قرنطینہ بمقابلہ خلوتینہ وغیرہ (لسانیہ)

(Prof Niamat Ali Murtazai, )

 قرنطینہ عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی علیحدگی کے ہیں۔ یہ لفظ ine Quarantسے معرب ہے جو کہ اطالوی لفظquaratina سے ماخوذ ہے جس کے معنی چالیس دن کے ہیں۔
چنانچہ Quarantine انگلش زبان کا لفظ ہے جس کے معانی کچھ اس طرح کے ہیں:
۱۔ ایک صحرا جس میں حضرت عیسیٰ ؑ نے چالیس دن تک روزے رکھے( بائیبل کے مطابق)۔
۲۔ عدت کے چالیس دن جن میں ایک بیوہ اپنے مرحوم شوہر کے گھر میں رہتی ہے۔
۳۔ وہ جگہ جہاں کسی چھوت کی بیماری میں مبتلا شخص کو علیحدہ رکھا جاتا ہے۔
۴۔ وہ وقت جس کے لئے کسی چھوت کی بیماری میں مبتلا شخص کو علیحدہ رکھا جائے۔ (وغیرہ)

پچھے چند ماہ سے جب سے کرونا کا وائرس چین سے شروع ہو کر ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے، ’قرنطینہ ‘ کا لفظ میڈیا کے عام استعمال میں ہے۔ اس لفظ کی ہماری عوام میں کوئی واضح سمجھ نہیں ہے بعض لوگ اس کو کسی شہر کا نام سمجھ رہے ہیں جیسا کہ قسطنطنیہ، غرناطہ وغیرہ۔ جو کوئی اس کی تھوڑی سی ریسرچ کر لے اسے اس کی سمجھ آ بھی سکتی ہے۔ اور جسے اس کا پتہ نہیں اس کے لئے یہ لفظ ’کرونا‘ کی طرح ہی پر اسرار ہے۔ اردو زبان ایک اوپن زبان ہے اور دوسری زبانوں کے الفاظ بڑی خوش دلی اور سلیقے سے اپنے دامن میں سمولیتی ہے۔ یہ لفظ ’کرونا‘ کے تناظر میں بہت جلد اردو اور صوبائی زبانیں بولنے والوں کی زبان کا حصہ بھی بن جائے گا جیسے کہ بہت سارے بدیسی الفاظ زبانِ اردو اور صوبائی زبانوں کی زینت بن چکے ہیں۔

ہمارے ملک میں قومی زبان حکومت یا عوام کی ترجیحات میں سے نہیں ہے ، بلکہ یہاں انگلش کو پریسٹیج (prestige)یعنی ’احساسِ برتری ‘حاصل ہے۔ اس لئے اس طرح کے مستعمل ہونے والے الفاظ کے لئے اپنی قومی یا صوبائی زبانوں سے کوئی متبادل الفاظ تلاشنے یا تراشنے کی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی بالکل صنعت وتجارت کی طرح کہ اگر کوئی چیز باہر سے بنی بنائی مل جائے تو مقامی طور پر اسے بنانے کی ضررورت محسوس نہیں کی جاتی۔ اس پر ستم یہ کہ اگر کوئی بنا بھی دے تو اسے پزیرائی نہیں دی جاتی۔ اور غیر ملکی مصنوعات کو زیادہ عزت و توقیر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ۔جیسا کہ پنجاب یونیورسٹی لاہور کے ماہرین نے کرونا کے علاج کے لئے استعمال ہونے والی سستی کِٹیں بنانے کا دعویٰ کیا لیکن ان سے حکومت کے کسی عہدیدار نے رابطہ ہی نہیں کیا اور باہر سے مہنگی کٹیں ہی منگواتے رہے۔ یہی رویہ زبان کے ساتھ بھی ہے کیوں کہ زبان کے ساتھ بھی کوئی قوم وہی رویہ اپناتی ہے جو اس کی نفسیات کے زیادہ قریب ہو۔ ہماری قومی نفسیات میں بدیسی چیزوں کی قدر زیادہ ہے جب کہ دیسی چیزوں میں سے غالباً صرف دیسی انڈے اور دیسی گھی ہی کی قدر ہی باقی رہ گئی ہے لیکن یہ چیزیں خود ہی غائب ہو تی جا رہی ہیں۔
ہم اپنے اصل موضوع کی طرف واپس آتے ہیں۔ قرنطینہ کے مقابلے میں اردو زبان بہت خوبصورت اور عام فہم الفاظ کا ذخیرہ رکھتی ہے۔ جن کو ہم بڑی آسانی سے اس لفظ یعنی ’قرنطینہ‘ کے متبادلات کے طور پر استعمال کر سکتے ہیں۔

مثلاً ایک لفظ ہے ’خلوتینہ‘ اور دوسرا ہے ’تنہائینہ‘ اور تیسرا لفظ ہے ’ واحدینہ‘ اور چوتھا لفظ ہے ’تخلینہ‘ اور پانچواں لفظ ہے ’ اکلینہ‘ ۔ اب ان الفاظ کے معقول اور موزوں ہونے پر تھوڑی سی بات کرنا ضروری ہو جاتا ہے۔
۱ ) خلوتینہ: یہ لفظ ’ خَلوَت ‘ سے اخذ کیا گیا ہے جس کا معنی تنہائی یا اکیلا پن ہے۔ خلوت کا لفظ اردو سے واقف لوگ تو عام سے جانتے ہیں لیکن جو ان پڑھ یا کم پڑھے لکھے ہیں ان کو شاید اس کا معنی معلوم نہ ہو ۔ لیکن پھر بھی پاکستان کی آدھی آبادی تو اس کا معنی جانتی ہو گی قرنطینہ کے مقابلے میں جا کا معنی پاکستان کی مشکل سے پندرہ بیس فیصد لوگ جاتے ہوں گے۔
۲) تنہائینہ: یہ لفظ اردو زبان کے لفظ’ تنہائی‘ سے اخذ کیا گیا ہے اس کا معنی پاکستان کی اکثریت جانتی ہے۔ اسے کوئی بھی تھوڑے سے تھوڑا پڑھا لکھا شخص اور اکثر ان پڑھ لوگ بھی جاتے ہیں۔ اس لفظ کا استعمال ’قرنطینہ‘ کے مقابلے میں انتہائی زیادہ عام فہم اور آسان ہے۔ اس سے لوگوں میں کرونا سے بچنے کا جو ایک ہی طریقہ ہے یعنی علیحدگی اور تنہائی آسانی سے لوگوں کو سمجھایا جا سکتا ہے۔
۳) واحدینہ : یہ لفظ اردو کے لفظ ’واحد‘ سے بنایا گیا ہے۔ اور اسے بھی پاکستانی عوام آسانی سے سمجھ سکتے ہیں۔ کیوں کہ یہ لفظ واحد، جمع کی صورت میں پرائمری کلاسوں میں ہی پڑھ لیا جاتا ہے۔ اور سورہ اخلاص میں لفظ ’احد‘ پڑھنے سے اس لفظ کے معانی واضح ہو جاتے ہیں۔
۴) تخلینہ: یہ لفظ بنیادی طور پر اردو کے الفاظ خلوت اور تخلیہ کے قریب ہے اور تخلیہ سے آگے فروغ دیا گیا ہے۔ اس کا استعمال برِ صغیر میں مسلمان بادشاہوں کے درباروں اور محلات میں رہا ہے۔ جب کسی شہزادے یا بادشاہ نے اپنے پاس موجود کسی ایک یا زیادہ لوگوں کو یہ کہنا ہوتا کہ وہ اب چلے جائیں تو وہ یہ لفظ بول دیتا یعنی ’تخلیہ‘ اورلوگ اس کے پاس سے دور چلے جاتے۔
۵) اکلینہ : یہ لفظ بنیادی طور پر ’اکیلا‘ یا ’ایک‘ سے بنایا گیا ہے۔ یعنی کسی کو اکیلا کر دینا، کسی کو ایک کر دینا یا کسی کو باقی لوگوں سے علیحدہ کر دینا ۔ جو کہ قرنطینہ کے معنی ہیں۔یہ لفظ ہمارے لوگوں کو سب سے زیادہ آسانی سے سمجھ آنے والا ہے۔ اور لوگوں کو کسی سے پوچھنے کی ضرورت بھی نہیں پڑتی کہ اس کا معنی کیا ہے۔
یہاں تک یہ بحث لفظ’ قرنطینہ‘ اور اردو کے متبادل الفاظ کے بطورِ اسم یعنی ناؤن کے استعمال تک مرکوز رہی ہے۔ اب اس لفظ کو بطورِ ’ورب‘ یعنی ’فعل‘ کے کچھ بات ہو جائے۔ ہمارے ٹی وی اینکر پرسن اس لفظ کو جب بطورِ ورب بولتے ہیں تو وہ انگلش لفظ quaratine ’قوارنٹائن کرنا‘ بولتے ہیں یعنی وہ ’قرنطینہ ‘ کی عربی اساس سے ہٹ جاتے ہیں ۔اور انگلش کے لفظ پر آ جاتے ہیں جو کہ اسم بھی ہے اور فعل بھی ہے۔ اب اس کے مطابق اردو کے متبادل الفاظ کو بھی فعل یعنی ورب کے آئینے میں دیکھ لینے کی ضرورت ہے۔ چنانچہ

۱) خلوتینہ سے فعل بن سکتا ہے : خلوتینہ میں رکھنا، خلوت میں رکھنا ، خلوت میں لے جانا وغیرہ۔
۲) تنہائینہ سے فعل بنتا ہے: تنہائینہ میں رکھنا ، تنہائی میں رکھنا، تنہا کرنا، تنہائی دینا وغیرہ۔
۳) واحدینہ سے فعل بن سکتا ہے: واحدینہ میں رکھنا، واحد کرنا ، وغیرہ۔
۴) تخلینہ سے فعل بن سکتا ہے: تخلینہ میں رکھنا۔ تخلیہ دینا ، وغیرہ۔
۵) اکلینہ میں رکھنا، اکیلا کرنا ، ایک کر دینا وغیرہ

یہ بات محض اتفاق کی ہے کہ ’قرنطینہ‘ کے اختتام پے ’نہ‘ کا صوتہ ہے۔ اور جو الفاظ ہم نے پیش کئے ہیں ان میں بھی آخر پے ’نہ‘ کا صوتہ ہی آیا ہے۔ لیکن یہ بات بھی حُسنِ اتفاق ہے کہ اردو زبان میں ’نہ‘ کا صوتہ جگہ کے معنی میں پہلے سے بھی مستعمل ہے جیسا کہ الفاظ ’مردانہ‘ اور ’زنانہ‘ میں موجود ہے۔ برِ صغیری اسلامی معاشرت میں ’ مردانہ‘ سے مکان کا وہ حصہ جو مردوں کے استعمال میں ہو اور اس جگہ مَردوں کا آنا جانا ، بیٹھا اٹھنا زیادہ ہوتا ہے۔ بعض اوقات گھر سے باہر کے لوگ یعنی دوست، ہمسائے، ملنے والے وغیرہ بھی آ جاتے۔ اور ’زنانہ‘ مکان کے اس حصے کو کہا جاتا تھا یا اب بھی ہے جو گھریلو خواتین کے زیادہ استعمال میں ہوتا اور اس حصے میں صرف گھر کے افراد کا داخلہ ہوتا۔ غیر محرم افراد اس حصے میں قدم نہیں رکھ سکتے تھے۔ رشتہ دار خواتین، ہمسائیاں اور خواتین کی واقف خواتین ہی ’زنانہ‘ میں آ سکتی تھیں۔

لہذا ہمارے تجویز کردہ الفاظ اردو زبان کے رویوں اور استعمالات کے عین مطابق ہیں۔ اب رہی بات ان کے استعمال کی تو اس سلسلے میں ہمیں ان کی پذیرائی کی زیادہ امید نہیں ہے۔ لیکن پھر بھی امید خلافِ امید کرتے ہوئے ہم کچھ توقع رکھتے ہیں کہ شاید ان الفاظ میں سے کسی لفظ کا اس مقصد کے لئے استعمال کر لیا جائے جس مقصد کے لئے قرنطینہ کا لفظ استعمال ہو رہا ہے۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 121 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Niamat Ali

Read More Articles by Niamat Ali: 173 Articles with 159412 views »
LIKE POETRY, AND GOOD PIECES OF WRITINGS.. View More

Comments

آپ کی رائے
Language: