اقلیتوں کیلئے بجٹ نہیں بھیک ملی ہے !!

(Muddasir Ahmed, India)

ریاست کرناٹک میں بی جے پی حکومت نے جو بجٹ پیش کیا ہے وہ جزوی طورپر خاص نہیں رہا ہے البتہ اقلیتوں کے لئے یہ بجٹ ناقابل قبول اور شرمناک بجٹ رہاہے اور بجٹ کے نام پر فنڈس مختص کرنے کے بجائے حکومت نے بھیک مختص کی ہے ، اردو اکادمی کے لئے ایک لاکھ روپئے اور اقلیتی کمیشن کے لئے ایک لاکھ روپئے کا فنڈ منظور کیا ہے جو دونوں محکموں میں کام کرنے والے ایک ایک اہلکار کے لئے بھی ناکافی فنڈ ہے ۔ حکومت کی جانب سے اس طرح کا بجٹ اقلیتوں کے لئے مختص کئے جانا اس بات کی دلیل ہے کہ حکومت اقلیتوں کو لے کر بالکل بھی نیک نیت نہیں ہے اور وہ ہر طرح سے اقلیتوں اور اقلیتوں کی زبان کی دشمن ہے ۔ ایک طرف اردو مدارس کو انگلش میڈیم اسکول بنانے کے لئے بجٹ پیش کرتے ہوئے اردو اسکول کے خاتمے کے لئے منظم سازش رچی ہے تو دوسری جانب 10-20 کروڑ روپیوں کے سالانہ بجٹ کی اردو اکادمی کو ایک لاکھ روپئے منظورکرتے ہوئے پوری طرح سے اکادمی کے قتل کا بندوبست کرلیا ہے ۔ حکومت کی جانب سے اس طرح کی بے مروتی کے باوجود ریاست کے اقلیتی لیڈران سمیت مسلم تنظیمیں اور ادارے خاموش تماشہ بین ہوکر بیٹھے ہوئے ہیں ۔جس وقت ریاست میں کانگریس ۔ جے ڈی یس کی حکومت ہوا کرتی تھی اس دوران اگر بجٹ میں مسلمانوں کے ساتھ ناانصافی ہوتی تھی تو وہ منہ بناکر حکومتوں کے خلاف احتجاج کے لئے اتر آتے تھے لیکن اس بار یڈویورپا حکومت کی جانب سے اقلتیوں کے ساتھ کھلے طورپر دشمنی کا اظہار کئے جانے کے باوجود کسی بھی طرح کا رد عمل نہیں ہے سوائے کچھ یم یل اے اور سابق یم ایل اے کے کسی نے زبان نہیں کھولی ہے ۔ کرناٹکا اردو اکادمی کے فنڈس پر جو لگام لگائی گئی ہے اس پر رد عمل ظاہر کرنے کی سب سے بڑی ذمہ داری ان ادباء ، شعراء اورمصنفین کی ہے جو اردو اکادمی کے سائے تلے اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے رہے ہیں ۔ کم از کم اکادمی کا احسان ادا کرنے کے لئے یہ حلقہ حکومت کی مخالفت کرتا ہے اور اپنے اپنے علاقوں میں وزیر اعلیٰ کو اس جانب متوجہ کرتے ہیں تو یہ کچھ نہ کچھ اثر کریگی ۔اسی طرح سے حکومت کے ان اقدامات کی مخالفت کے لئے ملی و سماجی تنظیموں کی جانب سے بھی احتجاج کرنا ضروری ہوگیا ہے ۔ اگر اسی طرح سے ہر معاملے میں خاموشی اختیار کرتے رہیں تو آنے والے دنوں میں اقلیتی خصوصََا مسلمانوں کو حکومت کے پاس بھیک مانگنے کی نوبت آئیگی ۔ غور طلب بات یہ ہےکہ ریاست میں 2 فیصد کے قریب رہنے والے عیسائیوں کی بازآبادکاری کے لئے حکومت نے 2 سو کروڑروپئے مختص کئے ہیں جبکہ 8 فیصد کے مسلم اقلیتوں کے لئے 2 لاکھ روپئے کی بھیک دی گئی ہے ۔ آج ان سب حالات کی وجہ جہاں نام نہاد سیکولر پارٹیاں ہیں وہیں عام مسلمان بھی ہیں جنہوںنے ہر بار اپنے مسائل کا حل کانگریس اور جے ڈی یس کے گود میں بالکل اسی طرح سے تلاش کیا جس طرح سے شادی کے دن کا ہر خرچ دولہا دلہن کے گھر والوں کے یہاں تلاش کرتاہے ۔ اب تو مسلمانوں اور مسلم لیڈروں کے ہوش میں آنا ہوگا ۔ پچھلے کچھ سالوں سے ریاست میں سالانہ بجٹ میں اقلیتوں کے بجٹ میں مسلسل کٹوتی کی جارہی ہے پھر بھی اقلیتی رہنمائوں میں اس بات کی سکت ہی نہیں رہی ہے کہ وہ حکومتوں سے سوال کرے ۔ ریاست کی ایسی ذاتیں وقومیں جن کی آبادی ہی ہزاروں میں ہےانکے لئے حکومت نے کروڑوں روپئے کا فنڈ دیا ہے اسکے علاوہ مورتیوں و مجسموں کے لئے بھی حکومت نے بڑے پیمانے پر فنڈس دیئے ہیں اگر کچھ نہیں دے کر بھی دینے کی بات کہی جارہی ہے تو وہ اقلیتی ہیں ۔ دوسری طرف سوشیل میڈیا پر بی جے پی کے مسلم چیلے جنہیں اے بی سی ڈی تک معلوم نہیں وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ حکومت نے دو سو اسکولوں کے لئے بھی معمولی بجٹ جاری کیا ہے ، لہذا اب مسلمانوں کو خصوصََا بنگلور میں بیٹھی ہوئی مسلم تنظیمیں جو مسلمانوں کی قیادت کا بھر م بھرتی ہیں انکی ذمہ داری ہے کہ وہ اس مدعے پر آواز اٹھائیں اور حکومت کے سامنے اقلیتوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کو دور کرنے کا مطالبہ کریں ۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muddasir Ahmed

Read More Articles by Muddasir Ahmed: 185 Articles with 55835 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
08 Mar, 2020 Views: 284

Comments

آپ کی رائے