مساجد کی بندش:ایک اشکال اور اس کا جواب

(M.Jehan Yaqoob, Karachi)

اشکال:تاریخ میں اس سے پہلے بڑے بڑے طاعون اور وبائیں آئیں لیکن مساجد کو بند نہیں کیا گیا۔ دشمن سے مڈبھیڑ کے دوران میں بھی جماعت سے رخصت نہیں دی گئی تو کرونا کی وجہ سے کیسے دی جا سکتی ہے؟

مریضوں کو تو منع کیا جا سکتا ہے لیکن تندرست افراد کے لیے مساجد کی بندش ظلم اور حرام ہے کہ قرآن مجید میں ہے:
ترجمہ: اور اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہو گا جو اﷲ کے معبدوں میں اس کے نام کی یاد سے روکے اور ان کی ویرانی کے در پے ہو؟

جواب:پہلی بات تویہ ہے کہ:تدبیری امور کے متعلق کسی رائے کا تاریخ میں موجود نہ ہونا شرعا اس کے غلط ہونے کی دلیل نہیں بن سکتا۔ ماضی میں جو وبائیں پھوٹیں، اگر ان کے سدباب کے لیے مساجد کی بندش کا فیصلہ نہیں کیا گیا تو اس کے معنی یہ نہیں کہ ایسا فیصلہ ہو ہی نہیں سکتا، خصوصا جب شریعت میں کسی سبب کی بنا پر مساجد میں عدم حاضری کی رخصت موجود ہو، جیسا کہ بارش کے دوران میں یہ اعلان کرایا جاتا تھا کہ نماز گھروں میں پڑھ لی جائے۔ اس سے پتا چلتا ہے کہ کسی عذر کی وجہ سے مساجد میں نہ آنے کی رخصت موجود ہے بلکہ خود شارع علیہ السلام نے اس کی ترغیب دی ہے۔احادیث سے معلوم ہوتاہے کہ عہد رسالت میں بارش کے موقعے پر اذان کے آخر میں یہ کہنے کا حکم تھا:الا صلوا فی الرحال
ترجمہ: اپنے اپنے گھروں میں نماز پڑھ لو۔
اس سے مساجد میں نہ آنے کا شرعی جواز نکلتا ہے، نیز قرآنی حکم:اور اپنے گھروں ہی کو قبلہ بنا لو۔ (سورۂ یونس: 87 )سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ:ماضی کے اہل علم اور مجتہدین نے ایسا کرنا ضروری نہیں سمجھا یا ان کے گمان کے مطابق مساجد میں حاضری سے اس کے پھیلا کا خطرہ نہیں ہو گا۔ یوں بھی طاعون وغیرہ کی علامات ظاہر ہوتی ہیں جب کہ کرونا کا معاملہ یک سر مختلف ہے کہ اس کی ظاہری علامات بہت زیادہ واضح اور نمایاں نہیں ہیں اور نہ ہی جلد ظاہر ہوتی ہیں، اس لیے احتیاط ہی اصل حل ہے۔

مزید برآں ان زمانوں میں طاعون سے لاکھوں لوگ ایک ہی علاقے میں ہلاک ہوتے رہے ہیں جیسا کہ حضرت عمررضی اﷲ عنہ کے دور میں ڈھائی لاکھ لوگ لقمہ اجل بن گئے تھے، تو کیا ضروری ہے کہ اب بھی ہزاروں لاکھوں لوگوں کی جانیں داو پر لگائی جائیں؟
راقم اثیم:ابو سعد محمد جہان یعقوب
فاضل درس نظامی،متخصص فی الفقہ ،یکے ازمؤلفین تفسیرروح القرآن ،ایم اے(عربی،اسلامیات)ایم فل،پی ایچ ڈی
ریسرچ اسکالربنوریہ یونی ورسٹی انٹرنیشنل،کراچی
ڈین فیکلٹی آف قرآن ،بنوریہ یونی ورسٹی ،کراچی
+92-3142752084
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 509 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: M Jehan Yaqoob

Read More Articles by M Jehan Yaqoob: 240 Articles with 149691 views »
Researrch scholar
Author Of Logic Books
Column Writer Of Daily,Weekly News Papers and Karachiupdates,Pakistanupdates Etc
.. View More

Comments

آپ کی رائے
Language:    

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ