مشکلات اور بھی ہیں!!!

(Muddasir Ahmed, India)

ملک میں کورونا وائرس کی وجہ سے جسطرح سے ملک معاشی ، اقتصادی اور طبی بحران کا شکار ہوا ہے وہ شاید ہی کسی اوردور میں موجودہ نسل یا اس سے پہلے کی نسل نے دیکھا ہے۔، محض 21 دن کے لاک ڈائون کی وجہ سے ملک میں حالات بدتر ہوتے جارہے ہیں ۔ لوگ روزبروزمالی مشکلات سے دوچار ہورہے ہیں، جو لوگ ان متاثرین کی مدد کرنا چاہ رہے ہیں وہ بھی بڑے پیمانے پر مالی امداد کیلئے آگے آرہے ہیں۔ بلاتفریق مذہب وملت پریشان حال لوگوں کی مدد کی جارہی ہے۔ ایکطرف لوگ کورونا وائرسے پریشان ہیں تودوسری طرف یہ لوگ بھوک مری اور غربت کا شکار ہورہے ہیں۔ ان دونوں بیماریوں کے درمیان ایک اوروائرس بھی پنپ رہا ہے وہ ہے فرقہ پرستی کا وائرس بھی تیزی کے ساتھ بڑ ھ رہا ہے ۔ مسلسل مسلمانوں کو کورونا وائرس سے جوڑا جارہا ہے اوربعض مقامات پر مسلمانوں کو ہی کورونا کیلئے مورد الزام ٹھہرایا جارہا ہے۔ ایسے میں مسلمانوں کیلئے آنے والے ایام مزید دشوار کن ہوسکتے ہیں۔ چاہے وہ سوشیل سیکوریٹی کی ہو یا پھر فینانشیل سیکوریٹی کی بات ہو، دونوں لحاظ سے مسلمانوں کیلئے حالات نقصادندہ ہیں۔ کورونا کے حالات سے متاثر ہونے والے افراد کی مدد کیلئے مسلمانوں کی کچھ تنظیمیں ، ادارے اور کچھ ذاتی طورپر کام کرنے والے افراد بڑے پیمانے پر امدادی کام کو انجام دے رہے ہیں۔ اس امدادی کام سے یقیناً سینکڑوں لوگ استفادہ کررہے ہیں لیکن موجودہ حالات کو دیکھے تو ہمارے سامنے حالات مزید دشوار کن ہوسکتے ہیں ۔ جیسا کہ آپ تمام جانتے ہیں کہ ملک میں فی الوقت لاک ڈائون کا سلسلہ جاری ہے اور اس لاک ڈائون میں عوام کے مسائل کو حل کرنے کیلئے مختلف تنظیمیں بھی مدد کررہی ہیں۔ بڑےپیمانے پر لوگ مالی و غذائیاجناس کا تعائون دینے کیلئے ہاتھ بڑھا رہے ہیں لیکن یہ بات بتادیں کہ یہ لاک ڈائون اپریل کی 14 تاریخ کو ختم ہونے والا نہیں اگر ہوجائے گا تب بھی آنے والے ایام مشکل ترین ہوں گے۔ اس وجہ سے تنظیموں کو مستقبل کیلئے منصوبہ بندی کرنے کی ضرورت ہے۔ 21 دنوں کے لاک ڈائون کے ختم ہونے کے بعد رمضان کا بابرکت مہینہ آنے والا ہے۔ اس ماہ میں بھی مسلمانوں کی ضرورت بڑھ جاتی ہے۔ اگر اس وقت مسلمانوں کی مدد کیلئے ہمارے پاس وسائل نہ رہیں گے تو ضرورتمند کس کے دروازے پر جائیںگےاور ضرورتمندوں کی مدد کیسے ہوگی۔ ویسے بھی ہماری امت میں ایک عام سارواج پیدا ہوا ہے کہ دینے والےہی دیتے رہتا ہے اورلینے والے ہی لیتے رہتا ہے ، بہتر ہے کہ دینے والے لوگ منصوبہ بندی کے ساتھ کام کریں اور آنے والے مشکل ترین ایام کا سامنا کرنے کیلئے تیار رہیں۔ دیکھا جارہا ہے کہ کچھ لوگ اورتنظیمیں امدادی کام میں مقابلہ آرائی کرنے کی کوشش کررہے ہیں، اگر وہ دو کلو چاول دیتا ہے تو یہ 5 کلو چاول دینے کیلئے اپنی پوری طاقت لگا لیتے ہیں، ایسے نہ ہوجائےکہ اس امدادی کام کے مقابلے میں تنظیموں کی طاقت ہی کمزور ہوجائے اورحقیقی لوگ بھوکے رہ جائیں، اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ مشکل بات ہوگی، اس لئے اب تک جو کام ہوچکا ہے وہ ٹھیک ہے لیکن اب مزید امدادی کام کیلئے بھاگ دوڑ نہ کریں اس بجٹ کو رمضان میں استعمال کرنے کی کوشش کریں ۔ دوسری بات یہ بھی دیکھنے میں آئی ہے کہ بہت سارے لوگ مسلمانوں کے خلاف محاظ آرائی کررہے ہیں جس کی وجہ سے نفرتوں کا بازار گرم ہورہا ہے ایسے میں آنے والے دنوں میں مسلمانوں کے پاس سے خرید وفروخت بھی بند ہونے کے امکانات ہیں اس سے حالات مزید خراب ہوجائیں گے۔ مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ مزید جلدبازی نہ کریںبلکہ اطمینان کے ساتھ فلاحی کام انجام دیں، ساتھ میں انفرادی کام کرنے کی بجائے اجتماعی کام کو ترجیح دیں، ہمارے درمیان کچھ ایسی تنظیمیں بھی ہیں جو نہایت ایمانداری کے ساتھ کام کرتی ہیں اوریہ تنظیمیں جو لیتی ہیں اس کا حساب بھی دیتی ہیں نہ کہ لیکر چھپنے والی تنظیموں میں سے ہیں اس لئے بہت سالوں سے جو تنظیمیں کام کررہی ہیں انکی مدد کریں ، کل پرسوں میں آکر اپنے آپ کو قوم کی جماعتیں کہلاکر لوگوں کو گمراہ کرنے والوں کا ساتھ نہ دیں۔
 

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muddasir Ahmed

Read More Articles by Muddasir Ahmed: 186 Articles with 56217 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
09 Apr, 2020 Views: 338

Comments

آپ کی رائے