بس نام رہے گااللہ کا

(Muhammad Riaz, Islamabad)
قدرت کل بھی حاوی تھی آج بھی حاوی ہے اور کل حاوی رہے گی 

کہا جا رہا تھاکہ یہ سائنس کا کمال ہیکہ جس نے ٹیکنالوجی کو اس عروج پر پہنچا دیاہے کہ دنیا کی سرحدیں بے معنی ہو گئی ںہیں اور انسانیت کو یہ محسوس ہونے لگا کہ اس نے پوری قدرت کو اپنی مٹھی میں کر لیا ہے۔ یہ احساس ایسا کوئی بہت غلط بھی نہیں تھا۔ کیونکہ کبھی جنگلوں میں ننگا پھرنے والے انسان نے دیکھتے دیکھتے جنگلوں کو اپنے قبضے میں ایسا لیا کہ جنگل ہی ختم ہونے پر پہنچ گئے۔ پھر پانی سے بجلی بنا کر انسان نے ایک ایسا انقلاب برپاکر دیا کہ دنیا ہی بدل گئی۔ بجلی کے کاندھوں پر سوار انڈسٹریل انقلاب نے ایک نئی تہذیب پیدا کی جس کی سیاست، معیشت اور نظام تعلیم سب بالکل جدا تھا ۔ مثلا نصف انیسویں صدی تک انسان ہوائی سفر کا تصور اللہ دین کے چراغ کے ذریعہ محض کہانی قصوں میں ہی کر سکتا تھا۔ مگر اسی انسان نے جلد ہی نیوٹن کے قوانین کو توڑ کر ہوائی جہازوں کے ذریعہ ہواوں میں پرواز شروع کر دی۔ اب یہ عالم ہے کہ چاند کیا انسان مریخ پر جانے کی تیاری میں ہے۔ اپنے تحفظ کے لیے اسی انسان نے ایٹم اور نیوکلیئر اور نہ جانے کیسے کیسے ہتھیار بنائے۔

ظاہر ہے کہ یہ سب سائنس و ٹیکنالوجی کا کمال تھا۔ اور انسان کو واقعی یہ محسوس ہونے لگا کہ اب تو سب کچھ اس کی مٹھی میں ہے۔ اور اکیسویں صدی آتے آتے تو انسان اس قدر ترقی یافتہ ہو چکا تھا کہ اس نے موت کو ٹالنے پر ریسرچ شروع کر دی۔ لیکن یہ خیال ہی اپنے میں انسان کی سب سے بڑی بھول ہے۔ آپ کچھ کر لیجیے، قدرت آپ سے بلند و بالا تھی اور رہے گی۔ اور انسان اس کو کبھی اپنی مٹھی میں قید نہیں کر سکتا ہے۔ اب دیکھیے نہ ایک ادنی سے وائرس جس کو کورونا کہا جا رہا ہے، اس نے پوری انسانیت کو ایک ایسی تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کر دیا ہے کہ جہاں سوائے دعا کے اس کے پاس کوئی چارا نہیں۔ اس وقت تمام عالم پر کورونا کی وہ وحشت طاری ہے کہ جس کا تصور بھی یہ ترقی پذیر انسان نہیں کر سکتا تھا۔ انسان کی تمام سائنسی و ٹیکنالوجیکل ایجادات، انڈسٹریل انقلاب، اس کا صدیوں میں اکٹھا کردہ علم، اس کی معاشی، سیاسی اور ہر طرح کا نظام اس ایک وائرس کے آگے لاچار ہے۔ وہ انسان جو کل تک قدرت کو مٹھی میں بند کر گھوم رہا تھا، آج وہی انسان قدرت کے آگے لاچار ہے۔ اس کے بڑے بڑے اسپتال، اس کی وہ میڈیسن اور سرجری کی بے پناہ چھلانگ اور وہ تمام ترقی اس وقت بے اثر اور بے معنی ہے۔ ذرا تصور کیجیے کہ اٹلی کے ایک شہر میں دولت مند افراد کے علاقے میں اسپتالوں نے یہ فیصلہ لیا کہ اگر 80 سال سے زیادہ عمر کے مریض کورونا وائرس کے علاج کے لیے آتے ہیں تو وہ ان کو اسپتال میں بھرتی نہیں کریں گے۔ یعنی ان کے اسپتالوں میں اتنا ساز و سامان نہیں تھا کہ وہ مریض کا علاج کر سکیں۔ لہذا یہ فیصلہ لیا کہ اگر بوڑھے کورونا وائرس سے مرتے ہیں تو مرنے دو۔ ایسی ہی خبریں چین سے بھی موصول ہوئیں۔ ذرا غور فرمائیے، اٹلی یورپ کا ایک ترقی یافتہ ملک ہے اور چین دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت ہے۔ لیکن ایک معمولی سے وائرس کے خوف سے دونوں ملک لاک ڈاون ہیں۔ ارے دنیا کا سب سے ترقی یافتہ ملک امریکہ بھی اس ایک وائرس سے پناہ مانگ رہا ہے ۔ وہ امریکہ جو اپنے مہلک ہتھیاروں سے ساری دنیا کو منٹوں میں ختم کر سکتا ہے، اسی امریکہ کے باشندوں کے لیے اب روزمرہ کے کھانے پینے کی اشیا کا قحط ہو رہا ہے۔ اور یہ سب صرف ایک معمولی وائرس کا کمال ہے۔

اس وقت امریکہ کیا پوری انسانیت اس کورونا وائرس کے آگے بے یار و مددگار ہے۔ کیونکہ یہ محض ایک بیماری نہیں ہے بلکہ اس نے تو دنیا کا تمام معاشی نظام ہی درہم برہم کر دیا ہے۔ دنیا کی ہر صنعت و حرفت، ہر کمپنی، ہر دکان اور ہر طرح کی معیشت کو کتنا نقصان اور تباہی اٹھانی پڑے گی اس کا کوئی ابھی اندازہ ہی نہیں لگا سکتا ہے۔ اگر کل کو محض ہوائی سفر کی پوری کمپنیاں دو چار ماہ کے لیے بند ہو گئیں تو ساری دنیا میں کئی کروڑ لوگ بے روزگار ہو جائیں گے۔ ہوٹل، ریستوران اور ٹورزم پر جو لاک ڈاون ہے اس کا تصور نہیں کیا جا سکتا ہے۔

خیر یہ تو بڑے بڑے امریکہ، اٹلی اور چین جیسے ترقی یافتہ ممالک کا حال ہے۔ اب ذرا سوچیے پاکستان کے غریبوں کا کیا حال ہوگا۔ وہ ریڑی والا جو ہمارے اور آپ کے گھر سے باہر نکلنے پر سامان بیچتا ہے، وہ اس لاک ڈاون میں کس کو کیا بیچے گا۔ پھر رکشہ والا، آٹو والا، ٹیکسی ڈرائیور جیسے درجنوں اس طرح کا کام کرنے والے جو روز کنواں کھود کر کام کرتے ہیں وہ آخر کہاں جائیں گے۔ ارے ان کو تو بھیک بھی میسر نہیں ہوگی۔ کوئی باہر نکلے تب ہی تو بھیک دے گا۔

آج ساری دنیا کی حکومتیں اور عوام کورونا وائرس سے تذبذب کا شکار ہیں ۔ دنیا کے کئی مقامات پر مساجد میں نمازیں ادا نہیں کی جارہی ہیں ۔ موت سارے عالم میں کورونا کی شکل میں رقص کر رہی ہے ۔ ہر کوئی یہ کہہ رہا ہے کہ یہ اللہ کا عذاب ہے ۔ آج سارے عالم میں گناہ انتہا پر ہیں ۔ جبکہ عام آدمی بھی خوف کے عالم میں چکن کا استعمال چھوڑ چکا ہے ۔ آج لوگ بیماری کے خوف سے غذا چھوڑ رہے ہیں لیکن آخرت کے خوف سے گناہ چھوڑنے تیار نہیں

یہ ہے جناب قدرت کا ایک معمولی سا وائرس جس کو ہم اور آپ کورونا کہہ رہے ہیں، سال ڈیڑھ سال میں اس کا علاج بھی دریافت ہو جائے گا لیکن ابھی اس کی طاقت کا عالم یہ ہے کہ اس کے آگے کیا ٹرمپ، کیا جن پنگ ، بڑے بڑے لاچار ہیں۔ وہ دنیا کی بے پناہ دولت وہ تمام سائنس کی ترقی، وہ نیوکلیئر ہتھیاروں کی سیکورٹی اور ہر قسم کا نظام سب لاچار ہے۔ اس بے پناہ اندھیرے اور ناامیدی میں اگر امید کی کوئی کرن ہے تو بس صرف یہ کہ وہ انسان جس نے کل تک اپنے کو امیر غریب، گورے کالے، مذہب، زبان، تہذیب اور نہ جانے کتنے خانوں میں بانٹ لیا تھا وہ ان تمام دیواروں کو گرا کر ایک اللہ کی واحدانیت اور محمدۖ شرعیت کو تسلیم کر لے ۔کثرت سے عبادت اور نمازوں کی پابندی ضروری ہے بلکہ صدقہ کی طاقت پر بھی توجہ کی جانی چاہئے ۔ بے شک میرے نبی اکرم ۖ کا فرمان ہے کہ صدقہ ہر بلا کو ٹالتا ہے ۔ آج ساری دنیا کورونا وائرس کی لپیٹ میں ہے حکومتیں بھی اس بیماری سے نمٹنے اور عوام کے تحفظ کیلئے ٹھوس اقدامات بھی کر رہی ہیں ۔ احتیاط بھی ضروری ہے ۔ عبادات بھی لازمی ہے ۔ گناہوں سے دوری اختیار کرتے ہوئے اللہ کی طرف گڑگڑائیں تو اللہ یقینا بیماریوں سے نجات دلائے گا اور سارے عالم میں اس بیماری کا خاتمہ ہوگا ۔ اس کیلئے قرآن کریم کی بھی کثرت سے تلاوت کریں ۔ ورنہ انسان کیا انسانیت ہی کل ختم ہو جائے تو کیا پتہ۔ اور پھر بس جو بچے گا وہ ہوگی قدرت یا یوں کہیے کہ بس نام رہے گا اللہ کا!

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Riaz

Read More Articles by Muhammad Riaz: 16 Articles with 4412 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
24 Mar, 2020 Views: 202

Comments

آپ کی رائے