امن معاہدے کا پس منظر

(Prof Shoukat Ullah, Banu)

ری پبلکن ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت سے قبل اوربعداز کے بیانات سے یہ تاثر مل رہا تھا کہ امریکا کی افغانستان بارے پالیسی مختلف ہوگی کیوں کہ اس نے اس بات کا کئی بار برملا اظہار کیا کہ وہ مزید فوج افغانستان نہیں بھیجے گا اور موجودہ فوج کا انخلاء بھی کیا جائے گا، یعنی صدر بش اور بارک اوبامامہ کی طرح جارحانہ اور مکارانہ پالیسی نہیں ہوگی اوریہ اُمید کی جارہی تھی کہ بے معنی اور لاحاصل جنگ کی طوالت کو لگام مل جائے گا لیکن اگست 2017 ء میں نئی افغان پالیسی آئی جس میں ٹرمپ کی ترجیحات تبدیلنظر آئیں اور یوں محسوس ہوا کہ اب وہ یہ نہیں چاہتا کہ امریکا اس خطے سے نکلے کیوں کہ چین اور روس کی بڑھتی ہوئی معیشت اور تزویراتی سرگرمیوں کے خلاف اس کو بھارت اور افغانستان کی اشد ضرورت ہے ۔اس کے علاوہ خود افغانستان میں موجود بیش بہا معدنیات ہیں۔ یہی وجہ تھی کہ ٹرمپ نے مزید فوجی افغانستان بھیجنے کا فیصلہ کیا ۔ پس نئی افغان پالیسی پر طالبان کا شدید ردعمل سامنے آیا۔جس کے اثرات ستمبر اور اکتوبر 2017 ء کے مہینوں میں طالبان کے تابڑ توڑ حملوں سے ظاہر تھے۔ طالبان نے صوبہ لوگر میں امریکا کا ایک چنیوک ہیلی کاپٹر مار گرایا تھا جس میں سوار تیراہ امریکی کمانڈوز ہلاک ہوئے جوضلع خروار میں طالبان کے خلاف کاروائی میں حصہ لے رہاتھا۔ اس واقعے کے فوراً بعد افغان طالبان اور فوج کے درمیان شدید جھڑپ ہوئی جن میں تیس افغان فوجی مارے گئے تھے۔ پینٹاگون ذرائع نے ہیلی کاپٹر کو مار گرانے کو ’’حادثہ ‘‘ قرار دیا تھا اور ساتھ میں یہ بھی کہا کہ اس واقعے کے ذمہ دار وں کو قرار واقعی سزا دی جائے گی۔ اس بیان سے ٹرمپ انتظامیہ کی بوکھلاہٹ صاف ظاہر تھی۔ 19 اور 21 اکتوبر 2017 ء کو قندھار اور کابل میں بالترتیب دو خود کش حملے ہوئے جن میں 65 کے قریب افغان فوجی ہلاک ہوئے تھے۔ صوبہ قندھار میں چشمہ آرمی کیمپ پر حملے میں بارود سے بھری گاڑی استعمال ہوئی جس کے نتیجے میں کیمپ کا صفایا ہوگیاتھاجب کہ دارالحکومت کابل میں ایک خود کش حملہ آور نے ملٹری اکیڈمی کے گیٹ سے باہر نکلتی ہوئی بس کو نشانہ بنایا جس میں 15 کیڈٹس ہلاک ہوئے تھے۔نیز بلخ اور فراہ کے صوبوں میں طالبان کی کاروائیوں میں متعدد پویس اہل کار بھی ہلاک ہوئے۔یاد رہے کہ جس روز پکتیا میں امریکی ڈرون حملے میں جماعت الاحرار کے سربراہ عمر خالد خراسانی کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا گیا تھا اسی روز پکتیا اور غزنی میں طالبان کے خودکش حملوں میں صوبائی پولیس چیف طوری علی عہدیانی سمیت 71 افراد ہلاک اور 300 کے لگ بھگ زخمی ہوئے۔ پکتیا کے دارالحکومت گردیز میں پولیس ہیڈکوارٹر پر دو خود کش کار بم حملے کئے گئے جس کے بعد مسلح حملہ آورفائرنگ کرتے ہوئے ہیڈکوارٹر میں اندر داخل ہوئے اور پانچ گھنٹے جاری رہنے والی جھڑپ میں صوبائی پویس چیف سمیت 41 افراد ہلاک اور 150 سے زائد زخمی ہوئے۔ اس بات میں کسی قسم کے شک کی گنجائش نہیں رہی تھی کہ امریکہ کی نئی افغان پالیسی آنے کے بعد سے طالبان کی کاروائیوں میں حد درجہ اضافہ ہوا اور حملوں کے حوالے سے ان کے ترجمان کا کہنا تھا کہ حالیہ حملے امریکا اور کابل حکومت کے لئے واضح پیغام ہیں کہ وہ اپنی نام نہاد نئی پالیسی سے ہمیں نہیں ڈراسکتے اور ہم ہر محاذ پر جیت رہے ہیں۔

اس صورت حال میں پاکستان نے بڑی صراحت و وضاحت سے افغانستان بارے اپنا یہ مؤقف امریکا بہادر کے سامنے رکھاکہ افغان مسئلے کا حل جنگ کے ذریعے ممکن نہیں ہے کیوں کہ دو دہائیوں پر محیط مسلسل جنگ کا نتیجہ افغانستان میں انتشار ، تباہی اور عدم استحکام کی شکل میں سامنے آیا ہے۔ اقوام متحدہ کی تازہ رپورٹ کے مطابق اس جنگ میں 32 ہزار افغان شہریوں نے جانوں کے نذرانے پیش کئے جب کہ بیالیس ہزار جنگجو اور پینتیس ہزار امریکا اور نیٹو فوجی ہلاک ہوئے۔ اس میں امریکا کا جانی نقصان تیئس ہزار فوجیوں کی شکل میں ہوا اور جب کہ مالی نقصان نو سو اَرب ڈالر کا ہوا۔ اس وقت افغانستان کی سرزمین پرکل ملا کر پچیس ہزار نیٹو ممالک کے فوجی موجود ہیں جن میں بارہ ہزار امریکی اور تیرہ ہزار نیٹو ممالک کے فوجی شامل ہیں۔لہٰذا اَب اس سوال کا جواب نہایت واضح طور پر مل سکتا ہے کہ نائن الیون کے سانحے کے ایک ماہ بعد ، یعنی اکتوبر 2001 ء سے سوا لاکھ غیر ملکی افواج بھاری بھرکم جنگی سازوسامان ، فضائی بالا دستی اور جدید مہلک ہتھیاروں کے باوجود افغان طالبان کو شکست دینے میں ناکام رہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ اَب پچیس ہزار فوجی اس ناقابل تسخیر قوت کا مقابلہ کرے۔اس ساری صورت حال کو امریکی تھنک ٹینک نے دیکھا اور پاکستانی مؤقف کو تسلیم کیا کہ افغان مسئلے کا حل جنگ کے ذریعے ممکن نہیں ہے اور انہوں نے طالبان کے ساتھ مذاکرات کے خدو خال وضع کرنے شروع کردیئے جس کے لئے پاکستان کی ضرورت کو محسوس کیا۔ یہی وجہ تھی کہ ٹرمپ نے حالیہ دورہ ٔ بھارت میں ایک بڑے جلسے سے خطاب کرت ہوئے ، توقعات کے برعکس پاکستان کے لئے تعریفی کلمات ادا کئے، یعنی امریکی صدر نے تسلیم کیا کہ پاکستان کی مدد کے بغیر طالبان کے ساتھ کوئی سمجھوتہ ہو سکتا ہے اور نہ ہی افغانستان سے بارہ ہزار امریکی فوجیوں کی واپسی ممکن ہوسکتی ہے۔امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے بھی مذاکرات کامیاب بنانے پر پاکستان کا خاص شکریہ ادا کیا۔ یاد رہے کہ ماضی میں بھی پاکستان کی کوششیں رہی ہیں کہ امریکا اور طالبان کو امن کی میز پر لایا جائے۔ اسی سلسلے میں جب مری میں مذاکرات ہونے جارہے تھے تو اچانک مولا عمر کی ہلاکت کی خبر جاری کردی گئی ۔ اسی طرح ایک مرتبہ طالبان رہنما کو ایران سے پاکستان آتے ہوئے پاک سرزمین پر ڈرون حملے میں ہلاک کیا گیا۔ یوں ہر بار مذاکرات تعطل کا شکار ہوتے رہے۔ پس اُنتیس فروری سن دو ہزار بیس کو دوحہ قطر میں امریکا اور افغان طالبان کے مابین امن معاہدہ ہوا جس کو تاریخی امن معاہدہ کہا جاسکتا ہے جو کہ نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی معاملات میں غیر معمولی اور منفرد پیش رفت ہے۔ اس معاہدے پر امریکہ کی جانب سے زلمی خلیل زاد اور طالبان کی جانب سے ملا عبدالغنی برادر نے دستخط کئے۔ اس معاہدے کی رو سے امریکا 135 دنوں میں 8600 فوجی واپس لے جائے گااور مکمل انخلاء چودہ ماہ میں ہوگااور ا بین الافغان مذاکرات دس مارچ سے شروع ہوں گے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof Shoukat Ullah

Read More Articles by Prof Shoukat Ullah: 202 Articles with 125075 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
08 Mar, 2020 Views: 343

Comments

آپ کی رائے