شکوہ

(Saleem Saqi, Sargodha)

''آخر میں ایک لڑکی ٹھہری''
یہ ظالم سماج کہیں مجھے،نگل ہی نہ جائے،
میرا کیا قصور ہے،''اللہ میاں''
یہی نا
کہ
''میں اک لڑکی ہوں''
میں نے تھوڑی نا آپ سے کہا تھا مجھے،لڑکی بنا کر بھیجو
جانتے ہو اللہ میاں
جب میں نے دنیا میں قدم رکھا تھا نا
جب میں نے اپنی آنکھ کھولی تھی
تب
میں ایک ہاسپٹل کے وارڈ میں تھی
ہمارے ساتھ والے بیڈ پر ایک عورت نے ایک لڑکے کو جنم دیا تھا
اس کے گھر والے،انتہائی خوش و خرم تھے،
سب میں میٹھائی بانٹی انھوں نے سب نے انھیں مبارک باد بھی دی
جو انھوں نے ہنسی خوشی قبول کی
اور ایک ہمارا بیڈ تھا ایک ہماری فیملی تھی
کہ
جیسے،انھیں سانپ سونگھ گیا ہو
میں دیکھ رہی تھی اللہ میاں
انکے چہرے،خوش نہ تھے وہ سب اداس تھے،
گویا کہ جنم دن نہ تھا مرن دن تھا
سوائے، میری ماما کے مجھے،کسی نے تہہ دل سے تسلیم نہ کیا تھا
اللہ میاں میں بہت روئی تھی یہ سب دیکھ کر
مگر میری ماما نے مجھے،تھپکی دے کر سلا دیا تھا اللہ میاں
میں نا چاہتے ہوئے بھی اپنی سسکیوں اپنی آہوں فغاں کا گلا گھونٹ کر چپ چاپ ماما سے لپٹ کر مکھوٹی نیند کا ناٹک کرتے ہوئے آنکھیں بھینچ گئی تھی
آپ تو جانتے تھے نا اللہ میاں
کیسے اور کیونکر میں نے بچپن سے جوانی تک کا سفر کاٹا
پھر جب میں تھوڑی بڑی کیا ہوئی ابھی چند دن بھی نہ ہوئے تھے مجھے جوانی کے چوکھٹ پر قدم رکھے ہوئے
کہ
گندی غلیظ نظروں کے داغ مجھ پر لگنے شروع ہو گئے
چاروں اور حوس پرست نظروں کے تیروں کی بوچھاڑ مجھ پر برسنے لگی
مگر اللہ میاں میں سہہ گئی
میں نے اففف تک سی تک نہ کی
تقدیر کا لکھا مان کر سب سہہ کر سہم گئی
میں پڑھنے جاتی تب بھی میں باہر نکلتی تب بھی حوس پرست درندے مافق بھوکے بھیڑیے کے مری راہ میں بیٹھے ہوتے
کہ
کب ہمیں موقع ملے اور ہم اسے کچا نگل جاویں
میں بازار جاتی تب بھی چاروں اور سے اٹھتی نگاہیں مرا جینا دو بھر کیئے دیتی یہاں تک کہ گھر میں آئے ہر نامحرم کی نظروں کے تیر مجھے چھلنی کر گئے
مگر اللہ میاں میں سہہ گئی
میں سہم گئی
آج جب کہ میں بیاہ دی گئی ہوئی ہوں
آج میری کوک میں پلنے والا بچہ میں نہیں جانتی وہ لڑکا ہے یا لڑکی
مگر رب تعالی میری آپ سے ایک ہی التجا ہے
اگر وہ لڑکی ہوئی تو اسکے نصیب میں وہ نصیب بالکل مت لکھنا جو میرے نصیب میں تھا
وگرنہ میں اس ننھی جان کا گلا خود اپنے ہاتھوں سے گھونٹنا پسند کروں گی بجائے،اس کے کہ مری یہ ننھی سے کلی مری طرح ہر صبح ہر شام ہر آتی سانس کے ساتھ خوں کے آنسو روئے
اور
پل پل یہی ارداس کرے آخر مرا قصور کیا۔۔۔۔۔۔یہی نا کہ میں اک لڑکی ہوں

 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Saleem Saqi

Read More Articles by Saleem Saqi: 21 Articles with 11666 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
20 Mar, 2020 Views: 427

Comments

آپ کی رائے