نیازی کی اے ٹی ایم مشینوں کو کچھ نہیں ہونے والا ہے

(Prof Dr Shabbir Ahmed Khursheed, Karachi)

 نیازی کی اے ٹی ایم مشینیں اس کے اقتدار کی محافظ ہیں نیازی سے بڑے ان مشینوں کے محافظ بوٹ ہیں ْجو ہر لمحہ اس بٹرے گروپ کی محافظت میں نیازی سے زیادہ مصروف رہتے ہیں۔دوسرے الفاظ میں ’’شوگر اور آٹا مافیاز‘‘ان کے عوامی نام ہیں۔اگر ملک میں جمہوریت ہوگی تو ان کی بے ایمانیوں،لوٹ مار اور ناجائز پیسے سے سینیٹرز ایم این ایز اور پی یم ایز کی خرید و فروخت پر سوالات اٹھائے جاتے رہیں گے۔ان پر سوال کرنے والے لوگ سامنے آتے رہیں گے اور ان کے کرتوتوں کو فاش کرتے رہیں گے۔ یہ لوگ اس ملک میں کبھی بھی جمہوریت کو مستحکم نہیں ہونے دیں گے ۔کیونکہ ان کے محافظوں کو بھی جمہوریت کبھی بھی راس نہیں آتی ہے۔

چینی آٹا بحران پرایف آئی اے کی ایک تحقیقاتی کمیٹی بنائی گئی تھی۔ جس نے اپنی رپورٹ کی تکمیل کے بعد وزیر اعظم عمران نیازی کو پیش کردی ہے۔جس کے تحت چینی آٹا بحران کے ذمہ دار وفاق، پنجاب اور خیبر پختون خواہ کی حکومتیں ہیں۔شوگر اور آٹا مافیہ میں اول نمبر پر نام وزیر اعظم کی این ٹی ایم مشین جہانگیر ترین اور خسرو بختیار کے بھائی کے شامل ہیں۔ان کے علاوہ ان کے شراکت داروں نے ہی نہیں بلکہ پنجاب کے وزیر اور خیبر پختوں خواہ کے سیکریٹری اور ڈائریکٹر فوڈ کی لا پروائی بھی شامل بھی ان کی لوٹ کھسوٹ میں برابر کی شاملِ ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آٹا بحران ایک باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت پید اکیا گیا تھا جس کے بعد آٹا چالیس روپے سے بڑھ کر 65 ،روپے تک پہنچ گیا تھا۔جس میں افسران کے ساتھ کئی سیاسی شخصیات بھی ملوث تھیں۔سب سے زیادہ فائدہ خسرو بختیار کے بھائی کی کمپنی نے4،ارب روپے بٹورے۔جبکہ جہانگیر ترین نے اس گنگا میں سے 3،ارب روپے بٹورنے ہیں کامیاب رہے۔اسی طرح ہُنزہ گروپ نے 2، ارب 80 ،کروڑروپے بٹورے ان کے علاوہ تین گرو ہ 90،کروڑ روپے، 40 ، کروڑروپے اور نواشریف نے 30 ،کروڑ روپے حاصل کئے ۔جس کا ہر جانب سے حکومتی ٹیم کے ارکان شد ومد سے کر رہے ہیں۔مگر نیازی ک۸ی این ٹی ایم مشینوں پر سب کو خاموش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔لیڈی بینڈ نواز شریف پر تو انگلیاں اٹھا رہا ہے جس نے جہانگیر ترین اور خسرو بختیار کے مقابلے میں آٹے میں نمک کے برابربھی فائدہ نہیں اٹھایا۔ مگر اربوں روپوں کا عوامی جیبون پر ڈاکہ ڈالنے والے،وہ آج بھی وزیرِ اعظم کی نظر میں بے گناہ ہی ہیں اور ان کا کوئی کچھ بھی نیازی کے ہوتے ہوئے بگاڑ نہیں سکے گا۔

خبریں یہ بھی ہیں کہ چینی بحران انکواری رپورٹ میں بعض اعلیٰ حکو متی ارکان کے نام سامنے لانے سے گریز گیا گیا ہے۔اس کے باوجود شوگر مافیہ یہ دھمکیاں بھی دے رہی ہے کہ اگر اس معاملے کو فوری طور پر نہ روکا گیا تو وہ چینی کی قیمت 110،روپے تک لیجانے کا اختیار بھی رکھتے ہیں۔خبر کے مطابق اس نے وزیرِ اعظم عمران نیازی،ڈائریکٹر جنر ل ایف آئی اے اور اور چیئر مین انکواری کمیشن کو خبر دار کیا ہے کہ فوری طور پر چینی اسکینڈل کی تحقیقات بند کی جائیں۔ورنہ قوم ان کی سازشوں سے بچ نہ سکے گی۔

حکومتی نا اہلی گذشتہ دو سال کے عرصے میں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔امریکہ کے تربیت یافتہ لوگ جو قادیانی ٹولے کے لوگ ہیں ۔وہ پاکستان کو کسی طور پر پنپتا دیکھنا نہیں چاہتے ہیں۔اور عمران نیازی جیسے نا اہل شخص کو مہرہ بنا کر پاکستان کے ساتھ کھلواڑ میں گذشتہ 1953،کے بعدسے خاص طور پر شدو مد سے لگے ہوئے ہیں۔ہندوستان میں سکھوں کی طرح پاکست ن میں ان کے ہاتھوں میں مضبوط ڈنڈا ّجانے کے بعد انہوں پاکستان میں کبھی بھی جمہوریت کو مضبوط ہونے نہیں دیاہے۔ان کا ایجنٹ نیازی سیاست کی الف بے سے نا واقفیت کی بنا پر اپنے اقتدار کی مضبوطی کیلئے ان ہی کے اشاروں پرنئے نئے اور پھس پھسے نعرے لگا تا ہے توان کی تمام مافیاؤں کے لوگ جن کی آبیاری ڈنڈا بر دار ٹولہ کرتا ہے بیک زبان اس کی ہاں میں ہان ملانے لگتے ہیں۔

کرونا وائرس پر بھی نیازی کی کوشش میں ہے کہ اس کی نا اہلی چھپی رہے۔اپنی نا اہلی کو چھپانے کے لئے کبھی کہتا سنا جاتا ہے کہ کرونا سے کچھ نہیں ہونے والا کبھی کہتا ہے براوقت آنے ولا ہے ۔یہ لیڈر ہے یا شوبز کا کوئی مذاحیہ کردار! جو اپنی کہی ہوئی باتوں پر بھی کبھی قائم نہیں رہتا ہے ۔کرونا کے نام پر قوم کا پیسہ پی ٹی آئی کے کھلنڈروں کے حوالے کر کے اپنی ٹائگر فورس بناتا ہے اور پھر امید دلاتا ہے کہ امید واراس بندر بانٹ کے ذریعے اپنے حلقے مضبوط کر سکتے ہیں۔حکومت جو لوٹ کھسوٹ کے اقدامات کر رہی ہے وہ ان کے کھاتے میں جائیں گے۔ اور یاد رکھیں نیازی کی این ٹی ایم مشینوں کو کچھ نہیں ہونے والا ہے ۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 161 Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof Dr Shabbir Ahmed Khursheed

Read More Articles by Prof Dr Shabbir Ahmed Khursheed: 276 Articles with 101167 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Comments

آپ کی رائے
Language: