سول سوسائٹی کے فراری کیمپ۔ ؟

(Umer Farooq, )

سوشل میڈیا کی وباجب سے پھیلی ہے اس کے ساتھ کئی برائیوں نے جنم لیاہے سوشل میڈیاکے منفی استعمال کی وجہ سے معاشرے میں بہت سی اخلاقی و سماجی خرابیوں نے فروغ پایا اور ایسی سرگرمیاں بھی عروج پر ہیں جو معاشرے کے مختلف طبقات اورمکاتب فکر میں ایک دوسرے سے نفرت کو پروان چڑھانے اور باہمی انتشار اور خلفشار کا سبب بن رہی ہیں۔ معاشرے میں کچھ لوگ اپنے مخالفین کو بدنام کرنے کیلئے بے بنیاد خبروں کو پھیلانے، تصاویر اور خاکوں میں ردوبدل کرکے غلط استعمال کر رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر کسی بھی خبر یا افواہ کی تحقیق سے بھی پہلے وہ پوری دنیا میں نشر کر دی جاتی ہے۔ معلومات درست ہوں یا غلط،کوئی اس جھنجھٹ میں پڑتا ہی نہیں ہے۔ سوشل میڈیا پرکسی قسم کی کوئی روک تھام کا نظام موجود نہیں، ہر شخص اچھی بری بات کہنے اور لکھنے میں آزاد ہے۔

اسی سوشل میڈیاپرسول سوسائٹی ،سماجی کارکن ،سوشل میڈیاایکٹوسٹ اورموم بتی مافیاکے نام سے ایک ایسی مخلوق وجود میں آئی ہے جواپنے آپ کوقانون سے بالاترسمجھتی ہے ،اس مخلوق سے مذہب محفوظ ہے اورنہ ریاستی ادارے محفوظ ہیں ،اس مخلوق نے سوشل میڈیاکواپناہتھیاربنالیاہے ،کسے معلوم نہیں کہ پاکستانی عوام، حکومت اور قومی سلامتی کے اداروں کے خلاف بے بنیاد الزام تراشیوں کی روش اگرچہ مغربی اور بھارتی میڈیا کا دیرینہ مشغلہ رہا ہے مگر وطن عزیز کے کچھ حلقے بھی دانستہ یا غیر دانستہ طور پر اس میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں ،ہرگزرتے دن کے ساتھ اس میں کچھ زیادہ ہی شدت آ رہی ہے اور افواج پاکستان و آئی ایس آئی کے خلاف ایسے ایسے افسانے تراشے جا رہے ہیں جن کا نہ کوئی سر ہے نہ ہی پیر۔ درحقیقت پاکستان کے ازلی مخالفین گذشتہ 72 سالوں سے وطن عزیز کے خلاف منظم مہم چھیڑے ہوئے ہیں اور اس کے پس پردہ نہ صرف بھارت اور اسرائیل کے حکومتی طبقات ہیں بلکہ امریکہ اور یورپ کے کچھ حلقے بھی اس مکروہ مہم میں حصہ بقدر جثہ ڈال رہے ہیں۔

ان ممالک نے اس مخلوق کویہ سہولت فراہم کی ہوئی ہے کہ جب ان کی زبان درازی حدسے بڑھ جاتی ہے تووہ انہیں اپنے پاس بلالیتے ہیں تاکہ وہ وہاں بیٹھ کرملک وقوم کی خدمت کرسکیں، امریکہ ،ہالینڈ،برطانیہ میں فراری کیمپ بنائے ہوئے ہیں جہاں بیٹھ کریہ ہرزہ سرائی میں مصروف ہیں ،ضیا الدین یوسفزئی (ملالہ کے والد ) سے گل بخاری تک ایک طویل سلسلہ ہے جو غنیم کے درو بام پر ایستادہ اپنی دھرتی کو طعنہ زنی میں شب و روز ایک کیے ہوئے ہیں۔ان لبرلز کا مسئلہ یہ نہیں کہ اپنے اختلاف سے ملک کو صحیح سمت میں گامزن کرنے کی کوشش کریں۔ بلکہ ان کا مسئلہ یہ ہے کہ اپنے اختلاف کو اپنے لئے کیش کیسے کریں اور یہ لوگ اس ہنر میں بہت طاق بھی ہیں۔ تبھی تو لندن سے نیویارک اور جرمنی سے سوئٹزر لینڈ تک یہ پناہ گزین اپنی اپنی لائف اور لائف سٹائل سنوار چکے ہیں مگران کے فالورزخیالی دنیامیں انقلاب برپاکررہے ہیں ۔ یہ تو ہر ایک کو معلوم ہے کہ اکیسویں صدی کے آغاز ہی سے مغرب کی مالی امداد اور پشت پناہی سے این جی اوز کا ایک سیلاب رواں دواں ہے۔ ہرکوئی جانتاہے کہ بیرون امدادکے ٹکڑوں پرپلنے والے یہ سماجی کارکن اور نام نہاد سوِل سوسائٹی کے روحِ رواں اور کرتا دھرتا کون لوگ ہیں اور کس طرح کے طبقات ہیں،

انہی مفروروں میں حسین حقانی، طارق فتح، عائشہ صدیقہ،وقاص گورائیہ،گلالئی اسماعیل اوراب گل بخاری جیسے عناصر ہمہ وقت وطن عزیز کو مطعون کرنے کی جانب راغب نظر آتے ہیں، خصوصا پاک فوج تو ازل سے ہی پاک وطن کے مخالفین کے دل میں کانٹے کی طرح کھٹکتی ہے ، جب ان کے خلاف کاروائی کاآغازکیاجاتاہے توان کے پیٹ میں مروڑاٹھنے شروع ہوجاتے ہیں ان کی چیخ وپکارسنائی دیتی ہے ۔ابھی گزشتہ ماہ ہی دفاعی کمیٹی میں چیئرمین کمیٹی امجد نیازی نے ایف آئی اے کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ دنیا بھر میں ان کے سکیورٹی اداروں اور ملک کے خلاف سوشل میڈیا پر مواد کو کنٹرول کیا جاتا ہے اور سخت قوانین ہیں لیکن پاکستان میں ملکی مفاد اور قومی اداروں کے خلاف سوشل میڈیا پر بولنے والوں کے خلاف کچھ نہیں کیا جا رہا۔ اس معاملے کو سنجیدہ لینے کی ضرورت ہے۔جس پر ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے نے کمیٹی میں بتایا تھا کہ سوشل میڈیا پر ملکی مفاد اور اداروں کے خلاف پروپیگنڈا کرنے والے اب تک 21 لوگوں کو حراست میں لیا گیا ہے جبکہ 61 شکایتیں درج کروائی گئی تھیں۔

ایف آئی اے نے ایسے ہی ایک کردارکے خلاف کاروائی شروع کی ہے امیدہے کہ اس کاروائی کومنظقی انجام تک پہنچایاجائے گا ایف آئی اے نے گل نگار بخاری کو ملک دشمن عناصر کی فہرست میں شامل کرتے ہوئے ان پر اشتعال انگیزی پھیلانے کا الزام عائد کیا ہے۔ایف آئی اے کے انسدادِ دہشت گردی ونگ نے گل بخاری کو ایک ماہ کے اندر پیش ہو کر اپنی صفائی دینے کے لیے کہا ہے اور متنبہ کیا ہے کہ اگر انھوں نے ایسا نہ کیا تو ان کے خلاف سائبر کرائم کے قوانین اور انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ قائم کیا جا سکتا ہے اس کے ساتھ ساتھ ان کی ملک واپسی اور انٹرپول کے ذریعے گرفتاری کے لیے بھی قانونی چارہ جوئی عمل میں لائی جائے گی۔

ایف آئی اے کے انسدادِ دہشت گردی ونگ نے ایسے ملک دشمن عناصر کے خلاف جو کہ قومی سلامتی اداروں، عدلیہ اور حکومت مخالف اشتعال انگیز پروپیگنڈے میں ملوث ہیں،35 انکوائریاں شروع کی ہیں جس میں سے بیشتر کا تعلق سائبر دہشت گردی سے ہے۔ ان میں اہم تحقیقات بلوچ لبریشن آرمی اور حقانی نیٹ ورک کے علاوہ ان عناصر کے خلاف ہیں جو بیرون ملک بیٹھ کر اشتعال انگیزی پھیلا رہے ہیں۔سائبرکرائم میں سب سے زیادہ یہی مخلوق ملوث پائی گئی ہے ۔ایسے عناصرکے پرکاٹناضروری ہوگئے ہیں ۔

پاکستان اور برطانیہ کے مابین معاہدہ طے پا چکا ہے جس کے تحت پاکستان اور برطانیہ ملزمان کی حوالگی کے پابند ہیں جبکہ گل بخاری کو بھی اسی معاہدے کے تحت پاکستان لایا جانا ہے جس پر پی ٹی ایم خوب واویلا مچا رہی ہے حالانکہ یہ ایک قانونی کاروائی ہے یہ وہی سول سوسائٹی ہے جب مذہب اورمذہبی جماعتوں کے خلاف بات کرتی ہے توانہیں یہ درس دیتی نظرآتی ہے کہ قانون کی پابندی سب پرلازم ہے کوئی بھی قانون سے بالاترنہیں مگرجب یہ قانون ان کے خلاف حرکت میں آئے تویہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی بن جاتاہے ؟اسی لیے ہم کہتے ہیں کہ اپنی سوچ بدلیں قانون کااحترام کریں ،،سوچ بدلیں گے تو ہی سماج بدلے گا،،

اس دھرتی سے فرارہونے والے جان لیں کہ دھرتی سے غداری کرنے والے کبھی بھی چین کی نیندنہیں سوسکتے دنیاکے عیش کدوں میں گم ہوکرآپ چنددن توآرام سے گزارسکتے ہیں مگرحقیقی سکون نہیں پاسکتے اپنے آباء کی طرح آپ فرنگی سامراج کی غلامی کرتے رہیں رہی ہماری دھرتی ماں تو اس پر قربان ہونے والے میدان کارزار ہی میں دکھائی دیتے ہیں بھاگنے والے راستوں یا مغرب کے عیش کدوں میں نہیں کیونکہ یہ دھرتی ماں بد نصیب بہت سہی لیکن اس کی گود ابھی اجڑی نہیں۔اس دھرتی ماں کے جی دار بیٹے بھی بہت ہیں اور بازو بھی بہت۔

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 232 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Umer Farooq

Read More Articles by Umer Farooq: 49 Articles with 9808 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: