلط سمجھا جاتا رہا ہے ۔

غلط العام کو اردو ادب کے اساتذہ نے ’’جائز‘‘ قرار دیا ہے۔لیکن اس کا یہ ہر گز مطلب نہیں کہ آپ درست الفاظ کو بھی غلط بولنا شروع کردیں ۔یہ کسی طور پر بھی درست نہیں ہوگا۔۔۔۔۔

محترم قارئین کسی بھی تحریر کی خوبصورتی کے لیے ضروری ہے کہ وہ جس زبان میں لکھی جائے، اس کے قواعد کے مطابق لکھی جائے۔ ہمارے ہاں تذکیر و تانیث، واحد جمع، درست تلفظ کی ادائیگی کے ساتھ املا کی غلطیاں بھی عام ہیں!

آج ہم چند عام استعمال ہونے والی املا کی اغلاط کے بارے میں جانیں گے۔آپ میں اور ہم سب روزانہ کی زندگی میں دیکھتے ہیں کہ کسی کی استعمال شدہ چیز مثلاََ کسی نے گلاس میں پانی پیا تو اور کچھ پانی چھوڑ دیا تو ہم کہتے ہیں یہ جھوٹایا جوٹھا پانی ہے ۔۔۔۔اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ درست لفظ جھوٹا ہے یا جوٹھا۔۔روز مرہ گفتگو میں بچہ بچہ یہ بات کہتا ہے کہ میں اس کا ”جھوٹا“ نہیں کھاتا! ... عموماً بڑے بھی یہاں لفظ ”جھوٹا“ ہی کہتے ہیں جو کہ درست نہیں!اصل لفظ ”جوٹھا“ ہے ... مستعمل ، بچے ہوئے کھانے یا مشروب کے لیے کہا جانا چاہیے، مگر ہمارے ہاں آج کل تقریباً ایک جیسے تلفظ کی وجہ سے”جھوٹا“ کہا جانے لگا ہے۔

قارئین:پھر کیا خیال ہے آپکا!!!:جھوٹا یا جوٹھا۔۔۔۔جی ہاں !!!آج ہم نے سیکھا کہ درست لفظ جھوٹا نہیں بلکہ جو ٹھا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہے نا علم کی بات ۔۔۔اس بات کو فقط معلومات میں نہیں رکھنا بلکہ استعمال بھی کرنا ہے ۔۔۔اپنی اردو زبان کی بہتری اور ترقی کے لیے ہم کوشش کرتے رہیں گے ۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 208 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: DR ZAHOOR AHMED DANISH

Read More Articles by DR ZAHOOR AHMED DANISH: 254 Articles with 242237 views »
i am scholar.serve the humainbeing... View More

Comments

آپ کی رائے
Language: