کورونا وائرس احتیاط لازم ہے

(Sarwar Siddiqui, Lahore)

 کرونا وائرس پرقابو پانے کے لئے حکومت تیزی سے سرگرم ِ عمل ہے کئی شہروں میں لاک ڈاؤن کیا جارہاہے شہریوں کو غیر ضروری نقل و حمل سے منع کردیا گیاہے احتیاط علاج سے بہتر ہے اس لئے حکومت سے بھرپور تعاون عوام کا فرض ہے جب کرونا وائرس بے قابو ہوا تو کسی ستم ظریف نے سوشل میڈیا پر پوسٹ کی کہ اگریہ مرض پاکستان میں آیا تو اہل ِ وطن پہلے ماسک مہنگے کریں گے پھر ادویات اور پھر کفن۔۔ خدامعاف کرے یہ پیش گوئی کبھی سچ نہ ہو لیکن جیسے ہی پاکستان میں کرونا وائرس کے مریضوں کا انکشاف ہوا بازار میں ماسک مہنگے ہوناشروع ہوگئے آج کل نایاب ہیں عوام میں خوف وہراس الگ ہے اس ماحول میں جہاں کچھ مفادپرست مالی فائدہ اٹھانے کے لئے سرگرم ہیں وہاں سینکڑوں سماجی شخصیات، این جی اوز اور سماجی تنظیمیں اپنے ہم وطنوں کی بے لوث خدمت کے لئے پیش پیش ہیں خدا اس جذبے کو سلامت رکھے مختلف شہروں میں لاک ڈاؤن اور کاروبارکی بندش کے باعث غریب بہت متاثرہوئے ہیں ،خاص طور پر پھیری والے ،فروٹ،سبزی اور ٹھیلے لگاکرروزی کمانے والوں کو روزی روٹی کے لالے پڑ گئے اس صورت ِ حال میں ہزاروں درددِ ل رکھنے والوں اخوت کی نئی مثالیں قائم کی ہیں ملک کے طول ہ عرض میں مستحقین کے لئے کھانے کااہتمام اور راشن کی فراہمی کی جارہی ہے گلگت کا ایک سپوت ڈاکٹر اسامہ کورونا کے مریضوں کا علاج کرتے کرتے اپنے فرض پر قربان ہوگیا کروڑوں اہلیان ِ وطن وطن کے اس بہادر سپوت کو دل کی اتھاہ گہرائیوں سے خراج ِ عقیدت پیش کرتے ہیں اور رہتی دنیا تک ان کا نام اور جذبے کو سنہری حروف سے لکھا جائے گا پاکستان کے سینکڑوں ڈاکٹرز اپنے ہم وطنوں کو اس موذی مرض سے بچانے کے لئے دن رات مصروف ہیں ان کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے ہم ان کے جذبے کو بھی سلام پیش کرتے ہیں آج دنیا کو جس خطرے کا سامناہے اسے کورونا وائرس کانام دیا گیاہے اس کا محرک فطرت سے بغاوت ہے اسی لئے کورونا وائرس کو اﷲ کا عذاب بھی قراردیاجارہاہے کہاجاتا ہے چین میں کرونا وائرس سب سے پہلے سانپوں کے ذریعے انسانوں میں منتقل ہوا۔ زندہ چمگادڑوں، سانپوں، بلیاں اور کتے کا سوپ بھی اس مرض کے پھیلاؤ کا بڑا سبب ہیں پالتو جانور بھی اس وائرس سے متاثر ہو جاتے ہیں اور ان سے وائرس انسانوں میں منتقل ہو جاتا ہے۔ دنیا کی ہر سپرپاورکورونا وائرس کے سامنے بے بس دکھائی دیتی ہے جو اس بات کابرملااعلان ہے کہ اﷲ کے سامنے ہرچیزہیچ ہے بلاشبہ اﷲ ہی کے قبضہ ٔ قدرت میں ہرقوت ہے اور اتنی ترقی کرنے کے باوجود انسان اﷲ تبارک تعالیٰ کے سامنے بے بس ،عاجز اور لاچارہے اٹلی میں سب سے زیادہ ہلاکتیں ہورہی ہیں اس وقت 188ممالک اس عذاب کی لپیٹ میں ہیں آئیں سب پاکستانی مل کر انسانیت کے خا طر دعا کر یں کہ اﷲ رب العزت چائنہ ، اٹلی، ایران ،پاکستان ،سعودی عرب سمیت دنیابھرکے انسانوں کو اس عذاب سے چھٹکارہ دلا دے آمین ثمہ آمین عالمی ادارہ صحت بھی کورونا وائرس کے پیش نظر ہنگامی صورت حال نافذ کرنے کا اعلان کر چکا ہے اور پاکستان میں بھی کورونا وائرس کی روک تھام کیلئے بڑے پیمانے پر اقدامات کئے گئے ہیں اس سے پہلے بھی اسی طرح کے وائرس سے دْنیا کو پالا پڑا تھا جن میں ڈینگی وائرس، وائن فلو وائرس، برڈ فلو اور سارس جیسے وائرس شامل ہیں مگر ان کی تباہ کاریاں ’کرونا‘ جیسی نہ تھیں مگر’’ کرونا وائرس‘‘ نے ساری دْنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ میڈیکل سائنس میں اتنی ترقی اور جدت کے باوجود ابھی تک وائرس سے پھیلنے والے امراض کے علاج کے لئے کوئی واضح پروٹوکول موجود نہیں اور نہ ہی ان کی کوئی خاص ویکسین دستیاب ہے۔ نتیجتاً وائرس کی وجہ سے ہونے والے امراض میں اموات کی تعداد زیادہ ہوتی ہے۔ ماہرین کا کہناہے کسی بھی مرض سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ مرض کیخلاف جنگ لڑنے کی ضرورت ہے اب تلک جو تشخیص ہوئی ہے ا س کے مطابق کرونا وائرس سے متاثرہ لوگوں کو زکام، گلا خراب، سر درد اور بخار کی علامات ہوتی ہیں، جسم تھکا تھکاسا لگتا ہے، ناک مسلسل بہتی ہے۔ انفیکشن زیادہ ہو جائے تو پھیپھڑے متاثر ہوتے ہیں۔ سب سے زیادہ خطر ناک وہ لمحہ ہوتا ہے جب انفیکشن کی وجہ سے نمونیہ ہو جائے۔ اس سے پھیپھڑوں میں زبردست انفیکشن ہو جاتا ہے، سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے، بخار زیادہ ہو جاتا ہے، ایسے میں فوری طور پر ہسپتال میں علاج کی ضرورت پیش آتی ہے۔ انفیکشن زیادہ ہونے کی صورت میں سانس رک جاتی ہے اور مصنوعی تنفس دینا پڑتا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس حالت میں یہ میڈیکل ایمرجنسی بن جاتی ہے۔ اگر انفیکشن پھیل جائے تو سانس رک جاتا ہے اور چند گھنٹوں ہی میں موت واقع ہو سکتی ہے۔ کرونا وائرس سے ہونے والی بیماری کی تمام علامات نمونیہ سے ملتی جلتی ہیں۔ اس سے ہونے والی بیماری کا آغاز دسمبر2019ء میں چین کے صوبے ہوبی کے شہرو وہان میں ہوا اس مرض میں بہت احتیاط کی ضرورت ہے خدانخواستہ کسی کو کرونا ٹیسٹ پازٹیو آئے فوری طورپر گھومنے پھرنے سے 14 دن تک پرہیز کریں اور اپنے گھرانے کے افراد اور دیگر لوگوں کیساتھ ملاقات بات چیت بند کردی جائے خودکو ایک کمرے پر محدود کرکے قرنطینہ کرلیا جائے تاکہ کوئی اور اس موذی مرض میں مبتلا نہ ہو اور جتنی جلدی ہو ساے حکومت کے قائم کردہ ہسپتال یا قرنطینہ مرکز میں جاکر تشخیص کروائی جائے (2) جتنا ممکن ہو زیادہ سے زیادہ پانی پیئں (3) ملیریا کیلئے استعمال ہونے والی گولیاں 250mg chloroquine یا Resochin 250 mg استعمال کریں پہلے دن دو گولیاں صبح دو شام پھر چار دن تک ایک گولی صبح ایک شام اس ضمن میں احتیاط یہ ہے کہ حاملہ خواتین اور مرگی کی دوائیاں کھانے والے مریض یہ دوائی استعمال نہ کریں(4) اس کے علاوہ ان میں سے کوئی ایک دوائی 14 دن تک استعمال کریں Cetrizine یا Loratidne یا Ebastine 10mg (5) بخار زیادہ ہو تو عام بخار والی گولیاں یعنی Peracetamol دو 2 گولیاں صبح دو 2 گولیاں دوپہر دو 2 گولیاں شام استعمال کریں (6) چھینکیں یا کھانسی آنے کے بعد ہاتھوں کو 20 سکنڈ تک صابن سے دھویں (7):- ماسک ہمیشہ پہن کر رہیں (8) مزید معلومات اور راہنمائی کیلئے ہیلپ لائن 1033 پر رابطہ کریں یادرکھنے کی بات یہ ہے کہ کروناوائرس انسانی جسم یا کسی بھی جاندار کے جسم سے باہر 48 سے 72 گھنٹے تک زندہ رہ سکتا ہے۔ مطلب اگر کوئی کھلی ہوا میں کھانستا ہے یا چھینکتا ہے تو اس کے منہ اور ناک سے گرنے والا وائرس اگلے تین دن تک زمین یا کسی بھی تہہ پہ موجود رہتا ہے اور اس کے بعد ختم ہو جاتا ہے اس لئے حکومت زور دے رہی ہے کہ اگر دو ہفتوں تک سارے لوگ اپنے اپنے گھروں تک محدود رہیں تو اس وائرس کو کوئی ہوسٹ(انسانی جسم) نہیں ملے گا اور وائرس اپنے آپ ختم ہوگا۔ لیکن اس کے برعکس اگر سارے لوگ باہر گھومتے ہیں تو وائرس کو ایک سے ایک نیا ہوسٹ (انسانی جسم) ملتا رہے گا اور اس کی زندگی بڑھتی چلی جائے گی اگر آپ چاہتے ہیں کہ یہ وبا نہ پھیلے تو گھر پر رہئے اپنے لئے دوسروں کیلئے کرونا وائرس آسانی سے ایک متاثرہ شخص سے صحت مند شخص کو منتقل ہوجاتا ہے۔ متاثرہ شخص دو سے پانچ دن تک بیماری کو دوسروں تک پھیلا سکتا ہے۔ اس وجہ سے اگر کسی کو بیماری کی تشخیص ہوگئی ہو تو اسے کم از کم ایک ہفتے تک علیحدگی میں رکھا جاتا ہے تاکہ صحت مند اشخاص وائرس سے بچے رہیں۔ بیماری کے آغاز میں علامات زکام اور نظام تنفس کے بالائی حصے کے انفیکشن سے ملتی جلتی ہیں۔ اس لیے اس دوران علاج سے افاقہ ہو جاتا ہے مگر سب سے ضروری امر یہ ہے کہ اس دوران مریض کو علیحدگی میں رکھا جائے تاکہ دوسرے صحت مند اشخاص بیماری کی تباہ کاریوں سے محفوظ رہیں۔کرونا وائرس کی تشخیص کے لئے اور جسم میں وائرس کی موجودگی کا پتہ لگانے کے لیے بلڈ ٹیسٹ کیا جاتا ہے۔ زکام کی طرح کرونا وائرس سے ہونے والی علامات بھی زیادہ تر 7 دن سے لیکر 10 دن تک جاری رہتی ہیں اگر اس دوران مکمل آرام کیا جائے اور ڈاکٹر کے مشورہ سے ادویات لی جائیں تو مرض میں افاقہ ہو جاتا ہے اور آدمی صحت مند ہو جاتا ہے۔ اس لیے کرونا وائرس سے زیادہ گھبرانے اور پریشان ہونے کی چنداں ضرورت نہیں۔ زیادہ تر متاثرین ہفتے دس دن تک خود بخود ٹھیک ہو جاتے ہیں۔ پہلی بات یہ ہے کہ کرونا وائرس سے ہونے والا زکام یا اس سے ہونے والی سانس میں رکاوٹ ابتدائی طور پر جاں لیوا مرض نہیں۔ آرام کرنے، بخار اور کھانسی اور انفیکشن کی ادویات لینے سے مرض کی علامات میں افاقہ ہو جاتا ہے۔ ضروری ہے کہ مریض اور اس کے ساتھ رابطہ رکھنے والے تمام اشخاص احتیاطی تدابیر، ماسک اور دستانے استعمال کریں۔ مریض کے کمرے میں اسپرے کیا جائے اور اس کے زیرِ استعمال ٹشو پیپرز کو علیحدہ تلف کیا جائے۔ کرونا وائرس زکام کے وائرس کی طرح Heat Sensitive وائرس ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ مریض کو بھاپ دی جائے اور پینے کے لیے قہوہ، سبزیوں کا سوپ دیا جائے تا کہ بیماری کی علامات کم سے کم رہیں۔ ماہرین تجویزکررہے ہیں اس خوفناک مرض سے بچاؤ کے لئے بخار ہونے کی صورت میں بخار ختم کرنے والی ادویات دی جائیں۔ کھانسی کی صورت میں ایک کپ گرم پانی میں دو چمچ شہد اور تھوڑی سی کالی مرچ ڈال کر دیں۔ بیماری کی تشخیص ہو جائے تو صبح شام ایک کپ گرم دودھ میں ایک چمچ ہلدی ایک چمچ زیتون کا تیل اور ایک چمچ شہد ڈال کر دیں۔ ہلدی اور زیتون کے تیل میں اﷲ تعالیٰ نے بے حد شفاء رکھی ہے۔ ان دونوں میں انفیکشن کنٹرول کرنے کے صلاحیت اور اینٹی وائرل خصوصیات موجود ہیں۔ شہد ویسے ہی ہر بیماری کے لیے شفاء ہے۔ زکام اور گلے کے انفیکشن کے لئے پودینہ، سونف، دار چینی اور ادرک کا قہوہ بھی مفید ہے۔ مریض کو پینے والی گرم چیزیں دینے سے مرض میں خاطر خواہ افاقہ ہوتا ہے۔ مریض کے ساتھ خوشی گوار رویہ رکھا جائے کیونکہ علیحدگی میں رکھنے کے باوجود مریض سے رابطہ رکھا جاسکتا ہے۔ 1440 سال پہلے مدینہ میں جب طاعون کی بیماری پھیلی تورسول اﷲ ﷺنے اس مرض میں مبتلا ہونے والے افراد کو اپنا شہر چھوڑنے سے منع فرمایا تاکہ مرض دوسرے علاقوں میں صحت مند افراد میں منتقل نہ ہو۔ مسلم شریف کی جلد نمبر 2 میں حضرت اسامہؓ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ طاعون اور متعدی بیماری ایک عذاب ہے جو پہلی امتوں پر مسلط کیا گیا۔ جب کسی علاقے یا شہر میں کوئی وبا پھیل جائے تو ضروری ہے کہ متاثرہ شہر کے باشندے اپنا علاقہ چھوڑ کر نہ جائیں تو یہ بھی ضروری ہے کہ دوسرے شہروں کے لوگ متاثرہ شہر یا علاقے میں نہ جائیں۔ جو ہدایات آج کی میڈیکل سائنس میں اب سامنے آرہی ہیں وہ ہادی دو جہاں ﷺ نے ہمیں 1440 سال پہلے بتا دیں (ماشاء اﷲ) ۔ بیماریوں سے بچنے کیلئے اﷲ سے خیروعافیت کی دْعا کریں۔ حلال غذا استعمال کریں دن میں پانچ مرتبہ منہ ہاتھ دھونا ڈاکٹروں نے لازمی قراردیاہے بہتر ہے کہ وضوکرلیاجائے بیماریوں سے پناہ مانگیں اور مندرجہ ذیل دْعا پڑھیں: اَللّٰہْمَّ اِنّیِ اَعْوذْبِکَ مِنَ البَرَصِ وَالجنونِ وَالجْذَامِ وَ مِن سَیِئی الا سقَام (آ مین) ’’ ا ے اﷲ! میں آپ کی پناہ مانگتا ہوں برص سے، دماغی خرابی سے، کوڑھ سے اور ہر قسم کی بْری بیماریوں سے۔‘‘ اس دْعا کے بار بار پڑھنے سے اﷲ تعالیٰ آپ کو ’کورنا وائرس‘ سمیت ہر طرح کے متعدی امراض سے محفوظ رکھے گا۔ صدقہ بلا اور بیماری کو ٹالتا ہے۔ اس لیے صحت مند رہنے کے لیے دوا، دْعا کے ساتھ صدقہ بھی ضرور کریں۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sarwar Siddiqui

Read More Articles by Sarwar Siddiqui: 259 Articles with 83991 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
25 Mar, 2020 Views: 597

Comments

آپ کی رائے