نواقضُ السلام : 7. سِحر (جادو) -

(Manhaj As Salaf, Peshawar)

ساتواں وہ عمل جس سے انسان دائرِ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے. یعنی اسلام سے نکل جاتا ہے دائرِ اسلام سے خارج کرنے والے اعمال کو نواقضُ السلام بھی کہتے ہیں. اور یہ تمام مسلمانوں کو معلوم ہونے چاہیں بعض لوگ غصّے میں آجاتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کے بس جنّت کا ٹھیکا تو تم نے لیا ہے. ہم ان سے کہتے ہیں بھائی اگر آپ دین کا علم حاصل نہیں کرو گے تو آپ کو کیسے معلوم ہوگا کے کون سا عمل صحیح ہے اور کون سا غلط؟ اس لئے علم حاصل کرنا چاہے تاکہ ہم گمراہی سے بچ جائیں. ان شاء اللہ.

سِحر (جادو) - جس میں ایسے جادو شامل ہیں جس سے انسان کسی چیز / کسی کے خلاف (نفرت) کے جذبات میں آجاتا ہے ، یا کسی چیز / کسی سے محبّت کرنے لگتا ہے۔ جو بھی یہ کرتا ہے یا اس کو صحیح سمجھتا ہے وہ انسان دائرِ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔ كیوں کہ، الله تعالى نے قرآن میں فرمایا ہے:

وَاتَّبَعُوا مَا تَتْلُو الشَّيَاطِينُ عَلَىٰ مُلْكِ سُلَيْمَانَ ۖ وَمَا كَفَرَ سُلَيْمَانُ وَلَـٰكِنَّ الشَّيَاطِينَ كَفَرُوا يُعَلِّمُونَ النَّاسَ السِّحْرَ وَمَا أُنزِلَ عَلَى الْمَلَكَيْنِ بِبَابِلَ هَارُوتَ وَمَارُوتَ ۚ وَمَا يُعَلِّمَانِ مِنْ أَحَدٍ حَتَّىٰ يَقُولَا إِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌ فَلَا تَكْفُرْ ۖ فَيَتَعَلَّمُونَ مِنْهُمَا مَا يُفَرِّقُونَ بِهِ بَيْنَ الْمَرْءِ وَزَوْجِهِ ۚ وَمَا هُم بِضَارِّينَ بِهِ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّـهِ ۚ وَيَتَعَلَّمُونَ مَا يَضُرُّهُمْ وَلَا يَنفَعُهُمْ ۚ وَلَقَدْ عَلِمُوا لَمَنِ اشْتَرَاهُ مَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ ۚ وَلَبِئْسَ مَا شَرَوْا بِهِ أَنفُسَهُمْ ۚ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ ﴿١٠٢﴾

ترجمه: اور اس چیز کے پیچھے لگ گئے جسے شیاطین (حضرت) سلیمان کی حکومت میں پڑھتے تھے۔ سلیمان نے تو کفر نہ کیا تھا، بلکہ یہ کفر شیطانوں کا تھا، وه لوگوں کو جادو سکھایا کرتے تھے، اور بابل میں ہاروت ماروت دو فرشتوں پرجو اتارا گیا تھا، وه دونوں بھی کسی شخص کو اس وقت تک نہیں سکھاتے تھے جب تک یہ نہ کہہ دیں کہ ہم تو ایک آزمائش ہیں تو کفر نہ کر، پھر لوگ ان سے وه سیکھتے جس سے خاوند وبیوی میں جدائی ڈال دیں اور دراصل وه بغیر اللہ تعالیٰ کی مرضی کے کسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے، یہ لوگ وه سیکھتے ہیں جو انہیں نقصان پہنچائے اور نفع نہ پہنچا سکے، اور وه بالیقین جانتے ہیں کہ اس کے لینے والے کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔ اور وه بدترین چیز ہے جس کے بدلے وه اپنے آپ کو فروخت کر رہے ہیں، کاش کہ یہ جانتے ہوتے

(سورة البقرة: 2 آيت: 102)

الله تعالى ہمیں ہر قسم کے جادو کرنے یا اس پر یقین کرنے یا جادوگروں کے قریب جانے سے بھی بچائے اور ہمارے اسلام کی حفاظت فرمائے كیوں کہ جادو گروں کے پاس جانا اور اس کی بات پر یقین کرنا کفر ہے:

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"..أَوْ كَاهِنًا فَصَدَّقَهُ بِمَا يَقُولُ فَقَدْ كَفَرَ بِمَا أُنْزِلَ عَلَى مُحَمَّدٍ ‏"‏ ‏.‏

یا کاہن کے پاس جائے اور اس کی باتوں کی تصدیق کرے، تو اس نے ان چیزوں کا انکار کیا جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اتاری گئی ہیں“

(سنن ابن ماجه: حدیث نمبر: 639، قال المحدث الشيخ الألباني: صحيح)

جادوگار کے پاس یقین نہ کرنے، بل کے صرف جانے تک کی سختی اس روایت سے دیكهیں، کے اس کی ٤٠ دن کی نماز بھی قبول نہ ہوگی :

عَنْ صَفِيَّةَ، عَنْ بَعْضِ، أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ أَتَى عَرَّافًا فَسَأَلَهُ عَنْ شَىْءٍ لَمْ تُقْبَلْ لَهُ صَلاَةٌ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً ‏"‏ ‏.

‏‏‏‏ صفیہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک بی بی سے سنا، وہ کہتی تھیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص عراف کے پاس جائے اس سے کوئی بات پوچھے تو اس کی چالیس دن کی نماز قبول نہ ہو گی۔“

(صحيح مسلم، ترقیم فوادعبدالباقی: 2230)

اس سے ثابت ہوا کے کاہن، نجومی وغیرہ کے پاس صرف جانے ہی سے ٤٠ دن کی نماز نہیں قبول ہوتی. اور جو اس پر یقین کر لے اس پر تو کفر لازم آتا ہے كیوں کہ وہ الله کے دین کا انکار کر رہا ہے. جیسا کے الله نے فرمایا:

«قل لا يعلم من في السماوات والأرض الغيب إلا الله»
کہہ دیجئے ”کہ آسمان اور زمین میں سے اللہ کے علاوہ کوئی بھی غیب کا علم نہیں رکھتا“ (النمل:65)

«وما تدري نفس ماذا تكسب غدا»
”اور کسی بھی نفس کو یہ نہیں معلوم ہے کہ وہ کل کیا کمائے گا“ (لقمان:34)

ہاں، لیکن اگر کوئی شخص کاہن یا نجومی یا اس قسم کے اور شعبدہ بازوں کو بے نقاب کرنے کے لئے باقاعدہ منصوبہ بندی سے پولیس کو شامل کر کے ایسے لوگوں کے پاس جائیں، مثلا اقرار الحسن صاحب، تو یقینا وہ مستحسن عمل ہے اور ایک جہاد ہے تا کے ان لوگوں کو پکڑا جاۓ اور قرار واقعی سزا دی جاۓ،جو عام، معصوم اور کم علم اور جاہل لوگوں کو اپنی جھوٹ بولنے کی صلاحیّت پر گمراہ کر دیتے ہیں. الله تعالى ہمیں ہر قسم کے سِحر، جادو، کاہن اور نجومی اور دیگر اس قسم کے لوگوں سے اپنی پناہ میں رکهے, اللّھم آمین
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 382 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Manhaj As Salaf

Read More Articles by Manhaj As Salaf: 266 Articles with 182405 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
جادوگر کی اسلام میں سزا

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’کہ سات تباہ کن گناہوں سے دور رہو۔‘‘ صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ کون سے ہیں؟ آپ نے فرمایا:

"‏ الشِّرْكُ بِاللَّهِ، وَالسِّحْرُ، وَقَتْلُ النَّفْسِ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلاَّ بِالْحَقِّ، وَأَكْلُ الرِّبَا، وَأَكْلُ مَالِ الْيَتِيمِ، وَالتَّوَلِّي يَوْمَ الزَّحْفِ، وَقَذْفُ الْمُحْصَنَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ الْغَافِلاَتِ ‏"‏‏.‏

ترجمه:  اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا ‘ جادو کرنا ‘ کسی کی ناحق جان لینا کہ جسے اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے ‘ سود کھانا ‘ یتیم کا مال کھانا ‘ لڑائی میں سے بھاگ جانا ‘ پاک دامن بھولی بھالی ایمان والی عورتوں پر تہمت لگانا ۔

(صحيح البخاري: حدیث نمبر: 2766)

جس طرح جادو کرنا بہت سنگین جرم ہے، اسی طرح جادوگروں کی باتوں پر یقین کرنا بھی انتہائی خطرناک گناہ ہے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تین قسم کے لوگ جنت میں نہیں جائیں گے شراب پینے والا، قریبی رشتہ داروں سے قطع تعلقی کرنے والا اور جادوگر کی باتوں پر یقین کرنے والا۔‘‘ (مسند امام احمد،ص:۳۹۹، ج ۴)

صحابہ کرام رضي الله عنهم کا موقف تھا کہ جادوگر کو قتل کر دیا جائے، چنانچہ ام المؤمنین سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا پر ان کی باندی نے جادوکیا تھا لہٰذا اُم المؤمنین نے (بطور سزا) اسے قتل کرنے کا حکم دیاتو اسے قتل کردیاگیا

( مؤطا امام مالک 2/444، اس موقوفا قول کی استنادی حیثیت معلوم نہیں, واللهُ اعلم)

سيدنا عمر رضي الله عنه نے اپنی شہادت سے ایک سال قبل سرکاری فرمان جاری کیا تھا جس کے الفاظ یہ ہیں۔ راوی کہتا ہے ۔’’ سيدنا عمر رضي الله عنه کی ایک سال وفات سے قبل ان کا خط ہمیں موصول ہوا۔ انہوں نے فرمایا، ہر جادوگر مرد اور عورت کو قتل کر دو، چنانچہ ہم نےتین جادوگر عورتوں کو قتل کیا۔

(مسند امام احمد ،ص:۱۹۰،ج۱، مصنف عبدالرزاق 10/180  اس موقوفا قول کی استنادی حیثیت معلوم نہیں، واللهُ اعلم)
By: Manhaj As Salaf, Peshawar on Mar, 06 2020
Reply Reply
0 Like
Language:    

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ