ینگ ڈاکٹرز۔۔۔یہ کون لوگ ہیں؟

(Prof Khursheed Akhtar, Islamabad)

 پنجاب میں ینگ ڈاکٹرز نے کرونا وائرس سے بچنے کے لیے ھسپتالوں میں کام بند کرنے کا اعلان کیا ہے یہ خبر سن کر انتہائی دکھ ہوا ۔ھم بطور مسلمان اور پاکستانی کس بے حسی کا شکار ہیں دنیا اس سے جنگ لڑی رہی ہے اور ھم میدان سے بھاگ رہے ہیں وہ بھی جب دشمن سامنے کھڑا کروڑوں انسانوں کے درپے ہو۔اگرچہ ڈاکٹروں کو حکومت سے کوئی شکایت بھی ھو سکتی ھے،حفاظتی مسائل بھی ھوں گے مگر دیکھنے پر معلوم ھوتا ھے کہ یہ وجوہات کہیں ایک آدھ جگہ ھو سکتے ھیں مگر کم از کم لاھور میں تو بالکل نہیں ہیں۔پھر ان ینگ ڈاکٹرز کے ماضی کی طرف نظر دوڑائیں تو وہ ڈاکٹر کم سیاست دان زیادہ لگتے ہیں ،ھر حکومت کو بلیک میل کرنا،حرص و لالچ اور بے حسی نمایاں دیکھنے میں آتی ہے،غیر منطقی ھڑتال،گروہ بندی،کام چھوڑ کر تالے لگا دینا سب ان کا ماضی ھے، دکھ یہ ہے کہ کیوں؟ ان ڈاکٹروں پر ملک کا، ان کے والدین کا بہت سرمایہ لگ چکا ہے ،وہ یہ عہد کر کے بھی گئے تھے کہ ھم غریب عوام کی خدمت کا جذبہ لے کر آئے ہیں۔ھمیں ملک پر فخر ہے،ھم ھر حال میں یہ جنگ لڑیں گے! مگر جیسے ہی کرسی پر بیٹھے سب نظریے،سب جذ بے بھول گئے اور مسیحا ہی دشمن بن گئے یا بے نقاب ھو گئے! اب کرونا وائرس کی اس عالمگیر جنگ میں پاکستان کی بھی جگ ہنسائی ھے اور اپنے لوگوں کے سامنے بھی شرمندگی کا سامنا،کیا ینگ ڈاکٹرز یہ برداشت لیں گے،کیس اخلاقی اور معاشرتی لحاظ سے وہ قابل قبول ھوں گے اور کیا اللہ کے سامنے سرخروحی کا کوئی امکان ھے؟ ان سوالوں کے جوابات سن کو سوچنے ھوں گے۔اپ کے پڑوس میں کرونا وائرس کے خلاف چین نے جنگ لڑی اور جیت بھی لی،فتح کس جشن منایا ڈاکٹروں نے ایک قطار در قطار کھڑے ہو کر فتح کا اعلان کیا فوج،حکومت اور عوام نے انہیں سیلوٹ کیا ان دو مناظر کو دیکھ کر کلیجہ پھٹ کر رہ جاتا ہے کہ ایک طرف انسانیت کی عظمت اور دوسری طرف بے حسی کی انتہا ہے، کوئی ڈاکٹر،کوئی حکومتی کارندہ،ھمارے سماج کے بڑے اور زمہ دار اس سے سبق سیکھیں گے! اسلام آباد پمز ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر ھادی نے اس جنگ میں کود کر مثال قائم ھے کئی ڈاکٹر خیبر سے کراچی تک خدمات انجام دے رہے ہیں پیرامیڈیکل اسٹاف مصروف عمل ہے مگر اس موقع پر ینگ ڈاکٹرز کیوں ان کی خدمات داغدار اور پیشے کو بدنام کر رہے ہیں۔یہاں تک بیک وقت معاشی،معاشرتی اور سماجی سطح پر مسلسل کام اور قربانیوں کی ضرورت ہے،ھڑتال یا کام بند کرنا کون برداشت کرے گا؟ فلاحی معاشرہ ھمارے رویوں اور مثبت عمل سے بنتا ہے،لالچ انسان کو ھر جگہ ذلیل کر دیتی ہے۔ھم پتہ نہیں کیوں کام سے بھاگتے ہیں اور پیسے کی طرف وہ بھی مفت کا ھو کی طرف دوڑتے ہیں۔ایک لمحہ کے لئے اپنے گریبان میں جھانکنے کی دیر ہے بھیانک تصویر نظر آئے گی۔ ایک تقاضا دین کا دوسرا پیشے کا اور تیسرا ملک کا بھی ہے خیال کیجیئے راستہ اور منزل سامنے ھے۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 184 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof Khursheed Akhtar

Read More Articles by Prof Khursheed Akhtar: 52 Articles with 13207 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: