جنون سے عشق تک - قسط :- دوسری

(Aiman Shah Bangash, Islamabad)

السلام عليكم۔۔۔۔!! اماں جان حیا گھر میں داخل ہوتے ہی اماں جان کے پاس سلام کر کے بیٹھ گئی ۔۔۔۔۔

وعلیکم السلام گڑیا ۔۔۔۔!!

واہ اتنا پیارا سوٹ اماں یہ کس کا ہے ۔۔۔۔۔؟

اپنے اماں کے ہاتھ میں سوٹ دیکھ کے پوچھنے لگی ۔۔۔۔۔؟

بیٹا تمہیں بتایا تھا نہ پڑوس میں جو نازیہ انٹی ہے انکی بیٹی فلک کی شادی ہے ۔۔۔۔

اس کی بیٹی کے کپڑے سی رہی ہوں ۔۔۔۔

بیٹا تمہیں پسند ہے کیا یہ سوٹ؟؟ ۔۔۔۔

حلیمہ اپنی بیٹی کی آنکھوں میں اس سوٹ کے لئے خوشی دیکھ کے پوچھنے لگی ۔۔۔۔۔

دل سب کا کرتا ہے رنگوں کو دیکھنے کا پہننے کا لیکن اختیارات اور نصیب سے ہار جاتا ہے انسان...۔۔حیا سوٹ کو رکھتے ہوئے بولی ۔۔۔۔

جس پر اماں خاموش ہو گئی ۔۔۔

اماں انسان گناہ سے باز کیسے آتا ہے؟حیا کچھ سوچ کے اپنی اماں سے پوچھنی لگی ۔۔۔۔

بیٹا انسان گناہ تب کرتا ہے جب اسے یقین ہوتا ہے کہ کوئی اسے دیکھ نہیں رہا،ہم لوگ بڑے جھلے ہیں ، زبان سے کہہ دیتے ہیں کہ اللہ دیکھ رہا ہے لیکن یہ بات ہمارے مشاہدے میں نہیں کہ اللہ ہمیں دیکھ رہا ہے. اس لئے دل میں یقین بھی نہیں کہ اللہ دیکھ رہا ہے. بس یہی وجہ ہے کہ ہم گناہ کرتے ہیں...

دیکھو بیٹا مثال کہ طور پر آپ چوری کرنا چاہتے ہیں لیکن وہاں لوگ موجود ہیں اور آپ کو دیکھ رہے ہیں تو کیا آپ چوری کرو گے؟ نہیں نہ۔۔۔۔..

اس لئے کہ آپ کو لوگ نظر آ رہے ہیں اور آپ کو دل سے یقین ہے کہ پکڑے جاؤ گے. اسی لئے آپ چوری نہیں کرو گے.

انسان گناہ تب چھوڑتا ہے جب وہ اللہ کو جان لیتا ہے. جب یقین میں داخل ہوتا ہے۔۔۔۔۔

اماں یہ بات آپ علی کو کیوں نہیں سمجھاتی ۔۔۔سارا دن آوارہ دوستوں کے ساتھ پھرتا رہتا ہے۔۔۔۔۔نہ جانے اس لڑکے کا کیا بنے گا ۔۔۔؟؟

حیا اپنے بھائی علی کے بارے میں سوچتے ہوئے ماں سے پوچھنے لگی ۔۔۔۔۔

بیٹا رشتے اور راستے زندگی کے دو پہلو ہیں کبھی کبھی رشتے نبھاتے نبھاتے راستے کھو جاتے ہیں اور کبھی راستوں پر چلتے چلتے رشتے بن جاتے ہیں!!

کسی کو رشتے راس آجاتے ہیں اورکسی کو راستے فرق صرف اتنا ہے کہ راستوں کے دکھ برداشت ہو جاتے ہیں لیکن رشتوں کے نہیں!!

مجھے ڈر ہے کے اپنے بیٹے کو کھو نہ دوں ۔۔۔۔بات بات پر گھر چھوڑنے کی دھمکی دیتا ہے ۔۔۔۔

چل اماں پریشان نہ ہو بہت بھوک لگی ہے کھانا کھاتے ہیں ۔۔۔

میں کھانا لگاتی ہوں تم آجاؤ اماں مشین کو سائیڈ پے رکھتے ہوئے اٹھنے لگی ۔۔۔۔۔

ارے واہ بریانی حیا بریانی کو دیکھ کے خوش ہونے لگی ۔۔۔۔

اماں آپ نہ دنیا کی سب سے اچھی ماں ہے ۔۔۔۔میرا کتنا خیال رکھتی ہے ۔۔۔۔۔میرا آج بریانی کھانے کے لئے بہت دل کر رہا تھا ۔۔۔۔۔

اللہ‎ نے مجھے چاند سی بیٹی سے نوازا ہے ۔۔۔خیال تو رکھونگی۔۔۔۔اماں پلیٹ میں بریانی ڈالتے ہوئے کہنے لگی۔۔۔۔۔

یہ لو بیٹا اپنے فضل چاچو کے گھر دیکھیں آجاؤ جلدی سے ۔۔۔۔

اماں بریانی کی پلیٹ حیا کو دیتے ہوئے کہنے لگی ۔۔۔۔

میں نہیں جاؤنگی اس نوفل لوفر کے گھر ۔۔۔۔جس پر حیا نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے جواب دیا ۔۔۔۔

بیٹا غلط بات ہے جاؤ۔۔۔۔شاباش چاچو ہے تمہارے ۔۔۔۔۔کتنا خیال رکھتے ہے ہمارا ۔۔۔۔!!

اچھا اماں جاتی ہوں ۔۔۔۔حیا اماں سے بریانی کی پلیٹ لیکے ساتھ والے گھر میں داخل ہوئی جو اس کے چاچو فضل کا گھر تھا ۔۔۔حیا کیچن میں پلیٹ رکھ کے جانے ہی والی تھی کے سامنے سے اتے ہوئے نوفل نے اس کا راستہ روک لیا ۔۔۔۔۔

'' مجھے ڈر لگتا ہے
تم کو کھو دینے سے
تم سے دور ہونے سے
مگر جو انداز ہیں تیرے
مجھے مجبور کرتے ہیں
تم سے دور کرتے ہیں
یہ جو اجنبی لہجہ تیرا
میری سانس بند کرتا ہے
مجھے تنگ کرتا ہے
میں دعا کرتا ہوں
خوش رہو تم صدا
میں نہ یاد آوں تم کو
رولاوں نہ تم کو
مگر میرا یہ دل کہتا ہے
بہت مجبور ہو گے تم
مجھ سے دور ہو گے تم
مجھ کو بہت یاد کرو گے تم
پھر فریاد کرو گے تم
کے مجھ کو یاد نہ آو
کہ اب ایسے نہ ستاو
فقط مان لو اتنا
بس جان لو اتنا
کہ تم بن مر جاینگے
اب نہ سہہ پاینگے
بہت یاد آتی ہو تم
بہت ستاتی ہو تم؛؛

نوفل ایک ایک قدم اس کے قریب ہوتے ہوئے غزل سنا رہا تھا ۔۔۔۔

جیسے ہی اس نے حیا کا ہاتھ پکڑا ۔۔۔۔حیا کے آنکھوں سے آنسوں بہنے لگے ۔۔۔۔۔

جا جا جا نے دو مجھے ۔۔۔۔حیا نے اتنا ہی بولنے کی ہمت کی ۔۔۔

تبھی نوفل نے مسکراتے ہوئے اس کا ہاتھ چھوڑآ جاؤ میری جان اخیر کار آنا تو تم نے یہی ہے میرے گھر میں ۔۔۔۔تمہارے باپ نے زبان دی ہے مجھے اور بدلے میں پیسے لئے ہیں ۔۔۔۔

یہ سن کر تو حیا کے پیلو تلے سے زمین کھینچ لی ہو کسی نے ۔۔۔۔

اس کا دل کیا ابھی زمین میں دفن ہو جاۓ ۔۔۔۔

گھر آتے ہی اماں کے پاس بیٹھی تھوڑا سا کھانا کھا کے اپنے کمرے میں جاکے خوب روئی ۔۔۔

کب سے بس روئے جا رہی تھی ۔۔۔۔ٹائم گزرنے کا اسے پتا ہی نہیں چلا ۔۔۔۔

وہ رو رہی تھی ہر رات کی طرح آج بھی رات کے تین بج رہے تھے۔۔۔۔۔وہ تہجد کی نماز پڑھتی تھی کیونکہ تہجد کی نماز پڑھنے والے کے سارے دوعا قبول ہوتی ہے ۔۔۔۔۔۔

وہ اپنے رب کے سامنے رو رو کر اپنے لیے دعا کرتی تھی کے اس کے گھر کے حالات ٹھیک ہوجاۓ اور وہ کچھ بنے ۔۔۔۔کے لوگ اس پر فخر کریں ۔۔۔۔!!

آج حیا کا رزلٹ تھا اسلئے وہ ختم کرنے لگی اپنے لئے ۔۔۔۔

*----------------------------*

( ناول :- جاری ہے )
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Aiman Shah Bangash

Read More Articles by Aiman Shah Bangash: 4 Articles with 1873 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
02 Mar, 2020 Views: 415

Comments

آپ کی رائے