سفرِ معراج کی روداد

(Saleem Ullah Shaikh, Karachi)
27 رجب 12 نبوی کو آپ ﷺ اپنی چچا زاد بہن امِ ہانی ؓ کے گھر پر آرام فرما رہے تھے کہ اللہ کے حکم سے حضرت جبریل امین علیہ السلام تشریف لائے اور آپ ﷺ سےسفرِ معراج کے لیے تیاری کی درخواست کی۔ آپؐ کی سواری کے لیے ’’بُرّاق ‘‘کا انتظام کیا گیا تھا۔ بُرّاق سفید رنگ اور برق کی مانند تیز رفتار جانور ہے، اسی خصوصیت کی بناپر اسے بُرّاق کہا جاتا ہے- یہ گدھے سے کچھ بڑا اور خچر سے کچھ چھوٹا جانور ہے۔ اس کا قدم اس کی حدِ نگاہ پر پڑتا ہے۔ آپ ؐ اس پر سوار ہونے لگے تو وہ چمکا ،اس پر حضرت جبرائیل نے تھپکی دیکر کہا ’’ دیکھ کیا کرتا ہے آج تک تجھ پر محمد ﷺ سے بڑی شخصیت کا کوئی انسان سوار نہیں ہوا ہے ۔ یہ سن کر وہ شرمندہ ہو کر پسینے پسینے ہوگیا ۔

27 رجب 12نبوی کو معراج کا عظیم الشان واقعہ پیش آیا تھا۔ اگرچہ واقعہ معراج کی تاریخ مختلف علماء اور فقہاء نے مختلف بیان کی ہیں لیکن27رجب سب سے زیادہ مشہور ہے اور علامہ زرقانی کی رائے ہے کہ جب کسی قول کو کسی قول پر ترجیح دینے کے لیے کافی دلائل موجود نہ ہوں تو پھر مشہور قول کو ہی اختیار کرنا چاہیے۔

واقعۂ معراج ایک بہت بڑا معجزہ ہے۔ معجزہ عجز سے نکلا ہے۔ معجزہ ایسے خلاف فطرت و محیرالعقل واقعہ کو کہتے ہیں جو اللہ تعالیٰ اپنے نبیوں کے ذریعے دنیا کو دکھاتا ہے۔ یہ ایسا ہوتا ہے کہ عقل جس کی کوئی توجیہہ نہ پیش کرسکے، جیسے حضرت عیسیٰ ؑ کا پالنے میں کلام کرنا، مُردوں کو زندہ کرنا، کوڑھیوں کو شفا دینا، حضرت موسٰٰی ؑ کا عصا، حضرت ابراہیم ؑ کا آگ میں سے زندہ نکل جانا، اسی طرح اور بہت سے معجزات دنیا میں وقوع پذیر ہوئے ہیں۔ بالکل انہی معجزات کی طرح واقعۂ معراج بھی ایک عظیم الشان معجزہ ہے۔ معجزہ کسی بھی نبی کا ذاتی فعل نہیں ہوتا بلکہ یہ محض اللہ تعالیٰ کی قدرت ِکاملہ کا نمونہ ہوتا ہے جو کہ وہ اپنے نبی کے ذریعے سے دنیا کے سامنے پیش کرتا ہے۔

’’ پاک ہے وہ جو لے گیا ایک رات اپنے بندے کو مسجد حرام سے دور کی ایک مسجد تک جس کے ماحول کو اس نے برکت دی ہے تاکہ اسے اپنی کچھ نشانیوں کا مطالعہ کرائے حقیقت میں وہی ہے سب کچھ دیکھنے اور سننے والا۔‘‘ (بنی اسرائیل 1)

27 رجب 12 نبوی کو آپ ﷺ اپنی چچا زاد بہن امِ ہانی ؓ کے گھر پر آرام فرما رہے تھے کہ اللہ کے حکم سے حضرت جبریل امین علیہ السلام تشریف لائے اور آپ ﷺ سےسفرِ معراج کے لیے تیاری کی درخواست کی۔ آپؐ کی سواری کے لیے ’’بُرّاق ‘‘کا انتظام کیا گیا تھا۔ بُرّاق سفید رنگ اور برق کی مانند تیز رفتار جانور ہے، اسی خصوصیت کی بناپر اسے بُرّاق کہا جاتا ہے- یہ گدھے سے کچھ بڑا اور خچر سے کچھ چھوٹا جانور ہے۔ اس کا قدم اس کی حدِ نگاہ پر پڑتا ہے۔ آپ ؐ اس پر سوار ہونے لگے تو وہ چمکا ،اس پر حضرت جبرائیل نے تھپکی دیکر کہا ’’ دیکھ کیا کرتا ہے آج تک تجھ پر محمد ﷺ سے بڑی شخصیت کا کوئی انسان سوار نہیں ہوا ہے ۔ یہ سن کر وہ شرمندہ ہو کر پسینے پسینے ہوگیا ( مسند احمد، ترمذی، ابنِ جریر )
آپؐکو اٹھا کر پہلے آب زم زم کے پاس لے جایا گیا، وہاں آپؐکا سینہ چاک کر کے اس کو زم زم کے پانی سے دھویا گیا اور پھر اسے علم، بردباری، دانائی اور ایمان و یقین سے بھر دیا گیا۔ ( بخاری ،مسلم ،مسند احمد )

سوار ہونے کے بعد ﷺکی پہلی منزل مدینہ منورہ تھی، جہاں آپ ؐنے نماز پڑھی، یہاں حضرت جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا کہ آپؐہجرت کر کے یہاں آئیں گے۔دوسری منزل طورِ سینا تھی جہاں اللہ رب العزت نے حضرت موسیٰ کوہم کلا می کا شرف بخشا۔ تیسری منزل بیت اللحم تھی جہاں حضرت عیسیٰ ؑپیدا ہوئے تھے۔ چوتھی منزل بیت المقدس تھی اور یہاں آکربُرّاق کا سفر ختم ہوا-

بیت المقدس پہنچ کر آپﷺبُرّاق سے اتر گئے اور اسے وہیں باندھ دیا جہاں انبیاء کرام اس کو باندھا کرتے تھے۔آپؐ ہیکلِ سلیمانی میں داخل ہوئے تو وہاں تمام انبیاء کرام موجود تھے،آپ ﷺ کے آنے کے بعد صف بندی ہوئی اور نماز کی تیاری کی گئی۔ تمام انبیاء منتظر تھے کہ نماز کی امامت کون کرائے گا، حضرت جبرائیل علیہ السلام نے آپ ؐ کا ہاتھ پکڑ کر آپ کو امامت کے لیے آگے کیا اور تمام انبیا کرام نے آپؐ کی اقتداء میں نماز ادا کی۔اس کے بعد آپؐ کی خدمت میں تین پیالے پیش کیے گئے ایک میں پانی دوسرے میں دودھ اور تیسرے میں شراب تھی۔آپ ؐنے دودھ کو پسند فرمایا، اس پر حضرت جبرائیل علیہ السلام نے مبارکباد دی کہ آپؐ فطرت کی راہ پا گئے۔

پہلے آسمان پر پہنچے تو دروازہ بند تھا، حضرت جبرائیل نے دروازہ بجایا تو فرشتے نے پوچھا کہ کون آتا ہے؟ جواب دیا کہ جبرائیل، پوچھا ساتھ کون ہے؟ فرمایا کہ محمد (ﷺ) پوچھا گیا کہ کیا بلائے گئے ہیں؟ فرمایا کہ ہاں بلائے گئے ہیں۔ اس کے بعد پہلے آسمان کا دروازہ کھلا اور یہاں آپؐ کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔یہاں آپ ؐ نے ایک نورانی صورت بزرگ کو دیکھا جن کی بناوٹ، چہرے مہرے میں کسی قسم کا کوئی نقص نہ تھا۔ آپ ؐ کوبتایا گیا کہ یہ حضرت آدم ؑہیں، حضرت آدم ؑکے دائیں بائیں کچھ لوگ تھے۔ آپ دائیں جانب والوں کو دیکھتے تو مسکراتے اور بائیں جانب والوں کو دیکھتے تو روتے۔ پوچھا کہ یہ کیا ماجرا ہے۔ فرمایا کہ یہ نسلِ آدم ہے، آدم ؑجب نیک لوگوں کو دیکھتے ہیں تو خوش ہوتے ہیں اور بُرے لوگوں کو دیکھ کر روتے ہیں ( بخاری،مسلم،مسند احمد، )

یہاں آپ ﷺ کو تفصیلی مشاہدہ کرایا گیا، جنت اور دوزخ بھی دکھائی گئی۔ ایک جگہ دیکھا کہ کچھ لوگ کھیتی کاٹ رہے ہیں اور جتنی کاٹ رہے ہیں اتنی ہی بڑھتی جاتی ہے پوچھا کہ یہ کون لوگ ہیں ؟ کہا گیا کہ یہ اللہ کی راہ جہاد کرنے والے ہیں۔ پھر دیکھا کہ کچھ لوگ ایسے ہیں کہ جن کے سر پتھروں سے کچلے جارہے ہیں۔پوچھا گیا کہ یہ کون ہیں؟ کہا گیا کہ یہ وہ لوگ ہیں جن کے سر کی گرانی نماز کے لیے اٹھنے نہ دیتی تھی۔ کچھ اور لوگ دیکھے جن کے کپڑوں میں آگے پیچھے پیوند لگے ہوئے تھے اور وہ جانوروں کی طرح گھاس چر رہے تھے پوچھا کہ یہ کون لوگ ہیں؟ کہا گیا کہ یہ وہ لوگ جو اپنے مال میں سے زکوٰۃ خیرات کچھ نہیں دیتے تھے۔پھردیکھا کہ کچھ لوگوں کی زبانیں اور ہونٹ قینچیوں سے کترے جارہے ہیں۔پوچھا کہ یہ کون ہیں؟ کہا گیا کہ یہ غیر ذمہ دار مُقرّر ہیں جو بے تکلف زبان چلاتے اور فتنہ برپا کرتے تھے۔ ایک اور جگہ دیکھاایک پتھر میں ذرا سا شگاف ہوا اور اس میں سے ایک بڑا بیل نکلا، پھر وہ بیل دوبارہ اسی شگاف میں جانے کی کوشش کرنے لگا، مگر نہ جاسکا پوچھا کہ یہ کیا معاملہ ہے؟ کہا گیا کہ یہ اس شخص کی مثال ہے جو غیر ذمہ داری کے ساتھ ایک فتنہ انگیز بات کرجاتا ہے پھر نادم ہوکر اس کی تلافی کرنا چاہتا ہے مگر نہیں کرسکتا۔ ایک اور مقام پر کچھ لوگ تھے جو اپنا گوشت کاٹ کاٹ کر کھا رہے تھے۔ پوچھا یہ کون ہیں ؟ کہا گیا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو دوسروں پر زبان طعن دراز کرتے تھے۔( یہاں آپؐ کو اور بھی مشاہدات کرائے گئے مگر ہم نے مضمون کی طوالت کے باعث صرف چند ایک کا ذکر کیا ہے )
انہی مشاہدات کے سلسلے میں نبی اکرم ﷺ کی ملاقات ایک ایسے فرشتے سے ہوئی جو آپؐ سے نہایت ترش روئی سے ملا۔ آپ ؐنے جبرائیل علیہ السلام سے پوچھا کہ اب تک جتنے بھی فرشتے ملے تھے سب نے خندہ پیشانی اور بشاش چہروں کے ساتھ ملے، لیکن اِن کی خشک مزاجی کا کیا سبب ہے؟ حضرت جبرائیل نے فرمایا کہ اس کے پاس ہنسی کا کیا کام، یہ تو دوزخ کا داروغہ ہے۔ یہ سن کر آپ ﷺ نے دوزخ دیکھنے کی خواہش ظاہر کی۔ اُس(دارغۂ دوزخ) نے یکایک آپ ؐ کی نظر کے سامنے سے پردہ اٹھا دیا اور دوزخ اپنی تمام ہولناکیوں کے ساتھ نمودار ہوگئی۔( سیرت ابن ہشام )

اس مرحلہ سے گزر کر آپؐ دوسرے آسمان پر پہنچے یہاں آپؐ کی ملاقات حضرت یحی ٰ ؑ اور حضرت عیسیٰ ؑسے ہوئی۔ تیسرے آسمان پر آپؐ کی ملاقات حضرت یوسف ؑسے ہوئی۔ چوتھے آسمان پر آپؐ کی ملاقات حضرت ادریس ؑ، پانچویں پر حضرت ہارون ؑ ، چھٹے آسمان پر حضرت موسیٰ ؑاور ساتویں آسمان پر آپؐ کی ملاقات ایک ایسے بزرگ سے ہوئی جو آپؐ سے نہایت مشابہ تھے تعارف پر معلوم ہوا کہ یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام ہیں۔ ( بخاری،مسلم ،مسند احمد )
پھر مزید آگے بڑھے یہاں تک کہ سدرۃ المنتہیٰ پر پہنچ گئے۔اسی مقام کر قریب آپؐ کو جنت کا مشاہدہ کرایا گیا اور آپ ؐنے دیکھا کہ اللہ نے اپنے صالح بندوں کے لیے وہ کچھ مہیا کررکھا ہے جو کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا نہ کسی ذہن میں اس کا تصور تک آسکتا ہے۔ یہاں پہنچ کر حضرت جبرائیل ؑ بھی رک گئے اور آپؐ سے کہا کہ اب میں یہاں سے ایک قدم بھی آگے جاؤں گا تو میرے پر جل جائیں گے۔ اِس مقام سے آپؐ اکیلے ہی آگے گئے اور یہاں آپؐ نے اللہ کے جلال کا مشاہدہ کیا اور اللہ سے ہم کلامی کا شرف بخشا گیا۔ (بخاری ،مسلم )
یہاں کئی باتیں ہوئیں جن میں سے چند یہ ہیں کہ
۱۔ہر روز پچاس نمازیں فرض ہوئیں۔
۲۔سورہ بقرہ کی آخری دو آیتیں تعلیم فرمائی گئیں۔
۳۔ شرک کے سوا دوسرے سب گناہوں کی بخشش کا امکان ظاہر کیا گیا۔
۴۔ بتایا گیا کہ جو شخص نیکی کا ارادہ کرتا ہے اس کے حق میں ایک نیکی لکھ دی جاتی ہے اور جب وہ اس پر عمل کرتا ہے تو دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں، مگر جو برائی کا ارادہ کرتا ہے اس کے خلاف کچھ نہیں لکھا جاتا،جب وہ اس پر عمل کرتا ہے تو ایک ہی برائی لکھی جاتی ہے۔( متفق علیہ )

واپسی کے سفر پر آپ ؐ کی ملاقات حضرت موسیٰ ؑسے ہوئی انہوں نے فرمایا کہ مجھے اپنی اُمت کا تلخ تجربہ ہے اور اس لیے میرا خیال آپ کی امت پچاس نمازوں کی پابندی نہیں کرسکتی اس لیے واپس جاکر اس میں کمی کرائیں، آپؐ واپس گئے اور اللہ نے دس نمازیں کم کردیں، پھر آپ ؐ کی ملاقات حضرت موسیٰ ؑسے ہوئی انہوں نے پھر وہی بات کہی اور آپ ؐ پھر واپس گئے۔ اس طرح آپ ؐ بار بار جاتے رہے اور ہر بار دس نمازیں کم کی جاتی رہیں اور آخر کار پانج نمازیں فرض کی گئیں اور اللہ رب العزت نے ان پانج نمازوں کے بارے میں فرمایا کہ یہی پانج نمازیں پچاس کے برابر ہیں۔ ( متفق علیہ )

واپسی کے سفر میں آپ ؐ دوبارہ بیت المقدس آئے اور یہاں پھر تمام پیغبر موجود تھے ۔آپؐ نے دوبارہ ان کو نماز پڑھائی۔ پھر بُرّاق پر سوار ہوئے اور مکہ واپس پہنچ گئے ( البدایہ و النہایہ ج 3 ص112-113)

صبح آپؐ نے سب سے پہلے اپنی چچا زاد بہن حضرت ام ہانیؓ کو یہ واقعہ سنایا۔پھر نکل کر حرمِ کعبہ میں پہنچے تو ابو جہل سے سے آمنا سامنا ہوا -اس نے کہا کوئی تازہ خبر ؟فرمایا کہ ہاں میں آج رات بیت المقدس گیا تھا- ابو جہل نے پوچھا بیت المقدس؟راتوں رات ہو آئے؟ آپؐ نے فرمایا کہ ہاں۔ اس نے پوچھا کہ قوم کو جمع کروں ان کے سامنے یہ بات کہو گے؟ فرمایا بے شک۔ابو جہل نے آوازیں دے کرسب کو جمع کرلیا اور کہا اب کہو ،آپ ؐ سب کے سامنے پورا قصہ بیان کیا۔لوگوں نے مذاق اڑایا، حضرت ابو بکر ؓ کو یہ خبر سنا کر کہا کہ( نعوذ باللہ) تمہارا صاحب تو دیوانہ ہوگیا ہے، وہ کہتا ہے کہ ایک ہی رات میں بیت المقدس اور آسمانوں کی سیر کر کے آئے ہیں۔ حضرت ابوبکر ؓ نے فوراً اس کی تصدیق کی اور کہا کہ ’’اگر آپؐ نے یہ بات کہی ہے تو واقعی درست ہوگا۔ اس میں تعجب کی کیا بات ہے میں تو روز سنتا ہوں کہ ان کے پاس آسمان سے پیغام آتے ہیں اور میں اس کی تصدیق کرتا ہوں۔‘‘ ( اسی واقعہ معراج کی صداقت کی تصدیق کرنے پر حضرت ابو بکر ؓ کو بارگاہ رسالت سے صدیق کا لقب عطا کیا گیا )

قریشِ مکہ نے پوچھا کہ اگر آپ ﷺواقعی بیت المقدس گئے ہیں تو ہمیں اس کا نقشہ بتائیں۔ آپ ؐ نے بالکل ٹھیک ٹھیک ایسے جیسے کوئی نقشہ رکھا ہو ایسی طرح بیت المقدس کا نقشہ بیان کیا۔ وہاں بہت سے لوگ موجود تھے جو تجارت کے سلسلے میں بیت المقدس جاتے رہتے تھے وہ دل سے قائل ہوگئے کہ نقشہ بالکل درست ہے۔ مزید ثبوت مانگنے پر آپؐ نے فرمایا کہ میں فلاں مقام پر فلاں قافلے کے اوپر سے گزرا تھا جس کے ساتھ یہ یہ سامان تھا،قافلے والوں کے اونٹ بُرّاق سے بھڑکے، ایک اونٹ فلاں وادی کی طرف بھاگ نکلا، میں نے قافلے والوں کو اس کا پتہ دیا۔واپسی پر فلا ںوادی میں فلاں قافلہ مجھے ملا، وہ سب سو رہے تھے، میں نے ان کے برتن سے پانی پیا اور اس بات کی علامت چھوڑ دی کہ اس میں سے پانی پیا گیا ہے۔ ایسے ہی کچھ اور نشانیاں آپؐ نے بتائیں جن کی بعد میں آنے والے قافلوں نے تصدیق کی ۔( بخاری ۔مسلم،مسند احمد،ابن جریر ) اس طرح یہ اعتراضات کرنے والوں کے منہ بند ہوگئے-
(مضمون کا ماخذ سیرت سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم جلد دوم)

( نوٹ : یہ مضمون جولائی 2009 کو لکھا گیا اور 9 جولائی کو شائع ہوا۔ اس کی موقع محل کی مناسبت اور اس کی اہمیت کے پیشِ نظر آج اس کو دوبارہ شائع کیا جارہا ہے۔)

 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 323 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Saleem Ullah Shaikh

Read More Articles by Saleem Ullah Shaikh: 520 Articles with 1008802 views »
سادہ انسان ، سادہ سوچ، سادہ مشن
رب کی دھرتی پر رب کا نظام
.. View More

Comments

آپ کی رائے
MashAllah!
By: Muhammad Saleem Baloch, Karachi on Apr, 04 2020
Reply Reply
0 Like
Language:    

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ