وقت کی گردش

(ماہ گل عابد, میرپور خاص سندھ)

وقت کا کام ہے گزرنا سو گزرتا ہی جاتا ہے۔ وقت کی سب سے بڑی خوبی اور خامی یہی ہے کہ یہ یکساں نہیں رہتا۔۔ اور وقت کی بساط کے آگے کبھی کسی کا زور نہیں چلتا۔ وقت کبھی نہیں رُکتا، وقت کے دھارے میں انسان بہتا ہی چلا جاتا ہے۔۔ وقت کبھی اتنا خوشگوار ہوتا ہے کہ انسان اپنا آپ ہواؤں سا ہلکا محسوس کرتا ہے اور خوشگوار وقت اپنے ساتھ برے وقت کی ساری تلخیاں بہا لے جاتا ہے۔۔کبھی وقت کا پنچھی ہمیں بہت ہی پیچھے دھکیل دیتا ہے۔۔ ہم چاہ کر بھی اُسے پھلانگ نہیں سکتے۔۔ وقت کبھی کسی کے لیے نہیں ٹہرتا،نہ رک کر کسی کا انتظار کرتا ہے۔۔ ہمیں چاہیے کہ ہم وقت کی قدر کریں۔۔ جو بیت گیا اس سے سیکھیں۔۔ جو غلطیاں کیں انہیں پھر سے نہ دُہرائیں۔۔۔

جب پرانی غلطیوں سے نہ سیکھ کر ہم وہی غلطیاں دُہراتے ہیں تو آگے بڑھنےکی کوئی راہ نہیں بچتی ۔۔ وقت بس اپنی دُھن میں بھاگتے ہوئے گزرتا جاتا ہے۔۔۔ وقت یہ بھی نہیں دیکھتا کہ کب کس پر کیا گزر رہی ہے۔۔ کون کس اذیت سےگزر رہا ہے۔۔ یہ تو دریا کی بپھری موجوں کی طرح ہوتا ہے جو گردوپیش کا خیال کیے بنا گزرجاتی ہیں ۔ وقت کا سفاک بہاؤ زندگی کو نت نئی صورتوں سے دوچار کر دیتا ہے۔۔ کبھی بہت ہی خوشگوار کبھی بہت ہی تکلیف دہ۔۔ سو ہمیں اپنے ماضی کی گزری تلخیوں کا دکھ مناتے نہیں رہنا چاہیے بلکہ ان سے سیکھ کر آگے بڑھ جانا چاہیے۔

انسان بھی کتنا ناشکرا ہے کبھی کسی حال میں خوش نہیں رہتا۔ اپنی پرانی غلطیوں سے سیکھنے کے بجائے ان لمحوں کو یاد کرتے کڑھتے رہتا ہے۔۔۔ اسے چاہیے کہ جو بیت گیا اس پر کڑھنے کے بجائے آنے والے کل کے بارے میں سوچے اور مصیبتوں اور پریشانیوں سے نکلنے کی کوشش کرے کیونکہ خدا بھی انہی کی مدد کرتا ہے جو اپنی مدد آپ کرتے ہیں۔۔

وقت کا پہیہ گھومتا ہی رہتا ہے۔۔ ہم چاہ کر بھی زندگی کے لمحات کو نہیں پکڑ سکتے۔۔ پر اپنے آنے والے کل کو بہتر ضرور کر سکتے ہیں۔۔

ماہ وسال کی گردش میں عمر تمام ہوتی چلی جاتی ہے۔ہمیں چاہیے کہ وقت کی قدر کرنا سیکھیں کیونکہ زندگی بس ایک ہی بار ملتی ہے۔ ملی ہے تو اُسے اپنے ہی ہاتھوں سے برباد کرنے کے بجائے اچھی طرح سے گزاردیں اور کوشش کریں کہ ہمارا وقت صحیح جگہ پر لگ کر ہمیں فائدہ دے نہ کہ کسی فضول جگہ پر لگے اور عمر بھر کے پچھتاوے کا باعث بنے۔

زندگی ہمیں روز نئی حقیقتوں سے روشناس کراتی ہے۔ وقت ہمیں بہت کچھ سکھاتا ہے۔وقت کبھی اتنا برا آجاتا ہے کہ اپنے بھی اپنے نہیں رہتے ، ہمیں ایسے موقع پر ثابت قدمی سے مشکلوں اور مصیبتوں کا مقابلہ کرنا چاہیے۔

اسی وقت کی وجہ سے بعض اوقات خاندان متاثر ہوجاتا ہے کیونکہ بعض اوقات مرد حضرات اتنے مصروف ہوتے ہیں کہ ہر وقت کام کام اور بس کام میں ہی لگے رہتے ہیں۔ باہر خوش اور گھر میں منہ پھلائے رہتے ہیں۔ اپنے بیوی بچوں کو بھی وقت نہیں دیتے۔ یہ نہیں سوچتے ہیں کہ ان کے بیوی بچے ان سے بس وقت ہی تو مانگتے ہیں اور اگر یہ وقت دے بھی دیں تو اس میں بھی ان سے ٹھیک طرح سے بات نہیں کرتے بلکہ اپنے موبائل اور سوشل میڈیا پر لگے رہتے ہیں سو ان کے پاس صرف پچھتاوا بچ جاتا ہے۔ زندگی انہی کی کامیاب ہوتی ہے جو وقت کا درست استعمال کرتے ہیں۔

اپنے ہر نئے دن کو اچھے سے اچھا بنانے کی اور خدا کی مخلوق میں خوشیاں بانٹنے کی کوشش کریں۔ خوشی کے لمحات کو بانٹنا سیکھیں۔ ہر نیا دن، نیا سورج نئی امید بن کر طلوع ہوتا ہے۔

جہاں کھلکھلاتے چہرے، معصوم بچوں کی زندگی سے بھرپور ہنسی اور اپنوں کے چہروں پر مسکراہٹ دیکھ کر زندگی میں رنگ بھر جاتے ہیں۔۔

وقت کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنے رشتوں کی بھی قدر کرنی چاہیے تاکہ ہمیں کہیں اس بات پر پچھتانا نہ پڑے کہ ہم وقت نہ دے سکنے کے باعث رشتے کھو بیٹھے۔۔۔۔۔
خود جیئیں اور دوسروں کو جینے دیں۔۔۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 561 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: ماہ گل عابد

Read More Articles by ماہ گل عابد: 4 Articles with 1630 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: