کورونا وائرس کی وبا میں دکھی دلوں کا سہارہ بنیں

کورونا وائرس کی وبا اب تک دنیا بھر میں اپنی دہشت دکھا چکی ہے۔مذاق مذاق میں کئی زندگیوں کے چراغ گل ہوچکے ہیں۔ اب یہ دکھائی نہ دینے والا دشمن جس کا وار بھی انسان کو معلوم نہیں ہوتا اور وہ کچھ ہی دنوں میں انسان کو موت کی جانب دھکیل دیتا ہے پاکستان میں بھی اپنے پنجے گاڑ چکا ہے۔

ملک بھر میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 500سے زائد ہوچکی ہے۔ سندھ حکومت نے پورے صوبے کو 15روز کے لیئے لاک ڈاون کردیا ہے جبکہ بقایا تینوں صوبے بھی تقلید کرتے ہوئے لاک ڈاون کا اعلان کرچکے ہیں۔کورونا وائرس کے باعث عالمی معیشت اس وقت شدید دباو کا شکار ہے جبکہ شیئرز مارکیٹ کا بھٹہ بھی کورونا کے وار اور عالمی منڈی میں تیل کی گرتی قیمتوں نے بیٹھا دیا ہے۔اس وقت پوری دنیا کے ساتھ پاکستان کے معاشی حالات بھی نازک ڈگر پر پہنچ چکے ہیں مسلسل بڑھتے زرمبادلہ کے زخائر میں کمی اگئی ہے۔اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کے کھربوں روپے ڈوب چکے ہیں اس وقت ملک میں ہنگامی صورتحال ہے اور ان تمام حالات میں ایک غریب دیہاڑی دار مزدور روزگار کے لیئے شدید پریشان ہے۔

موقع اچھا ہے نیکیاں سمیٹ لیں۔

پاکستانی قوم بلخصوص کراچی غریب پرور شہر مانا جاتا ہے۔جو ہر آنے والے کو ایک ماں کی طرح اپنی آغوش میں لے لیتا ہے۔اس وقت یقنن ملک میں ہر طبقہ پریشان ہے اور غریب متوسط طبقے کا شہری کورونا سے زیادہ اپنے بچوں کی بھوک بوڑھی ماں کی ادویات کے لیئے فکر مند ہے۔ سندھ حکومت کی جانب سے صوبے بھر میں راشن تقسیم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے اور ساتھ ہی مختلف فلاحی تنظیمیں بھی لوگوں تک کھانا راشن پہنچانے کا بندوبست کررہی ہیں۔

کھانے پینے کے علاوہ زندگی کی اور بھی کئی اہم ضروریات ہوتی ہیں جو یقنن اس کورونا وائرس کی بیماری کے باعث اثرانداز ہورہی ہیں۔

اسلام ایک مکمل دین ہے جو ذندگی کہ ہر شعبے میں رہنمائی کرتا ہے۔کچھ دنوں کے بعد ہی رمضان المبارک کا مہینہ شروع ہورہا ہے۔ جس میں ہر مسلمان کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنے تمام گناہ رب کائنات سے معاف کروالے اور اسی مہینہ میں صاحب استطاعت افراد بھی زکوت فطرہ دینے کے لیئے خوب چھان پٹک کرتے ہیں کہ انکی اللہ کی راہ میں دی گئی رقم ٹھیک مستحق تک ہی پہنچ جائے۔اس وقت کورونا کی وبا میں بہت بڑی تعداد میں لوگوں کو ہوسکتا ہے راشن مل جائے تاہم زندگی کے دیگر ضروریات دوا،علاج،رمضان المبارک کی تیاری،گھر کا کرایہ،بجلی کا بل،بچوں کی فیسیں ادا کرنا انکے لیئے ایک بڑا مسئلہ بنا ہوا ہوگا۔ یہی وقت ہے ایک ماہ کا انتظار نہ کریں اسلامی فریضہ ادا کریں اور زکوتِ کی ادائیگی جلد از جلد ادا کردیں۔ اپکی دی ہوئی رقم کسی مستحق کا سہارہ بننے کے ساتھ اسکی سفید پوشی کا برہم بھی برقرار رکھے گی۔

زکوتہ کی ادائیگی کی اگر فراوانی سے ہوجائے تو پاکستان میں یقنن ایسے افراد موجود ہیں جن کے دیئے ہوئے مال کی بدولت کئی گھرانوں کے مسائل حل ہوجائیں گے۔بس یہ وقت ہے رب العزت کو راضی کریں فرض کی ادائیگی کرکے اللہ کے بندوں کی پریشانیوں کو دور کردیں تاکہ اس مہلک مرض کے خاتمے کے ساتھ جو معاشی بحران دنیا بھر میں پیدا ہونے والا ہے جس سے بیروزگاری بڑھنے کے خدشات بھی انتہا سے زیادہ ہیں اس میں دکھی دلوں کی دادرسی بھی ہوسکے اور رب العزت کی رضا مندی بھی حاصل ہوجائے
۔۔
 

Syed Waleed Ahmed
About the Author: Syed Waleed Ahmed Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here.