کورونا اور ھمارا رونا۔۔۔!

(Prof Khursheed Akhtar, Islamabad)

دنیا اس وقت وبا کے برق رفتار حملوں کا شکار ہے اور گلوبل ولیج کی بجائے" عالمی بیمار گھر" یا وبائی گھر میں بدل چکی ہے کم وبیش پچاس ہزار افراد اس وبائی مرض سے داعی اجل کو لبیک کہہ چکے ہیں۔لاکھوں بلکہ کروڑوں اس کی زد میں ھیں سپر پاور کہلانے والے بھی نہتے ھو چکے ھیں اس وبائی طوفان کے باوجود چین اور امریکہ کی سرد جنگ جاری ہے ڈونلڈ ٹرمپ پہلے بڑی نفرت اور متکبر انداز میں اسے چینی وائرس کہتے رہے لیکن افتاد گھر ان پڑی تو روز مرنے والوں کی تعداد ایک ہزار سے اوپر ھوگئی اس پر توجہ کی بجائے ٹرمپ کہتا ہے کہ چین مرنے والوں کی تعداد چھپا رہا ہے۔دنیا کے غریب ملکوں میں پاکستان کا شمار بھی ھوتا ھے یہاں قدرے صورتحال بہتر ہے اور عالمی میڈیا اس کی تعریف بھی کر رہا ہے ابھی تک افراتفری پیدا نہیں ھوئی اور خدا کرے نہ ھو مگر باھمی منافرت، گروہ بندی اور مذھبی تقسیم نے کئی خطرات کھڑے کر دئیے ہیں۔جس کی بنیاد بے شعوری ھے یا جہالت مگر یہ کورونا کے خلاف جنگ میں بڑا خطرہ ہے بطور مسلم ھمیں یہ بات سمجھنی چاہیے کہ اللہ کے کچھ اصول ہیں جو اس نے فطرت کی صورت میں متعین کر رکھے ہیں وہ کبھی میرے یا آپ کے کہنے پر تبدیل نہیں ھوتے۔اسی طرح فطری اصولوں سے بغاوت مشکلات لاتی ہے پھر اللہ نے ھی اس سے نکلنے کے اصول بتائے ھیں وہ بھی تبدیل نہیں ھوتے۔یہ اصول گروہ، مسلک یا فرقہ نہیں دیکھتے بلکہ ظرف، علم اور عمل کی بنیاد پر معرض وجود میں آتے اور گزر جاتے ہیں۔بالکل اسی طرح صفائی ، طہارت اور حفاظت بھی فطری اصولوں کی پاسداری کرتے ہیں جو اس سے نکلتا ہے اسے مشکلات، بیماریاں اور آزمائش کا سامنا رہتا ہے۔حال ھی میں کورونا وائرس کی وبا پاکستان میں آئی تو ایران سے آنے والے زائرین اور تفتان بارڈر کا تذکرہ عام ھوا اور یہ بات درست ہے کہ حکومت کی غفلت ھو یا عوام کی لاعلمی تقریباً 78 فیصد وائرس اسی راستے سے پھیلا لیکن اس کا ھر گز مطلب نہیں کہ اہل تشیع افراد کا کوئی قصور ہے بلکہ قصور اس بے شعوری یا جہالت کا جس کا شکار حکومت اور عوام دونوں ہیں۔کیونکہ ان زائرین نے حفاظت اور کہیں رک کر ،ٹھہر کر اپنے خطرات،خدشات اور علاج کو ترجیح نہیں دی بلکہ کچھ لوگ تو بھاگ کر، چھپ کر گھروں کو لوٹ آئے۔جو دھرے گئے انہوں نے بھی عوام کو بلا کر قرنطینہ سینٹر سے بھاگنے کی کوشش کی ،اس کو دینی تعلیمات سمجھیں، جہالت یا کچھ اور؟، اس کے بعد نفرتوں کا ایک زہر ملک بھر میں پھیل گیا۔ابھی تھوڑے دن نہیں گزرے تھے کہ تبلیغی جماعت کے لوگ اس زد میں آ گئے جب تیزی سے کرونا کیسز سامنے آئے تو توپوں اور ھماری جہالت کا رخ ادھر ھو گیا۔مگر در در اللہ کا نام لے کر جانے والے تبلیغی جماعت کے لوگ بھی زاہرین ایران جیسا رویہ رکھتے ہیں حالانکہ مولانا طارق جمیل صاحب نے واضح ھدایات دیں کہ وبا کی جگہ نہ چھوڑی جائے تاریخ اسلام میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث اور حضرت عمر فاروق کے دور میں پیش آنے والے واقعات اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ وبا کا علاقہ نہیں چھوڑنا چاہیے اور نئی جگہ جا کر دوسروں کے لیے وبال جان نہیں بننا چاہیے۔اسی طرح امیر تیمور کے فوجیوں میں بھی طاعون کی وبا پھیلی تھی اس وقت کے بزرگوں نے مشورہ دیا کہ اسی علاقے میں پڑاؤ کریں اور لوھان کی دھنی لیں۔ایک طبقہ پاکستان میں لبرل اور، پڑھا لکھا ھونے کے باوجود یورپ سے بھاگتا ہوا پاکستان پہنچا اور اس نے بھی گھروں کو بھاگنے کی کوشش کی، لیکن بھلا ہو حکومت کا کہ وہ زیادہ تر قرنطینہ سینٹر منتقل ہو گئے۔چوتھا طبقہ گلف سے آنے والے مزدور یا ملازم تھے ان کا رویہ بھی ان سے زیادہ مختلف نہ تھا۔جبکہ عمرہ زائرین تو اپنے آپ کو پاک تصور کرتے ہوئے بھاگ نکلے۔حالانکہ انہیں معلوم نہیں کہ مکہ جانے سے روح پاک ھو سکتی ھے جسم کا اپنا کام ھے وہ فطرت کے اصول پر قائم رہے گا۔اسی لئے ظاہری صفائی کو نصف ایمان کہا گیا ہے۔اب قصور صرف ناسمجھی کا ھے اور بدقسمتی سے وہ مذھبی طبقات میں زیادہ ھے اگرچہ کورونا وائرس تو عرصہ دراز سے موجود ہے مگر جب وہ وبا بن جائے اور زیادہ طاقت سے حملہ کرے تو پھر جنگی اصولوں پر ھی مقابلہ کرنا پڑتا ہے۔اگرچہ مرنے والوں کی تعداد بہت کم ہے مگر مر تو رہے ھیں کیا اللہ کی سب سے بڑی نعمت زندگی وبا کے حوالے کر دیں؟ یہ حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ ھر چیز پر قادر ہے لیکن اس کے اصول بھی تو ھیں جو وہ کسی کے لئے نہیں بدلتا۔قصور زاہرین کا یا تبلیغی جماعت کا نہیں ہے قصور تعاون نہ کرنا اور وبا کو پھیلانے میں مدد دینا ہے۔ایک دوسرے کی بات کو برداشت کرنے کی عادت ڈالیں یہی گروہ بندی اور نفرت ھمیں گہری کھائی میں دھکیل رہی ہے افسوس کہ من حیث القوم ہمارا یہی رویہ ھم سب کو کھا رہا ہے اور ھم سمجھنے کی بجائے آسانی سے اس کا نوالہ بن رہے ہیں۔بدل دو آج۔۔۔بدل جائے گا کل۔


 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof Khursheed Akhtar

Read More Articles by Prof Khursheed Akhtar: 88 Articles with 27823 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
05 Apr, 2020 Views: 250

Comments

آپ کی رائے