میرے ہمدم میرے دوست

(Naveen Khalid, karachi)

تحریر: نوین خالد

صنوبر تیزی سے گھر میں داخل ہوئی،"حیا جلدی سے نیوز لگاو۔" "کیا ہوا؟"،میں گھبراکر کھڑی ہوگئی۔
دل میں وسوسے سر اٹھانے لگے۔ ٹی وی آن کیا نیوز چینل پر کسی احتجاجی مارچ کی نیوز چل رہی تھی۔"آپ کے اس مارچ کا مقصد ‏کیا ہے؟"، رپورٹر نے ایک صاحب سے سوال کیا۔ " ہم دنیا کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ یہاں صرف عورت ہی مظلوم و مجبور ‏نہیں،ہم بھی عورت کے مظالم کا شکار ہیں۔اب ہم سے خواتین کے مظالم برداشت نہیں ہوتے اور ہم اس سے نجات حاصل ‏‎ ‎کرنا ‏چاہتے ہیں۔اسی لیے مرد مارچ کا انعقاد کیا گیا ہے۔۔۔۔اور ہاں اگر اپ بھی کسی عورت کے ظلم کا شکار ہیں توہمارے ساتھ شامل ‏ہو جائیں۔"‏
میں انگشت بدانداں اسکرین پر نظر جمائے بیٹھی تھی جہاں مختلف پلے کارڈز دکھائے جارہے تھے۔
‏"اپنا خرچہ خود اٹھاو۔" /// " میں تمہارا نوکر نہیں جوتمہیں میکے لے کر جاوں۔"‏
‏"پارلر جاو تو اپنا پیسہ لگاو۔"///"میں تمہارا زر خرید نہیں جو ہر وقت تمہاری سنوں۔"‏
‏"بچوں کی فیسیں خود بھرو۔"‏‎ ///‎‏"شاپنگ کرنے کے لیے ظالم مردوں کو زحمت نہ دو۔"‏
‏"شاپنگ اپنے پلے سے کرو۔"‏‎ /// ‎‏"اپنی ڈینٹنگ پینٹنگ اپنے پیسوں سے کرو۔"‏
‏"سودا سلف خودلاو، اپنا بوجھ خود اٹھاو۔"‏‎ /// ‎‏"آنسوبہانے کے لیے میرا کندھا میسر نہیں۔"‏
‏ "میری زندگی میری مرضی۔"‏‎///‎‏"مجھے اپنی زندگی جینے دو۔"‏
میں نےتحیر سے صنوبر کی طرف دیکھا جو میری طرف دیکھ کر مسکرا رہی تھی۔ جیسے کہہ رہی ہو کہ ایسا تو ہونا ہی تھا۔ رپورٹر اور ‏صاحب کی طرف متوجہ ہوئے جو بہت غصے میں بھرے بیٹھے تھے۔ "سارا دن محنت کر کے کمائیں، شام کو گھر آئیں توبیگم صاحبہ کو ‏شاپنگ جانا، بچوں کو گھومنے جانا ہےتھکن کے باوجود ان کی خوشی کی خاطر انہیں لے کر جائیں'عید ہو یا کسی کی شادیاپنی ضروریات ‏کو فراموش کر کے اپنے بیوی بچوں کی ضروریات پورا کریں۔آئے دن بیگم کو ان کی اماں کے گھر کی یاترا کرائیں۔دکھ، ‏بیماری،بچوں کی فیس ، گھر کی آرائش و زیبائش اور گھر والوں کی ضروریات کے لیے دو،دو نوکریاں کریں۔اپنے گھر والوں کو ٹائم ‏دیں۔ان کی حفاظت کریں، پھر بھی ہم ظالم۔۔ہم نے قید میں رکھا ہوا ہے۔۔۔ہم حقوق پورے نہیں کرتے۔ اب ہمیں آزادی ‏چاہئیے ان سب ذمہ داریوں سے ۔ یہ سب کام خود کروگھر کی کفالت خود کرو، حفاظت کے لیے باڈی گارڈ رکھو، کہیں جانے کے ‏لیے بسوں کے دھکے کھاو یا ڈرائیور رکھو۔ہمیں اپنی زندگی آزادی اور اپنی مرضی سے جینے دو۔"‏
‏"ہمیں ذمہ داریوں سے آزادی دو۔" ////" ہماری زندگی ہماری مرضی ۔"‏
سب زور زور سے نعرے لگانے لگے۔اور پھر- - - - - -‏
یکدم میری آنکھ کھل گئی اور میں گھبرا کراٹھ بیٹھی۔ برابر میں میاں صاحب لیپ ٹاپ پر آفس کا کام کر رہے تھے۔تو نرمی سے ‏پوچھا،"کیا ہوا؟ کیا کوئی ڈراونا خواب دیکھ لیا۔؟" میں نے اثبات میں سر ہلایا۔انھوں نے مجھے پانی پلایا میرے پاس بیٹھے ۔"کیا ‏کوئی پریشانی ہے تم خواب سے ڈرتی تو نہیں؟" میں نے اپنا پورا خواب سنایا۔انھوں نے زور دارقہقہہ لگایا۔میرے ہاتھ کو اپنے ‏دونوں ہاتھوں میں لے کر ملائمت سے کہا"میری ہمدم ! اللہ تعالٰی نے عورت و مرد کو ایک دوسرے کا دست راست بنایا ہےمرد ‏عورت کا محافظ ،اسکا کفیل اور سائبان ہوتا ہے اور عورت مرد کے لیے ہر رشتے میں قابل محبت واحترام ۔ ماں کی صورت میں ‏بہترین رہنما،بہن ہے تو دوست، بیٹی کی شکل میں خوشی اور بیوی - - -ہم راز، ہمدم ،ہمیشہ خیال رکھنے والی،مرد کی غیر موجودگی ‏میں اسکے گھر اور بچوں کی حفاظت کرنے والی گویا پوری کائنات ہوتی ہے بیوی۔صرف چند عورتوں کی ناسمجھی، لاعلمی ،اسلام سے ‏دوری اور بے سروپا باتوں کی وجہ سے کسی کے وقار و تکریم میں کوئی کمی نہیں ہوسکتی۔اسلام نے مرد وعورت کے کچھ حقوق و ‏فرائض متعین کیے ہیں ان کو پورا کر کے ہی ایک مضبوظ خاندان کی بنیاد رکھی جاسکتی ہےکیونکہ عورت و مرد ایک دوسرے کے ‏لیے لازم و ملزوم ہیں۔" ‏

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Naveen Khalid
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
04 Mar, 2020 Views: 585

Comments

آپ کی رائے