مافیا کی اصطلاح پاکستان میں کب زبان زد ہوئی

(Muhammad Nafees Danish, )

ایک وقت تھا کہ جب صرف اٹلی میں جرائم پیشہ افراد کے لئے مافیا کی اصطلاح استعمال کی جاتی تھی ، لیکن دھیرے ، دھیرے یہ لفظ عام ہوتا گیا ، منظم انداز میں جرائم کرنے والوں کو مافیا کہا جاتا ہے ، اس میں وائٹ کالر جرم بھی شامل ہے ، مافیا کے کارندوں کی سوچ اور جرم کرنے کا طریقہ کار ایک ہی جیسا ہوتا ہے ، ہم تنظیمی لوگ عوام کے دلوں میں اپنی اور اپنی جماعت کی محبت قائم کرنا چاہتے ہیں ، لیکن مافیا لوگوں کے دلوں میں محبت پیدا کرنے کے بجائے عوام کو خوف میں مبتلا رکھتی ہے ، لوگوں کے دلوں میں خوف بٹھانا ہی مافیا کا سب سے بڑا ہتھیار ہوتا ہے ، اسی لئے جرمنی میں ہٹلر کے ایک قریبی ساتھی ہنرچ ہملر نے کہا تھا کہ "بہترین سیاسی ہتھیار خوف کا ہے، ظلم کرنے سے ہی احترام ملتا ہے ، ہوسکتا ہے لوگ ہم سے نفرت کریں تو ہمیں لوگوں کی محبت کی کوئی ضرورت نہیں ، ہمیں لوگوں کے دلوں میں اپنا خوف بٹھانا ہے اور حکومت کرنی ہے ۔"

یہی اصول اٹلی کی سیسلین مافیا کا تھا لیکن اٹلی کی سیسلین مافیا کے لوگ آنسو بہانے میں بھی مہارت رکھتے تھے ، وہ ہٹلر کی طرح کسی کے قتل کی قبول داری نہیں کرتے تھے ، وہ جسے موت کے گھاٹ اتارتے اسی کی آخری رسومات میں شرکت کر کے مگرمچھ کے آنسو بھی بہاتے تھے اس کے لواحقین کو دلاسا بھی دیتے تھے ، مافیا کے لوگ دولت کو ہی اصل طاقت سمجھتے تھے ، سیسلین مافیا جسم فروشی ، منشیات ، اسمگلنگ ، کرپشن اور مالی ھیر پھیر سمیت ہر وہ طریقہ استعمال کرتی جس سے دولت حاصل ہو ، ہر جائز و ناجائز طریقے سے جمع ہونے والی اسی دولت کے بل بوتے پر مافیا اپنا راج قائم رکھتی تھی ، اس مافیا کا چیف توتورینا تھا جسے جرائم کی دنیا کا گاڈ فادر کہا جاتا ہے ، پاکستان میں مافیا کی اصطلاح اتنی عام نہیں تھی اسی لئے لوگ مافیا کے جرائم کے طریقوں سے بھی اتنی واقفیت نہیں رکھتے تھے ، میں نے اتنی لمبی تمہید یہ بتلانے کے لیے بیان کی ہے کہ یہ لفظ پاکستان می کب زبان زد ہونے لگا ہے.....؟

آپ کو اس بات کا بخوبی علم ہے کہ پاناما کیس میں جسٹس آصف سعید کھوسہ نے جب فیصلہ لکھا تو انہوں نے فیصلے کی شروعات سیسلین مافیا اور گاڈ فادر کی اسٹوری سے کی ، جس سے پاکستان میں مافیا کے بارے میں لوگوں کو جستجو پیدا ہوئی ، ایک ہی دن میں بک اسٹالوں سے ہزاروں کی تعداد میں گاڈ فادر ناول فروخت ہوا ، گاڈ فادر ایک معمولی مجرم تھا لیکن دیکھتے ہی دیکھتے گاڈ فادر دنیا بھر میں دہشت کی علامت بن گیا ، گاڈ فادر نے دنیا بھر میں دہشت بٹھانے کے لئے ایک نیا فارمولا متعارف کروایا ، گاڈ فادر نے اپنے فارمولے کو نافذ کرنے کے لئے سالوں جستجو کی ، گاڈ فادر کا فارمولا یہ تھا کہ ہر عہدے یا سیٹ پر میری مافیا کا بندہ ہو ، اپنے بندے بٹھانے کے لئے گاڈ فادر نے دن رات کام کیا ، پھر ایسا وقت آیا کہ ہر عہدے پر مافیا کے لوگ بیٹھ گئے ، ظلم سے ستائے لوگ جب ایف ، آئی ، آر کے لئے جاتے تو اس سیٹ پر مافیا کا بندہ بیٹھا ہوتا ، وارنٹ گرفتاری جاری کرنے والے سے لے کر جج تک ہر سیٹ پر مافیا کے لوگوں کو گاڈ فادر نے بٹھا دیا ، گاڈ فادر کی مافیا منظم انداز میں اپنے پنجے گاڑ چکی تھی ، مافیا کے سامنے سب بے بس ہوتے گئے ، خوف مافیا اور گاڈ فادر کا سب سے بڑا ہتھیار تھا ، اپنے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کو مافیا اس وقت کی انتظامیہ سے مل کر دبوا دیتی تھی ، جس کی وجہ سے مافیا مضبوط سے مضبوط تر ہوتی چلی گئی ، گاڈ فادر کا ظلم اتنا بڑھا کہ اس نے اپنے ایک مخالف کے 13 سالہ بیٹے کو اغوا کیا اور اسے تیزاب میں ڈال دیا وہ 13 سال کا بچہ تیزاب میں گھل گیا ، وہ بچہ چلاتا رہا ، چیختا رہا اور گاڈ فادر قہقہے لگاتا رہا ، لیکن ظلم پھر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے ، 1992 میں اٹلی میں بم دھماکے ہوئے سینکڑوں لوگ جان کی بازی ہار گئے ان بم دھماکوں کے بعد جرم کی دنیا کا بے تاج بادشاہ توتورینا یعنی گاڈ فادر قانون کے شکنجے میں آگیا ، گاڈ فادر گرفتار ہوگیا ، سیسلین مافیا نے کسی کو نیا گاڈ فادر بنانے کے بجائے یہ اعلان کردیا کہ جب تک گاڈ فادر زندہ ہے کوئی نیا گاڈ فادر نہیں بن سکتا ، لیکن جیل میں بیٹھ کر گاڈ فادر کے لئے مافیا کو چلانا مشکل سے مشکل تر ہوتا جارہا تھا ، گاڈ فادر کے تمام رابطے اٹلی کی ریاست نے کاٹ دئیے تھے ، دوسری طرف گاڈ فادر کی گرفتاری کے بعد شطرنج کی بازی کی طرح یہ بازی بھی پلٹنا شروع ہوئی ، مافیا کے معاملات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ مافیا تب تک ہی مئوثر رہتی ہے جب تک وہ نظروں سے اوجھل رہے ، بے نقاب ہونے کے بعد مافیا کے لئے چلنا مشکل ہوجاتا ہے یہی وجہ بنی کہ سیسلین مافیا نظروں میں آنے کے بعد ریت کا ڈھیر ثابت ہوئی ، مافیا کے پیادے آئے روز ایک نئی مشکل میں پھنسنے لگے ، گاڈ فادر نے جیل میں بیٹھ کر اپنی مافیا کو بچانے کی ہر ممکن کوشش کی لیکن گاڈ فادر کی ہر کوشش بے سود رہی ، گاڈ فادر پر چلنے والے کیسز میں گاڈ فادر دھنستا چلا جارہا تھا قریب تھا کہ اسے پھانسی ہوجائے لیکن سزا سے پہلے اس کی طبعیت خراب ہوئی اسے اٹلی کے شہر پرما کے ہسپتال میں داخل کروایا گیا لیکن 87 سالہ لاعلاج گاڈ فادر اپنے سینے میں ہزاروں راز لئے 1993 اس دنیا سے رخصت ہوگیا ، گاڈ فادر اور سیسلین مافیا کی یہ داستان سپریم کورٹ کے جج آصف سعید کھوسہ نے 2017 میں پاناما کے فیصلے میں لکھ کر پورے ملک کو مافیا کے جرائم کی طرف متوجہ کردیا ، جس کے بعد میاں نواز شریف صاحب بھی گرفتار ہوگئے ، سیاسی پنڈتوں کا کہنا یہی ہے کہ جیسے میاں صاحب بچوں سمیت سیاست سے باہر ہوئے زرداری صاحب کا نتیجہ بھی مخلتف نہیں ہے بہت خوب بات کہی تھی محترم میجر عبدالغفور صاحب نے کہ پاکستان اس وقت سنگین صورتحال سے نہیں گزر رہا بلکہ اس صورتحال سے گزر رہا ہے کہ یا تو بہت اچھا ہوجائے گا یا بہت خراب ، دعا یہی ہے کہ سب اچھا ہوجائے ، پاکستان ترقی کرے ، پاکستان کا نام دنیا بھر میں روشن ہو ، سبز ہلالی پرچم دنیا بھر میں محترم ہو ، اس کے لئے آؤ اپنے حصے کا کام کریں ، مافیا ہمارے ملک میں ہو ، صوبے میں ہو ، ضلع میں ہو ، تحصیل میں ہو ، گاؤں گوٹھ یا محلے میں ہو مافیا کا خوف دل سے نکال کر مافیا کا مقابلہ کریں ، مافیا نے ہم پر بہت راج کر لیا ، اب مافیا کے سامنے سرنڈر نہیں کریں گے ، اپنی آنے والی نسلوں کی بقا کے لئے مافیا سے مقابلہ کریں گے ان شاءاللہ...!

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 191 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Nafees Danish

Read More Articles by Muhammad Nafees Danish: 16 Articles with 1932 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: