سچ تو یہ ہے (۱۹واں حصہ )

(Muhammad Siddique Prihar, Layyah)

 منظر۱۴۹
ایک بڑے کمرے میں کم وبیش ایک سوکرسیاں رکھی ہیں سٹیج کے طورپردیوارکے ساتھ دس کرسیاں الگ سے رکھی ہوئی ہیں تمام کرسیوں پرمہمان بیٹھے ہیں۔ایک شخص قرآن پاک کی تلاوت کرتاہے ایک شخص محمدعلی ظہوری کالکھاہوا نعتیہ کلام سناتاہے
اخترحسین۔۔۔۔گفتگوکاآغازکرتے ہوئے۔۔۔۔گزشتہ اجلاس میں ہم نے یہ طے کیاتھا کہ بچوں اورلڑکوں میں کون کون سے مقابلے ہوں گے ۔اب یہ فیصلہ کریں گے کہ مردوں میں کیامقابلے کرائے جائیں۔ اس بارے مشورہ دیں
ارشدجمال۔۔۔۔ہمیں بچوں اورلڑکوں میں سجاوٹ کامقابلہ بھی کرناچاہیے
اخترحسین۔۔۔۔یہ طے ہوگیا
ناصراقبال۔۔۔۔۔مردوں میں پگڑی باندھنے کامقابلہ کراناچاہیے
عبدالغفور۔۔۔۔یہ ایک اچھامشورہ ہے مردوں میں زمین کی تیاری کامقابلہ کرایاجائے
رشیداحمد۔۔۔۔سب مشورے بہترین ہیں ہمیں بچوں، لڑکوں اورمردوں کی الگ الگ کمیٹیاں بنادینی چاہییں جوان مقابلوں کاانتظام کریں
اخترحسین۔۔۔۔کیاسب لوگ رشیداحمدکے مشورے سے اتفاق کرتے ہیں
تمام شرکاء۔۔۔۔ہم سب اتفاق کرتے ہیں
اخترحسین۔۔۔۔۔کمیٹیاں بنالو ایک چوتھی کمیٹی بھی بنے گی جوان تینوں ن کمیٹیوں کی مددبھی کرے گی اورنگرانی بھی اب کمیٹیاں تم خودبنالو
عمیرنواز۔۔۔۔کمیٹیاں آئندہ اجلاس میں بنائیں توبہتررہے گا
اخترحسین۔۔۔۔ٹھیک ہے آئندہ اجلاس میں چاروں کمیٹیاں بنائیں گے
٭٭٭٭٭٭٭٭٭
منظر۱۵۰
بشریٰ لکڑیوں کے ڈھیرسے ہاتھوں میں لکڑیاں اٹھاکرگھرکے صحن میں رکھتی ہے۔ایک موٹی لکڑی نیچے رکھ کرکلہاڑی سے لکڑیاں کاٹنے لگ جاتی ہے۔ سعیداحمدگلاس میں پانی لے کربشریٰ کے پاس آکربیٹھ جاتاہے۔
بشریٰ۔۔۔۔لکڑیاں کاٹتے ہوئے۔۔۔۔مجھے پیاس نہیں ہے بہت مہربانی آپ میرے لیے پانی لے آئے
بشریٰ۔۔۔۔چار،پانچ لکڑیاں کاٹنے کے بعد۔۔۔۔میری طرف سے اجازت ہے آپ پانی پی سکتے ہیں
سعیداحمد۔۔۔۔شکریہ اس کے ساتھ ہی پانی پینے لگ جاتاہے
سعیداحمد۔۔۔۔پانی پینے کے بعد۔۔۔۔تم نے بیٹے سے پوچھاہے یانہیں کیاکہتاہے تمہارابیٹا
بشریٰ۔۔۔۔کون سابیٹا
سعیداحمد۔۔۔۔کیامطلب کون سابیٹا
بشریٰ۔۔۔۔آپ نے نام توکسی کانہیں لیا عارف کی بات کررہے ہیں یاعبدالحق کی
سعیداحمد۔۔۔۔میں عبدالحق کی بات کررہاہوں وہ بھائی کے ساتھ رکشے پرگیاتھا وہ آگیاہے تم اس سے سیرکاحال پوچھو میں چلتاہوں
بشریٰ۔۔۔۔کہاں جارہے ہیں بیٹھیں دونوں مل کرپوچھ لیتے ہیں
سعیداحمد۔۔۔۔نہیں مجھے جانے دو تم خودہی پوچھ لینا
بشریٰ۔۔۔۔۔آپ کیوں نہیں بیٹھ رہے کیوں جارہے ہیں
سعیداحمد۔۔۔۔اس لیے کہ تم اپنے بیٹے سے بات کرسکو
بشریٰ۔۔۔۔میں توکہہ رہی ہوں دونوں مل کراس سے بات کرتے ہیں
سعیداحمد۔۔۔۔وہ میری موجودگی میں اس طرح نہیں بتائے گا جس طرح میری غیرموجودگی میں بتائے گا یہ بھی ہوسکتاہے وہ کہہ دے بعدمیں بتاؤں گا
بشریٰ۔۔۔۔آپ بھی تو بات بات پرپوچھتے ہیں یہ کیوں کہا وہ کیوں کہا ہرکیوں کاجواب توکسی کے پاس نہیں ہوتا
سعیداحمد۔۔۔اسی لیے توکہہ رہاہوں مجھے اب جانے دو بعدمیں مجھے بتادینا
اس کے ساتھ ہی سعیداحمدوہاں سے چلاجاتاہے
٭٭٭٭٭٭٭٭٭
منظر۱۵۱
نورالعین کھیتوں میں گھاس کاٹ رہی ہے۔ کریم بخش کھال صاف کررہاہے۔ افضل گھاس کے کناروں سے صاف کیاہواگھاس وغیرہ اٹھااٹھاکر ایک جگہ پرڈھیری بنارہاہے۔
کریم بخش۔۔۔۔یہ میں کرلوں گا توماں کے پاس جا اس کاہاتھ بٹا
افضل۔۔۔۔میں یہ کرکے امی کے پاس جاؤں گا
کریم بخش۔۔۔آج گھاس زیادہ کاٹناہے اس لیے توامی کے پاس جا
نورالعین گھاس کاٹتے ہوئے رک جاتی ہے گہری سانسیں لیتی ہے دوپٹے کودرست کرتی ہے کریم بخش اورافضل کی طرف دیکھتی ہے اوربیٹھ جاتی ہے۔
کریم بخش۔۔۔۔نورالعین کی طرف دیکھ کر۔۔۔۔افضل سے۔۔۔۔دیکھ تیری ماں گھاس کاٹتے ہوئے تھک کربیٹھ گئی ہے گھرسے پانی لے آ
افضل۔۔۔ابو آپ بھی پانی پییں گے ؟
کریم بخش۔۔۔۔ہاں میں بھی پیوں گا
افضل گھرکی طرف پانی لینے چلاجاتاہے کریم بخش کھال صاف کرنے لگ جاتاہے نورالعین بیٹھی ہوئی ہے کریم بخش اس کے پاس آجاتاہے۔ درانتی اٹھالیتاہے کاٹی گئی گھاس کی طرف دیکھتاہے بیٹھ کرگھاس کاٹنے لگ جاتاہے افضل پانی لے کراس کھال پرآتاہے تواس کاباپ وہاں نہیں ہوتا پانی کی بالٹی کھال کے کنارے پررکھ کربیٹھ جاتاہے
کریم بخش۔۔۔۔گھاس کاٹتے ہوئے۔۔۔۔اپنے آپ سے۔۔۔۔افضل ابھی تک نہیں آیا
ادھرافضل باپ کے انتظارمیں بیٹھاہے کہ باپ کوپانی پلاکرماں کوجاکرپلائے بالٹی اٹھاکرماں کے پاس آتاہے تواس کی ماں بیٹھی ہوئی ہے اورباپ گھاس کاٹ رہاہے افضل ماں کوپانی دینے لگتاہے تونورالعین اشارے سے کہتی ہے پہلے اپنے ابوکوپلاؤ افضل اپنے باپ کودائیں ہاتھ سے پانی کاگلاس دینے کے بعد پوچھتاہے ابوآپ کے دوست کے پاس کب جائیں گے کریم بخش چلے جائیں گے
منظر۱۵۲
٭٭٭٭٭٭٭٭٭
محمدعرفان، محمداشرف اوراحمدبخش مسجدمیں جماعت کے ساتھ نمازاداکرتے ہیں۔ مولوی صاحب سلام پھیرتے ہیں مولوی صاحب اورتمام نمازی خاموشی سے تسبیح پڑھتے ہیں۔ اجتماعی دعاکے بعدنمازی چلے جاتے ہیں تینوں دوست دونوں ہاتھوں سے مولوی صاحب کوباری باری سلام کرکے کھڑے ہوجاتے ہیں مولوی صاحب کے کہنے پربیٹھ جاتے ہیں
مولوی صاحب۔۔۔۔جی بیٹا کوئی کام ہے مجھ سے
عرفان۔۔۔۔۔جی مولوی صاحب
مولوی صاحب۔۔۔۔۔حکم کریں میں کیاکرسکتاہوں
اشرف۔۔۔۔۔ہم حکم نہیں آپ سے درخواست کرنے آئے ہیں۔
مولوی صاحب۔۔۔۔کیا
مولوی صاحب۔۔۔۔آپ احمدبخش کے ابو کوسمجھائیں
مولوی صاحب۔۔۔۔کیاکیاہے اس نے
اشرف۔۔۔۔ان کااحمدبخش پرغصہ بڑھتاجارہاہے
عرفان۔۔۔۔ہم استادصاحب کاپیغام لے کرچچاعبدالمجیدکے پاس گئے
مولوی صاحب۔۔۔استادصاحب نے کیاپیغام دیا
عرفان۔۔۔۔احمدبخش چڑچڑاہورہاہے سبق میں غلطیاں کرنے لگاہے
اشرف۔۔۔۔سکول کے اساتذہ اوربچے دودن کے لیے سیرپرجارہے ہیں استادصاحب نے چچاعبدالمجیدکے پاس یہ پیغام دے کربھیجا کہ وہ احمدبخش کوبھی سیرکرنے جانے دیں
مولوی صاحب۔۔۔۔احمدبخش کی طرف اشارہ کرتے ہوئے۔۔۔۔اس کے ابونے کیاجواب دیا
عرفان۔۔۔۔اس کاابوکہتاہے تم اپنی طرف سے کہہ رہے ہو
اشرف۔۔۔۔ہم نے کہا سکول جاکراستادصاحب سے پوچھ لیں
مولوی صاحب۔۔۔۔پھرانہوں نے کیاکہا
عرفان۔۔۔۔میرے پاس اتناوقت نہیں
اشرف۔۔۔۔ہم نے کہا چچاجی اس کوسیرکرنے جانے دیں اس کاباپ کہنے لگا یہ سیرکرنے گیاتوآوارہ ہوجائے گا اب آپ ہی ان کوسمجھاسکتے ہیں
مولوی صاحب۔۔۔۔وہ میرے پاس آئے تھے میں نے انہیں سمجھایا تھا
عرفان۔۔۔۔لگتاہے آپ کے سمجھانے کاالٹا اثرہواہے
مولوی صاحب۔۔۔احمدبخش سے بھی حال احوال پوچھ لوں پھرسوچیں گے کیاکرناہے
مولوی صاحب۔۔۔۔احمدبخش بیٹا اب تم بتاؤ
٭٭٭٭٭٭٭٭٭
منظر۱۵۳
عبدالرحیم اورسلطانہ سکول سے واپس آتے ہیں
راشدہ۔۔۔۔منہ ہاتھ دھو لو میں کھانالے آتی ہوں
عبدالمجیدبھی باہرسے گھرمیں آتاہے
راشدہ۔۔۔۔عبدالمجیدسے۔۔۔۔آپ کھاناکھائیں گے ؟
عبدالمجید۔۔۔۔ہاں آج توسخت بھوک لگی ہے
سلطانہ، عبدالرحیم اورعبدالمجیدگھرکے صحن میں چارپائیوں پربیٹھ جاتے ہیں راشدہ تینوں کے سامنے کھانارکھتی ہے سلطانہ اورعبدالرحیم کھاناکھارہے ہیں
عبدالمجید۔۔۔۔سالن دیکھ کر۔۔۔۔آج سالن کم کیوں ہے آج تونے زیادہ کھالیاہوگا
راشدہ۔۔۔۔جب تک آپ اورتمام بچے کھانانہ کھالیں میں کھانانہیں کھایاکرتی
عبدالمجید۔۔۔۔بڑا احسان کرتی ہے توہم پر
راشدہ۔۔۔۔میں کسی پرکوئی احسان نہیں کرتی
عبدالمجید۔۔۔۔احسان نہیں کرتی مگراپنے لیے سالن زیادہ رکھ لیتی ہے
راشدہ۔۔۔۔۔میں نے آج سے سالن کم پکاناشروع کیاہے بچوں کوبھی کم سالن دیاہے
عبدالمجید۔۔۔۔احمدبخش نہیں آیا
راشدہ۔۔۔۔وہ بتاکرگیاتھا وہ دیرسے آئے گا
سلطانہ۔۔۔۔ابو آپ ہروقت بھائی پرغصہ کیوں کرتے ہیں
عبدالرحیم ۔۔۔۔ابو بھائی پرغصہ نہ کیاکریں
عبدالمجید۔۔۔۔وہ مجھے ہروقت غصہ دلاتاہے
راشدہ۔۔۔۔وہ ہروقت غصہ دلاتاہے یاآپ کاغصہ بے قابوہے
عبدالرحیم۔۔۔۔ابو بھائی سکول سے آتے ہی آپ کے ساتھ کام کرنے چلے جاتے ہیں
راشدہ۔۔۔۔۔نہ جانے آپ کیسے باپ ہیں میرابیٹا تھکاہوا سکول سے آتاہے آپ نے اسے ایک دن بھی کچھ دیرکے لیے سانس نہیں لینے دیا یہاں تک کہ اسے کبھی سکون سے کھانابھی نہیں کھانے دیا
عبدالمجید۔۔۔۔آئندہ اگراپنے بیٹے کی سفارش کی توزبان کھینچ لوں گا
راشدہ۔۔۔۔آپ کواس کے علاوہ آتاکیاہے آپ کوتواحمدبخش کے استاد صاحب کی بات پریقین نہیں آیا کسی اورکی بات پر کیسے آئے گا
عبدالمجید۔۔۔۔وہ لڑکے جھوٹ بول رہے تھے
راشدہ۔۔۔۔۔یہی تومسئلہ ہے آپ کا نہ آپ کسی کی بات پریقین کرتے ہیں نہ تصدیق کرتے ہیں وہ لڑکے اگرجھوٹ ہی بول رہے تھے توآپ تصدیق کرنے استادصاحب کے پاس کیوں نہیں گئے
عبدالمجید۔۔۔۔اس کی ضرورت ہی نہیں
راشدہ۔۔۔۔میں پہلے بھی کہہ چکی ہوں آج پھرکہہ رہی ہوں آپ کارویہ میرے بیٹے کے ساتھ نرم نہ ہواتو میرے بیٹے کے ساتھ کچھ بھی ہوسکتاہیاس کاچہرہ صاف بتاتاہے آپ کے ہروقت کے غصہ اور سخت رویے کے منفی اثرات اس پرشروع ہوگئے ہیں
٭٭٭٭٭٭٭٭٭

منظر۱۵۴
کمرے میں چارپائیوں پربستربچھے ہوئے ہیں۔اریبہ ایک چارپائی کے ساتھ سرلگائے اورایک بازوچارپائی پررکھ کرفرش پربیٹھی ہے۔ بشیراحمدکمرے سے باہرسرمیں کنگھاکررہاہے۔اریبہ دوسرے ہاتھ سے چارپائی کوپکڑکرچھوڑ دیتی ہے۔بشیراحمدکمرے کے دروازے پرآتاہے اریبہ کوفرش پربیٹھاہوادیکھ کرچونک جاتاہے اریبہ دوسری طرف دیکھ رہی ہے بشیراحمددروازے سے واپس چلاجاتاہے۔ اریبہ دروازے کی طرف دیکھتی ہے دروازے پرکوئی نہیں ہے بشیراحمدجاتے ہوئے رک جاتاہے پھرکمرے کی طرف چل پڑتاہے دروازے پرآتاہے تواریبہ اسی طرح بیٹھی ہوئی ہے۔وہ کمرے میں چلاجاتاہے اریبہ کومخاطب کیے بغیرکہتاہے آج میں یہ کیادیکھ رہاہوں تمام چارپائیاں خالی پڑی ہیں یہ زمین پرکیوں بیٹھی ہے
بشیراحمد۔۔۔۔اریبہ سے۔۔۔۔۔چارپائیاں خالی پڑی ہیں زمین پرکیوں بیٹھی ہے
اریبہ۔۔۔۔ویسے
بشیراحمد۔۔۔۔اس طرح توکوئی اس وقت بیٹھتاہے جب وہ کسی سے ناراض ہوتاہے اب توبتاتوکس سے ناراض ہے
اریبہ۔۔۔۔میں کسی سے ناراض نہیں ہوں
بشیراحمد۔۔۔۔کسی نے کچھ کہاہے کیا
اریبہ۔۔۔۔کسی نے کچھ نہیں کہا
بشیراحمد۔۔۔۔پھراس طرح کیوں بیٹھی ہوئی ہے
اریبہ۔۔۔۔مجھے اس طرح سکون مل رہاہے یقین نہیں آرہاتوآپ بھی میری طرح بیٹھ کردیکھ لیں
بشیراحمد۔۔۔۔میں توڈرگیاتھا نہ جانے فیاض کی ماں کوکس نے ناراض کردیاہے اب میں کام پرجارہاہوں
اریبہ۔۔۔۔پکوان کے لیے سامان لے کرآناتھا
بشیراحمد۔۔۔۔مجھے خطرہ محسو س ہورہاہے
اریبہ۔۔۔۔کون ساخطرہ کیساخطرہ
بشیراحمد۔۔۔۔ہم پکوان لے کرجائیں لڑائی نہ شروع ہوجائے
اریبہ۔۔۔۔یہ توآپ کی ذمہ داری ہوگی آپ لڑائی نہیں ہونے دیں گے
بشیراحمد۔۔۔۔یہ مشکل کام ہے
اریبہ۔۔۔۔اس گھرمیں آپ کابھائی ہی غصہ کرسکتاہے آپ ہی ان کوغصہ کرنے سے روک سکتے ہیں ٹھنڈاکرسکتے ہیں
بشیراحمد۔۔۔۔میں اپنی طرف سے پوری کوشش کروں گا
٭٭٭٭٭٭٭٭٭

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Siddique Prihar

Read More Articles by Muhammad Siddique Prihar: 336 Articles with 151323 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
08 Mar, 2020 Views: 326

Comments

آپ کی رائے