اردو شاعری میں معاملہ بندی اور قلندر بخش جرات

(M P Khan, Buner)

اردوشاعری میں ہردبستان کی کچھ مخصوص خصوصیات ہیں، جن کی بنیاد پر اس علاقے یادبستان میں شاعری تخلیق ہوتی ہے۔ دبستان لکھنو کی نمایاں خصوصیت وہاں کی شاعری میں معاملہ بندی ہے۔شاعری میں معاملہ بندی سے مراد رازونیاز کی وہ باتیں ہیں جوخلوت میں طالب ومطلوب یعنی عاشق ومعشوق کے درمیان ہوتی ہیں۔یہ باتیں پیار ومحبت کی جذباتی گفتگو بھی ہوسکتی ہیں اورہوس پرست جذبات کااظہار بھی ۔ اسی اعتبارسے دیکھاجائے تومعاملہ بندی لکھنوکی شاعری پر ایک بدنماداغ ہے، تاہم اردوشاعری اپنے اندربے شمارموضوعات سموئی ہوئی ہے۔ معاملہ بندی دراصل معاملات درونِ پردہ ہیں،جن کو شاعری کاموضوع بنانا بہت نازک اورمشکل امرہے کیونکہ معیاری غزل محبت اورجذباتِ محبت کے اظہارکے لئے ہے نہ کہ جنسیات اورشہوانیت کے لئے۔جس طرح جسم پر لباس کاپرد ہ ہے بالکل اسی طرح خواہش جنسی پر بھی الفاظ کے رنگین اوردبیز پردے ڈال کرہی اس کااظہارمناسب ہے لیکن اکثر لکھنوی شعراء نے اختلاط کو درپردہ رکھنے کی بجائے بے پردہ کردیا اوراسے معاملہ بندی کے کھاتے میں ڈال دیا۔ اردوشاعری کابیشتر سرمایہ بلند اورارفع مضامین اورالفاظ پر مشتمل ہے اورزیادہ شعراء نے تہذیب ، شائستگی، اخلاق ، تصوف اورعالی ظرفی کادامن ہاتھ سے جانے نہیں دیاہے، تاہم کچھ شعراء ایسے بھی ہیں ،جنہوں نے اپنے ذہنی مزاج اوراس دورکے مخصوص حالات اورمعاشرتی رجحانات کے زیراثر معاملہ بندی اورابتذال سے شاعری کے دامن کو داغدارکیاہے۔ ہمارے بیشترشعراء نے ناکامی محبت اورغم عشق کی لذت کاتذکرہ کیاہے اورحزن ویاس کوغزل کے لوازمات میں شمارکیاہے لیکن اگرکسی کو عشق میں ناکامی کی بجائے کامرانی اورمحبوب کاقرب میسر ہوتواسکی شاعری کارنگ کیساہوتاہے۔ایسے شاعری میں گرم جذبات اورراز ونیاز کی باتیں ہوں گی۔یہی رازونیازکی باتیں جب لفظوں میں ڈھلتی ہیں توشاعری میں معاملہ بندی کارنگ پیداہوتاہے۔آتش کے اشعار ملاحظہ ہوں، جن میں معاملہ بندی کارنگ واضح ہے۔
صبح تک وصل کی شب شام سے عریاں رکھا
نہ رہاپیرہن ِ یار کاپردہ باقی
پاؤں کو ان کے چھوا میں نے توہنس کربولے
کاٹے جاتے ہیں توایسے ہی گنہگار کے ہاتھ

معاملہ بندی اورابتذال دہلوی شعراء کے ہاں بھی نظرآتاہے اوراس حمام میں صرف آبروہی بے آبرونہیں ہوئے بلکہ میری تقی میر بھی ننگے نظرآتے ہیں، تاہم مجموعی طورپر دیکھاجائے تویہ بدنامی لکھنو کے حصہ میں زیادہ آئی ہے۔اسکی بنیادی وجہ لکھنو تہذیب میں عیش وعیاشی اورطوائفوں کی کثرت سے ایک قسم کازنانہ پن اورکھوکھلاپن پیداہوناہے۔بعض شعراء نے بازاری عورتوں کی بول چال کو بھی شاعری کاحصہ بنایاہے اوراس وجہ سے دبستان لکھنو میں ریختی جیسی صنف کوفروغ حاصل ہوناہے۔

لکھنوی شاعری میں معاملہ بندی کاسب سے بڑانام قلند ربخش جرات ہے، جواس فن کے امام مانے جاتے ہیں ۔موصوف دہلوی ہونے کے باوجودلکھنوکے حساب میں لکھے جاتے ہیں۔اردوشاعری میں معاملہ بندی کی اصطلاح انہی کی وجہ سے عام ہوئی ۔جرات نے عاشقانہ جذبات اورجنسی خواہشات کو آپس میں ضم کردیا لیکن فن کادامن کبھی نہیں چھوڑاہے۔یہی وجہ ہے کہ جرات کے کلام میں لذت بھی ہے اورلطافت بھی۔

قلندربخش جرات کی پیدائش دہلی میں ہوئی ۔بچپن میں والد کے سائے سے محروم ہوئے اورنوعمری ہی میں دہلی سے لکھنو منتقل ہوئے ، جہاں انہوں نے شاعری کے علاوہ نجوم اورموسیقی بھی سیکھی۔موسیقی میں ستارسے بہت شغف تھااوربہت اچھاستاربجاتے تھے۔ نہایت خوش مزاج اوربذلہ سنج تھے اورانکی لطیفہ گوئی کی مردوں کے ساتھ ساتھ عورتوں میں بھی بڑی قدرتھی اوراس وجہ سے وہ بیگمات میں بڑے مقبول تھے۔جوانی میں چیچک کی وجہ سے بینائی سے محروم ہوئے تھے۔اگرچہ محمدحسین آزاد نے آب حیات میں لکھاہے کہ ایک بیگم صاحبہ کو انکے لطیفے بہت پسند تھے، چنانچہ اسکے ساتھ بہت بے تکلف ہوئے تھے۔جب ضعف بصرکی شکایت ہوئی تواس نے کہہ دیا کہ بینائی چلی گئی اورچند روزباغ حسن سے محظوظ ہوتے رہے کہ ایک دن انہوں نے ایک لونڈی سے آفتابے میں پانی لانے کے لئے کہا ۔اس نے کہاکہ آفتابہ نہیں ہے۔ جرات کے منہ سے بے ساختہ نکلا، وہ سامنے پڑاہواہے۔پھرکیاتھابس رازکھل گیا اورخوب بدنامی ہوئی ۔ خداکاکرناایساہواکہ کچھ دنوں بعدواقعی آنکھیں کھوبیٹھے۔

بصارت سے محرومی کے بعدسماعت اورلمس کی قوتیں ابھرآئیں اوروہ چیزوں کوٹٹول کردیکھنے لگے۔آنکھ نہ ہوتومروت بھی نہیں رہتی اورآنکھیں چارکرنے کاسوال ہی پیدانہیں ہوتا۔جرات کو زمانے کی شرم باقی نہ رہی اوروہ دل کی باتیں زبان پرلے آئے۔اُس معاشرے میں اس قسم کی جذباتی اورلمسیاتی شاعری پر واہ واہ کرنے والے بھی بہت تھے۔اس لئے جرات نے خوب رازِ درون پردہ کو آشکارکرکے اپنااورسننے والوں کاجی خوش کیااوریہی سے انکی شاعری میں معاملہ بندی کارنگ پروان چڑھنا شروع ہوا۔ان تمام حالات کے تناظر میں مجھے یہ کہنے میں ذرابھی تامل نہیں کہ جرات حسن پرستی اورعاشقی کے حدودسے تجاوزکرکے جسم پرستی تک پہنچے ہیں۔انکی گرم نگاہ محبوب کے حسن پرنہیں بلکہ گدازجسم اوراعضاپررہتی ہے اوراپنی شاعری میں جن معاملات کاذکرکرتے ہیں وہ جنسی اختلاط کے سواکچھ نہیں۔

اردوشاعری میں معاملہ بندی کے حوالے سے حسرت موہانی کانام بھی قابل ذکرہے مگرانکی معاملہ بندی اورجرات کی معاملہ بندی میں زمین آسمان کافرق ہے۔ حسرت موہانی جرات کی شاعری کے بارے میں اپنی رائے دیتے ہیں۔ـ’’جرات کاکلام سادگی زبان کے ساتھ حسن وعشق کے معاملات سے لبریزہے مگرکیساعشق جس کو ہوس پرستی کے سوااورکوئی نام نہیں دیاجاسکتا‘‘۔

معاملہ بندی کے حوالے سے جرات کے کچھ اشعارملاحظہ ہوں۔
شب جو کچھ اورکہامیں توکس اداسے بولے
میرے اورتیرے کچھ اس بات اقرارنہ تھا۔
آج گھیراہی تھااسے میں نے
کرکے اقرارمجھ سے چھوٹ گیا
کچھ اشارہ جوکیاہم نے ملاقات کے وقت
ٹال کرکہنے لگے دن ہے ابھی رات کے وقت
کل واقف کاراپنے سے کرتاتھاوہ یہ بات
جرات کے گھرجورات کو مہمان گئے ہم
کیاجانئے کم بخت نے کیاہم پہ کیاسحر
جوبات نہ تھی ماننے کی مان گئے ہم

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: MP Khan

Read More Articles by MP Khan: 100 Articles with 51074 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
04 Mar, 2020 Views: 1484

Comments

آپ کی رائے