مادری زبان

(Anwar Graywal, Bahawal Pur)

 ہمارے گاؤں میں پنجابی زبان ہی بولی جاتی تھی، چھوٹے سے گاؤں میں پنجابی کے کئی لہجے موجود تھے، وجہ یہ تھی کہ بھارت سے مختلف علاقوں سے ہجرت کرکے آنے والے لوگ مختلف علاقوں میں بکھر گئے، بہت سے لہجوں کے اکٹھا ہونے سے زبان خالص نہ رہ سکی، یوں دوسری نسل نے نئی زبان ایجاد کر لی، یا ایک نیا لہجہ خود بخود معرضِ وجود میں آگیا، جس میں مختلف لہجے یکجا ہو گئے تھے۔ نہ کوئی بندہ رہا ، نہ کوئی بندہ نواز کے مصداق، گرداسپور، لدھیانہ اور جالندھر وغیرہ سے آنے والوں کی اولادیں کم از کم زبان اور لہجے کی حد تک شِیر و شکر ہو گئے۔ تین چار دہائیاں گزرتے گزرتے بہت سے لوگ شہروں کا رُخ کر گئے۔ پھر تیسری نسل آئی تو اُن کی زبان پہلی دونوں زبانوں سے مختلف تھی، یعنی انہوں نے لہجوں سمیت اپنی ماں بولی کو خیر باد کہہ دیا ، وہ اردو کی طرف پلٹ گئے۔ ایک تو اُن کے ذہن میں یہ بات راسخ کردی گئی تھی کہ اردو ہماری قومی زبان ہے، اور یہ بھی کہ اُن میں یہ احساس بھی موجود تھا کہ مادری زبان بولنا شاید تعلیم یا تہذیب کی کمی کی علامت ہے، جیسا کہ بہت پڑھے لکھے لوگ اپنے بچوں کے ساتھ انگلش میں بات کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

یہ قصہ صرف ہمارے ہی نہیں، ہر گاؤں کا ہے۔ تیسری نسل نے مادری زبان سے لاتعلقی کا عملی مظاہرہ کردیا ہے، نتیجہ یہ ہے کہ مقامی زبانیں نہ صرف بُری طرح زوال پذیر ہیں بلکہ بہت سی مقامی زبانیں اپنا وجود کھو چکی ہیں، اور بہت سی فنا کے گھاٹ اُترنے والی ہیں۔ ایک مقامی زبان سے دوسری مقامی زبان میں منتقلی کا تناسب بہت ہی کم ہے، پاکستان میں یہ تمام تر تبدیلی اردو کی طرف ہی جارہی ہے۔معاملہ دیہات کا ہو یا شہر کا، جو فرد بھی اپنی مادری زبان بولتا ہے، اسے تعلیمی ادارے میں داخل ہوتے ہی اردو کی طرف رجوع کرنا پڑتاہے۔ دیہات یا چھوٹے شہروں کے سکولوں میں ابھی تک کسی حد تک مقامی زبانیں ہی بولی جاتی ہیں، کچھ تعلیم حاصل کرلینے کے بعد جب کسی طالب علم کو اردو بولنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے، تو وہ آسانی سے یہ ہدف حاصل کر لیتے ہیں، کسی خصوصی محنت کے بغیر ہی لوگ اردو کی طرف منتقل ہوجاتے ہیں، خواہ وہ تعلیم یافتہ نہ ہی ہوں۔ اسی طرح اگلے مراحل میں انگلش تک بھی کچھ لوگ رسائی حاصل کرلیتے ہیں۔

اردو کا معاملہ بھی عجیب ہے، ایک طرف مقامی زبانوں کے زوال کے بعد یار لوگ اردو کی طرف منتقل ہو رہے ہیں، دوسری طرف اردو کا عالم یہ ہے کہ اس کو خود اپنے گھر میں جائے پناہ نہیں مل رہی، کوئی بااختیار فرد اُردو کو اپنے گھر ٹکانے کا روادار نہیں۔ بانی پاکستان کے قول کو بالائے طاق رکھ دیا گیا ہے۔ اردو چونکہ غریب لوگوں کی زبان ہے اس لئے اس کی ترقی کے امکانات بھی غریبوں جیسے ہی ہیں، جیسے غریب کے مقدر میں خوشحالی اور ترقی کم کم ہی ہوتی ہے، ایسے ہی اردو کے نصیب میں بھی اقتدار کی راہداریوں میں چہل قدمی شاید نہیں لکھی گئی۔ پاکستان کے اعلیٰ سے اعلیٰ اداروں سے لے کر نائب قاصد تک تمام لوگ بات تو اردو میں کرتے ہیں، مگر دفاتر، قانون اور دیگر اہم مقامات پر اُردو سرکاری زبان نہیں بن سکی۔ ستم ظریفی ملاحظہ ہو کہ پاکستان میں شرح خواندگی پچاس فیصد بھی نہیں، (حکومت کے دعوے جہاں تک مرضی چلے جائیں) مگر یہاں کا حکمران طبقہ انگریزی میں خط لکھتا اور اہم تقریبات میں انگریزی میں ہی خطاب کرتا ہے۔ قوم کے پلے چاہے کچھ بھی نہ پڑے، انگریزی میں بات کرنے کا فیشن بااختیار طبقے میں رچ بس چکا ہے۔ اسی لئے ہمارے معاشرے میں وہی معزز و محترم ہے جو انگلش میں بات چیت کرسکتا ہے۔

گویا مادری زبانیں کہ جو مقامی زبانیں بھی کہلاتی ہیں، اپنی پہچان اور حیثیت کھو رہی ہیں، وہ وقت زیادہ دور نہیں جب بہت سی زبانوں کا وجود ختم ہوچکا ہوگا، ان کے نام بھی عجائبات میں سے ہونگے ۔ مگر یہ زبانیں ختم ہو کر جس زبان (اردو) میں ضم ہورہی ہیں، اس کا نہ حال بہتر ہے اور نہ ہی مستقبل تابناک۔ اپنی مادری زبانیں کھو دینے کے بعد معلوم ہوگا کہ ’مرے تھے جن کے لئے وہ رہے وضو کرتے‘۔ مادری زبانوں کو بچانے کے لئے سب سے اہم کردار والدین ہی ادا کرسکتے ہیں، یہ بھاری ذمہ داری ریاست پر نہیں ڈالی جاسکتی، کیونکہ یہ اجتماعی کام نہیں، اور مادری زبان ایک نہیں ،بیسیوں ہیں۔ ہمارے ہاں مقامی زبانوں کے ضمن میں تعصب کا تصور بھی پایا جاتا ہے، اسی بنا پر علیحدگی کی باتیں ، لسانی بنیادوں پر صوبائی تعصب کی کہانی اور اسی سے اختلافات جنم لیتے ہیں۔ یہ مقامی زبانیں کوئی ایسی چیز نہیں ہیں کہ ترقی کا ریلا ان کو بہا لے جائے اور جانور کی سواری کی جگہ گاڑیاں اور جہاز لے لیں، قلم کی جگہ کمپیوٹر آجائے، خط کی جگہ ای میل ہوجائے۔ زبان تو مکمل طور پر ذاتی چیز ہوتی ہے، جس طرح والدین سے محبت انسان کی فطرت میں شامل ہے، اور مذہب اور اخلاق بھی اس کا درس دیتا ہے، اسی طرح والدین کے اثاثوں کی حفاظت بھی اولاد کی ذمہ داری ہے۔ہم عجیب لوگ ہیں، اپنی ماں سے محبت کرتے ہیں، مگر اس کی چھوڑی ہوئی ضروری چیزوں کو بھول چکے ہیں۔ مُٹھی سے ریت کی طرح گِرتی مادری زبان کو روکنے کے لئے ہمارے ہاں کوئی بندوبست نہیں، صرف مادری زبانوں کے عالمی دن پر کچھ سیمینا رہو جاتے ہیں، اور مادری زبان کی اہمیت اور ضرورت پر روشنی ڈال دی جاتی ہے، عملی کام صفر، ’ایک‘ دن (مادری زبانوں کا عالمی دن )کی چاندنی پھر سال بھر اندھیرا۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 93 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: muhammad anwar graywal

Read More Articles by muhammad anwar graywal: 581 Articles with 215586 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: