حفاظت کی چند جامع نبوی دعائیں اور اذکار

(Nadeem Ahmed Ansari, India)

عالمِ انسانیت اس وقت مختلف النوع مسائل سے گِھرا ہوا ہے۔ قومی و بین الاقوامی طور پر خوف و ہراس کا ماحول ہے ۔ چند سیاسی لوگوں کی گھٹیا سیاست نے انسانیت پر یلغار بول رکھی ہے ۔ طرّہ یہ کہ خود ہم نے اپنے مسائل کو حل کرنے کے لیے مناسب تدبیر اختیار کرنے اور خدا تعالیٰ سے لو لگانے کی طرف توجہ نہیں دی، جس کے پیشِ نظر مصیبتیں ٹلنے کا نام نہیں لے رہیں۔ ان حالات میں ضروری ہے کہ دن میں ظالم و جابر طاقتوں سے نمٹنے کی کوشش کی جائے اور رات میں قادر و قہار کے سامنے جبینِ نیاز خم کی جائے ۔ اس دوہری تگ و دو کے ساتھ ہی اچھے نتائج کی امید کی جا سکتی ہے ۔ اس وقت بعض امراض کے نام پر بھی ایک ہوّا بنایا گیاہے ، اس سے بچنے کی تدبیر اختیار ضرور کیجیے ، لیکن کسی خوف کا شکار ہوئے بغیر۔رحمۃ للعالمین ﷺ نے اپنی امت کو تکلیفوں اور مضرتوں سے بچانے کی بہت سی دعائیں سکھلائی ہیں،اگر اخلاص کے ساتھ ان دعاؤں کا معمول بنایا جائے تو یہ ہمارے حق میں حفاظت کا قلع ثابت ہوں گی۔ اسی مقصد کے تحت یہاں مختلف قسم کی مصیبتوں سے حفاظت کی چند جامع دعائیں پیش کی جا رہی ہیں۔

اﷲ کے عذاب سے حفاظت
مصیبت کا ایک سب اﷲ تعالیٰ کا عذاب ہے اور اﷲ کے عذاب سے بچنے کا قرآنی نسخہ یہ ہے کہ اپنے گناہوں پر استغفار کیا جائے ۔ اﷲ تعالیٰ دو صورتوں میں اپنے بندوں کو عذات نہیں دیتا۔پہلی صورت یہ کہ اس کا نبی امت میں موجود ہو، دوسری یہ کہ امت استغفار میں مشغول ہو۔ اپنے نبی سے مخاطب ہوکر اﷲ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :اور اﷲ ایسا نہیں ہے کہ ان کو اس حالت میں عذاب دے جب تم ان کے درمیان موجود ہو، اور اﷲ اس حالت میں بھی ان کو عذاب دینے والا نہیں ہے جب وہ استغفار کرتے ہوں۔(الانفال) حضرت ابوموسی رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں، رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا: اﷲ تعالیٰ نے مجھ پر میری امت کے لیے دو امن اتارے ؛(۱) اﷲ ایسا نہیں کرے گا کہ انھیں آپ کے ہوتے ہوئے عذاب دے (۲) اﷲ انھیں عذاب نہیں دے گا، جب تک وہ استغفار کرتے رہیں گے ۔ پس جب میں (دنیا) سے چلا جاؤں گا تو ان میں استغفار کو قیامت تک کے لیے چھوڑ جاؤں گا۔(ترمذی)

ہر چیز سے حفاظت کی دعا
ہمیں صبح و شام تین تین مرتبہ اس مختصر اور جامع دعا کا بھی معمول بنا لینا چاہیے ۔حضرت عثمان بن عفان رضی اﷲ عنہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اﷲ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے : جس نے تین مرتبہ یہ دعا پڑھی: بِسْمِ اللّٰہِ الَّذِی لَا یَضُرُّ مَعَ اسْمِہٖ شَیْءٌ فِی الْأَرْضِ وَلَا فِی السَّمَاءِ وَھُوَ السَّمِیعُ الْعَلِیمُ - اﷲ کے نام کے ساتھ شروع کرتا ہوں، جس کے نام کی برکت سے زمین و آسمان کی کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکتی اور وہی سننے والا، جاننے والا ہے - اسے کوئی ناگہانی مصیبت نہیں پہنچے گی صبح تک، اور جس نے یہ کلمات صبح کو تین بار کہے تو شام تک اس کو کوئی ناگہانی مصیبت نہیں پہنچے گی۔(ابوداود)

شر سے حفاظت کی دعا
کنزالعمال میں ہے کہ جو شخص اپنے گھر سے سفر وغیرہ کے ارادے سے نکلے اور نکلتے وقت کہے :بِسْمِ اللّٰہِ، آمَنْتُ بِاللّٰہِ، اعْتَصَمْتُ بِاللّٰہِ، تَوَکَّلْتُ عَلَی اللّٰہِ، لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ-اﷲ کے نام سے نکلتا ہوں، میں اﷲ پر ایمان لایا، اﷲ کو مضبوط تھاما، اﷲ پر بھروسہ کیا، اﷲ کے بغیر کسی شر سے حفاظت نہیں اور اﷲ کے بغیر کسی چیز کی طاقت نہیں- تو اس نکلنے میں اس کو خیر ملے گی اور اس نکلنے کے بعد اس کی شر سے حفاظت ہوگی۔(کنزالعمال)

ہر مخلوق سے حفاظت کی دعا
ابو داود شریف کی روایت ہے ، ابوصالح کہتے ہیں کہ میں نے قبیلۂ اسلم کے ایک شخص کو یہ کہتے ہوئے سے سنا کہ میں رسول اﷲ ﷺ کے پاس بیٹھا ہوا تھا اتنے میں آپ کے اصحاب میں سے ایک شخص آیا اور اس نے عرض کیا : اے اﷲ کے رسول ! آج رات مجھے کسی چیز نے کاٹ لیا، جس کے سبب میں رات بھر نہیں سویا یہاں تک کہ صبح ہوگئی۔ آپ ﷺ نے فرمایا : کس چیز نے ؟ اس نے عرض کیا : بچھو نے ۔ آپ ﷺنے فرمایا : سنو اگر تم شام کو یہ دعا پڑھ لیتے : أَعُوذُ بِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ-میں اﷲ کے تمام کلمات کی پناہ مانگتا ہوں اس چیز کے شر سے جو اس نے پیدا کی ہے - تو تجھے ان شاء اﷲ کچھ نقصان نہ پہنچتا۔(ابوداود)

جِنّ و انس سب کے شر سے حفاظت
کنزالعمال میں ہے کہ جس نے صبح کے وقت یہ کلمات پڑھے : اَعُوْذُ بِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّامَّاتِ الَّتَیْ لَاْیُجَاوِزُھُنَّ بِرٌّ وَّلَاْ فَاجِرٌ مِنْ شَرِّ مَاخَلَقَ وَ بَرَأَ وَ ذَرَأَ -میں اﷲ کے تمام کلمات کے ساتھ اﷲ کی پناہ مانگتا ہوں جن سے نہ کوئی نیک تجاوز کرسکتا ہے اور نہ فاجر، ہر اس چیز کے شر سے جو اﷲ نے پیدا کی اور ظاہر کی۔ ان کلمات کی بہ دولت وہ شخص جنّ و انس سب کے شر سے محفوظ رہے گا اور اگر کوئی شے اس کو ڈس لے تو اس کو کوئی نقصان پہنچے گا اور نہ تکلیف ہوگی حتی کہ شام ہو، اور اگر شام کے وقت یہ کلمات کہے تو صبح تک یہی فضیلت حاصل ہوگی۔(کنزالعمال)

ہر برائی سے حفاظت کی دعا
حضرت ابوزر رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے ، رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا: جو شخص فجر کی نماز کے بعد اس تشہّد کی طرح بیٹھ کر کسی سے بات کیے بغیر دس مرتبہ لَا اِلَہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ یُحْیِی وَیُمِیتُ وَھُوَ عَلَی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیرٌ پڑھے گا، اس کے لیے دس نیکیاں لکھ دی جائیں گی، دس گناہ معاف کردیے جائیں گے ، دس درجات بلند کیے جائیں گے اور وہ اس دن ہر برائی سے محفوظ رہے گا،اسے شیطان کی پہنچ سے دور کردیا جائے گا اور اسے اس دن شرک کے علاوہ کوئی گناہ ہلاک نہیں کرسکے گا۔(ترمذی)

شیطان سے حفاظت کی دعا
حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے ،رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا: لَا اِلَاَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ، لَا شَرِیکَ لَہُ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلَی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیرٌتو اسے دس غلام آزاد کرنے کے برابر ثواب ملے گا، سو نیکیاں اس کے لیے لکھ لی جائیں گی،اس کی سو برائیاں مٹادی جائیں گی اور وہ اس دن شام تک شیطان سے محفوظ رہے گا اور کوئی شخص اس سے بہت ثواب کا عمل پیش نہیں کرسکے گا، ہاں وہ شخص جس نے اس دعا کو اس سے زیادہ مرتبہ پڑھا ہو۔(بخاری)اور حضرت ابوعیاش رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے ، رسول اﷲ ﷺنے فرمایا: جو شخص صبح کے وقت یہ دعا مانگے : لَا اِلٰہَ اِلَّا اللَّہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیکَ لَہُ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلَی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیرٌ تو اسے حضرت اسماعیل کی اولاد میں سے ایک غلام آزاد کرنے کے برابر اجر ملے گا، اس کی دس خطائیں معاف کردی جائیں گی اور وہ شام تک شیطان سے محفوظ رہے گا۔ اور شام کو یہی کلمات پڑھے تو صبح تک ایسا ہی رہے گا۔(ابن ماجہ)

ہر مرض سے حفاظت کی دعا
ہمارا ایمان ہے کہ مرض ہو یا شفا، سب اﷲ تعالیٰ کی طرف سے ہے ۔ اس لیے علاج کے ساتھ ساتھ بیماری سے حفاظت کے لیے بھی اﷲ تعالیٰ کے حضور دعا گو بھی ہونا چاہیے ۔ حضرت انس بن مالک رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے ، رسول ﷺ یہ دعا فرمایا کرتے تھے :اللّٰھُمَّ اِنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنَ الْبَرَصِ، وَالْجُنُو’نِِ،وَالْجُذَامِ، وَمِنْ سَیِّءْ الْأَسْقَامِ- اے اﷲ میں تجھ سے پناہ چاہتا ہوں برص کی بیماری سے ، پاگل پن سے ، کوڑھ سے اور تمام نقائص اور بیماریوں سے ۔(ابوداود)

جسمانی صحت کے لیے دعا
جسمانی صحت ایک عظیم ترین نعمتِ خداوندی ہے ، پرہیز اور علاج کے ساتھ ساتھ مسلمان کا وطیرہ ہے کہ وہ اﷲ تعالیٰ سے جسمانی صحت اور عافیت کا سوال بھی کرے ۔ حضرت عبدالرحمن بن ابی بکرہ نے اپنے والد حضرت ابوبکرہ رضی اﷲ عنہ سے کہا: اے ابا جان میں آپ کو ہر صبح یہ دعا کرتے ہوئے سنتا ہوں: اللّٰھُمَّ عَافِنِی فِی بَدَنِی، اللَّھُمَّ عَافِنِی فِی سَمْعِی، اللَّھُمَّ عَافِنِی فِی بَصَرِی، لَا اِلٰہَ اِلَّا أَنْتَ-اے اﷲ میرے بدن میں عافیت عطا فرما، میری سماعت میں عافیت عطا فرما، میری بصارت میں عافیت عطا فرما، آپ کے علاوہ کوئی معبود نہیں- اور آپ تین مرتبہ اسے لوٹا کر پڑھتے ہیں صبح کے وقت اور تین بار شام کے وقت؟ حضرت ابوبکرہ نے فرمایا: بے شک میں نے رسول اﷲ ﷺ کو یہ دعا پڑھتے ہوئے سنا ہے ، اس لیے مجھے یہ پسند ہے کہ آپ کے طریقے اور سنت پر چلوں۔(ابوداود)

کسی کی مصیبت سے حفاظت کی دعا
آج کل ایک مرض یہ ہے کہ کسی کو کسی مصبیت میں مبتلا دیکھ کر بھی اﷲ تعالیٰ کے حضور متوجہ نہیں ہوتے ، اگر چاہتے ہیں کہ وہ مصیبت ہم تک نہ پہنچے تو درجِ ذیل دعا کا اہتمام کریں۔حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے ، رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا: جو شخص کسی کو مصیبت میں مبتلا دیکھ کر یہ دعا پڑھے : الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِی عَافَانِی مِمَّا ابْتَلَاکَ بِہٖ وَفَضَّلَنِی عَلٰی کَثِیرٍ مِمَّنْ خَلَقَ تَفْضِیلًا-و وہ اس مصیبت سے محفوظ رہے گا۔(ترمذی)

دجّال کے فتنے سے حفاظت
یہ قربِ قیامت کا زمانہ ہے ، اس لیے دجّال کے فتنے سے حفاظت کی دعاؤں کا بھی اہتمام ہونا چاہیے ۔ حضرت ابودرداء رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے ، حضرت نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جو آدمی سورۂ کہف کی ابتدائی دس آیتیں یاد کرلے گا، وہ دجال کے فتنے سے محفوظ رہے گا۔(مسلم)
(مضمون نگار الفلاح اسلامک فاؤنڈیشن، انڈیا کے محقق و ڈیریکٹر ہیں)

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 635 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Maulana Nadeem Ahmed Ansari

Read More Articles by Maulana Nadeem Ahmed Ansari: 215 Articles with 112815 views »
(M.A., Journalist).. View More

Comments

آپ کی رائے
Language:    

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ