بچوں کی تربیت اور سائیکالوجی

(Rana Amir Roy, Mianwali)

بچے کو سمجھانا کیسے ہے یا بات کیسے کرنی ہے؟؟
بچے نے پہلی بار کوئی غلطی کر دی ہے
ردعمل نہیں بلکہ عمل کیجئیے
اکثر ہمارا رویہ بچوں کےساتھ ایسا ہوتا ہے کہ جس کو ہم بچوں کی حرکات یا باتوں کا ردعمل کہہ سکتے ہیں۔
اس کے نقصانات
1. ہمارا رویہ منفی ہوتا ہے یعنی تنقید کرتے ہیں۔ یہ نہ کرو، وہ نہ کرو، ایسا نہ کرو، ادہر نہ جاو، ،منفی جملے اور تنقید ۔
2.بچے طے کرتے ہیں کہ ہم کون سی ہدایت دیں گے، کونسی بات کریں گے۔ تربیت کی بہت سی باتیں ان کہی رہ جاتی کیونکہ جب تک بچے نے غلط کرنا نہیں ہم نے بتانا نہیں۔
تو کرنا کیا چاہیے
عمل کریں
اگر بچہ کسی وقت کچھ غلط کر رہا ہےتو بہتر ہے کہ اس کو نظر انداز کریں، بات کا موضوع تبدیل کریں، اپنی جسمانی حرکات ،(باڈی لینگوج) سے ناراضگی کا اظہار کریں، یا پھر اس کو نرمی سے پکڑ کر اس حرکت سے روک دیں۔ کوئی سخت ردعمل نہ دیں۔جسمانی طور پر بار بار روکنا پڑے ۔ حتی کہ 10 بار بھی روکنا پڑے روکیے۔ صبر تحمل اشد لازم۔ہے۔ اس صبر تحمل۔کا انعام ساری زندگی میں بچے کا اس حرکت سے باز رہنے کی شکل میں ملے گا۔
اس بات یا حرکت یا حرکتوں کو نوٹ کریں
کسی مناسب وقت ( بچے کا موڈ اور اپ کا موڈ خوشگوار ہو )اکیلے میں اس کو سمجھائیں۔ اس کو وجہ بھی بتائیں، اصول بتائیں کہ بات یاحرکت کیوں غلط ہے۔ تاکہ وہ اس اصول کی بناء پر خود بھی باتوں یا حرکتوں کے غلط صحیح کا فیصلہ کر سکے
بچے سے بات کیسے کرنی ہے
سب سے پہلے یہ دھیان رہے کہ ہماری ہر بات یا عمل کا مقصد اللہ کی رضا ہونا چاہیے۔ تو غلط کام یا بات کے بارے بتائیں کہ اللہ اس سے ناراض ہوں گے۔ اور درست عمل سے سب خوش ہوں گے اللہ تعالی اور والدین۔
پھر بچے کو بتائیں کہ۔درست عمل یا بات کیا ہے اور اس کو کیسے کرتے ہیں۔ درست عمل کی ڈرامہ وغیرہ کر کے عملی طور پر پریکٹس کروائیں
بچے کی حرکت یا بات کو غلط کہیں ، نہ کہ بچے کی ذات کو،
بچے کی بات یا عمل کا موازنہ کسی دوسرے بچے سے نہ کریں ۔
ہم کے صیغے میں بات کریں۔
بات کا مفہوم بچے کی ذہنی سطح کے مطابق ہو۔
.الفاظ بچے کے مستعمل ذخیرہ الفاظ (ورکنگ وکیبلری ) کا حصہ ہوں
بچہ اپ کی طرف متوجہ ہو
اپ اور بچہ دونوں کسی شدید جذبہ کے زیر اثر نہ ہوں، غصہ، غم,ڈپریشن وغیرہ
آپ اور بچہ جسمانی طور پر امنے سامنے اور۔بلندی کی ایک ہی سطح پر ہوں
بچے کے احساسات اور جذبات کا احترام کریں۔
بچے سے تنہائی یا اکیلے میں بات کریں
۔ کہانی کے ذریعے بھی پیشگی اخلاقیات کی تعلیم دیں۔
ہر وقت کے لیکچر اور سمجھانے سے باز رہیے۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rana Amir Roy

Read More Articles by Rana Amir Roy: 20 Articles with 9035 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
27 Mar, 2020 Views: 347

Comments

آپ کی رائے